Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [89] باب زكاة الدواب العوامل · حديث 306

306 - محمد قال: أخبرنا خثيم بن عراك بن مالك قال: سمعت أبي يقول: سمعت أبا هريرة رضي الله عنه يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ليس على المرء المسلم في فرسه, ولا في عبده صدقة».

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت خیثم بن عراک بن مالک رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں میں نے اپنے باپ سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور اس کے غلام کی زکوۃ نہیں۔

«ليس على المرء المسلم في فرسه, ولا في عبده صدقة». ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي ← خُثَيْمُ بْنُ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 306

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [89] باب زكاة الدواب العوامل · حديث 307

307 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ليس في الحمر السائمة زكاة. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں چرنے والے گدھوں میں زکوۃ نہیں۔“ امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← ليس في الحمر السائمة زكاة. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 307

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [89] باب زكاة الدواب العوامل · حديث 308

308 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: ليس فيما عمل عليه من الثيران صدقة, ولا على ما يكون من الإبل الطحانات والعمالات صدقة. #311# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جن بیلوں پر کام کیا جائے ان میں زکوۃ نہیں اور وہ اونٹ جو آٹا پیسنے اور کام کاج کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ان میں بھی زکوۃ نہیں۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 308

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [90] باب زكاة الزرع والعشر · حديث 309

309 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: في كل شيء فيما أخرجت الأرض مما سقت السماء, وسقي فتحا العشر. وما سقي بغرب أو دالية ففيه نصف العشر. قال محمد: و بهذا كان يأخذ أبو حنيفة, وأما في قولنا فليس في الخضر صدقة, والخضر: البقول والرطاب, وما لم يكن له ثمرة باقية نحو: البطيخ, والقثاء, والخيار. وما كان من الحنطة, والشعير, والتمر, والزبيب, وأشباه ذلك فليس فيه صدقة حتى يبلغ خمسة أوساق, والوسق ستون صاعا, والصاع القفيز الحجاجي وربع الهاشمي, وهو ثمانية أرطال.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں زمین میں سے جو چیز نکلے اسے بارش سے سیراب کیا جائے یا نہر میں سے اس میں عشر (دسواں حصہ ) ہے اور جسے ڈولوں یا رہٹ سے سیراب کیا جائے اس میں بیسواں حصہ ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“ اور ہمارا یہ قول کہ سبزیوں میں زکوۃ نہیں اور سبزی سے مراد ساگ اور وہ سبزی جو باقی نہیں رہتی اور جس کا پھل باقی نہیں رہتا جسے خربوزہ ،کھیرا، ککڑی ، اور گندم، جو ،کھجوریں، کشمش وغیرہ میں صدقہ نہیں جب تک پانچ وسق کو نہ پہنچے وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور صاع ایک قفیز حجابی اور ہاشمی قفیر کا چوتھا حصہ ہے اور یہ آٹھ رطل (یعنی چار سیر ہے چار کلو سے کچھ کم ) تو اس سلسلے میں حدیث ہے ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 309

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [90] باب زكاة الزرع والعشر · حديث 310

310 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في قوله تعالى {و آتوا حقه يوم حصاده} , قال: منسوخة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ اللہ عز وجل کے قول و اتو حقه يوم حصاده کے بارے میں فرماتے ہیں یہ منسوخ ہے ۔“

منسوخة. ← إبراهيم في قوله تعالى {و آتوا حقه يوم حصاده} ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 310

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [90] باب زكاة الزرع والعشر · حديث 311

311 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن أبي صخرة المحاربي, عن زياد بن حدير قال: بعثه عمر بن الخطاب رضي الله عنه مصدقا إلى عين التمر, فأمره أن يأخذ من المسلمين من أموالهم ربع العشر, ومن أموال أهل الذمة إذا اختلفوا بها للتجارة نصف العشر, ومن أموال أهل الحرب العشر.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت ابوصخره مہاربی رحمتہ اللہ علیہ سے اور زیاد بن حدیر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک زکوۃ وصول کر نے والا ’’ عین التمر ‘‘ مقام کی طرف بھیجا تو اسے حکم دیا کہ مسلمانوں سے چالیسواں حصہ اور ذمیوں کے مال سے بیسواں حصہ وصول کرنا جب وہ وہاں تجارت کے لئے آتے جاتے ہوں اور اہل حرب کے مال سے دسواں حصہ لیں ۔ ‘‘ ( جن سے مسلمانوں کی جنگ ہو وہ اہل حرب ہیں )

زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ ← أبي صخرة المحاربي, ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 311

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [90] باب زكاة الزرع والعشر · حديث 312

312 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الهيثم, عن أنس بن سيرين, عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان عمر بن الخطاب رضي الله عنه يبعث أنس بن مالك رضي الله عنه مصدقا لأهل البصرة, قال: فأرادني أن أعمل له, فقلت: لا حتى تكتب لي عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه الذي كتب لك, فكتب لي أن آخذ من أموال المسلمين ربع العشر, ومن أموال أهل الذمة إذا اختلفوا بها للتجارة نصف العشر, ومن أموال أهل الحرب العشر. #314# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, فأما ما أخذ من المسلمين فهو زكاة فيوضع في موضع الزكاة, للفقراء والمساكين, ومن سمى الله في كتابه, وما أخذ من أهل الذمة, ومن أهل الحرب وضع موضع الخراج في بيت المال للمقاتلة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے الهيثم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ انس بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت انس بن مالک رحمتہ اللہ علیہ کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے اہل بصرہ کی طرف بھیجتے تھے حضرت انس بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک رحمتہ اللہ علیہ نے ارادہ کیا کہ میں ان کے لئے کام کروں میں نے کہا نہیں (ایسا نہیں ہوسکتا ) حتی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھے وہ اجازت نامہ لکھ دیں جس طرح انہوں نے آپ کولکھ کر دیا ہے ۔ ‘‘ تو انہوں نے میرے لئے اجازت نامہ لکھ دیا کہ میں مسلمانوں کے مال سے چالیسواں حصہ وصول کروں ذمی جب وہاں تجارت کے لئے آئیں جائیں تو ان کے مالوں سے بیسواں حصہ اور حربیوں کے مالوں سے دسواں حصہ وصول کروں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان باتوں کو اختیار کر تے ہیں جو کچھ مسلمانوں سے لیا جائے گا وہ زکوۃ ہوگی پس اس کو مصارف زکوۃ پر خرچ کیا جائے (یعنی ) فقراءاور مساکین اور ان لوگوں کو دیا جائے جن کا اللہ تعالی ٰنے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے اور جو کچھ ذمیوں اور حربیوں سے لیا جائے وہ خراج کی جگہ رکھا جائے یعنی مجاہدین کے لئے بیت المال میں جمع کیا جائے ۔

فأرادني ← كان عمر بن الخطاب يبعث أنس بن مالك مصدقا لأهل البصرة, ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 312

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [91] بَابُ باب كيف تعطى الزكاة · حديث 313

313 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عمر بن جبير, عن إبراهيم النخعي أن رجلا أراد أن يعطي زكاة أربع مئة درهم, فذهب إلى إبراهيم يدله, فكان يعطي أهل البيت عشرة دراهم, فقال إبراهيم: لو كنت أنا كان أن أغني بها أهل بيت من المسلمين أحب الي. #315# قال محمد: وبه نأخذ, أعطي من الزكاة ما بينه وبين المئتين, ولا يبلغ بها المئتين, إلا ان يكون مغرما فيعطى قدر دينه, وفضل مئتي درهم إلا قليلا, وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عمرو بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابراہیم نحفی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ایک شخص نے چار سو درہم زکوۃ دینے کا ارادہ کیا تو وہ حضرت ابراہیم نحفی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس گیا کہ وہ اس کی راہنمائی کریں وہ ایک ایک گھر والوں کو دس دس درہم دیتا تھا تو حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اگر میں ہوتا تو مسلمانوں کوا تنا دینا مجھے زیادہ پسند تھا کہ وہ مانگنے سے بے نیاز ہوجاتے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں زکوۃ (ایک شخص کو ) دو سو درہموں سے کم دی جائے دو سو تک نہ پہنچے مگر وہ قرض دار نہ ہوتو اسے قرض کے مقدار کے مطابق دی جائے ( کیونکہ اس کی فوری ضرورت ہے اور قرض کی ادائیگی کے بعد وہ صاحب نصاب نہیں رہتا ۱۲ ہزار وی )

إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← عُمَرَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 313

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [92] بَابُ زكاة الإبل · حديث 314

314 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه قال: في خمس من الإبل شاة إلى تسع, فإذا زادت واحدة ففيها شاتان إلى أربع عشرة, فإذا زادت واحدة ففيها ثلاث شياه إلى تسع عشرة, #316# فإذا زادت واحدة ففيها أربع شياه إلى أربع وعشرين, فإذا زادت واحدة ففيها ابنة مخاض إلى خمس وثلاثين, فإذا زادت واحدة ففيها ابنة لبون إلى خمس وأربعين, فإذا زادت واحدة ففيها حقة إلى ستين, فإذا زادت واحدة ففيها جذعة إلى خمس وسبعين, فإذا زادت واحدة ففيها بنتا لبون إلى تسعين, فإذا زادت واحدة ففيها حقتان إلى عشرين ومئة, ثم تستقبل الفريضة فإذا كثرت الإبل ففي كل خمسين حقه. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا پانچ اونٹوں میں نو تک ایک بکری ہے جب زیادہ ہو جائیں تو دو بکریاں ہیں یہ چودہ تک ہیں جب اس سے ایک بڑھ جائے تو ان میں تین بکریاں ہیں جب ان پر ایک کا اضافہ ہو جائے تو ان میں چار بکریاں ہیں یہ مقدار چوبیس تک ہے ۔ جب ان سے ایک بڑھ جائے تو ان میں ایک بنت محاض ہے یہ پینتس تک ہیں جب ایک بڑھ جائے تو ان میں پنتالیس تک ایک بنت لبون ہے جب ایک اونٹ زائد ہو جائے تو ان میں ایک حقہ ہے یہ ساٹھ تک ہے جب ساٹھ سے ایک اونٹ بڑھ جائے تو اس میں دو حقے ہیں یہ ایک سوبیس تک ہے نئے سرے سے سلسلہ شروع کیا جائے جب اونٹ زیادہ ہو جائیں تو پر پچاس میں ایک حقہ ہوگا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 314

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [92] بَابُ زكاة الإبل · حديث 315

315 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه, أنه قال: في مئة وخمسة وعشرين من الإبل حقتان وشاة, وفي الثلاثين والمئة حقتان وشاتان, وفي خمس وثلاثين ومئة حقتان وثلاث شياه, وفي أربعين و مئة حقتان وأربع شياه, وفي خمس وأربعين ومئة حقتان وابنة مخاض, وفي خمسين ومئة ثلاث حقاق. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, ثم تستقبل الفريضة أيضا #317# فإذا بلغت خمسين أخرى كانت فيها حقة, ثم تستقبل الفريضة, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک سو پچیس اونٹوں میں دو حقے اور ایک بکری ہے ایک سوتیس میں دو حقے اور دو بکریاں ہیں ایک سو پنتیس میں دو حقے اور تین بکریاں ہیں ۔ایک سو چالیس میں دو حقے اور چار بکریاں ہیں ایک سو پنتالیس میں دو حقے اور ایک بنت محاض ہے ایک سو پچاس میں تین حقے ہیں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں ‘ پھر نئے سرے سے فریضہ شروع کیا جائے جب مزید پچاس ہوں تو ان میں ایک حقہ ہوگا پھر نئے سرے سے حساب لگایا جائے ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عبد الله بن مسعود أنه ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 315

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [93] بَابُ زكاة الغنم · حديث 316

316 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه قال: ليس في أقل من الأربعين من الغنم زكاة, فإذا كانت أربعين ففيها شاة إلى مئة وعشرين, فإذا زادت واحدة ففيها شاتان إلى مئتين, فإذا زادت واحدة على مئتين ففيها ثلاث شياه, إلى ثلاث مئة, فإذا كثرت الغنم ففي كل مئة شاة. قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں۔“ چالیس بکریوں سے کم میں زکوۃ نہیں جب چالیس بکریاں ہوں تو ان میں ایک بکری ہوگی یہ ایک سوبیس ( بکریوں ) تک ہے جب ان پر ایک بڑھ جائے تو ان میں دو بکریاں ہوں گی میں دوسو تک ہے ‘ جب دوسو سے ایک بڑھ جائے تو ان میں تین بکریاں ہیں جب بکریاں زیادہ ہو جائیں تو ہر سو بکری میں ایک بکری دینا ہوگی۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 316

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [93] بَابُ زكاة الغنم · حديث 317

317 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عطاء بن السائب, عن الحسن, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه, أنه بعث سعدا, أو سعد بن مالك مصدقا, فأتى عمر رضي الله عنه يستأذنه في الجهاد, فقال أولست في جهاد؟ قال: ومن أين؟ والناس يزعمون أني أظلمهم, قال: ومم ذلك؟ قال: يقولون: تحسب علينا السخلة في العدد, قال أحسبها وإن جاء بها الراعي على كفه, #318# أو لست تدع لهم الماخض, والربى, والأكيلة, وتيس الغنم؟ قال محمد: وبهذا نأخذ والماخض: التي في بطنها ولدها, والربى: التي تربي ولدها, والأكيلة: التي تسمن للأكل, وإنما ينبغي للمصدق أن يأخذ من أوسط الغنم, يدع المرتفع والرذال, ويأخذ من الأوساط البين فصاعدا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت عطاء بن سائب رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سعد یا حضرت سعید بن مالک رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جہاد کی اجازت مانگنے لگے تو انہوں نے فرمایا کیا تم جہاد میں نہیں ہو؟ انہوں نے عرض کیا وہ کیسے؟ لوگ خیال کرتے ہیں کہ میں ان پر ظلم کروں گا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھاوہ ایسا کیوں سوچتے ہیں عرض کیا وہ کہتے ہیں چھوٹی بکری بھی شمار کی جائے فرمایا شمار کرو اگرچہ چرواہا اسے اپنے کاندھے پر لے کر آئے کیا تم ان کے لئے حاملہ اور دودھ پلانے والی بکری نہیں چھوڑتے اور کھانے کے لئے موٹی تازہ کی گئی بکری اور بکرا نہیں چھوڑ تے ؟“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ۔“ الما خض وہ بکری جس کے پیٹ میں بچہ ہو‘ الزلی وہ جو بچہ کی پرورش کرتی ہے ۔الاشیلہ جسے کھانے کے لئے پالا جاتا ہے اور زکوۃ وصول کرنے والے کو چاہئے کہ درمیانی قسم کی بکریاں لے زیادہ قیمتی اور ادنی ٰ(دونوں قسم کی بکریوں ) کو چھوڑ دے اور درمیانی قسم کی ہوں تو ان سے متوسط یا بہتر لے۔“

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← الْحَسَنِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 317

chevron_left Previous
1…202122…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter