Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [188] بَابُ الغنيمة والنفل · حديث 860

860 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: النفل أن يقول: من جاء بسلب فهو له, ومن جاء برأس فله كذا وكذا, فهذا النفل. #733# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نفل یہ ہے کہ ( سر براہ ) کہے جو شخص ( مقتول کافر کا ) سامان لائے گا وہ اسی کا ہوگا اور جو آدمی اسے پکڑ کر لائے گا اس کے لئے اس قدر انعام ہے تو یہ نفل ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

النفل ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 860

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [188] بَابُ الغنيمة والنفل · حديث 861

861 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ما أحرز أهل الحرب من أموال المسلمين ثم أصابه المسلمون, فهو رد على صاحبه إن أصابه قبل أن يقسم الفيء, وإن أصابه بعد ما قسم, فهو أحق به بثمنه. قال محمد: والثمن القيمة, وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں لڑنے والے کفار مسلمانوں کا جو مال جمع کریں پھر وہ مسلمانوں کو حاصل ہو جائے تو وہ مالک کی طرف لوٹے گا اگر تقسیم غنیمت سے پہلے اسے ملے اور تقسیم کے بعد اسے ملے تو وہ اس کی قیمت کا زیادہ حقدار ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 861

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [188] بَابُ الغنيمة والنفل · حديث 862

862 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن كل شيء أصابه العدو ثم ظهر عليه المسلمون بعد ذلك, فإن وجده صاحبه قبل أن #734# يقسمه المسلمون فهو أحق به, وإن وجده بعدما قسم فهو أحق به بالثمن. قال محمد: وبه نأخذ, وإنما يعني بالثمن القيمة, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جو چیز دشمن کے ہاتھ لگے پھر اس پر مسلمان کا غلبہ ہو جائے تو اگر مسلمانوں کے درمیان تقسیم سے پہلے اس کا مالک اسے پالے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور اگر تقسیم کے بعد ہوتو وہ اس کی قیمت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ثمن سے مراد قیمت ہے اور ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 862

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [189] بَابُ فضائل الصحابة أصحاب النبي صلى الله عليه وآله وسلم ومن كان يتذاكر الفقه · حديث 863

863 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم, عن الشعبي قال: كان #735# ستة من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم يتذاكرون الفقه منهم علي بن أبي طالب, وأبي, وأبو موسى على حدة, وعمر, وزيد, وابن مسعود رضي الله عنهم.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت ھیثم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ صحابہ کرام فقہ کے بارے میں مذاکرہ کرتے تھے ان میں حضرت علی بن ابی طالب ،حضرت ابی ( ابن کعب ) حضرت ابوموسی اشعری رضی الله عنہ الگ گفتگو کرتے اور حضرت عمر فاروق حضرت زید بن ثابت اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم بھی (مذاکرہ فرماتے)۔

الشَّعْبِيِّ، ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 863

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [189] بَابُ فضائل الصحابة أصحاب النبي صلى الله عليه وآله وسلم ومن كان يتذاكر الفقه · حديث 864

864 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن عمر رضي الله عنه مس النبي صلى الله عليه وسلم وهو محموم, فقال عمر: أتأخذك هكذا وأنت رسول الله؟ #736# فقال: إنها إذا أخذتني شقت علي, إن أشد هذه الأمة بلاء نبيها, ثم الخير فالخير, وكذلك الأنبياء قبلكم والأمم.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اقدس کو ہاتھ لگایا تو آپ کو بخار تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ کو یوں بخار ہوتا ہے اور آپ اللہ تعالی ٰکے رسول ہیں؟ آپ نے فرمایا جب مجھے بخار ہوتا ہے تو سخت بخار ہوتا ہے اس امت میں سب سے زیادہ سخت آزمائش ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوئی ہے پھر درجہ بدرجہ نیک لوگوں کی ‘ اسی طرح تم سے پہلے انبیاء کرام اور امتوں کا معاملہ بھی تھا۔“

عمر: أتأخذك هكذا وأنت رسول الله؟ ← إبراهيم, أن عمر مس النبي وهو محموم, ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 864

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [189] بَابُ فضائل الصحابة أصحاب النبي صلى الله عليه وآله وسلم ومن كان يتذاكر الفقه · حديث 865

865 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن علي بن الأقمر قال: كان عمر بن #737# الخطاب رضي الله عنه يطعم الناس بالمدينة, وهو يطوف عليهم بيده عصا, فمر برجل يأكل بشماله, فقال: يا عبد الله, كل بيمينك. فقال: يا عبد الله إنها مشغولة. قال: فمضى ثم مر به وهو يأكل بشماله فقال: يا عبد الله كل بيمينك. قال: يا عبد الله, إنها لمشغولة, ثلاث مرات. قال: وما شغلها؟ قال: أصيبت يوم مؤتة. قال: فجلس عنده عمر يبكي, فجعل يقول له: من يوضئك؟ من يغسل رأسك وثيابك؟ من يصنع كذا وكذا؟ فدعا له بخادم, وأمر له براحلة وطعام وما يصلحه وما ينبغي له, حتى رفع أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أصواتهم يدعون الله لعمر مما رأوا من رقته بالرجل, واهتمامه بأمر المسلمين

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت علی بن اقمر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ میں لوگوں کو کھانا کھلاتے تھے اور وہ چکر لگا رہے تھے اور ان کے ہاتھ میں لاٹھی تھی آپ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا آپ نے فرمایا اے بندہ خدا دائیں ہاتھ سے کھاؤ اس نے کہا اے اللہ کے بندے یہ مشغول ہے ۔“ راوی فرماتے ہیں آپ چلے گئے پھر اس کے پاس سے گزرے تو وہ بائیں ہاتھ سے ہی کھارہا تھا آپ نے فرمایا اے اللہ کے بندے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اس نے پھر وہی جواب دیا تین مرتبہ ایسا ہوا تو آپ نے فرمایا تیری مشغولیت کیا ہے؟ اس نے کہا غزوہ موتہ کی دوران وہ کٹ گیا فرماتے ہیں۔“ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے پاس بیٹھ کر رونے لگے اور اس سے پوچھا تجھے وضو کون کراتا ہے۔ تیرا سر اور تیرے کپڑے کون دھوتا ہے فلاں کام کون کرتا ہے ،فلاں کام کون کرتا ہے پھر آپ نے اس کے لئے ایک خادم بلا یا اور اسے اس کے لئے سواری کھانے اور جو بھی ضروری امور ہیں ان کا حکم دیاحتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے آوازیں بلند ہوگئیں اور وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لئے دعا مانگنے لگے جب انہو ں نے اس شخص کے لئے آپ کی رقت اور مسلمانوں کے امور کے لئے آپ کے اہتمام کو دیکھا۔“

عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 865

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [189] بَابُ فضائل الصحابة أصحاب النبي صلى الله عليه وآله وسلم ومن كان يتذاكر الفقه · حديث 866

866 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا أبو جعفر محمد بن علي قال: جاء علي بن أبي طالب إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنهما حين طعن #738# فقال: رحمك الله, فوالله ما في الأرض أحد كنت ألقى الله بصحيفته أحب إلي منك.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ابو جعفر محمد بن علی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جب آپ کو نیزے سے زخمی کیا گیا تھا تو فرمایا اللہ تعالی ٰآپ پر رحم فرمائے اللہ کی قسم زمین میں کوئی ایسا شخص جو اپنے نامہ اعمال کے ساتھ اپنے رب سے ملاقات کرے مجھے آپ سے زیادہ محبوب نہیں۔“

جاء علي بن أبي طالب إلى عمر بن الخطاب حين طعن ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 866

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [190] بَابُ الصدق والكذب والغيبة والبهتان · حديث 867

867 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا معن بن عبد الرحمن, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: ما كذبت منذ أسلمت إلا كذبة واحدة قيل: وما هي يا أبا عبد الرحمن؟ قال: كنت أرحل لرسول الله صلى الله عليه وسلم, فأتى برجل من الطائف يرحل له؟ فقال الرجل: من كان يرحل لرسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقيل له: ابن أم عبد, فأتاني فقال لي: أي الراحلة كانت أحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقلت: الطائفية المنكبة, فرحل بها لرسول الله صلى الله عليه وسلم, فركب وكانت من أبغض الراحلة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم, فقال: من رحل هذه؟ فقالوا: الرجل الطائفي, فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مروا ابن أم عبد فليرحل لنا, قال: فردت إلي الراحلة.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت معن بن عبدالرحمن ٰرحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا میں جب سے مسلمان ہوا ہوں میں نے ایک جھوٹ کی علاوہ کوئی جھوٹ نہیں بولا پو چھا گیا اے عبدالرحمن ٰوہ کیا ؟ انہوں نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لئے کجاوہ بنوانا تھا تو طائف کا ایک شخص مکہ لایا گیا آپ کے لئے وہ کجا بنائے گا اس نے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کون کجا وا بنواتا ہے؟ اس سے کہا گیا حضرت عبداللہ ابن ام عبد ( عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ ) چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوکو ن سا کجاوہ زیادہ پسند ہے؟ فرماتے ہیں میں نے کہا طائفیہ مکیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وہ کجاوہ بنایا آپ سوار ہوئے اور آپ کو یہ سخت نا پسند تھا آپ نے پوچھا یہ کجاوہ کس نے بنایا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا طائف کے رہنے والے ایک شخص نے بنایا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ ہمارے لئے کجاوہ بنائیں وہ فرماتے ہیں وہ کجاوہ میری طرف لوٹایا گیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 867

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [190] بَابُ الصدق والكذب والغيبة والبهتان · حديث 868

868 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر, عن أبيه, عن مسروق, أنه كان إذا حدث عن عائشة رضي الله عنها قال: حدثتني #741# الصديقة بنت الصديق حبيبة حبيب الله.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت ابراہیم بن محمد بن المنتشر رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت مسروق (رضی اللہ عنہم ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے تو فرماتے ہم سے صدیقہ بنت صدیق اللہ کے محبوب کی حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔“

حَدَّثَتْنِي الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ حَبِيبَةُ حَبِيبِ اللهِ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا حَدَّثَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 868

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [190] بَابُ الصدق والكذب والغيبة والبهتان · حديث 869

869 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا قلت في الرجل ما فيه فقد اغتبته, وإن قلت ما ليس فيه فقد بهته. #742# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب تم کسی شخص کے بارے میں وہ بات کہو جو اس میں پائی جاتی ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ بات کہو جو اس میں نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 869

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [191] بَابُ صلة الرحم وبر الوالدين · حديث 870

870 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن ناصح, عن يحيى بن أبي كثير اليماني, عن أبي سلمة, عن أبي هريرة رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما من عمل أطيع الله فيه أعجل ثوابا من صلة الرحم, وما من عمل عصي الله فيه أعجل عقوبة من البغي, واليمين الفاجرة تدع الديار بلاقع.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت ناصح سے وہ حضرت یحیی ٰبن ابی الکثیر یمانی رحمتہ اللہ علیہ سے وہ ابوسلمہ رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب اعمال میں اللہ تعالی ٰکی اطاعت کی جاتی ہے ان میں صلہ رحمی سے زیادہ کسی کا ثواب نہیں ہے اور اللہ تعالی ٰکی نافرمانی میں سرکشی سے بڑھ کر جلدی عذاب والا کوئی عمل نہیں اور جھوٹی قسم گھروں کو خالی کر کے چھوڑتی ہے ۔“

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ الْيَمَانِيُّ ← نَاصِحٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 870

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [191] بَابُ صلة الرحم وبر الوالدين · حديث 871

871 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن محمد بن سوقة, أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أتيتك لأجاهد معك, وتركت والدي يبكيان, قال: فانطلق فأضحكهما كما أبكيتهما. #744# قال محمد: وبه نأخذ, لا ينبغي إلا بإذن والديه ما لم يضطر المسلمون إليه, فإذا اضطروا إليه فلا بأس, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت محمد بن سوقہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا میں آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ کے ساتھ مل کر جہاد کروں اور والدین کور وتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں آپ نے فرمایا( واپس ) جاؤ اور ان کو خوش کرو جس طرح تم نے ان کو رلایا ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ماں باپ کی اجازت کے بغیر جہا دمناسب نہیں جب تک مسلمان اس کے لئے مجبور نہ ہو جائیں جب وہ مجبور ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

فانطلق فأضحكهما كما أبكيتهما. ← أتيتك لأجاهد معك, وتركت والدي يبكيان, ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 871

chevron_left Previous
1…454647…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter