Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [4] بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ · حديث 17

17 - مُحَمَّدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي، فَأَتَيْتُهُ بِلَحْمٍ قَدْ شُوِيَ، فَطَعِمَ مِنْهُ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ، وَمَضْمَضَ ثُمَّ صَلَّى، وَلَمْ يُحْدِثْ وُضُوءًا "

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ فرماتے ہیں ہم سے عبدالرحمن ٰبن زاذان رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے تو میں نے آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوشت پیش کیا آپ نے اس سے تناول فرمایا پھر پانی منگوا کر ہاتھوں کو دھویا اور کلی کی اس کے بعد نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← شُرَحْبِيلَ ← عبد الرحمن بن زاذان ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 17

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [4] بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ · حديث 18

18 - مُحَمَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَةُ بْنُ مُسَاوِرٍ، قَالَ: كُنْتُ #57# قَاعِدًا عِنْدَ عَدِيِّ بْنِ أَرْطَأَةَ إِذْ سُئِلَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيَّ: أَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» فَقَالَ بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ: «دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَمَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبٍ، فَنَتَفَتْ لَهُ مِنْ كَتِفٍ بَارِدَةٍ، فَطَعِمَ مِنْهَا وَلَمْ يُحْدِثْ وُضُوءًا» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! حضرت اما ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہم سے شیبہ بن مساور رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں حضرت عدی بن ارطاۃ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ انہوں نے حضرت حسن بن بصری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا میں اس چیز سے وضو کروں جس کو آگ چھوئے ؟ فرمایا ہاں اس پر بکر بن عبد اللہ المزنی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے کندھے کا ٹھنڈا گوشت آپ کے لئے کاٹا آپ نے اسے تناول فرمایا لیکن تازہ وضو نہیں کیا۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم بکر بن عبداللہ لمزنی رحمتہ اللہ علیہ کے قول کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عَدِيِّ بْنِ أَرْطَأَةَ ← شَيْبَةَ بْنِ مُسَاوِرٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 18

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [4] بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ · حديث 19

19 - مُحَمَّدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ قُعُودًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه إِذْ أَقْبَلُوا بِحَفْنَةٍ وَقُلَّةٍ مِنْ مَاءٍ مِنْ بَابِ الْفِيلِ نَحْوَنَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي لَأَرَاكُمْ تُرَادُونَ بِهَذِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَجَلْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَأْدُبَةٌ كَانَتْ فِي الْحَيِّ فَوُضِعَتْ، فَطَعِمَ مِنْهَا وَشَرِبَ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى يَدَيْهِ، فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ بِبَلَلِ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ " #58# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَبِهِ نَأْخُذُ، وَلَا بَأْسَ بِالْوُضُوءِ فِي الْمَسْجِدِ إِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ قَذَرٍ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ فرماتے ہیں ہم حضرت یحیی ٰبن عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ابواحد حنفی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ابو ما حد حنفی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس دوران کہ ہم مسجد میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ'' کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ لوگ باب الفیل سے ہمارے پاس ایک پیالہ اور پانی کا ایک مٹکا لے کر آئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ تم لوگوں کے لئے ہے تو اس جماعت میں سے ایک نے کہا اے ابوعبد الرحمن ٰ( حضرت عبداللہ بن مسعود کنیت ہے ) یہی بات ہے قبیلے میں ایک دعوت تھی پس و ہ کھانا رکھا گیا‘ آپ نے اس سے تناول فرمایا اور پانی میں سے کچھ نوش فرمایا پھر ہاتھوں پر ڈال کر ان کو دھویا اور ہاتھوں کی تری کو چہرے اور بازؤوں پر ملا پھر فرمایا جو شخص بے وضو نہ ہواس کا وضو یہ ہے ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے اور ہم اسے ہی اختیار کرتے ہیں اگر گندگی نہ ہوتو مسجد میں وضوکر نے میں کوئی حرج نہیں ۔ ( برتن ایسا ہوسجد میں پانی نہ گرے)

بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ قُعُودًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أبي ماجد الحنفي، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 19

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [5] بَابُ مَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ مِنَ الْقُبْلَةِ وَالْقَلْسِ · حديث 20

20 - مُحَمَّدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا قَلَسْتَ مِلْءَ فِيكَ فَأَعِدْ وُضُوءَكَ، وَإِذَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ مِلْءِ فِيكَ فَلَا تُعِدْ وُضُوءَكَ» #59# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَبِهِ نَأْخُذُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ! وہ فرماتے ہیں جب تمہیں منہ بھر کرقے آئے تو پھر تم اپناوضو دوبارہ کرو تو دوبارہ وضوکر و اور اگر منہ بھر سے کم ہو تو دوبار وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہےاور ہم بھی اسے ہی اختیار کر تے ہیں ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 20

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [5] بَابُ مَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ مِنَ الْقُبْلَةِ وَالْقَلْسِ · حديث 21

21 - مُحَمَّدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ فَتُقَبِّلُهُ خَالَتُهُ أَوْ عَمَّتُهُ، أَوِ امْرَأَةٌ مِمَّنْ يَحْرُمُ عَلَيْهِ نِكَاحُهَا، قَالَ: «لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ إِذَا قَبَّلَ مَنْ يَحْرُمُ عَلَيْهِ نِكَاحُهَا، وَلَكِنْ إِذَا قَبَّلَ مَنْ يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُهَا وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ، وَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْحَدَثِ» #60# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهَذَا قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ، وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِهَذَا وَلَا نَرَى فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءًا عَلَى حَالٍ إِلَّا أَنْ يَمْذِيَ فَيَجِبُ عَلَيْهِ لِلْمَذْيِ الْوُضُوءُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے ہمیں خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو سفر سے آتا ہے تو اس کی خالہ یا اس پھوپھی یا وہ عورت جس سے اس کا نکاح حرام ہے اس کا بوسہ لیتی ہے؟ تو انہوں نے (حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرمایا اس پر وضو واجب نہیں جب وہ عورت اس کا بوسہ لے جس سے اس کا نکاح حرام ہے لیکن جب وہ عورت بوسہ لے جس سے اس کا نکاح حلال ہے تو اس پر وضو واجب ہوگا اور یہ وضوٹوٹنے کی طرح ہے۔ ‘‘ ۔حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! یہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور ہم اسے اختیار نہیں کرتے اور ہم کسی صورت میں بوسہ لینے سے وضوکرنا ضروری نہیں سمجھتے البتہ یہ کہ مذی نکلے تو مذی کی وجہ سے اس پر وضو واجب ہوگا۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 21

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [6] بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ · حديث 22

22 - مُحَمَّدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَسِّ الذَّكَرِ أَنَّهُ قَالَ: «مَا أُبَالِي أَمَسِسْتُهُ أَمْ طَرَفَ أَنْفِي» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَبِهِ نَأْخُذُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے ہمیں خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے شرمگاہ کو چھونے والے کے بارے میں فرمایا کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں وہ اسے (شرمگاہ) چھوئے یا ناک کے کنارہ کو ( چھونے میں دونوں برابر ہیں ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور ہم بھی اسے اہی اختیار کر تے ہیں ۔

مُحَمَّدٌ: وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَبِهِ نَأْخُذُ ← «مَا أُبَالِي أَمَسِسْتُهُ أَمْ طَرَفَ أَنْفِي» ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي مَسِّ الذَّكَرِ أَنَّهُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 22

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [6] بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ · حديث 23

23 - مُحَمَّدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ: «إِنْ كَانَ نَجِسًا فَاقْطَعْهُ، يَعْنِي أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ»

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے ہمیں خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے شرمگاہ کو ہاتھ لگا نے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اگر وہ نا پاک ہے تو اسے کاٹ دو یعنی کوئی حرج نہیں۔ ‘‘

"الْوُضُوءُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ" ← إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ سُئِلَ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 23

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [6] بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ · حديث 24

24 - مُحَمَّدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّ بِرَجُلٍ يَغْسِلُ ذَكَرَهُ فَقَالَ: «مَا تَصْنَعُ وَيْحَكَ إِنَّ هَذَا لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكَ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَغَسْلُهُ أَحَبُّ إِلَيْنَا إِذَا بَالَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں !حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے ہمیں خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ! کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ اپنی شرمگاہ کو دھو رہا تھا آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ یہ تم پر فرض نہیں کیا گیا ‘ (دہونے میں مبالغہ فرض نہیں استنجاء کرنے کی نفی نہیں کی ) ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں شرمگاہ کو دھونا (استنجاء کرنا ) ہمارے نزدیک مستحب ہے جب پیشاب کرے اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے (یعنی استنجا فرض نہیں ہاں نجاست مخرج سے تجاوز کرے تو فرض ہے ) ۔ ‘‘

«مَا تَصْنَعُ وَيْحَكَ إِنَّ هَذَا لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكَ» ← إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ مَرَّ بِرَجُلٍ يَغْسِلُ ذَكَرَهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 24

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [7] بَابُ مَا لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ؛ الْمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْجَسَدِ وَغَيْرِ ذَلِكَ · حديث 25

25 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَبِي الْهَيْثَمِ، [عن الشعبي] (1) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَرْبَعَةٌ لَا يُنَجِّسُهَا شَيْءٌ: الْجَسَدُ، #62# وَالثَّوْبُ، وَالْمَاءُ، وَالْأَرْضُ " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ عِنْدَنَا أَنَّ ذَلِكَ إِذَا أَصَابَهُ الْقَذَرُ، فَغُسِلَ ذَهَبَ ذَلِكَ عَنْهُ، فَلَمْ يَحْمِلْ قَذَرًا، وَإِنَّمَا مَعْنَاهُ فِي الْمَاءِ إِذَا كَانَ كَثِيرًا أَوْ جَارِيًا أَنَّهُ لَا يَحْمِلُ خَبَثًا __________ (1) ليست في الأصول الخطية.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہم سے الہیثم بن ابوالہیشم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا چار چیزیں ایسی ہیں جن کو کوئی چیز نا پاک نہیں کرتی ، جسم، کپڑا، پانی اور زمین حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب ان چیزوں سے کوئی ناپا کی مل جائے تو وہ دھونے سے پاک ہو جاتی ہے اور نجاست باقی نہیں رہتی پانی کے حوالے سے اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ زیادہ ہو یا جاری ہوتو نا پاک نہیں ہوتا۔

أَرْبَعَةٌ لَا يُنَجِّسُهَا شَيْءٌ: الْجَسَدُ، وَالثَّوْبُ، وَالْمَاءُ، وَالْأَرْضُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← الهيثم بن أبي الهيثم ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 25

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [7] بَابُ مَا لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ؛ الْمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْجَسَدِ وَغَيْرِ ذَلِكَ · حديث 26

26 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَتَغْسِلُهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ حَائِضٌ» #63# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لَا نَرَى بِهِ بَأْسًا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں رحمتہ اللہ علیہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں اپنا سر انور مسجد سے باہر نکالتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے دھوتی تھیں حالانکہ آپ حالت حیض میں ہوتیں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اور امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 26

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [7] بَابُ مَا لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ؛ الْمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْجَسَدِ وَغَيْرِ ذَلِكَ · حديث 27

27 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي إِذْ عَرَضَ لَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَاعْتَمَدَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَّرَ حُذَيْفَةُ رضي الله عنه يَدَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكَ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي جُنُبٌ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيْسَ بِنَجَسٍ» #64# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ، لَا نَرَى بِمُصَافَحَةِ الْجُنُبِ بَأْسًا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں !وہ فرماتے ہیں ۔اس دوران کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چل رہے تھے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے آئے آپ نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو انہوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حالت جنابت میں ہوں آپ نے فرمایا مومن ناپاک نہیں ہوتا۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 27

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [8] بَابُ الْوُضُوءِ لِمَنْ بِهِ قُرُوحٌ أَوْ جُدَرِيٌّ أَوْ جِرَاحٌ · حديث 28

28 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْمَرِيضِ لَا يَسْتَطِيعُ الْغُسْلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، أَوِ الْحَائِضِ، قَالَ: يَتَيَمَّمُ " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس مریض کے بارے میں جو جنابت یا حیض کا غسل نہ کر سکے روایت کرتے ہیں کہ وہ تیمم کرے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اس حدیث پر عمل کر تے ہیں اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔ ‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ ← يَتَيَمَّمُ. ← إِبْرَاهِيمَ فِي الْمَرِيضِ لَا يَسْتَطِيعُ الْغُسْلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، أَوِ الْحَائِضِ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 28

chevron_left Previous
1…727374…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter