Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [76] بَابُ مَنْ أَوْلَى بِالصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 258

258 - قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: «الْأَبُ أَحَقُّ بِالصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ مِنَ الزَّوْجِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ. وَبِهِ كَانَ يَأْخُذُ أَبُو حَنِيفَةَ رَحمه اللَّهُ تَعَالَى

حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! مجھے ایک شخص نے حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے خبر دی ‘ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ خاوند کے مقابلے میں باپ کو نماز جنازہ پڑھانے کا زیادہ حق ہے۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔ ‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ. وَبِهِ كَانَ يَأْخُذُ أَبُو حَنِيفَةَ تَعَالَى ← «الْأَبُ أَحَقُّ بِالصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ مِنَ الزَّوْجِ» ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← الْحَسَنِ، ← رَجُلٌ: ← أبو حنيفة

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 258

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [77] بَابُ اسْتِهْلَالِ الصَّبِيِّ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ · حديث 259

259 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي السِّقْطِ: إِذَا اسْتَهَلَّ صُلِّيَ عَلَيْهِ، وَوُرِّثَ، وَإِذَا لَمْ يَسْتَهِلَّ لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ، وَلَمْ يُوَرَّثْ #270# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ. وَالِاسْتِهْلَالُ أَنْ يَقَعَ حَيًّا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے نامکمل پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں فرمایا اگر وہ آواز نکالے تو اس کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے اور اس کی وراثت بھی ہوگی اور اگر وہ آواز نہ نکالے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے نہ ہی وراثت تقسیم ہوگی ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں استہلال (آواز نکالنے ) کا مطلب یہ ہے کہ زندہ پیدا ہو۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 259

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [77] بَابُ اسْتِهْلَالِ الصَّبِيِّ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ · حديث 260

260 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الصَّبِيِّ يَقَعُ مَيِّتًا، وَقَدْ كَمُلَ خَلْقُهُ، قَالَ: «لَا يُحْجَبُ، وَلَا يَرِثُ، وَلَا يُصَلَّى عَلَيْهِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَلَكِنَّهُ يُغَسَّلُ وَيُكَفَّنُ وَيُدْفَنُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ! وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس بچے کے بارے میں روایت کرتے ہیں جومردہ پیدا ہواوراس کے اعضاء مکمل ہو چکے ہیں وہ نہ وراثت میں رکاوٹ بنے گا اور نہ ہی وارث ہو گا اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں لیکن اسے غسل دیا جائے ،کفن پہنایا جائے اور دفن کر دیا جائے ‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَلَكِنَّهُ يُغَسَّلُ وَيُكَفَّنُ وَيُدْفَنُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← «لَا يُحْجَبُ، وَلَا يَرِثُ، وَلَا يُصَلَّى عَلَيْهِ» ← إِبْرَاهِيمَ فِي الصَّبِيِّ يَقَعُ مَيِّتًا، وَقَدْ كَمُلَ خَلْقُهُ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 260

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [78] بَابُ غُسْلِ الشَّهِيدِ · حديث 261

261 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يُسْتَشْهَدُ فَيَمُوتُ مَكَانَهُ الَّذِي قُتِلَ فِيهِ قَالَ: «يُنْزَعُ عَنْهُ خُفَّاهُ وَقَلَنْسُوَتُهُ، وَيُكَفَّنُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِ» #271# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَيُنْزَعُ عنه أَيْضًا كُلُّ جِلْدٍ وَسِلَاحٍ وَيَزِيدُونَ مَا أَحَبُّوا مِنَ الْأَكْفَانِ، وَلَا يُغَسَّلُ، وَلَكِنْ يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں جس کو شہید کیا جائے اور وہ ایسی جگہ انتقال کر جائے جہاں اس کوقتل کیا گیا انہوں نے فرمایا اس کے موزے اور ٹوپی اتاری جائے اور جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں ان ہی میں کفن دیا جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اس طرح اس سے ہرقسم کا چمڑا اور اسلحہ وغیرہ اتارلیا جائے اور جوکفن پسند کریں اس کا اضافہ کیا جائے ۔اسے غسل نہ دیا جائے لیکن اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

«يُنْزَعُ عَنْهُ خُفَّاهُ وَقَلَنْسُوَتُهُ، وَيُكَفَّنُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِ» ← إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يُسْتَشْهَدُ فَيَمُوتُ مَكَانَهُ الَّذِي قُتِلَ فِيهِ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 261

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [78] بَابُ غُسْلِ الشَّهِيدِ · حديث 262

262 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يُقْتَلُ فِي الْمَعْرَكَةِ، قَالَ: «لَا يُغَسَّلُ»، وَالَّذِي يُضْرَبُ فَيَتَحَامَلُ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: «يُغَسَّلُ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَإِذَا حُمِلَ أَيْضًا عَلَى أَيْدِي الرَّجالِ حَيًّا فَمَاتَ غُسِّلَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں جو میدان جنگ میں شہید ہو جائے فرمایا کہ اسے غسل نہ دیا جائے اور جسے مارا گیا اور وہ اٹھا کر گھر والوں کے پاس لایا گیا (بعد میں فوت ہوا ) اسے غسل دیا جائے ۔حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اسی طرح جب لوگوں کے ہاتھوں میں اٹھایا جائے اور ابھی زندہ ہو پھر فوت ہو جائے تو اسے بھی غسل دیا جائے ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

«يُغْسَلُ» ← «لَا يُغَسَّلُ»، وَالَّذِي يُضْرَبُ فَيَتَحَامَلُ إِلَى أَهْلِهِ، ← إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يُقْتَلُ فِي الْمَعْرَكَةِ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 262

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [78] بَابُ غُسْلِ الشَّهِيدِ · حديث 263

263 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْأَفْطَسُ، قَالَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا يَهْرَبُ مِنْ قَوْمِهِ إِلَى الْكَعْبَةِ يَعْبُدُ رَبَّهَا، وَإِنَّ حَوْلَهَا لَقبر ثَلَاثِمِائَةِ نَبِيٍّ صلوات الله عليهم وسلامه»

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے سالم بن الافطس رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہر نبی اپنی قوم سے الگ ہو کر کعبہ شریف کی طرف جاتا ہے اور اس کے رب کی عبادت کرتا ہے اور خانہ کعبہ کے گرد تین سوانبیاء کی قبریں ہیں ۔“

سَالِمٌ الْأَفْطَسُ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 263

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [78] بَابُ غُسْلِ الشَّهِيدِ · حديث 264

264 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قَالَ: قَبْرُ هُودٍ وَصَالِحٍ وَشُعَيْبٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ

267حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت عطاء بن سائب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں حضرت ہود، حضرت صالح اور حضرت شعیب علیہ السلام کی قبریں مسجد حرام میں ہیں ۔“

قَبْرُ هُودٍ وَصَالِحٍ وَشُعَيْبٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 264

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [78] بَابُ غُسْلِ الشَّهِيدِ · حديث 265

265 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ»، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا #273# الطَّاعُونُ؟ قَالَ: «وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ، وَفِي كُلٍّ شُهَدَاءُ»

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے زیاد بن علاقہ رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت عبداللہ بن حارث رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت نیزہ زنی اور طاعون سے فنا ہوگی عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ! نیزہ کو تو ہم جانتے ہیں طاعون کیا ہے؟ فرمایاوہ تمہارے دشمنوں جنوں کی نیزہ زنی ہے ( جونظرنہیں آتی ) اور دونوں صورتوں میں شہادت کا مقام ملتا ہے۔ ‘‘

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 265

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [79] بَابُ زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 266

266 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «نَهَيْنَاكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا؛ فَقَدْ أُذِنَ لِمُحَمَّدٍ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ، وَعَنْ لَحْمِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُمْسِكُوهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَأَمْسِكُوهُ مَا بَدَا لَكُمْ، وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّا إِنَّمَا نَهَيْنَاكُمْ لِيَتَّسِعَ مُوسِعُكُمْ عَلَى فَقِيرِكُمْ، وَعَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ، فَانْتَبِذُوا فِي كُلِّ ظَرْفٍ فَإِنَّ ظَرْفًا لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ، وَلَا تَشْرَبُوا الْمُسْكِرَ» #276# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ، لَا بَأْسَ بِزِيَارَةِ الْقُبُورِ لِلدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ وَلِذِكْرِ الْآخِرَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے علقمہ بن مرثد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ابن بریدہ اسلمی رحمتہ اللہ علیہ سے وہ اپنے باپ (حضرت برید سلمٰی رضی اللہ عنہ ) سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہم نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا پس زیارت کرو لیکن فحش کلامی نہ کرو ‘ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو والدہ ماجدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت دی گئی اور ہم تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کرتے تھے اب جب تک چاہو دھوکر جمع کر سکتے ہو ہم نے تمہیں اس لئے منع کیا تھا کہ خوشحال آدمی فقیر کو دے اور ہم نے تمہیں دبا ء حنتم اور مزفت ( برتنوں میں ) نبیذ ( پھلوں کا رس ) بنانے سے منع کیا تھا (اب) ہر برتن میں بناسکتے ہو کیونکہ برتن کسی چیز کو حلال وحرام نہیں کرتے اور نشہ آور مشروب نہ پیو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم ان سب بات کو اختیار کر تے ہیں میت کیلئے دعا کرنے اور آخرت کی یاد کے لئے زیارت قبور میں کوئی حرج نہیں ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 266

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [80] باب قراءة القرآن · حديث 267

267 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا يحيى بن عمرو بن سلمة, عن أبيه, عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: من اقترأ منكم بالثلاث الآيات اللاتي في آخر سورة البقرة في ليلة فقد أكثر وأطاب.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے یحییٰ بن عمرو بن سلم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے والد سے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جو شخص سورۃ بقرہ کی آخری تین آیات رات کے وقت پڑھے اس نے بہت بھلائی حاصل کی اور اس کا معاملہ خوب پاکیزہ ہوا۔“

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← يحيى بن عمرو بن سلمة ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 267

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [80] باب قراءة القرآن · حديث 268

268 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: قال عبد الله بن مسعود رضي الله عنه: لا تهذوا القرآن كهذ الشعر, ولا تنثروه كنثر الدقل. #278# قال محمد: وبه نأخذ, ينبغي للقارئ أن يفهم ما يقرأ, و هو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اشعار کی طرح قرآن مجید کو جلدی جلدی نہ پڑھو اور ردی کھجور کی طرح نہ پھینکو۔ ‘‘ ( کوئی حرف چھوڑ دو) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں قاری کو چاہیے کہ اس طرح پڑھے کہ جو جو کچھ پڑھ رہا ہے اسے سمجھے ‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 268

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [80] باب قراءة القرآن · حديث 269

269 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عاصم بن أبي النجود, عن أبي الأحوص, عن عبدالله بن مسعود رضي الله عنه أنه قال: أما إن بكل حرف يتلوه تال عشر حسنات, أما إني لا أقول لكم: «الم» حرف, ولكن ألف ولام وميم ثلاثون حسنة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عاصم بن ابی النجود رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ابوالاحوص رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں تلاوت کرنے والے کو ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں سنو میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ،لام ،میم پڑھنے پرتیس نیکیاں ملتی ہیں ۔“

عبدالله بن مسعود أنه ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 269

chevron_left Previous
1…161718…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter