Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [90] بَابُ جناية المكاتب والمدبر وأم الولد · حديث 582

582 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في أم الولد, والمعتقة عن دبر تجنيان قال: يضمن سيدهما جنايتهما؛ لأن العتاقة قد جرت فيهما, فلا يستطيع أن يدفعهما, ولا تعقلهما العاقلة لأنهما مملوكان. قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے ام ولد اور اس لونڈی کے بارے میں جومولی ٰکے مرنے کے بعد آزاد ہو جائے ( یعنی مدبرہ) فرمایا کہ جب یہ جنایت کریں تو ان کی جنایت کا ضامن ان کا مولی ٰہوگا کیونکہ آزادی ان دونوں میں جاری ہوگئی پس ان کو (ذاتی طور پر دینا) ممکن نہیں اور ان کا قبیلے سے بھی تعلق نہیں ہوگا کیونکہ مملوک ہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

دبر تجنيان ← إبراهيم في أم الولد, والمعتقة ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 582

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [90] بَابُ جناية المكاتب والمدبر وأم الولد · حديث 583

583 - محمد, عن أبي حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن شريح قال: المكاتب في الحدود, والشهادة عبد ما بقي عليه درهم. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں مکاتب حد و داور شہادت میں غلام ہےجب تک اس پر ایک درہم بھی باقی ہو۔حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← المكاتب في الحدود, والشهادة عبد ما بقي عليه درهم. ← شُرَيْحٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أَبِي حَنِيفَةَ ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 583

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [91] بَابُ دية المعاهد · حديث 584

584 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم بن أبي الهيثم, أن النبي صلى الله عليه وسلم, وأبا بكر, وعمر, وعثمان رضي الله عنهم قالوا: دية المعاهد دية الحر المسلم.

حضرت محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ھیثم بن ابی الھیثم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنھم نے فرمایا معاہد کی دیت وہی ہے جو آزاد مسلمان کی دیت ہے۔‘‘

الهيثم بن أبي الهيثم ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 584

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [91] بَابُ دية المعاهد · حديث 585

585 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: أخبرنا حماد, عن إبراهيم, أنه قال: دية المعاهد دية الحر المسلم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں معاہد کی دیت وہی ہے جو آزاد مسلمان کی دیت ہے ۔“

دية المعاهد دية الحر المسلم. ← إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 585

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [91] بَابُ دية المعاهد · حديث 586

586 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن أبي العطوف, عن الزهري, عن أبي بكر, وعمر, وعثمان رضي الله عنهم أنهم جعلوا دية النصراني, ودية اليهودي مثل دية الحر المسلم. قال محمد: وبهذا نأخذ, وكذلك المجوسي عندنا, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ابوالعطوف رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت زہری رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابو بکر صدیق حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ ان حضرات نے نصرانی کی دیت اور یہودی کی دیت آزاد مسلمانوں کی دیت کی مثل قرار دی ۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور ہمارے نزدیک مجوسی کا حکم بھی یہی ہے اور حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

محمد: وبهذا نأخذ, وكذلك المجوسي عندنا, وهو قول أبي حنيفة تعالى. ← دية اليهودي مثل دية الحر المسلم. ← عمر, وعثمان أنهم جعلوا دية النصراني, ← أَبِي بَكْرٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أبي العطوف ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 586

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [91] بَابُ دية المعاهد · حديث 587

587 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن رجلا من بكر بن وائل قتل رجلا من أهل الحيرة, فكتب فيه عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن يدفع إلى أولياء القتيل, فإن شاؤوا قتلوا, وإن شاؤوا عفوا, فدفع الرجل إلى ولي المقتول إلى رجل يقال له حنين من أهل الحيرة فقتله, فكتب فيه عمر رضي الله عنه بعد ذلك: إن كان الرجل لم يقتل فلا تقتلوه. فرأوا أن عمر رضي الله عنه أراد أن يرضيهم بالدية. #513# قال محمد: وبه نأخذ, إذا قتل المسلم المعاهد عمدا قتل به, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. وكذلك بلغنا عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قتل مسلما بمعاهد, وقال: أنا أحق من وفى ذمته.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ بکر بن وائل ( قبیلے) کے ایک شخص نے حیرہ (شہر) والوں میں سے ایک شخص کوقتل کیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں لکھا کہ اسے مقتول کے اولیاء کے حوالے کیا جائے اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کرنے کا مطالبہ کریں اور اگر چاہیں تو معاف کر دیں۔“ پس وہ شخص مقتول کے ایک ولی جس کا نام حسین تھا اور حیرہ والوں میں سے تھا کے حوالے کیا گیا تو اس نے اسے قتل کر دیا (قتل کا مطالبہ کیا )اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لکھا اگر وہ شخص قتل نہیں کیا گیا تو اسے قتل نہ کرو تو ان لوگوں نے دیکھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ارادہ فرمایا کہ وہ ان کو دیت لینے پر راضی کر دیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جب کوئی مسلمان کسی معاہد کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس (مسلمان) کو اس کے بدلے میں قتل کیا جائے ۔‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں اسی طرح یہ بات پہنچی ہے کہ معاہد کے قتل کے بدلے میں مسلمان کوقتل کیا جائے اور فرمایا عہد کو پورا کر نے کا مجھے زیادہ حق ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 587

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [92] بَابُ ارتداد المرأة عن الإسلام · حديث 588

588 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عاصم بن أبي النجود, عن أبي رزين, عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: لا تقتل النساء إذا ارتددن عن الإسلام, ويجبرن عليه. #515# قال محمد: وبه نأخذ, ولكنا نحبسها في السجن حتى تموت أو تتوب, إلا الأمة, فإن كان أهلها محتاجين إلى خدمتها أجبرناها على الإسلام, فإن أبت دفعناها إلى مواليها, فاستخدموها وأجبروها على الإسلام, فإن قتل المرتدة قاتل وهي حرة, أو أمة فلا شيء عليه من دية, ولا قيمة, ولكنا نكره ذلك له, فإن رأى الإمام أن يؤدبه أدبه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ! وہ حضرت عاصم بن ابی النجو درحمتہ اللہ علیہ سے وہ ابودزین رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب عورتیں اسلام سے پھر جائیں تو ان کوقتل نہ کیا جائے اور ان کو اس پر مجبور کیا جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں لیکن ہم اسے قید خانے میں بند کر دیتے ہیں حتی ٰ کہ مر جائے یا تو بہ کرے البتہ لونڈی کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کے مالک اس کی خدمت کے محتاج ہوں تو ہم اسے اسلام پر مجبور کریں اگر وہ انکار کرئے تو اس کو اس کے مالکوں کے حوالے کر دیں گئے تا کہ وہ اس سے خدمت لیں اور اسلام پر مجبور کر یں ‘اوراگر کوئی قاتل مردوعورت کو قتل کرے اور آزاد عورت ہو یالونڈی تو قاتل پر نہ دیت ہوگی اور نہ قیمت لیکن ہم اس بات کو مکر وہ جانتے ہیں پس اگر امام اسے ادب سکھانا چاہے تو سکھائے۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

الإسلام ويجبرن عليه. ← لاَ تُقْتَلُ النِّسَاءُ إذَا ارْتَدَدْنَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ رَزَینٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 588

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [92] بَابُ ارتداد المرأة عن الإسلام · حديث 589

589 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم أنه قال: تقتل المرأة إذا ارتدت عن الإسلام. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا عورت اسلام سے پھر حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار نہیں کرتے ۔“

محمد: ولسنا نأخذ بهذا. ← الْإِسْلَامِ، ← تقتل المرأة إذا ارتدت ← إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 589

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [93] بَابُ من قتل فعفا بعض الأولياء · حديث 590

590 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أتي برجل قد قتل عمدا فأمر بقتله, فعفا بعض الأولياء, فأمر بقتله, فقال عبد الله بن مسعود رضي الله عنه: كانت النفس لهم جميعا, فلما عفا هذا أحيا النفس فلا يستطيع أن يأخذ حقه, يعني الذي لم يعف حتى يأخذ حق غيره, قال: فما ترى؟ قال: أرى أن تجعل الدية عليه في ماله, وترفع عنه حصة الذي عفا, قال عمر رضي الله عنه: وأنا أرى ذلك. قال محمد: وأنا أرى ذلك, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آ دمی لا یا گیا جس نے کسی کو جان بوجھ کرقتل کیا تھا تو آپ نے اس ( قاتل )کوقتل کرنے کا حکم دیا پس مقتول کے بعض اولیا ء (ورثاء) نے اسے معاف کر دیا تو آپ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا قصاص ان سب کا حق تھا تو جس نے معاف کر دیا تو اس کی زندگی کو باقی رکھا اب ( جس نے معاف نہیں کیا )وہ اپنا حق نہیں لے سکتا حتی کہ دوسرے کا حق بھی لے حضرت عمر فا روق رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ کی رائے کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا اس کے مال کی دیت لازم کر دیں اور جس نے معاف کیا اس کا حصہ نکال لیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا بھی یہی خیال ہے۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 590

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [93] بَابُ من قتل فعفا بعض الأولياء · حديث 591

591 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: من عفا من ذي سهم فعفوه عفو. قال محمد, وبه نأخذ, من عفا من زوجة, أو زوج, أو أم, أو أخ من أم, أو غير ذلك فعفوه جائز, وقد حقن الدم, وللبقية حصتهم من الدية, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ، وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جس حصہ دار نے معاف کر دیا تو اس کا معاف کرنا معافی ہے۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں تو بیوی یا بھائی جو ماں کی طرف سے یا اس کے علاوہ ہوں معاف کریں تو یہ معافی جائز ہے اور ( قاتل کا ) خون محفوظ ہو گیا اور باقی حضرات کو دیت سے ان کا حصہ ملے گا ‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

من عفا من ذي سهم فعفوه عفو. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 591

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [94] بَابُ من قتل عبده, أو ذا قرابته · حديث 592

592 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الكريم, عن رجل, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه, أن أعرابيا قال لأم ولده: انطلقي فارعي هذا البهم, فقال ابنها: إذا أذهب فأحبسها, فإني أخشى أن يطيف بها عبدان الناس, قال: إنك لههنا؟ ثم حذفه بسيف فقطع رجله, فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فأمر بقتله, فقال معاذ بن جبل رضي الله عنه: إنه ليس بين الأب وبين #518# الإبن قصاص, ولكن الدية في ماله. #519# قال محمد: وبه نأخذ, من قتل ابنه عمدا لم يقتل به, ولكن الدية عليه في ماله في ثلاث سنين يؤدي في كل سنة الثلث من الدية, ولا يرث من الدية, ولا من مال ابنه شيئا ويرثه أقرب الناس من الإبن بعد الأب, ولا يحجب الأب عن الميراث أحدا, وهو في ذلك بمنزلة الميت, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت عبد الکریم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ایک آدمی کے واسطے سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے اپنی ام ولد (لونڈی) سے کہا جاؤ اس بکرے کے بچے کو چراؤ تو اس لونڈی کے بچے نے کہا میں بھی اس کی حفاظت کے لئے جاؤں گا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ لوگوں کے غلام اس کے گرد چکر لگائیں گے تو اس (مولیٰ) نے کہا تو یہاں تک پہنچ گیا (کہ مجھ سے کلام کرتا ہے )پھر اس نے اسے تلوار سے مارا کہ اسے قتل کر دے چنانچہ اس نے اس کا پاؤں کاٹ دیا یہ مقدمہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اسے قتل کر نے کا حکم دیا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا باپ اور بیٹے کے درمیان قصاص نہیں ہوتا بلکہ اس کے مال میں دیت ہوتی ہے ۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جوشخص اپنے بیٹے کو جان بوجھ کرقتل کرے اسے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے مال میں دیت ہوگی جو تین سال میں ادا کی جائے گی ہر سال دیت کا تہائی حصہ ادا کرے اور وہ (قاتل باپ یا بیٹا) دیت کا وارث نہیں ہوگا اور نہ ہی اپنے مقتول بیٹے کے مال میں سے اسے وراثت ملے گی بلکہ اس کا وارث وہ ہوگا جو باپ کے بعد بیٹے کا سب سے زیادہ قریبی ہے اور باپ کسی کی میراث میں آ ڑنہیں بنے گا اور وہ اس سلسلے میں میت کی طرح ہوگا ۔‘‘(گو یادہ پہلے ہی مر چکا ہے )حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← رَجُلٌ: ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 592

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [94] بَابُ من قتل عبده, أو ذا قرابته · حديث 593

593 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يقتل عبده عمدا قال: يدفع إلى أوليائه, فإن شاؤوا قتلوا, وإن شاؤوا عفوا. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ليس بين العبد وبين سيده قصاص, ولكن السيد يوجع ضربا, ويستودع السجن, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے فرماتے ہیں وہ اس میت کے اولیاء کے حوالے کیا جائے چاہے تو اسے قتل کریں اور چاہیں تو معاف کردیں۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار نہیں کرتے کیونکہ غلام اور اس کے آقا کے درمیان قصاص نہیں البتہ اس آقا کو سزا دی جائے اور قید کر دیا جائے۔‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

يدفع إلى أوليائه, فإن شاؤوا قتلوا, وإن شاؤوا عفوا. ← إبراهيم في الرجل يقتل عبده عمدا ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 593

chevron_left Previous
1…434445…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter