Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [18] بَابُ الشفاعة · حديث 380

380 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن شداد بن عبد الرحمن, عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه, بمثل ذلك.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ شداد بن عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔

أبي سعيد الخدري بمثل ذلك. ← شداد بن عبد الرحمن, ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 380

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [18] بَابُ الشفاعة · حديث 381

381 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن يزيد بن صهيب الذي يقال له الفقير, عن جابر بن عبد الله الأنصاري رضي الله عنه قال: سألته عن الشفاعة, فقال: يعذب الله قوما من أهل الإيمان, ثم يخرجهم بشفاعة محمد صلى الله عليه وسلم قال: قلت له: فأين قول الله: {يريدون أن يخرجوا من النار وما هم بخارجين منها ولهم عذاب مقيم} فقال لي: هذه في الذين كفروا, اقرأ ما قبلها.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت یزید بن صہیب رحمتہ اللہ علیہ سے ( جن کوفقیر کہا جاتا تھا ) روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے شفاعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالی ٰ اہل ایمان میں سے ایک قوم کو عذاب دے گا پھر ان کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے نکالے گا حضرت صہیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے پوچھا اللہ تعالی ٰ کا یہ قول کہاں گیا۔ ‘‘ يريدون أن يخرجوا من النار وماهم بخارجين منها ولهم عذاب مقيم ( ب المائده ۳۷) وہ جہنم سے نکلنا چاہیں گے لیکن وہ اس سے نکلنے والے نہیں اوران کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے ۔“ فر مایا یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو کافر ہیں اس سے پہلے کی آیت پڑھو۔ ‘‘

الشَّفَاعَةُ. ← سَأَلْتُهُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← يزيد بن صهيب الذي يقال له الفقير، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 381

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [19] بَابُ التصديق بالقدر · حديث 382

382 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا أبو الزبير, عن جابر بن عبد الله الأنصاري رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: سأله سراقة بن مالك بن جعشم المدلجي رضي الله عنه فقال: يا رسول الله, أخبرنا عن عمرتنا هذه ألعامنا هذا أم للأبد؟ فقال: للأبد, قال: أخبرنا عن ديننا هذا كأنما خلقنا له, في أي شيء العمل؟ في شيء قد جرت به الأقلام, وثبتت به المقادير أم في شيء نستأنف فيه العمل؟ قال: في شيء قد جرت به الأقلام وثبتت به المقادير, قال: ففيم العمل يا رسول الله؟ فقال: اعملوا فكل عامل ميسر, من كان من أهل #372# الجنة يسر لعمل أهل الجنة, ومن كان من أهل النار يسر لعمل أهل النار, ثم تلا هذه الآية: {فأما من أعطى واتقى. وصدق بالحسنى. فسنيسره لليسرى. وأما من بخل واستغنى. وكذب بالحسنى. فسنيسره للعسرى}.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ابوالزبیر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم المدلجی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے اس عمرہ کے بارے میں ہمیں بتائیں کیا یہ اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ آپ نے فرمایا ہمیشہ کے لئے ہے پوچھا ہمارے دین کے بارے میں بتائے گویا کہ ہم اس کے لئے پیدا کئے گئے تو عمل کی کیا ضرورت ہے گویا یہ ایسے کام کے بارے میں ہے جس کے ساتھ قلمیں جاری ہو چکی ہیں اور اس کے ساتھ تقدیر ثابت ہو چکی ہیں ۔“ یا اس چیز میں ہے جس میں ہم عمل کا آغاز کر یں گے فرمایا اس میں جس میں قلمیں چل چکی ہیں اور تقدیریں ثابت ہو چکی ہیں پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا تم عمل کرو ہر عمل والے کے لئے عمل آسان کر دیا گیا جو آ دمی اہل جنت ہے اسے اعمال جنت کے لئے آسانی دی گئی اور جو جہنمیوں میں سے ہے اس کے لئے اہل جہنم کے کام آسان ہیں پھر یہ آیت پڑھی۔“ فاما من أعطى واتقى ۔وصـدق بالحسنى ۔ فسنيسرہ لليسرى ۔ واما من بخل واستغنى ۔وكذب بالحسنی۔ فسنيسّرہ للعشرٰي۔ تو وہ جس نے دیا اور پر ہیز گار کی اور سب سے اچھی (ملت ) کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کر دیں گے اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا اور سب سے اچھی (ملت ) کو جھٹلایا تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہا کریں گے۔“

سأله سراقة بن مالك بن جعشم المدلجي فقال: ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 382

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [19] بَابُ التصديق بالقدر · حديث 383

383 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عبد العزيز بن رفيع, عن مصعب بن سعد بن أبي وقاص, عن أبيه رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما من نفس إلا قد كتب الله مدخلها, ومخرجها, وما هي لاقية. فقال رجل من الأنصار: ففيم العمل يا رسول الله؟ قال: كل من كان من أهل الجنة يسر لعمل أهل الجنة, ومن كان من أهل النار يسر لعمل أهل النار. فقال الأنصاري: الآن حق العمل.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں !ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت عبدالعزیز بن ربیع رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت معصب بن سعد بن ابی وقاص رحمتہ اللہ علیہ سے وہ اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رحمتہ اللہ علیہ ) سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی ٰنے ہرنفس کے داخل ہونے اور نکلنے کی جگہ اور جو کچھ اسے ملنے والا ہے (سب کچھ ) لکھ دیا ہے انصار میں سے ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا جو جنتی ہو گا اس کے لئے اہل جنت کے اعمال آسان کر دیئے گئے اور جو جہنمیوں میں سے ہے اس کے لئے جہنمیوں کے اعمال آسان کر دیئے گئے انصار نے کہا اب عمل ثابت ہو گیا۔“

الله مدخلها ومخرجها وما هي لاقية فقال رجل من الأنصار ففيم العمل ← مَا مِنْ نَفْسٍ إِلَّا قَدْ ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← مُصْعَبَ بْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 383

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [19] بَابُ التصديق بالقدر · حديث 384

384 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا علقمة بن مرثد الحضرمي, عن يحيى بن يعمر قال: بينا نحن في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ رأيت ابن عمر رضي الله عنهما قاعدا في جانبه, فقلت لصاحبي: هل لك أن تأتي ابن عمر فتسأله عن القدر؟ فقال: نعم فقلت: دعني حتى أكون أنا الذي أسأله, فإني أرفق به منك, فأتيناه فقعدنا إليه فقلت له: يا أبا عبد الرحمن, إنا قوم نتقلب في هذه الأرضين, فربما قدمنا البلد به قوم يقولون: لا قدر, قال: أبلغوهم أني منهم بريء, وأني لو أجد أعوانا لجاهدتهم, قال: ثم أنشأ يحدثنا قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في ناس من أصحابه إذ أقبل شاب جميل, حسن اللمة, طيب الريح, عليه ثياب بيض فقال: السلام عليك يا رسول الله, السلام عليكم, فرد النبي صلى الله عليه وسلم ورددنا, ثم قال: أدنو يا رسول الله؟ فقال: ادنه, فدنا رتوة أو رتوتين, ثم قام موقرا له, ثم قال: أدنو يا رسول الله؟ فدنا رتوة أو رتوتين, ثم قام موقرا له, ثم قال: أدنو يا رسول الله؟ فقال: ادنه, حتى جلس, فألصق ركبتيه بركبة رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: أخبرني عن الإيمان #374# ما هو؟ قال: الإيمان بالله, وملائكته, وكتبه, ورسله, واليوم الآخر, والقدر خيره وشره من الله, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله: صدقت, كأنه يعلم, قال: فأخبرني عن شرائع الإسلام ما هي؟ قال: إقام الصلاة, وإيتاء الزكاة, وحج البيت, وصوم شهر رمضان, والاغتسال من الجنابة, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله: صدقت كأنه يعلم, قال: فأخبرني عن الإحسان ما هو؟ قال: تعمل لله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله: صدقت كأنه يعلم. قال فأخبرني عن قيام الساعة متى هو؟ قال: ما المسؤول عنها بأعلم من السائل, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله صدقت, فانصرف ونحن نراه, إذ قال النبي صلى الله عليه وسلم: علي بالرجل, فسرنا في إثره فما ندري أين توجه, ولا رأينا منه شيئا, فذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: هذا جبريل أتاكم يعلمكم معالم دينكم, ما أتاني في صورة قط إلا وأنا أعرفه فيها قبل هذه الصورة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے علقمہ بن مرشد الحضرمی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ یحیی ٰبن یعمر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اس دوران کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں تھے تو میں نے اچھانک دیکھا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا اس کے ایک کنارے میں تشریف فرما ہیں میں نے اپنے ساتھی سے کہا کیا تم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے تقدیر کے بارے میں پوچھ سکتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں ! میں نے کہا ر ہنے دو میں خود جا کر ان سے پوچھتا ہوں تمہاری نسبت میرا ان سے زیادہ تعارف ہے پس ہم ان کے پاس آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے ۔“ میں نے عرض کیا اے ابوعبد الرحمن ٰرحمتہ اللہ علیہ ! ہم ایسی قوم ہیں کہ اس زمین پر سفر کر تے رہتے ہیں تو بعض اوقات ہم ایسے شہر میں جاتے ہیں جہاں ایک قوم تقدیر کا انکار کر نے والی ہوتی ہے ۔“ انہوں نے فرمایا ان لوگوں سے کہہ دو کہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور اگر مجھے مددگار ( ساتھی ) مل گئے تو میں ان کے خلاف جہاد کروں گا ۔“ راوی فرماتے ہیں ! پھر انہوں نے ہم سے بیان کرنا شروع کیا فر مایا ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تھے کہ اچانک ایک خوبصورت نو جوان آیا اس کی زلفیں بہت حسین تھیں اور خوشبوبھی اچھی تھی ‘ اس نے سفید لباس پہن رکھا تھا اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ ! ’’ السلام علیکم ‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور ہم نے بھی جواب دیا پھر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قریب ہو جاؤں؟ آپ نے فرمایا قریب ہو جاؤ تو وہ ایک یا دو قدم قریب ہوا پھر وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہوئے کھڑا ہوا پھر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قریب ہو جاؤں؟ حتی کہ وہ بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دیا پھر کہا مجھے ایمان کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالی ٰاس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں آخرت کے دن اور تقدیر کے خیر وشر کی دل سے تصدیق کرو اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔“ ہمیں اس قول ’’ آپ نے سچ فر مایا ‘‘ پر تعجب ہوا گویا وہ جانتا ہے ‘ اس نے کہا مجھے ارکان اسلام کے بارے میں بتائیے؟ آپ نے فرمایا نماز قائم کرنا ‘ زکوۃ ادا کرنا ‘ بیت اللہ شریف کا حج کرنا ‘ ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت سے غسل کرنا ۔“ اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا اور راوی فرماتے ہیں ! ہمیں اس کی تصدیق پر تعجب ہوا گویا وہ جانتا ہے۔ ‘‘ (پھر ) اس نے کہا مجھے احسان کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ کے لئے عمل کرو گویا اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے ہوتو وہ تمہیں دیکھتا ہے ۔اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا ہمیں اس کی تصدیق پر تعجب ہوا گویا وہ جانتا ہے۔“ پھر اس نے کہا مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے کہ کب قائم ہوگی آپ نے فرمایا جس سے پوچھا گیا وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا اس نے کہا آپ نے ٹھیک فرمایا ہمیں اس کے قول آپ نے سچ فرمایا پر تعجب ہوا وہ چلا گیا اور ہم اسے دیکھ رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو بلاؤ ہم اس کے پیچھے گئے لیکن ہمیں پتہ نہ چلا کہ وہ کدھر گیا ہے اور نہ ہم نے اس کی کوئی علامت پائی ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے جو تمہارے پاس آئے تھے وہ تمہیں تمہارے دین کے احکام سکھانے آئے تھے ‘ اس صورت سے وہ پہلے جس صورت میں بھی آئے میں نے ان کو پہچان لیا۔ ‘‘

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ الْحَضْرَمِيُّ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 384

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [19] بَابُ التصديق بالقدر · حديث 385

385 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عبد الأعلى التيمي, عن أبيه, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: بينا هو يخطب الناس بالجابية إذ قال في خطبته: إن الله يضل من يشاء, ويهدي من يشاء, فقال قس من تلك القسوس: ما يقول أمير المؤمنين؟ قالوا: يقول: إن الله يضل من يشاء, ويهدي من يشاء. فقال: بركشت الله أعدل من أن يضل أحدا, فبلغت عمر بن الخطاب رضي الله عنه مقالته, فقال: كذبت بل الله أضلك, والله لولا عهدك لضربت عنقك.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مقام جابیہ ( دمشق کی ایک بستی ) میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ نے خطبہ میں فرمایا اللہ تعالیٰ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہے ہدایت دیتا ہے۔“ تو وہاں علماء میں سے ایک عالم نے پوچھا امیر المومنین کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا وہ فرماتے ہیں بے شک اللہ تعالی ٰجس کو چا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اس نے کہا وہ پھر گیا اللہ تعالی ٰکسی کو گمراہ کرنے سے زیادہ عدل کرنے والا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک اس کی بات پہنچی تو آپ نے فرمایا تم نے جھوٹ کہا بلکہ اللہ تعالی ٰنے تمہیں گمراہ کر دیا اگر تم سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن مار دیتا۔ ‘‘

بركشت الله أعدل من أن يضل أحدا, فبلغت عمر بن الخطاب مقالته, ← إن الله يضل من يشاء, ويهدي من يشاء. ← أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ. ← قس من تلك القسوس: ما ← في خطبته: إن الله يضل من يشاء, ويهدي من يشاء, ← بينا هو يخطب الناس بالجابية إذ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الأَعْلَى التَّيْمِيِّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 385

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [19] بَابُ التصديق بالقدر · حديث 386

386 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا يزيد بن عبد الرحمن, عن أبي وائلة أو ابن واثلة (شك محمد) عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنهما قال: تكون النطفة في الرحم أربعين يوما, ثم تكون علقة أربعين يوما, ثم #377# تكون مضغة أربعين يوما, ثم ينشأ خلقه, فيقول: رب أذكر أو أنثى, شقي أو سعيد؟ وما رزقه؟ قال محمد: وبه نأخذ, الشقي من شقي في بطن أمه, والسعيد من وعظ بغيره.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے یزید بن عبدالرحمن ٰرحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا انہوں نے ابو واثلہ یا ابن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ( حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کو شک ہے ) وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا مادہ منویہ رحم میں چالیس دن ٹھہرتا ہے پھر جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر گوشت کا لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالی ٰاس کی تخلیق فرماتا ہے پھر وہ (فرشتہ) کہتا ہے اے میرے رب ! مذکر ہے یا مونث ،بدبخت ہے یا نیک بخت؟ اور اس کا رزق کیا ہے؟ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت لکھا گیا ہے اور نیک بخت وہ ہے جس کو اس کے غیر سے نصیحت حاصل ہوتی ہے ۔“

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أبي وائلة أو ابن واثلة (شك محمد) ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 386

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [20] بَابُ ما يحل للرجل الحر من التزويج · حديث 387

387 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا قيس بن مسلم الجدلي, عن الحسن بن محمد بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه في قوله تعالى: {والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم} , قال: كان يقول: {فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى و ثلاث وربع} , قال: أحل لكم أربع وحرمت عليكم #378# أمهاتكم إلى آخر الآية, قال: حرمت عليكم المحصنات إلا ما ملكت أيمانكم بعد الأربع.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہم سے قیس بن مسلم الجدلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ حضرت حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہم ) سے اللہ عز وجل کے اس قول والمحصنات من النساء إلا ماملكت ايمانكم ( رب النساء ۲۴) اور بےخاوند عورتیں مگر جن لونڈیوں کے تم مالک بن جاؤ ۔ ‘‘ اور ارشاد خداوندی ہے!پس نکاح کروان عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں دو دو تین تین اور چار چار ۔ ‘‘ اور فرمایا حرمت عليكم أمهاتكم ( رب النساء ۲۳) آیت کے آخر تک ( محرمات کا ذکر کیا ) تو فرماتے ہیں تم اس پر چارعورتوں کے بعد وہ عورتیں حرام کر دی گئیں جو کسی کے نکاح میں البتہ لونڈیاں رکھ سکتے ہو ۔ ‘‘

كان ← الحسن بن محمد بن علي بن أبي طالب في قوله تعالى: ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ الْجَدَلِيِّ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 387

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [20] بَابُ ما يحل للرجل الحر من التزويج · حديث 388

388 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا نكح الرجل الأمة على الحرة فنكاح الأمة فاسد, وإذا نكح الحرة على الأمة أمسكهما جميعا, ويقسم للحرة ليلتين, وللأمة ليلة. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جب کوئی شخص آزاد عورت کے بعد لونڈی سے نکاح کرے تو لونڈی کا نکاح فاسد ہو جائے گا اور جب لونڈی سے نکاح کے بعد آزاد عورت سے نکاح کرے تو دونوں کو رکھ لے اور آزاد عورت کے لئے دو راتیں اور لونڈی کے لئے ایک رات مقرر کرے۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام اعظم امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 388

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [20] بَابُ ما يحل للرجل الحر من التزويج · حديث 389

389 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: للحر أن يتزوج أربع مملوكات, وثلاثا, واثنتين, وواحدة. #379# قال محمد: وبه نأخذ, له أن يتزوج من الإماء ما يتزوج من الحرائر, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں آزاد مرد چار لونڈیوں تین دو اور ایک لونڈی سے نکاح کر سکتا ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں کہ جتنی تعداد میں آزاد عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے اسی تعداد میں لونڈیوں سے بھی نکاح کرسکتا ہے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

للحر أن يتزوج أربع مملوكات, وثلاثا, واثنتين, وواحدة. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 389

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [21] بَابُ ما يحل للعبد من التزويج · حديث 390

390 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ليس للعبد أن يتزوج إلا حرتين, أو مملوكتين. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں غلام صرف دو آزاد عورتوں یا دو لونڈیوں سے نکاح کر سکتا ہے ۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← ليس للعبد أن يتزوج إلا حرتين, أو مملوكتين. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 390

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [21] بَابُ ما يحل للعبد من التزويج · حديث 391

391 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا يحل للعبد أن يتسرى, ولا يحل له فرج إلا بنكاح يزوجه مولاه. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں غلام کے لئے کسی کو لونڈی کے طور پر رکھنا جائز نہیں اور اس کے لئے کسی (عورت) سے جماع بھی جائز نہیں البتہ یہ کہ اس کا مالک اس کا نکاح کرے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

لا يحل للعبد ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 391

chevron_left Previous
1…567…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter