Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [94] بَابُ زكاة البقر · حديث 318

318 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ليس في أقل من ثلاثين من البقر شيء, فإذا كانت ثلاثين من البقر ففيها تبيع أو تبيعة إلى أربعين, فإذا كانت أربعين ففيها مسنة, ثم ما زاد فبحساب ذلك. قال محمد: وبهذا كله كان يأخذ أبو حنيفة, وأما في قولنا فليس في الزيادة على الأربعين شيء حتى تبلغ البقر ستين, فإذا بلغت ستين كان فيها تبيعان أو تبيعتان, والتبيع: الجذع الحولي, والمسنة الثنية فصاعدا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں! تیس سے کم گالیوں میں زکوۃ نہیں جب تمیں گائے ہوں تو ان میں ایک تبیع یا تبیعہ ہوگی یہ چالیس تک ہے جب چالیس ہوتو ان میں ایک مسنہ ہوگی یوں اس سے زائد میں اسی حساب سے ہوگی ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اسی بات کو اختیار کرتے تھے ۔“ اور ہمارا یہ قول کی چالیس سے زائد میں کوئی چیز نہیں حتی کہ ساٹھ کو پہنچ جائیں تو جب ساٹھ تک پہنچ جائیں تو ان میں دو تبیعہ نر یا مادہ ہوں گے ‘ تبیع وہ جو ایک سال کا ہو جائے اور مسنہ جو دو سال یا زیادہ کا ہو ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 318

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [95] بَابُ الرجل يجعل ماله للمساكين · حديث 319

319 - قال محمد: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا جعل الرجل ماله في المساكين صدقة فلينظر إلى ما يسعه ويسع عياله فليمسكه, وليتصدق بالفضل, فإذا أيسر تصدق بمثل ما أمسك. #320# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وإنما عليه أن يتصدق من ماله بأموال الزكاة: الذهب, والفضة, والمتاع للتجارة, والإبل, والبقر, والغنم السائمة, فأما المتاع, والرقيق, والدور وغير ذلك مما ليس للتجارة فليس عليه أن يتصدق به إلا أن يكون عناه في يمينه.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنا مال مساکین کے لئے صدقہ کر دے تو دیکھے خود اس کی اور اس کے اہل وعیال کی ضرورت کس قدر ہے پھر اتنی مقدار روک لے اور باقی صدقہ کر دے جب آسانی پیدا ہو جائے تو جس قدر روکا ہے اتنی مقدار میں صدقہ کر دے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور اپنے اس مال میں سے دے جو مال زکوۃ ہے یعنی سونا چاندی تجارتی سامان اونٹ گائے اور بکریاں جو چرتی ہیں ۔“ گھر کے ساز وسامان غلاموں اور مکانات اور دوسری اشیاء جو تجارت کے لئے نہیں اس میں سے صدقہ لازم نہیں البتہ یہ کہ قسم میں اسی سے دینے کا ارادہ کرے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 319

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [1] بَابُ الإحرام والتلبية · حديث 320

320 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن سعيد بن جبير قال: لما انبعث به بعيره قال: لبيك اللهم لبيك, لبيك لا شريك لك لبيك, إن الحمد والنعمة لك والملك, لا شريك لك, لبيك إله الحق لبيك, غفار الذنوب لبيك. قال محمد: إن شاء الرجل أحرم حين ينبعث به بعيره, وإن شاء في دبر صلاته, والتلبية المعروفة إلى قوله: والملك لا شريك لك, فما زادت فحسن, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب اس کا اونٹ اسے لے کر اٹھے ( سوار ہو ) تو کہے۔“ لبیک اللهم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمة لك والملك لا شریک لک لبیک إله الحق لبيك غفار الذنوب لبیک۔ترجمہ ! میں حاضر ہوں یا اللہ ! میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں حمد اور نعت تیرے لئے ہے اور بادشاہی بھی ،تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں سچے معبود میں حاضر ہوں گنا ہوں کو بخشنے والے میں حاضر ہوں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر چاہے تو اس وقت احرام باندھے ( نیت کرے ) جب سواری لے کر اسے اٹھے اور اگر چاہے تو نماز کے بعد نیت کرے اور معروف تلبیہ والملک لاشریک لک تک ہے اس سے زائد اچھی بات ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

لما انبعث به بعيره ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 320

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [1] بَابُ الإحرام والتلبية · حديث 321

321 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبيد الله بن عمر, عن نافع, عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال له رجل: يا أبا عبد الرحمن, #322# رأيتك تصنع أربع خصال قال: ما هن؟ قال: رأيتك حين أردت أن تحرم ركبت راحلتك, ثم استقبلت القبلة, ثم أحرمت حين انبعث بك بعيرك, ورأيتك إذا طفت بالبيت لم تجاوز الركن اليماني حتى تستلمه, ورأيتك تلون لحيتك بالصفرة, ورأيتك تتوضأ في النعال السبتية, قال: إني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع ذلك كله فصنعته. #323# قال محمد: وبهذا كله نأخذ وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک شخص نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ! میں آپ کو چار کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں انہوں نے پوچھا وہ کونسے ہیں؟ اس نے کہا میں دیکھتا ہوں جب آپ احرام باندھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اپنی سواری پر سوار ہوتے ہیں پھر قبلہ رخ ہوکر اس وقت احرام کی نیت کرتے ہیں جب سواری آپ کو لے کر اٹھتی ہے اور میں آپ کو دیکھتا ہوں جب آپ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہیں تو رکن یمانی سے اس وقت تک نہیں گزرتے جب تک اس کو ہاتھ نہ لگالیں (یابوسہ نہ دے دیں ) اور میں دیکھتا ہوں آپ اپنی داڑھی کو زرد رنگ لگاتے ہیں اور یہ بھی دیکھتا ہوں کہ آپ ایسے چمڑے کے جوتوں میں وضو کرتے ہیں جن سے بالوں کو دور کیا گیا ہو۔“ انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تمام کام کرتے ہوئے دیکھا ہے پس میں بھی یہ کام کرتا ہوں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

رَأَيْتُكَ حِينَ أَرَدْتَ ← مَا هُنَّ ← له رجل: يا أبا عبد الرحمن! رأيتك تصنع أربع خصال، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 321

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 322

322 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا منصور بن المعتمر, عن إبراهيم النخعي, عن أبي نصر السلمي, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: إذا أهللت بالحج والعمرة فطف لهما طوافين, واسع لهما سعيين بالصفا والمروة. قال منصور: فلقيت مجاهدا وهو يفتي بطواف واحد لمن قرن فحدثته بهذا الحديث, فقال: لو كنت سمعته لم أفت إلا بطوافين, وأما بعد اليوم فلا أفتي إلا بهما. #326# قال محمد: وبه نأخذ وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے منصور بن المعتمر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم نخفی رحمتہ اللہ علیہ سے وہ ابونصر سلمی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ۔“ جب تم حج اور عمرہ ( دونوں ) کا احرام باندھو تو دونوں کے لئے دوطواف کرو اور دونوں کے لئے صفا مروہ کی دو مرتبہ سعی کرو۔“ حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میری ملاقات حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے ہوئی اور وہ قرآن والے کو ایک طواف کا فتوی ٰدیتے تھے میں نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فر مایا اگر میں نے یہ حدیث سنی ہوتو میں دو طوافوں کا فتوی ٰہی دیتا۔اور آج کے بعد دو طوافوں کا فتوی ٰہی دوں گا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لم أفت إلا بطوافين, وأما بعد اليوم فلا أفتي إلا بهما. ← لَوْ كُنْتُ ← منصور: فلقيت مجاهدا وهو يفتي بطواف واحد لمن قرن فحدثته بهذا الحديث, ← إذا أهللت بالحج والعمرة فطف لهما طوافين، واسع لهما سعيين بالصفا والمروة. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي نَصْرٍ السُّلَمِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 322

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 323

323 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن طاووس قال: لو حججت ألف حجة لم أدع القران, حتى لقد كنا ندعوه الحج الأكبر, والحج الأصغر, ونرى أن حج من لم يقرن لم يكمل. قال محمد: وبه نأخذ القران عندنا أفضل من غيره, وكل جميل حسن, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت طاؤس رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اگر میں ایک ہزار حج بھی کروں تو قران کو نہیں چھوڑوں گاحتیٰ کہ ہم اسے حج اکبر کہتے تھے اور محض حج کو حج اصغر کہتے تھے اور ہمارا خیال ہے کہ قران نہیں کرتا اس کا حج مکمل نہیں ہوتا ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ہمارے نزدیک قران دوسری کے حج سے افضل ہے اور تمام صورتیں اچھی ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

طَاوُوسٍ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 323

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 324

324 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه, أنه إنما نهى عن الإفراد, فأما القران فلا. يعني بقوله: نهى عن الإفراد, إفراد العمرة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حج افراد سے منع فرمایا قران سے نہیں مطلب یہ ہے کہ صرف عمرہ سے منع فرمایا قرآن کی ترغیب کے لئے ایسا کیا۔ ‘‘

الإفراد, إفراد العمرة. ← الإفراد, فأما القران فلا. يعني بقوله: نهى ← عمر بن الخطاب أنه إنما نهى ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 324

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 325

325 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عمرو بن مرة, عن عبد الله بن سلمة, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: تمام الحج والعمرة أن تحرم بهما من جوف دويرتك. قال محمد: وبه نأخذ, ما عجلت من الإحرام فهو أفضل, إن ملكت نفسك, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عمر بن مرہ رحمتہ اللہ علیہ نے عبداللہ بن سلمہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حج وعمرہ کی تکمیل یہ ہے کہ اپنے گھروں کے اندر سے احرام باندھو ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اگر تم اپنے آپ کو کنٹرول کر سکتے ہوتو احرام میں جس قدر جلدی کروا تنا ہی اچھا ہے۔ ‘‘ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

تمام الحج والعمرة أن تحرم بهما من جوف دويرتك. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 325

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 326

326 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا شيخ من ربيعة, عن معاوية بن إسحاق القرشي قال: إن الحاج مغفور له, ولمن استغفر له إلى انسلاخ المحرم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ایک شیخ رحمتہ اللہ علیہ نے ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا وہ معاویہ بن اسحاق بن اسحاق قر یشی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حج کرنے والے اور جس کے لئے وہ بخشش مانگے بخشش ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ احرام کھول دے ۔“

إن الحاج مغفور له, ولمن استغفر له إلى انسلاخ المحرم. ← مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ، ← شيخ من ربيعة, ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 326

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 327

327 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, قال: حدثنا أيوب بن عائذ الطائي, عن مجاهد قال: حاج بيت الله, والمعتمر, والمجاهد في سبيل الله, وفد الله, دعاهم فأجابوه, ويعطيهم ما سألوه.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ایوب بن عا ئد الطائی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اللہ تعالی ٰکے گھر کا حج اور عمرہ کرنے کرنے والے اور اللہ تعالی ٰکے راستے میں جہاد کر نے والے اللہ تعالی ٰکا وفد ہیں اس نے ان کو بلایا تو وہ حاضر ہو گئے وہ ان کو وہ چیز عطا کرتا ہے جس کا وہ سوال کرتے ہیں ۔“

مُجَاهِدٍ ← أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ الطَّائِيِّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 327

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 328

328 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا محمد بن مالك الهمداني عن أبيه قال: خرجنا في رهط نريد مكة, حتى إذا كنا بالربذة رفع لنا خباء, فإذا فيه أبو ذر الغفاري رضي الله عنه, فأتيناه فسلمنا عليه, فرفع جانب الخباء, فرد السلام, فقال: من أين أقبل القوم؟ فقلنا: من الفج العميق, قال: فأين تؤمون؟ قلنا: البيت العتيق, قال: الله الذي لا إله إلا هو ما أشخصكم غير الحج؟ فكرر ذلك علينا مرارا, فحلفنا له فقال: انطلقوا نسككم, ثم استقبلوا العمل.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے محمد بن مالک الہمدانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے والد سے روایت کر تے ہوئے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہم ایک جماعت میں مکہ مکرمہ کے ارادے سے نکلے حتی کہ جب ہم مقام ربذہ میں تھے تو ہمارے لئے ایک خیمہ ظاہر کیا گیا ( دکھایا گیا ) اس میں حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ تھے ہم نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے خیمے کا ایک کنارہ اٹھا کر سلام کا جواب دیا اور فر مایا یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا دور سے آئیں ہیں فرمایا تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا اللہ تعالی ٰکہ قدیم گھر (خانہ کعبہ ) کا فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تم صرف حج کی نیت سے آئے ہو؟ انہوں نے سوال بار بار کیا تو ہم نے ان کے سامنے قسم کھائی انہوں نے فرمایا احکام حج کی ادائیگی کرو پھر اپنے کام پر چلے جاؤ۔“

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الْهَمْدَانِيِّ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 328

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [1] بَابُ الطواف والقراءة في الكعبة · حديث 329

329 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رمل من الحجرإلى الحجر. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسودتک رمل کیا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 329

chevron_left Previous
1…212223…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter