Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [16] بَابُ بيع بيوت مكة وأجرها · حديث 368

368 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عبيدالله بن أبي زياد, عن أبي #359# نجيح, عن عبدالله بن عمرو رضي الله عنهما, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من أكل من أجور بيوت مكة شيئا فإنما يأكل نارا. وكان أبو حنيفة يكره أجور بيوتها في الموسم وفي الرجل يعتمر ثم يرجع, فأما المقيم والمجاور فلا يرى بأخذ ذلك منهم بأسا, قال محمد: وبهذا نأخذ.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ حضرت عبداللہ بن ابی زیاد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ ابن ابی نجیح رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا۔ جس نے مکہ مکرمہ کے مکانات میں کچھ بھی بیچا وہ آگ کھاتا ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ موسم حج میں مکہ مکرمہ کے مکانات کا کرایہ لینا مکروہ جانتے تھے اسی طرح جو عمرہ کر کے واپس چلا جائے البتہ جو لوگ وہاں مقیم ہیں تو ان سے کرایہ لینے میں آپ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ۔“

عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْروؓ ← أَبِي نَجِيحٍ ← عبيدالله بن أبى زياد ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 368

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [16] بَابُ بيع بيوت مكة وأجرها · حديث 369

369 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبيد الله بن أبي زياد, عن أبي نجيح, عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما, عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: إن الله حرم مكة, فحرام بيع رباعها, وأكل ثمنها. #361# قال محمد: وبه نأخذ, لا ينبغي أن تباع الأرض, فأما البناء فلا بأس به.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عبداللہ بن ابی زیاد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے ابن ابی نجیح رضی اللہ عنہ سے روایت کیا وہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالی ٰنے مکہ مکرمہ کوحرم ( قابل احترام مقام ) بنایا لہذا اس کے مکانات کو بیچنا اور ان کی قیمت کھانا حرام ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں یہ بیچنا مناسب نہیں لیکن عمارت بیچنے میں کوئی حرج نہیں ۔

((إن الله حرم مكة، فحرام بيع رباعها وأكل ثمنها)). ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي نَجِيحٍ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 369

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 370

370 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الله بن أبي حبيبة قال: سمعت أبا الدرداء رضي الله عنه صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: بينا أنا رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا أبا الدرداء, من شهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله وجبت له الجنة قال: قلت له: وإن زنى, وإن سرق؟ فسكت عني, ثم سار ساعة, ثم قال: من شهد أن لا إله إلا الله, وأني رسول الله وجبت له الجنة , قلت: وإن زنى, وإن سرق, قال: وإن زنى وإن سرق وإن رغم أنف أبي الدرداء. قال: فكأني أنظر إلى أصبع أبي الدرداء السبابة يومئ بها إلى أرنبته.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عبداللہ بن ابی حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں نے صحابی رسول حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں اس دوران کے میں سواری پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا آپ نے فرمایا اے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ جو شخص گواہی دے کہ اللہ تعالی ٰکے سواء کوئی معبود نہیں اور بے شک میں اللہ تعالی ٰکا رسول ہوں اس کے لئے جنت واجب ہوگئی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اگرچہ زنا اور چوری کرے؟ تو آپ خاموش رہے پھر فرمایا جو شخص گواہی دے کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالی ٰکا رسول ہوں اس کے لئے جنت واجب ہوگئی میں نے عرض کیا اگرچہ زنا اور چوری کرے؟ فرمایا اگر چہ زنا کرے اور اگرچہ چوری کرے اور اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو ‘ راوی فرماتے ہیں ! گویا میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عہ کی شہادت والی انگلی کو دیکھ رہا ہوں آپ اس ناک کے کنارے کی طرف اشارہ کر ر ہے۔“

يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، مَنْ شَهِدَ ← رديف رسول الله ← بَيْنَا ← أبا الدرداء صاحب رسول الله ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 370

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 371

371 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الكريم بن أبي المخارق, عن طاووس قال: جاء رجل إلى ابن عمر رضي الله عنهما فقال: يا أبا عبد الرحمن, أرأيت هؤلاء الذين يسرقون أعلاقنا, ويفتحون أبوابنا, أكفار هم؟ قال: لا. قال: أرأيت هؤلاء الذين يتأولون من القرآن ويشهدون علينا بالكفر, ويستحلون دماءنا, أكفار هم؟ قال: لا فكيف إذا؟ قال: لا حتى يجعلوا مع الله شريكا مثنى مثنى. قال طاووس: كأني أنظر إلى أصبع ابن #364# عمر رضي الله عنهما وهو يحركها.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عبدالکریم بن ابی المخارق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت طاؤس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور اس نے کہا اے ابوعبد الرحمن ٰ! کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا یہ ہمارے تالے چوری کر لیتے ہیں اور ہمارے دروازے کھول دیتے ہیں کیا یہ کافر ہیں ؟ فرمایا نہیں کیا تم نہیں دیکھتے وہ لوگ قرآن مجید کی تاویل کرتے ہیں اور ہمارے خلاف کفر کا فتوی ٰدیتے ہیں اور ہمارے خون کو حلال جانتے ہیں کیا وہ کافر ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں تو کیسے ہوگا جب انہوں نے ’’ لا ‘‘ ( نہیں ) کہا۔حتی کہ وہ اللہ تعالی ٰکے ساتھ اور دو شریک ٹھہرائیں۔ ‘‘ حضرت طاؤس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں گویا میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کی انگلی کو دیکھ رہا ہوں اوروہ اسے حرکت دے رہے ہیں۔

طَاوُوسٍ، ← عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 371

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 372

372 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا علقمة بن مرثد, عن ابن بريدة الأسلمي, عن أبيه رضي الله عنه قال: كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: اذهبوا بنا نعود جارنا هذا اليهودي, قال: فأتيناه, فقال: كيف أنت؟ وكيف؟ فسأله, ثم قال: يا فلان, اشهد أن لا إله إلا الله, وأني رسول الله, فنظر الرجل إلى أبيه وكان عند رأسه فلم يرد عليه شيئا, فسكت فقال: يا فلان, اشهد أن لا إله إلا الله, وأني رسول الله, فنظر الرجل إلى أبيه فلم يكلمه, فسكت ثم قال: يا فلان, اشهد أن لا إله إلا الله, وأني رسول الله, فقال له أبوه: اشهد له, فقال: أشهد أن لا إله إلا الله, وأنك رسول الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحمد لله الذي أعتق بي نسمة من النار. #365# قال محمد: وبه نأخذ لا نرى بعيادة اليهودي والنصراني والمجوسي بأسا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت علقمہ بن مرشد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابن بریدہ اسلمی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا ہمیں لے جاؤ کہ ہم اپنے پڑوسی اس یہودی کی بیمار پرسی کریں فرماتے ہیں پس ہم اس کے پاس گئے تو آپ نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ مزید کیفیت پوچھی پھر فرمایا اے فلاں ! گواہی دو کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک میں اللہ تعالی ٰکا رسول ہوں اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا اس نے کچھ جواب نہ دیا بلکہ خاموش رہا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوبارہ ) فرمایا گواہی دو کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو اس نے کوئی بات نہ کی بلکہ خاموش رہا۔ ‘‘ آپ نے پھر فرمایا اے فلاں ! گواہی دو کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس کا رسول ہوں ۔ اب اس کے باپ نے کہا گواہی دو تو اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ تعالی ٰکے رسول ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی حمد ہے جس نے ایک ذی روح کو میری وجہ سے جہنم سے آزادکردیا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں‘ ہم کسی یہودی ،عیسائی اور مجوسی کی بیمار پرسی میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ۔ ‘‘

«يَا فُلَانُ، اشْهَدْ ← كيف أنت؟ وكيف؟ فسأله, ثم ← فأتيناه ← اذهبوا بنا نعود جارنا هذا اليهودي, ← كنا جلوسا عند رسول الله ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 372

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 373

373 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا قيس بن مسلم الجدلي, عن طارق بن شهاب الأحمسي قال: جاء يهودي إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال: أرأيت قوله: {وسارعوا إلى مغفرة من ربكم وجنة عرضها السماوات والأرض} فأين النار؟ قال عمر رضي الله عنه لأصحاب محمد صلى الله عليه وسلم: أجيبوه, فلم يكن عندهم فيها شيء, فقال عمر رضي الله عنه: أرأيت النهار إذا جاء أليس يملأ السموات والأرض؟ قال: بلى, قال: فأين الليل؟ قال: حيث شاء الله, قال عمر: والنار حيث شاء الله, فقال اليهودي: والذي نفسك بيده يا أمير المؤمنين, إنها لفي كتاب الله المنزل كما قلت.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت قیس بن مسلم جد لی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ طارق بن شہاب الاحمس رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک یہودی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا قر آن مجید کی اس آیت کے حوالے سے بتائیں کہ جہنم کہاں ہے ۔ ارشاد خداوندی ہے! سارعو إلى مغفرة من ربكم وجنة عرضها السموات والارض ۔ (پاره سورة آل عمران آیت۱۳۳ ) اپنے رب کی طرف سے بخشش کی جلدی کر واوراس جنت کی طرف جس کی چوڑائی تمام آسمان اور زمین ہے ۔ ‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے فرمایا اسے جواب دو تو ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب دن آ جاتا ہے تو آ سمانوں اور زمین کو بھر نہیں لیتا ؟ اس نے کہا ہاں ایسا ہی ہے فرمایا رات کہاں ہے؟ اس نے کہا جہاں اللہ تعالی ٰچاہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا جہنم بھی وہاں ہے جہاں اللہ تعالی ٰچاہے۔“ یہودی نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں آپ کی جان ہے اللہ تعالی ٰکی اتاری ہوئی کتاب میں اسی طرح ہے ۔(شاید تو رات مراد ہو )

طارق بن شهاب الأحمسي، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ الْجَدَلِيِّ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 373

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 374

374 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: بينا أنا عند عطاء بن أبي رباح فسأله علقمة بن مرثد الحضرمي قال: إن بمصرنا قوما صالحين يقولون: إن شهدنا أنا مؤمنون شهدنا أنا من أهل الجنة؟ , قال: فقولوا: إنكم مؤمنون ولا تقولوا: إنا من أهل الجنة, فوالله ما في السماء ملك مقرب, ولا من نبي مرسل, ولا عبد صالح إلا لله عليه السبيل والحجة, أما ملك أطاع الله طاعة حسنة, فالله من عليه بتلك الطاعة, فهو مقصر على شكرها, وأما نبي مرسل أو عبد صالح أذنب فلله عليه السبيل والحجة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں اس دوران کے میں حضرت عطاء بن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس تھا تو حضرت علقمہ بن مرثد الحضرصی رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے سوال کرتے ہوئے کہا ہمارے شہر میں نیک لوگوں کی ایک جماعت ہے وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم مومن ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم جنتی ہیں ۔“ فرمایا یوں کہو ہم مومن ہیں اور یہ نہ کہو کہ ہم جنتی ہیں اللہ کی قسم ! آسمان میں جو بھی مقرب فرشتہ یا نبی مرسل یا نیک بندہ ہے تو اللہ تعالی ٰکا اس سے سوال اور حجت ہوگی فرشتے نے اللہ تعالیٰ کی اچھی طرح اطاعت کی ہے تو اللہ تعالی ٰنے اس پر اس اطاعت کے بدلے احسان کیا تو اس کے شکر ادا کر نے میں کمی ہے اور نبی مرسل یا نیک بندوں سے لغزش ہوئی تو اللہ تعالی ٰکی ان سے پوچھ گچھ اور ان کے خلاف حجت و دلیل ہے ۔ ‘‘

فقولوا: إنكم مؤمنون ولا تقولوا: ← مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟! ← مؤمنون شهدنا ← إن بمصرنا قوما صالحين يقولون: إن شهدنا ← عند عطاء بن أبي رباح فسأله علقمة بن مرثد الحضرمي ← بَيْنَا ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 374

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 375

375 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عطاء بن أبي رباح, عن عبد الله بن رواحة رضي الله عنه, أنه سمى شاة من غنمه لرسول الله صلى الله عليه وسلم, وأوصى بها جارية له كانت في الغنم, وكان يتعاهدها وينظر إليها كلما أتى الغنم حتى سمنت وصلحت, فجاء يوما ففقدها من الغنم, فسألها عنها فقالت: ضاعت, فلطم وجهها فلما سير ذلك عنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بالقصة فقال: لم أملك نفسي أن لطمتها, قال: فأعظم ذلك النبي صلى الله عليه وسلم وقال: لعلها مؤمنة, قال: يا رسول الله: إنها سوداء, قال: فقال: إيت بها, فلما جاء بها قال لها النبي صلى الله عليه وسلم: أين الله؟ , قالت في السماء, قال: من أنا؟ , قالت: أنت رسول الله, فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هي مؤمنة, قال: فقال: عبد الله بن رواحة رضي الله عنه: فهي حرة يا رسول الله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عطاء بن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے ایک بکری رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موٹی تازی کی اور اپنی اس لونڈی کو وصیت کی جو بکریوں کے سلسلے میں مقرر تھی وہ اس کا خیال رکھتے اور جب بھی بکریوں کے پاس جاتے اس کو دیکھتے ۔ ‘‘ حتی کہ وہ موٹی ہوگی اور ٹھیک ٹھاک ہو گئی ایک دن وہ تشریف لائے تو اسے کم پایا اس لونڈی سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا وہ ضائع ہو گئی انہوں نے اس کے چہرے پر تھپڑ مارا۔ جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ بتایا اور یہ بھی کہا کہ میں اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکا اور اسے تھپڑ مار دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو بہت بڑا جرم قرار دیا اورفرمایا شاید وہ مومنہ ہو ۔ ‘‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کیا حضور ! وہ سیاہ فام ہے۔ ‘‘ (اس کے ایمان کا علم نہیں ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! اسے لاؤ جب وہ اس لونڈی کو لے کر حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تو مومنہ ہے؟ اس نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا آسمان میں ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں کون ہوں؟ اس نے کہا آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مومنہ ہے۔ ‘‘ راوی فرماتے ہیں ! حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آزاد ہے۔“ (یعنی میں نے آزاد کر دیا )

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 375

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [18] بَابُ الشفاعة · حديث 376

376 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: سألته عن قول الله عز وجل: {ربما يود الذين كفروا لو كانوا مسلمين} قال: يعذب الله قوما ممن كان يعبده ولا يعبد غيره, وقوما ممن كان يعبد غيره, ثم يجمعهم في النار, فيعير الذين كانوا يعبدون غير الله الذين كانوا يعبدونه, فيقولون: عذبنا لأنا عبدنا غيره, فما أغنت عنكم عبادتكم إياه وقد عذبتم معنا, فيأذن الرب تبارك وتعالى للملائكة والنبيين فيشفعون, فلا يبقى في النار أحد ممن كان يعبده إلا أخرجه, حتى يتطاول للشفاعة إبليس لعبادته الأولى. قال: فيقول: {ربما يود الذين كفروا لو كانوا مسلمين}.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ‘ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے ان سے اللہ تعالی ٰکے اس ارشادگرامی کے بارے میں پوچھا! ربما يو د الذين كفروا لو كانوا مسلمين بہت آرزوئیں کریں گے کافر کاش مسلمان ہوتے ۔“ (ترجمہ کنز الایمان ) تو حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو عذاب دے گا جو اس کی عبادت کرنے اور اس کے غیر کی پوجا نہ کرنے والوں میں سے ہوں گے اور اس قوم کو بھی ( عذاب دے گا ) جو اس کے غیر کی پوجا کرتے تھے پھر ان کو جہنم میں جمع کرے گا تو جولوگ اللہ تعالی ٰ کے غیر کی پوجا کرتے ہیں وہ ان کو عار دلائیں گے جو اس کی عبادت کرتے تھے اور کہیں گے ہمیں تو اس لئے عذاب ہوا کہ ہم نے غیراللہ کی پوجا کی اور تمہیں اس کی عبادت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور ہمارے ساتھ تمہیں بھی عذاب دیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انبیاء کرام کو اجازت دے گا تو وہ شفاعت کریں گے اور جہنم میں اللہ تعالی ٰکی عبادت کرنے والوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا مگر اسے نکال لے گا حتی کہ شیطان بھی اپنی سابقہ عبادت کی وجہ سے شفاعت کی طرف متوجہ ہوگا تو اس پر اللہ تعالی ٰنے فرمایا! ربما يود الذين كفروا لو كانوا مسلمين ۔

قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← سَأَلْتُهُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 376

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [18] بَابُ الشفاعة · حديث 377

377 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن ربعي بن حراش العبسي, عن حذيفة بن اليمان رضي الله عنه قال: يدخل الجنة قوم منتنين قد محشتهم النار.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ربعی بن حراش العبسی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں وہ لوگ ( بھی بالآخر ) جنت میں جائیں گے جن کے جسموں سے بدبو آئے گی اور آگ نے ان کے چمڑے اور گوشت کو جلا دیا ہوگا۔“

يدخل الجنة قوم منتنين قد محشتهم النار. ← حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← ربعي بن حراش العبسي, ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 377

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [18] بَابُ الشفاعة · حديث 378

378 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن سلمة بن كهيل, عن أبي الزعراء, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: يعذب الله قوما من أهل الإيمان بذنوبهم, ثم يخرجهم بشفاعة محمد صلى الله عليه وسلم حتى لا يبقى في النار إلا من ذكر الله: {ما سلككم في سقر. قالوا لم نك من المصلين. ولم نك نطعم المسكين. وكنا نخوض مع الخائضين. وكنا نكذب بيوم الدين. حتى أتانا اليقين. فما تنفعهم شفاعة الشافعين}.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت سلمہ بن کھیل سے وہ ابوالزعراء رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے میں اللہ تعالی ٰ اہل ایمان میں سے ایک جماعت کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب دے گا پھر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے ان کو نکالے گا حتی کہ جہنم میں صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جن کا ذکر اللہ تعالی ٰنے آیت میں کیا۔ ما سلككم في سقر۔ قالوا لم نك من المصلين۔ ولم نك نطعم المسكين۔ وكنا نخوص مع الخائضين وكنا نكذب بيوم الدين حتى أتانا اليقين ۔ فما تنفعهم شفاعة الشافعين۔ تمہیں جہنم میں کونسی بات لے گی ؟ وہ کہیں گے ہم نمازیوں میں سے نہیں تھے اور مسکین کو کھا نا نہیں کھلاتے تھے اور اہل باطل کے ساتھ باطل میں مشغول ہوتے تھے اور ہم قیامت کے دن کو جھٹلاتے تھے حتی کہ ہمارے پاس موت آ گئی پس شفاعت کر نے والوں کی شفاعت نے ان کو کوئی نفع نہ دیا ۔ ‘‘

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الزَّعْرَاءِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 378

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [18] بَابُ الشفاعة · حديث 379

379 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عطية العوفي, عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار, قال: وسألته عن هذه الآية {ومن اليل فتهجد به نافلة عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا} قال: المقام المحمود الشفاعة, قال: يعذب الله قوما من أهل الإيمان بذنوبهم, ثم يخرجهم بشفاعة محمد صلى الله عليه وسلم, فيؤتى بهم نهرا يقال له الحيوان, فيغتسلون فيه غسل الثعارير, ثم يدخلون الجنة, فيسمون الجهنميين, ثم يطلبون إلى الله, فيذهب ذلك الاسم عنهم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت عطیہ عوفی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کر تے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار ۔جوشخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم بنانا چاہئے ۔ ‘‘فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا۔ومن اليل فتهجد به نافلة لك عسى أن يبعثك ربک مقاما محمودا۔ اور رات کے وقت تہجد کی نماز پڑھیں یہ آپ کے لئے (فرائض سے ) زائد نماز ہے یقینا ً آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔ ‘‘ تو آپ نے فرمایا مقام محمود سے شفاعت مراد ہے پھر فرمایا اللہ تعالی ٰاہل ایمان میں سے ایک جماعت کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب دے گا ۔ ‘‘ پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے ان کو نکالے گا اور ان کو ایک نہر پر لایا جائے گا جسے ’’ حیوان ‘‘ کہا جاتا ہے ( یعنی آب حیات ) اور ان کو چھوٹی ککڑیوں ( خربوزہ ) کی طرح غسل دیا جائے گا پھر جنت میں داخل کیا جائے گا تو ان کے جہنمیوں کے نام سے پکارا جائے گا ( جہنمی کہا جائے گا ) پھر وہ اللہ تعالی ٰسے مطالبہ کریں تو پھر وہ ان سے اس نام کو لے جائے گا۔ ‘‘

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 379

chevron_left Previous
1…456…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter