Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [192] بَابُ ما يحل لك من مال ولدك · حديث 872

872 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عائشة رضي الله عنها قالت: أفضل ما أكلتم كسبكم, وإن أولادكم من كسبكم. #745# قال محمد: لا بأس به إذا كان محتاجا أن يأكل من مال ابنه بالمعروف, فإن كان غنيا فأخذ منه شيئا, فهو دين عليه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں تمہارا افضل کھانا تمہاری کمائی ہے اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب محتاج ہوتو اپنے بیٹے کے مال میں سے معروف طریقے کے مطابق کھانے میں کوئی حرج نہیں اور اگر مالدار ہو تو جو اولاد کے مال سے جو کچھ لے گا وہ اس کے ذمہ قرض ہوگا۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قوال ہے۔“

أفضل ما أكلتم كسبكم, وإن أولادكم من كسبكم. ← عَائِشَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 872

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [192] بَابُ ما يحل لك من مال ولدك · حديث 873

873 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ليس للأب من مال ابنه شيء إلا أن يحتاج إليه من طعام, أو شراب, أو كسوة. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں باپ کے لئے اولاد کے مال سے کچھ نہیں مگر یہ کہ وہ کھانے پینے اور لباس کے محتاج ہوں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 873

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [193] بَابُ من دل على خير كمن فعله · حديث 874

874 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: أخبرنا علقمة بن مرثد يرفع الحديث إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: جاء رجل يستحمله, فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما عندي ما أحملك عليه, ولكني سأدلك على فتى من فتيان الأنصار, انطلق فإنك ستجده في مقبرة بني فلان يرمي مع أصحاب له, فإن عنده بعيرا سيحملك عليه, فانطلق الرجل حتى أتى مقبرة بني فلان, فوجده فيها يرمي مع أصحاب له, فقال له: إني أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أستحمله, فلم أجد عنده شيئا, فأخبره #746# الخبر, فقال: الله الذي لا إله إلا هو لذكر هذا لك رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال له ذلك مرتين, فانطلق فحمله ثم جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم على البعير, فحدث النبي صلى الله عليه وسلم الحديث, فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: انطلق, فإن الدال على الخير كفاعله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت علقمہ بن مرثد رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع حدیث بیان روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں ایک شخص حاضر ہو کر آپ سے سواری طلب کرنے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس تجھے دینے کے لئے سواری نہیں ہے البتہ میں تجھے انصار کے نوجوانوں میں سے ایک نو جوان کے بارے میں بتا تا ہوں تم جاؤ فلاں قبیلے کے قبرستان میں وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تیراندازی کر رہا ہے اس کے اونٹ ہے جو تمہیں سواری کے لئے دے دے گا ‘ وہ شخص گیا اور اس فلاں قبیلے کے قبرستان میں آیا اور اس نو جوان کو وہاں تیر اندازی کرتے ہوئے پایا۔ ‘‘ اس نے کہا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تاکہ آپ سے سواری طلب کروں لیکن ان کے پاس کچھ نہ پایا پھر اس نے تمام بات بتائی۔“ اس نے کہا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے یہ بات فرمائی ہے؟ دو مرتبہ یہ بات کہی پس وہ گیا اور اسے سواری دی پھر وہ اونٹ پر سوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام بات بتائی آپ نے اسے فرمایا جاؤ بے شک بھلائی پر دلالت کرنے والا بھی بھلائی کرنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘

علقمة بن مرثد يرفع الحديث إلى رسول الله ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 874

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [194] بَابُ الوليمة · حديث 875

875 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم قال: لما تزوج النبي صلى الله عليه وسلم أم سلمة رضي الله عنها, أولم عليها سويقا وتمرا, وقال: إن شئت سبعت لك, وسبعت لصواحباتك. #748# قال محمد: يعني يقيم عندها سبعا, وعند صواحباتها سبعا. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ انہوں نے حضرت ھیثم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ستو اور کھجور کے ساتھ ولیمہ فرمایا اورفرمایا اگر تم چاہو تو تمہارے لئے سات دن ٹھہرنے کے اعتبار سے باری مقرر کروں اور تمہاری دوسری ساتھیوں (دیگر ازواج مطہرات ) کے لئے بھی ساتھ دن سات دن مقرر کروں۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ آپ کا مطلب یہ تھا کہ ان کے پاس بھی سات دن ٹھہریں اور دیگر از واج مطہرات کے پاس بھی سات سات دن ٹھہریں۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← محمد: يعني يقيم عندها سبعا, وعند صواحباتها سبعا. ← إن شئت سبعت لك, وسبعت لصواحباتك. ← لما تزوج النبي أم سلمة أولم عليها سويقا وتمرا, ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 875

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [195] بَابُ الزهد · حديث 876

876 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: ما شبع آل محمد صلى الله عليه وسلم ثلاثة أيام متتابعة من خبز البر حتى فارق محمد صلى الله عليه وسلم الدنيا, وما زالت الدنيا عليهم عسرة كدرة حتى قبض محمد صلى الله عليه وسلم, فلما قبض أقبلت الدنيا عليهم صبا.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے تین دن مسلسل گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوتے حتی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرما گئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک ان لوگوں پر دنیا تنگ اور غوار ہی جب آپ کا وصال ہوا تو دنیا ان کی طرف فریفتہ ہو کر آئی۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 876

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [196] بَابُ الدعوة · حديث 877

877 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا محمد بن قيس, أن أبا العوجاء العشار كان صديقا لمسروق, فكان يدعوه, فيأكل من طعامه, ويشرب من شرابه, ولا يسأله. قال محمد: وبه نأخذ, ولا بأس بذلك ما لم يعرف خبيثا بعينه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت محمد بن قیس رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ ابو عوجا عشار رحمتہ اللہ علیہ حضرت مسروق رضی اللہ عنہ کے دوست تھے پس وہ ان کو دعوت دیتے اور وہ ان کے کھانے سے کھاتے اور پانی سے پیتے اور ان سے سوال نہ کرتے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جب عک بعینہ خبیث مال کا علم نہ ہو کوئی حرج نہیں۔“ یہاں سے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 877

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [196] بَابُ الدعوة · حديث 878

878 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا دخلت على الرجل, فكل من طعامه, واشرب من شرابه, ولا تسأله عنه. #750# قال محمد: وبه نأخذ مالم تسترب شيئا وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب تم کسی شخص کے پاس جاؤ اس کے کھانے سے کھاؤ اور اس کے پانی سے پیو اور اس سے سوال نہ کرو۔( کہ کہاں سے کمایا حرام ہے یا حلال ہے ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جب تک سود نہ لیتا ہو یعنی حرام ذرائع کا یقینی طور پر معلوم ہوتو نہ کھا۔“ یہاں سے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 878

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [196] بَابُ الدعوة · حديث 879

879 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: كان يقال: إذا دخلت بيت امرئ مسلم, فكل من طعامه, واشرب من شرابه, ولا تسأله عن شيء. قال محمد: وبه نأخذ ما لم يسترب شيئا, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہا جاتا تھا جب تم کسی مسلمان آدمی کے گھر جاؤ تو اس کے کھانے سے کھاؤ اور اس کے مشروب سے پیو اور کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جب تک وہ سود خور نہ ہواور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 879

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [196] بَابُ الدعوة · حديث 880

880 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عاصم بن كليب عن أبيه, عن رجل من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم قال: صنع رجل من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم طعاما فدعاه, فقام النبي صلى الله عليه وسلم وقمنا معه, فلما وضع الطعام, تناول و تناولنا معه, فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم بضعة فلاكها في فيه طويلا لا يستطيع أن يأكلها, فألقاها من فيه, وأمسك عن الطعام, فقال: أخبرني عن لحمك هذا من أين هو؟ قال: يا رسول الله, شاة كانت لصاحب لنا فلم يكن عندنا شيء فنشتريها, عجلنا بها فذبحناها, فصنعناها لك حتى يجيء صاحبها, فنعطيه ثمنها, فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يرفع الطعام, وأن يطعمه الأسرى. #752# قال محمد: وبه نأخذ, ولو كان اللحم على حاله الأول ما أمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يطعمه الأسرى, ولكنه رآه قد خرج من ملك الأول, وكره أكله؛ لأنه عندنا لم يضمن قيمته لصاحبه الذي أخذت شاته, ومن ضمن شيئا فصار له من وجه غصب, فأحب إلينا أن يتصدق به, ولا يأكله, وكذلك ربحه, والأسارى عندنا أهل السجن المحتاجون, وهذا كله قياس قول أبي حنيفة رحمه الله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت عاصم بن کلیب رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک صحابی نے کھانا تیار کیا پھر آپ کو دعوت دی آپ تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ گئے جب کھانا رکھا گیا تو آپ نے بھی تناول فرمایا اور ہم نے بھی کھایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور دیر تک اسے منہ میں چباتے رہے لیکن اسے کھا نہ سکے چنانچہ آپ نے اسے منہ سے پھینک دیا اور کھانا کھانے سے رک گئے ۔“ آپ نے دعوت کرنے والے صاحب کو بلایا اور فرمایا مجھے اس گوشت کی بارے میں بتاؤ کہ کہاں سے آیا ہے؟ اس نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایک ساتھی کی بکری تھی ہمارے پاس اسے خریدنے کے لئے قیمت نہیں تھی پس ہم نے جلدی کرتے ہوئے اسے ذبح کر دیا اور آپ کے لئے کھانا تیار کیا جب وہ آئے گا تو اس کی قیمت ادا کر دیں گے۔“ یہاں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا اٹھانے کا حکم دیا اورفرما یاضرورت مند قیدیوں کو کھلا دو۔“ حضرت امامحمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور اگر وہ گوشت اپنی پہلی حالت پر ہوتا تو حضور علیہ اسلاۃ والسلام قیدیوں کوکھلانے کا حکم نہ دیتے لیکن آپ نے دیکھا کہ وہ پہلے شخص کی ملک سے نکل گیا اور آپ نے اسے کھانا پسند نہ فرمایا کیونکہ وہ اپنے ساتھی کے لئے قیمت کا ضامن نہیں ہوا جس کی بکری لی تھی اور جوکسی چیز کا ضامن ہو جائے اور وہ اس کے لئے کسی صورت میں غصب ہوتو ہمارے نزدیک اسے صدقہ کر دینا بہتر ہے اسے کھانانہیں چاہئے اور اس کے نفع کا بھی یہی حکم ہے ۔اور قیدیوں سے مراد قید خانے کے وہ لوگ جو محتاج ہیں۔“ یہاں سے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قیاس بھی یہی ہے ۔“

صنع رجل من أصحاب محمد طعاما فدعاه, فقام النبي ← رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 880

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [197] بَابُ جوائز العمال · حديث 881

881 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم أنه خرج إلى زهير بن عبد الله الأزدي, وكان عاملا على حلوان, فطلب جائزته هو وذر #753# الهمداني, فأجازهما. قال محمد: وبه نأخذ مالم يعرف شيئا حراما بعينه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضرت زہیر بن عبداللہ الازدی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس تشریف لے گئے اور وہ حلوان کے عامل تھے حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت ذرالھمد انی رحمتہ اللہ علیہ (دونوں ) نے اپنا وظیفہ طلب کیا تو انہوں نے دونوں کو وظیفہ دیا۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کواختیار کرتے ہیں جب تک کسی معین جام چیز کاعلم نہ ہواور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

كان عاملا على حلوان, فطلب جائزته هو وذر الهمداني, فأجازهما. ← إبراهيم أنه خرج إلى زهير بن عبد الله الأزدي, ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 881

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [197] بَابُ جوائز العمال · حديث 882

882 - محمد قال: أخبرنا العلاء بن زهير قال: رأيت إبراهيم النخعي أتى والدي وهو على حلوان, فطلب جائزته, فأجازه.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں علاء بن زہیر رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم نے حضرت ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا وہ میرے والد ( زبیر بند عبداللہ اذدی رحمہ اللہ ) کے پاس آئے اور وہ حلوان پر مقرر تھے پس انہوں نے وظیفہ طلب کیا تو انہوں نے وظیفہ دے دیا۔“

رأيت إبراهيم النخعي أتى والدي وهو على حلوان, فطلب جائزته, فأجازه. ← الْعَلَاءِ بْنِ زُهَيْرٍ، ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 882

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [197] بَابُ جوائز العمال · حديث 883

883 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا بأس بجوائز العمال, قال: قلت: فإذا كان العاشر أو مثله؟ قال: إذا كان ما يعطيك لم يكن شيئا غصبه بعينه مسلما أو معاهدا فاقبل.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں عمال (حکمرانوں) سے وظیفہ لینے میں کوئی حرج نہیں وہ فرماتے ہیں میں نے کہا جب وہ عشر لینے والا یا اس جیسا ہوتو ؟ فرمایا جب تمہیں وہ چیز دے جسے بعینہ کسی مسلمان یا ذمی سے غصب نہیں کیا تو قبول کرو۔“

قلت: فإذا كان العاشر أو مثله؟ ← لاَ بَأْسَ بِجَوَائِزِ الْعُمَّالِ. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 883

chevron_left Previous
1…4647484950
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter