574 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, حدثنا حماد, عن إبراهيم, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: العجماء جبار, والقليب جبار, والرجل جبار, والمعدن جبار, وفي الركاز الخمس.
#503#
قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, والجبار الهدر, إذا سار الرجل على الدابة فنفحت برجلها وهي تسير فقتلت رجلا, أو جرحته فذلك هدر, ولا يجب على عاقلة ولا غيرها, والعجماء: الدابة المنفلتة ليس لها سائق, ولا راكب توطأ رجلا فتقتله, فذلك هدر, والمعدن والقليب: الرجل يستأجر الرجل يحفر له بئرا, أو معدنا فيسقط عنه, فيموت فذلك هدر, ولا شيء على المستأجر, ولا على عاقلته.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جانور کے ہلاک کرنے سے خون معاف ہے کنویں میں گر کر مرنے سے خون معاف ہے جانور تیز دوڑ رہا ہو اور کسی شخص کو ہلاک کر دے تو اس کا خون معاف ہے کان میں گر کر مر جائے تو خون معاف ہے اور خزانے میں پانچواں حصہ ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ (تفصیل اس طرح ہے )الجبار کا معنی ہے الھدی ٰہے یعنی اس کی کوئی چٹی نہیں جب کوئی شخص سوار جارہا ہو وہ اسے پاؤں سے ایڑ لگائے اور جانور کسی شخص کو ہلاک کر دے یا زخمی کر دے تو یہ خون معاف ہے عاقلہ یاکسی دوسرے پر دیت واجب نہیں ہوگی العجما وہ جانور جو بھاگ گیا اب نہ تو اسے کوئی لے جانے والا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی سوار ہے اگر وہ کسی کو پاؤں کے نیچے روند ڈالے تو اس کا خون معاف ہے معد ن سے مراد کنواں وغیرہ ہے کوئی شخص کسی دوسرے کو کنواں یا کان کھود نے کے لئے اجرت پر حاصل کرتا ہے پس وہ اس میں گر کر مر جائے تویہ خون معاف ہے اور آجر یا اس کی عاقلہ پر کوئی چٹی نہیں ہوگی ۔“
العجماء جبار, والقليب جبار, والرجل جبار, والمعدن جبار, وفي الركاز الخمس. ← النَّبِيِّ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ