Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [66] بَابُ الصَلَاةِ في الْكُسُوفِ · حديث 222

222 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ» ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ كَانَ الدُّعَاءُ حَتَّى انْجَلَتْ " #238# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَلَا نَرَى إِلَّا رَكْعَةً وَاحِدَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَسَجْدَتَيْنِ عَلَى صَلَاةِ النَّاسِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ، وَنَرَى أَنْ يُصَلُّوا جَمَاعَةً فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، وَلَا يُصَلِّي جَمَاعَةً إِلَّا الْإِمَامُ الَّذِي يُصَلِّي بِهِمُ الْجُمُعَةَ، فَأَمَّا أَنْ يُصَلِّيَ النَّاسُ فِي مَسَاجِدِهِمْ جماعة فَلَا، وَأَمَّا الْجَهْرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَرَ #239# بِالْقِرَاءَةِ فِيهَا، وَبَلَغَنَا أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ بِالْكُوفَةِ، وَأَحَبُّ إِلَيْنَا أَنْ لَا يُجْهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، وَأَمَّا كُسُوفُ الْقَمَرِ فَإِنَّمَا يُصَلِّي النَّاسُ وُحْدَانًا، وَلَا يُصَلُّونَ جَمَاعَةً، لَا الْإِمَامُ وَلَا غَيْرُهُ وَكَذَلِكَ الْأَفْزَاعُ كُلُّهَا، وَإِذَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي سَاعَةٍ لَا يُصَلَّى فِيهَا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، أَوْ نِصْفِ النَّهَارِ، أَوْ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَلَا صَلَاةَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ، وَلَكِنِ الدُّعَاءُ حَتَّى تَنْجَلِيَ أَوْ تَحِلَّ الصَّلَاةُ فتُصلى، وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الْكُسُوفِ شَيْءٌ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا اور اسی دن آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا لوگوں نے کہا حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے وصال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے صحابہ کرام کو خطبہ دیا اور فرمایا سورج اور چاند اللہ تعالی ٰکی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت (یازندگی ) کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگتا۔ ‘‘ پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھانے کے بعد دعا فرمائی حتی کہ سورج روشن ہو گیا ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور ہمارے نز دیک ایک رکعت میں ایک ہی رکوع اور دو سجدے ہیں جس طرح دوسری نمازوں میں ہوتا ہے اور ہمارے نزدیک با جماعت نماز پڑھیں جب سورج گرہن ہو اور وہی شخص نماز پڑھائے جو جمعہ کا امام ہے جہاں باجماعت نماز ہوتی ہے ان مساجد میں پڑھنا ٹھیک نہیں ( البتہ بڑا خطیب اجازت دے تو ٹھیک ہے ) جہاں تک بلند آواز سے قرات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی بات نہیں پہنچی کہ آپ نے اس میں جہری قرات کی ہو۔“ البتہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں اس نماز میں جہری قرات فرمائی ہے اور ہمارے نزدیک پسندیدہ ترین بات یہ ہے کہ قرات اونچی آواز سے نہ ہو۔“ جہاں تک سورج گرہن کا تعلق ہے تو لوگ الگ الگ نماز پڑھیں جماعت سے نہ پڑھیں نہ امام اور نہ دوسرے لوگ ‘ اسی طرح جب کسی بھی خوف کی حالت میں نماز پڑھیں تو اکیلے اکیلے پڑھیں‘ اگر سورج گرہن طلوع یا دوپہر کے وقت یا عصر کے بعد ہوتو اس وقت نماز جائز نہیں صرف دعا کریں حتی کہ سورج روشن ہو جائے یا نماز پڑھنا جائز ہو جائے ابھی گرہن باقی ہوتو اب پڑھ سکتے ہیں۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 222

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 223

223 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: يُغَسَّلُ الْمَيِّتُ وِتْرًا اثْنَتَيْنِ بِمَاءٍ، وَوَاحِدَةً بِالسِّدْرِ، وَهِيَ الْوُسْطَى، وَيُجَمَّرُ وِتْرًا، وَلَا يَكُونُ آخِرَ زَادِهِ إِلَى الْقَبْرِ نَارٌ يُتْبَعُ بِهَا، وَيَكُونُ كَفَنُهُ وِتْرًا #240# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ إِلَا فِي خَصْلَةٍ وَاحِدَةٍ: إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَ كَفَنَهُ وِتْرًا، وَإِنْ شِئْتَ شَفْعًا بَلَغَنَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: «اغْسِلُوا ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ وَكَفِّنُونِي فِيهِمَا» فَهَذَا شَفْعٌ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میت کو غسل طاق بار دیا جائے ایک دو بار پانی سے اور ایک بار بیری کے پتوں سے اور یہ درمیان والا ہو طاق بار ( خوشبوکی ) دھونی دی جائے اور قبر کی طرف اس کا آخر سامان آگ نہ ہو جو اس کے ساتھ لے جائیں اور کفن طاق کپڑوں پر مشتمل ہو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ‘ البتہ کفن کے بارے میں یہ ہے کہ چاہیں تو طاق رکھیں اور چاہیں تو جفت ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 223

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 224

224 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْمِسْكِ يُجْعَلُ فِي حَنُوطِ الْمَيِّتِ؟ قَالَ: أَوَلَيْسَ مِنْ أَطْيَبِ طِيبِكُمْ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عاصم بن سلیمان رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ کسی شخص نے ان سے (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے ) کستوری کے بارے میں پوچھا جومیت کی خوشبو میں رکھی جائے ‘ تو آپ نے فرمایا کیا وہ تمہاری عمده ترین خوشبو نہیں ؟ (یعنی رکھ سکتے ہیں ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ۔

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ ← أَوَلَيْسَ مِنْ أَطْيَبِ طِيبِكُمْ. ← الْمِسْكِ يُجْعَلُ فِي حَنُوطِ الْمَيِّتِ، ← سَأَلْتُهُ ← ابْنِ عُمَرَ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 224

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 225

225 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ يُكْرَهُ أَنْ يُجْعَلَ فِي حَنُوطِ الْمَيِّتِ زَعْفَرَانٌ أَوْ وَرْسٌ، قَالَ: وَاجْعَلْ فِيهِ مِنَ الطِّيبِ مَا أَحْبَبْتَ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میت کی خوشبو میں زعفرانی یا ورس رکھنا مکروہ ہے اورفرمایا جو خوشبو تمہیں پسند ہو اس میں رکھ دو۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں۔ ‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ ← وَاجْعَلْ فِيهِ مِنَ الطِّيبِ مَا أَحْبَبْتَ ← كَانَ يُكْرَهُ أَنْ يُجْعَلَ فِي حَنُوطِ الْمَيِّتِ زَعْفَرَانٌ أَوْ وَرْسٌ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 225

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 226

226 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا رَأَتْ مَيِّتًا يُسَرَّحُ رَأْسُهُ، فَقَالَتْ: «عَلَامَ تَنْصُونَ مَيِّتَكُمْ؟» #243# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، لَا نَرَى أَنْ يُسَرَّحَ رَأْسُ الْمَيِّتِ، وَلَا يُؤْخَذُ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا تقَلَّمُ أَظْفَارُهُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ‘ کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک میت کو دیکھا جس کے بالوں میں کنگھی کی گئی تھی‘ تو فرمایا میت کی پیشانی کو کیوں پکڑتے ہو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور میت کے بالوں میں کنگھی کرنے کو پسند نہیں کرتے نہ اس کے بال کاٹے جائیں اور نہ ہی اس کے ناخن تراشے جائیں ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

«عَلَامَ تَنْصُونَ مَيِّتَكُمْ؟» ← إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَأَتْ مَيِّتًا يُسَرَّحُ رَأْسُهُ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 226

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 227

227 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي حُلَّةٍ يَمَانِيَّةٍ وَقَمِيصٍ. #244# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، نَرَى كَفَنَ الرَّجُلِ ثَلَاثَةَ أَثْوَابٍ، وَالثَّوْبَانِ يُجْزِيَانِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی جوڑ لے ( چادروں ) اور قمیض کا کفن پہنایا گیا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ‘ ہمارے نز دیک تین کپڑے ہونے چاہئے اور دو کپڑے بھی جائز ہیں‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 227

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [68] بَابُ غُسْلِ الْمَرْأَةِ وَكَفَنِهَا · حديث 228

228 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْمَرْأَةِ تَمُوتُ مَعَ الرِّجَالِ، قَالَ: «يُغَسِّلُهَا زَوْجُهَا، وَكَذَلِكَ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ مَعَ النِّسَاءِ غَسَّلَتْهُ امْرَأَتُهُ» قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: أَكْرَهُ أَنْ يُغَسِّلَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ نَأْخُذُ، إِنَّ الرَّجُلَ لَا عِدَّةَ عَلَيْهِ؛ وَكَيْفَ يُغَسِّلُ امْرَأَتَهُ، وَهُوَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُخْتَهَا؟ وَيَتَزَوَّجَ ابْنَتَهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِأُمِّهَا؟ بَلَغَنَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: نَحْنُ كُنَّا أَحَقَّ بِهَا إِذَا كَانَتْ حَيَّةً، #246# فَأَمَّا إِذَا مَاتَتْ فَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهَا قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ جو عورت مردوں کے درمیان فوت ہو جائے تو اس کا خاوند غسل دے اسی طرح جب عورتوں کے درمیان مرد فوت ہو جائے تو اس کی بیوی غسل دے ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ‘ خاوند کا بیوی کو غسل دینا جائز ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہی اختیار کر تے ہیں ‘ کیونکہ خاوند پر عدت نہیں ہوتی اور وہ اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے ‘ جب کہ اس کے لئے اس کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہوتا ہے۔ ‘‘ اسی طرح اگر عورت سے جماع نہ کیا ہو تو اس کی بیٹی (جو پہلے خاوند سے ہے ) سے بھی نکاح کر سکتا ہے (لہذا خاوند کا اس سے تعلق ختم ہوگیا البتہ عورت جب تک عدت میں ہواس کا تعلق باقی ہے )

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 228

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [68] بَابُ غُسْلِ الْمَرْأَةِ وَكَفَنِهَا · حديث 229

229 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي كَفَنِ #247# الْمَرْأَةِ: «إِنْ شِئْتَ ثَلَاثَةَ أَثْوَابٍ، وَإِنْ شِئْتَ أَرْبَعًا إِنْ شِئْتَ شَفْعًا وَإِنْ شِئْتَ وِتْرًا» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے عورت کے کفن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ اگر تم چاہوتو تین کپڑوں کا کفن پہناؤ اوراگر چاہو تو چار کپڑے اختیار کرو جفت ہوں یا طاق ۔‘ ( تمام صورتیں جائز ہیں ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ فِي كَفَنِ الْمَرْأَةِ: ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 229

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [69] بَابُ الْغُسْلِ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ · حديث 230

230 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الِاغْتِسَالِ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «إِنْ كَانَ صَاحِبُكُمْ نَجِسًا، فَاغْتَسِلُوا مِنْهُ، وَالْوُضُوءُ يُجْزِي» #248# قَالَ مُحَمَّدُ: وَإِنْ شَاءَ أَيْضًا لَمْ يَتَوَضَّأْ، فَإِنْ كَانَ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنَ الْمَاءِ الَّذِي غَسَّلَ بِهِ الْمَيِّتَ غَسَلَهُ " وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے غسل میت کے بعد غسل کرنے کے بارے میں روایت کرتے ہیں ‘ وہ فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ تمہارا ساتھی (میت) نا پاک ہے تم اس کے بعد غسل کرواور وضو کرنا بھی جائز ہے۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر چاہے تو وضو بھی نہ کرے اور اس کے جسم پرمیت کے غسل کا کچھ پانی لگا ہو وہ اسے دھوڈالے ‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

«إِنْ كَانَ صَاحِبُكُمْ نَجِسًا، فَاغْتَسِلُوا مِنْهُ، وَالْوُضُوءُ يُجْزِي» ← كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ ← إِبْرَاهِيمَ فِي الِاغْتِسَالِ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 230

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [69] بَابُ الْغُسْلِ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ · حديث 231

231 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا نَرَاهُ أَمَرَ بِذَلِكَ، إِنَّهُ رَآهُ وَاجِبًا

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میت کو غسل دینے کی وجہ سے (غسل دینے والے کو ) غسل کا حکم دیتے تھے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے خیال میں آپ نے اسے واجب سمجھ کر اس کا حکم نہیں دیا۔ ‘‘ ( بلکہ محض مستحب ہے )

مُحَمَّدٌ: وَلَا نَرَاهُ أَمَرَ بِذَلِكَ، إِنَّهُ رَآهُ وَاجِبًا ← إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ «كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ» ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 231

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [69] بَابُ الْغُسْلِ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ · حديث 232

232 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ #249# تَحْضُرُهُ الْجَنَازَةُ، وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، قَالَ: «يَتَيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ ثُمَّ يُصَلِّي، وَلَا تَفْعَلْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو جنازہ حاضر ہوتے وقت بے وضو ہو فرماتے ہیں وہ پاک مٹی سے تیمم کرے پھر نماز پڑھے لیکن عورت حیض والی ہو تو ایسا نہ کرے۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← «يَتَيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ ثُمَّ يُصَلِّي، وَلَا تَفْعَلْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا» ← إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ تَحْضُرُهُ الْجَنَازَةُ، وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 232

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [70] بَابُ حَمْلِ الْجَنَائِزِ · حديث 233

233 - مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ المُعْتَمِرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ حَمْلَ الْجَنَازَةِ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ الْأَرْبَعَةِ، فَمَا زِدْتَ عَلَى ذَلِكَ، فَهُوَ نَافِلَةٌ» #251# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ يَبْدَأُ الرَّجُلُ فَيَضَعُ يَمِينَ الْمَيِّتِ الْمُقَدَّمَ عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ يَضَعُ يَمِينَ الْمَيِّتِ الْمُؤَخَّرَ عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ يَعُودُ إِلَى الْمُقَدَّمِ الْأَيْسَرِ فَيَضَعُهُ عَلَى يَسَارِهِ، ثُمَّ يَأْتِي الْمُؤَخَّرَ الْأَيْسَرَ فَيَضَعهُ عَلَى يَسَارِهِ. وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں !وہ فرماتے ہیں ہم سے منصور بن معتمر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت سالم بن ابی الجعد رحمتہ اللہ علیہ سے ، وہ عبید بن نسطاس رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں۔“ سنت طریقہ یہ ہے کہ جنازہ چارپائی کے چاروں جانبوں سے اٹھایا جائے اگر اس سے زیادہ اٹھائے تو نفل ہے۔ ‘‘ ( زیادہ اجر کا باعث ہے) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں (اٹھانے والا ) آ دمی آغاز یوں کرے کہ میت کی اگلی دائیں جانب کو اپنے دائیں کاندھے پر رکھے پھر میت کی پچھلی دائیں جانب کو اپنے دائیں کندھے پر رکھے اور پھر اگلے بائیں جانب کی طرف جائے اور اسے اپنے بائیں کاندھے پر رکھے پھر پچھلی بائیں جانب آئے اور اسے اپنے بائیں کاندھے پر رکھے۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عبيد بن نسطاس ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← أَبِي حَنِيفَةَ ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 233

chevron_left Previous
1…131415…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter