كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [32] بَابُ الصَّلَاةِ تَطَوُّعًا · حديث 102
102 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يَدْخُلُ فِي صَلَاةِ الْقَوْمِ وَلَيْسَ يَنْوِيهَا، قَالَ: «هِيَ تَطَوَّعٌ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، #128# وَإِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ أَنْ يَكُونَ قَدْ صَلَّى الصَّلَاةَ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أَتَى الْقَوْمَ، فَدَخَلَ مَعَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ فَإِنَّ صَلَاتَهُ مَعَهُمْ تَطَوُّعٌ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے ہمیں خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو جماعت میں شامل ہوتا ہے اور اس نماز کی نیت نہیں کرتا (جس کی نیت باقی نمازیوں کی ہے ) تو انہوں نے فرمایا یہ نفل ہوں گے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ فرض نماز گھر میں پڑھ لے پھر آئے اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک ہو جائے تو یہ نفل نماز ہوگی ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔
هِيَ تَطَوُّعٌ. ← إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يَدْخُلُ فِي صَلَاةِ الْقَوْمِ وَلَيْسَ يَنْوِيهَا، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 102
