880 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عاصم بن كليب عن أبيه, عن رجل من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم قال: صنع رجل من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم طعاما فدعاه, فقام النبي صلى الله عليه وسلم وقمنا معه, فلما وضع الطعام, تناول و تناولنا معه, فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم بضعة فلاكها في فيه طويلا لا يستطيع أن يأكلها, فألقاها من فيه, وأمسك عن الطعام, فقال: أخبرني عن لحمك هذا من أين هو؟ قال: يا رسول الله, شاة كانت لصاحب لنا فلم يكن عندنا شيء فنشتريها, عجلنا بها فذبحناها, فصنعناها لك حتى يجيء صاحبها, فنعطيه ثمنها, فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يرفع الطعام, وأن يطعمه الأسرى.
#752#
قال محمد: وبه نأخذ, ولو كان اللحم على حاله الأول ما أمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يطعمه الأسرى, ولكنه رآه قد خرج من ملك الأول, وكره أكله؛ لأنه عندنا لم يضمن قيمته لصاحبه الذي أخذت شاته, ومن ضمن شيئا فصار له من وجه غصب, فأحب إلينا أن يتصدق به, ولا يأكله, وكذلك ربحه, والأسارى عندنا أهل السجن المحتاجون, وهذا كله قياس قول أبي حنيفة رحمه الله.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت عاصم بن کلیب رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک صحابی نے کھانا تیار کیا پھر آپ کو دعوت دی آپ تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ گئے جب کھانا رکھا گیا تو آپ نے بھی تناول فرمایا اور ہم نے بھی کھایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور دیر تک اسے منہ میں چباتے رہے لیکن اسے کھا نہ سکے چنانچہ آپ نے اسے منہ سے پھینک دیا اور کھانا کھانے سے رک گئے ۔“ آپ نے دعوت کرنے والے صاحب کو بلایا اور فرمایا مجھے اس گوشت کی بارے میں بتاؤ کہ کہاں سے آیا ہے؟ اس نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایک ساتھی کی بکری تھی ہمارے پاس اسے خریدنے کے لئے قیمت نہیں تھی پس ہم نے جلدی کرتے ہوئے اسے ذبح کر دیا اور آپ کے لئے کھانا تیار کیا جب وہ آئے گا تو اس کی قیمت ادا کر دیں گے۔“ یہاں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا اٹھانے کا حکم دیا اورفرما یاضرورت مند قیدیوں کو کھلا دو۔“ حضرت امامحمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور اگر وہ گوشت اپنی پہلی حالت پر ہوتا تو حضور علیہ اسلاۃ والسلام قیدیوں کوکھلانے کا حکم نہ دیتے لیکن آپ نے دیکھا کہ وہ پہلے شخص کی ملک سے نکل گیا اور آپ نے اسے کھانا پسند نہ فرمایا کیونکہ وہ اپنے ساتھی کے لئے قیمت کا ضامن نہیں ہوا جس کی بکری لی تھی اور جوکسی چیز کا ضامن ہو جائے اور وہ اس کے لئے کسی صورت میں غصب ہوتو ہمارے نزدیک اسے صدقہ کر دینا بہتر ہے اسے کھانانہیں چاہئے اور اس کے نفع کا بھی یہی حکم ہے ۔اور قیدیوں سے مراد قید خانے کے وہ لوگ جو محتاج ہیں۔“ یہاں سے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قیاس بھی یہی ہے ۔“
صنع رجل من أصحاب محمد طعاما فدعاه, فقام النبي ← رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ