Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [47] بَابُ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا يُكْرَهُ فِيهَا · حديث 162

162 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي " الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي يَوْمِ غَيْمٍ ثُمَّ تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيْهِ بَعْضُ صَلَاتِهِ، فَإِذَا هُوَ قَدْ كَانَ يُصَلِّي إِلَى غَيْرِ قِبْلَةٍ، قَالَ: يَتَحَوَّلُ إِلَى الْقِبْلَةِ، وَيَحْتَسِبُ بِمَا صَلَّى وَيُصَلِّي مَا بَقِيَ " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں جو بادلوں والے دن نماز پڑھتا تھا پھر سور ج ظاہر ہو جاتا ہے اور ابھی اس کی کچھ نماز باقی ہے اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ قبلہ رخ نہیں ہے تو فرمایا وہ قبلہ کی طرف پھر جائے اور جو کچھ پڑھ چکا ہے اسے شمار کرے اور باقی نماز پڑھ لے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 162

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [47] بَابُ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا يُكْرَهُ فِيهَا · حديث 163

163 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " بَيْنَمَا هُوَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ أَقْبَلَ رجل أَعْمَى مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَالْقَوْمُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَوَقَعَ فِي زُبْيَةٍ، فَاسْتَضْحَكَ بَعْضُ الْقَوْمِ حَتَّى قَهْقَهَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ كَانَ قَهْقَهَ مِنْكُمْ فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ»

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے منصور بن زاذان رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نماز پڑھا رہے تھے کہ قبلہ کی جانب سے ایک نابینا شخص نماز پڑھنے کے ارادے سے آیا لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے وہ پانی کے کنویں میں گر گیا تو کچھ لوگ ہنسنے لگے حتی ٰکہ انہوں نے قہقہہ لگایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا تم میں سے جس نے قہقہہ لگایا ہے وہ دوبارہ وضو کر کے نئے سرے سے نماز پڑھے۔

الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 163

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [47] بَابُ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا يُكْرَهُ فِيهَا · حديث 164

164 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يُقَهْقِهُ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: «يُعِيدُ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ، وَيَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ؛ فَإِنَّهُ أَشَدُّ الْحَدَثِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں جو نماز میں زور زور سے ہنستا ہے فرماتے ہیں وہ وضو اور نماز دونوں کولوٹائے گا اور اپنے رب سے بخشش طلب کرے کیونکہ وہ سخت قسم کا بے وضو ہوا ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“ ۔

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← «يُعِيدُ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ، وَيَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ؛ فَإِنَّهُ أَشَدُّ الْحَدَثِ» ← إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يُقَهْقِهُ فِي الصَّلَاةِ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 164

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [48] بَابُ النَّوْمِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَانْتِقَاضِ الْوُضُوءِ مِنْهُ · حديث 165

165 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ الْمُؤَذِّنَ قَدْ أَذَّنَ، فَوَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ حَتَّى عُرِفَ مِنْهُ النَّوْمُ، وَكَانَتْ لَهُ نَوْمَةٌ تُعْرَفُ، كَانَ يَنْفُخُ إِذَا نَامَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِغَيْرِ وُضُوءٍ» قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ كَغَيْرِهِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ #181# إِبْرَاهِيمَ نَأْخُذُ, بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي» فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا لَيْسَ كَغَيْرِهِ، فَأَمَّا مَنْ سِوَاهُ، فَمَنْ وَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور مسجد کی طرف تشریف لے گئے آپ نے دیکھا کہ مئوذن اذان کہہ رہا ہے تو آپ پہلو کے بل لیٹ کر آرام فرما ہوئے حتی کہ آپ سے نیند معلوم ہوتی اور آپ کی نیند کا پتہ چل جاتا تھا کیونکہ جب سو جاتے تو خراٹے لیتے تھے ‘ آپ کے خراٹے ایسے نہ تھے جس سے عموما لوگوں کو کوفت ہوتی ہے بلکہ بہت آہستہ آہستہ ہوتے) پھر اٹھتے تھے وضو کئے بغیر نماز پڑھی۔ ‘‘ ( کیونکہ آپ کا وضو برقرار تھا ) حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ دوسروں کی طرح نہیں تھا۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’ میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا ‘‘ پس اس مسئلہ میں آپ دوسروں کی طرح نہیں جب کہ دوسرے لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ جو آدمی پہلو کے بل سو جائے اس پر وضو فرض ہو جاتا ہے ‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 165

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [48] بَابُ النَّوْمِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَانْتِقَاضِ الْوُضُوءِ مِنْهُ · حديث 166

166 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا نِمْتَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا أَوْ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا أَوْ رَاكِبًا فَلَيْسَ عَلَيْكَ وُضُوءٌ» #182# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، فَإِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جب تم بیٹھے بیٹھے یا کھڑے کھڑے یا رکوع یا سجدے کی حالت میں یا سواری کی حالت میں سو جاؤ تو تم پر وضوضروری نہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنا پہلو لگائے اور سوجائے اس پر وضوفرض ہو جاتا ہے ‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 166

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [48] بَابُ النَّوْمِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَانْتِقَاضِ الْوُضُوءِ مِنْهُ · حديث 167

167 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، فَقَالَ: «لَأَنْ أُصَلِّيَهَا وَحْدِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَنَامَ قَبْلَهَا ثُمَّ أُصَلِّيَهَا فِي جَمَاعَةٍ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَنَحْنُ نَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہمیں اسماعیل بن عبدالملک رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں وہ(اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں میں نے ان (حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ ) سے عشاء سے پہلے سوجانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اسے اکیلا پڑھ لوں بجائے اس کے سوجاؤں پھر جماعت کے ساتھ پڑھوں۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم نماز عشاء سے پہلے سونے کو مکروہ جانتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، ← سَأَلْتُهُ ← مُجَاهِدٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 167

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [48] بَابُ النَّوْمِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَانْتِقَاضِ الْوُضُوءِ مِنْهُ · حديث 168

168 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَالَ: «مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ شَابٌّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْرُسُكُمْ فَحَرَسَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ مَعَ الصُّبْحِ غَلَبَتْهُ عَيْنُهُ فَمَا اسْتَيْقَظُوا إِلَّا بَحَرِّ الشَّمْسِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّأَ وَتَوَضَّأَ أَصْحَابُهُ، وَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْفَجْرَ بِأَصْحَابِهِ، وَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي وَقْتِهَا " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارات کے پچھلے حصے میں ( ایک جگہ ) اترے اور فر ما یا آج رات کون ہماری حفاظت کرے گا؟ ( وقت کا خیال رکھے گا ) انصار میں سے ایک نوجوان نے عرض یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ لوگوں کی حفاظت کروں گا وہ حفاظت کرتا رہا حتی کہ جب صبح قریب ہوئی اس پر نیند غالب آ گئی اور سب حضرات اس وقت جاگے جب دھوپ سر پر آ گئی۔ ‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور وضو کیا آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی وضو کیا اور موذن نے اذان دی تو آپ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز فجر پڑھائی اور اس میں بلند آواز سے قرات کی جس طرح آپ وقت پر پڑھنے کی صورت میں کیا کرتے تھے۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ شَابٌّ: ← «مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟» ← عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ لَيْلَةً ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 168

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [49] بَابُ صَلَاةِ الْمُغْمَى عَلَيْهِ · حديث 169

169 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنِ الرَّجُلِ الْمَرِيضِ يُغْمَى عَلَيْهِ فَيَدَعُ الصَّلَاةَ، قَالَ: «إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الْوَاحِدُ، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَقْضِيَهُ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنَّهُ فِي عُذْرٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تعالى» قَالَ مُحَمَّدٌ: إِذَا أُغْمِيَ عَلَيْهِ يَوْمًا وَلَيْلَةً قَضَى، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ان سے کسی نے اس مریض کے بارے میں پوچھا جس پر بیہوشی طاری ہوئی تو اس نے نماز چھوڑ دی ‘ انہوں نے فرمایا اگر ایک دن کی بیہوشی ہوتو مجھے ان نمازوں کی قضاء پسند ہے اور اگر اس سے زیادہ ہے تو وہ معذور ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہئے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر ایک رات کی بیہوشی ہو تو وہ نمازوں کی قضا کرے اور اگر اس سے زیادہ ہو تو اس پر قضا نہیں۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

الرَّجُلِ الْمَرِيضِ يُغْمَى عَلَيْهِ فَيَدَعُ الصَّلَاةَ، ← إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَأَلَهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 169

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [49] بَابُ صَلَاةِ الْمُغْمَى عَلَيْهِ · حديث 170

170 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " فِي الْمُغْمَى عَلَيْهِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، قَالَ: يَقْضِي " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، حَتَّى يُغْمَى عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ بیہوش ایک دن رات کی نماز قضا کرے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں حتی کہ اسے اس سے زیادہ بیہوشی ہو۔

يَقْضِي. ← ابْنِ عُمَرَ فِي الْمُغْمَى عَلَيْهِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 170

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [50] بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ · حديث 171

171 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي " الرَّجُلِ يَشُكُّ فِي السَّجْدَةِ الأولى أَوِ التَّشَهُّدِ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ مِنْ صَلَاتِهِ - مَا لَمْ تَكُنْ رَكْعَةً - فَإِنَّهُ يَقْضِي مَا شَكَّ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ، وَيَسْجُدُ لِذَلِكَ أَيْضًا سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَإِنَّهُمَا تُصْلِحَانِ بِإِذْنِ اللَّهِ مَا كَانَ قَبْلَهُمَا مِنْ نِسْيَانٍ. وَكَانَ يُقَالُ: إِنَّهُمَا الْمُرْغِمَتَانِ لِلشَّيْطَانٍ. وَإِنَّهُ قَالَ: لَأَنْ أَسْجُدَ لِذَلِكَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فِيمَا لَمْ يَحِقَّ عَلَيَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَدَعَهُمَا " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، فَإِنْ كَانَ يُبْتَلَى بِذَلِكَ كَثِيرًا مَضَى عَلَى أَكْبَرِ رَأْيِهِ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں جسے پہلے سجدے یا تشہد یا نماز کے کسی حصے میں شک ہوا اور ابھی رکعت مکمل نہ ہوئی ہوتو اسے جس کا شک ہے اسے دوبارہ پڑھے اور اس کے لئے سہو کے دو سجدے بھی کرے کیونکہ یہ سجدے اذن الہیٰ سے گذشتہ نسیان کی اصلاح کر دیتے ہیں ۔اور کہا جاتا تھا کہ یہ دونوں سجد ے شیطان کی ذلت کا باعث ہیں اور فرمایا حضرت ابراہیم نحفی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا مجھے یہ دونوں سجدے اس صورت میں جب مجھ پر لازم نہ ہوں چھوڑ نے کے مقابلے میں زیادہ پسند ہیں۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر نسیان اکثر ہوتا ہو تو جو رائے غالب ہو اس پر عمل کر کے آخر میں دو سجدے کرے ‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 171

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [50] بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ · حديث 172

172 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِيمَنْ نَسِيَ الْفَرِيضَةَ، فَلَا يَدْرِي أَرْبَعًا صَلَّى أَمْ ثَلَاثًا. قَالَ: «إِنْ كَانَ أَوَّلَ نِسْيَانِهِ أَعَادَ الصَّلَاةَ، وَإِنْ كَانَ يُكْثِرُ النِّسْيَانَ يَتَحَرَّى الصَّوَابَ، وَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّهِ أَنَّهُ أَتَمَّ صلاته سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، وَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّهِ أَنَّهُ صَلَّى ثَلَاثًا أَضَافَ إِلَيْهَا وَاحِدَةً ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو فرض نماز میں بھول جائے پس اسے معلوم نہ ہو کہ چار ( رکعات ) پڑھی ہیں یا تین ؟ وہ فرماتے ہیں اگر پہلی بار بھول واقع ہوئی ہے تو دوبارہ نماز پڑھے اور بھول اکثر ہوتی رہتی ہے تو درست بات پر غور کرے اگر غالب رائے اس طرف ہے کہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں تو ان کے ساتھ ایک اور رکعت ملائے پھر سہو کے دو سجدے کرے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ فِيمَنْ نَسِيَ الْفَرِيضَةَ، فَلَا يَدْرِي أَرْبَعًا صَلَّى أَمْ ثَلَاثًا. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 172

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [50] بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ · حديث 173

173 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَضْرِبُ الرَّجُلَ إِذَا رَآهُ يُتَابِعُ بَيْنَ السُّجُودِ فِي غَيْرِ سَهْوٍ " قَالَ مُحَمَّدٌ: لَا يَنْبَغِي أَنْ يَسْجُدَ الرَّجُلُ لِرَكْعَةٍ أَكْثَرَ مِنْ سَجْدَتَيْنِ إِلَّا أَنْ يَسْهُوَ فَلَا يَدْرِي أَسَجَدَ سَجْدَةً وَاحِدَةً أَمِ اثْنَتَيْنِ فَيَمْضِي عَلَى أَكْبَرِ رَأْيِهِ، وَهَذَا كُلُّهُ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس شخص کو سزا دیتے جو کسی بھول کے بغیر سجدہ سہو کرتا ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کسی شخص کے لئے مناسب نہیں کہ وہ ایک رکعت میں دو سے زیادہ سجدے کرے مگر یہ کہ بھول جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ ایک سجدہ کیا ہے یا دو؟ پس غالب رائے پر عمل کرے ۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 173

chevron_left Previous
1…8910…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter