Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [184] بَابُ اللباس من الحرير والشهرة والخز · حديث 848

848 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا زيد بن أبي أنيسة, عن رجل من أهل مصر, عن النبي صلى الله عليه وسلم, أنه أخذ الحرير والذهب بيده ثم قال: هذا محرم للذكور من أمتي. قال محمد: ولا نرى به للإناث بأسا, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے زید بن ابی انیسہ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک حصری شخص سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے ریشم اور سونا اپنے دست مبارک میں پکڑا پھر فرمایا یہ ( دونوں ) میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔“ امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا عورتوں کے بارے میں ہم کوئی حرج نہیں سمجھتے اور یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔

محمد: ولا نرى به للإناث بأسا, وهو قول أبي حنيفة تعالى. ← هذا محرم للذكور من أمتي. ← النبي أنه أخذ الحرير والذهب بيده ثم ← رجل من أهل مصر، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 848

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [184] بَابُ اللباس من الحرير والشهرة والخز · حديث 849

849 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه قال: لا بأس بالحرير والذهب للنساء. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا عورتوں کے لئے ریشم اور سونے کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا بأس بالحرير والذهب للنساء. ← إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 849

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [184] بَابُ اللباس من الحرير والشهرة والخز · حديث 850

850 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عمرو بن دينار, عن عائشة رضي الله تعالى عنها, أنها حلت أخواتها بالذهب, وأن ابن عمر رضي الله عنهما حلى بناته بالذهب. #725# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت عمرو بن دینار سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بہنوں کو سونے کا زیور پہنایا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا نے اپنی صاحبزادیوں کو سونا پہنایا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 850

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [185] بَابُ لباس جلود الثعالب ودباغ الجلد · حديث 851

851 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, أنه رأى على إبراهيم قلنسوة ثعالب, وكان لا يرى بأسا بجلود النمر. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ پر چیتوں ( کی کھال ) کی ٹوپی دیکھی اور وہ چیتے کی کھال ( استعمال کرنے ) میں کو ئی چر ج نہیں سمجھتے تھے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 851

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [185] بَابُ لباس جلود الثعالب ودباغ الجلد · حديث 852

852 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عمر رضي الله عنه قال: ذكاة كل مسك دباغه. #726# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہر چمڑے کی حلت اس کو رنگنا ہے۔(اسے دباغت کہتے ہیں) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← ذكاة كل مسك دباغه. ← عُمَرَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 852

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [185] بَابُ لباس جلود الثعالب ودباغ الجلد · حديث 853

853 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: كل شيء منع الجلد من الفساد فهو دباغ. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جو چیز چمڑے کوخراب ہونے سے بچائے وہی اس کی دباغت (رنگنا) ہے۔ ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← كل شيء منع الجلد من الفساد فهو دباغ. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 853

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [186] بَابُ التختم بالذهب والحديد وغيره ونقش الخاتم · حديث 854

854 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد قال: كان نقش خاتم إبراهيم النخعي الله ولي إبراهيم. قال: وكان خاتم إبراهيم من حديد. #727# قال محمد: لا يعجبنا أن يتختم بالذهب والحديد, ولا بشيء من الحلية غير الفضة للرجال, فأما النساء فلا بأس لهن بالذهب, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ کی انگوٹھی کا نقش یوں تھا ‘ اللہ ولی ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ ‘ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کا ولی ( دوست اور مالک ہے ) وہ فرماتے ہیں حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کی انگوٹھی لو ہے کی تھی۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ ہم سونے اور لوہے کی انگوٹھی بنا ئیں اور اسی طرح کوئی دوسرا زیور بھی مردوں کے لئے صرف چاندی کا استعمال جائز ہے لیکن عورتوں کے لئے سونے کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔“ یہاں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

وكان خاتم إبراهيم من حديد. ← كان نقش خاتم إبراهيم النخعي الله ولي إبراهيم. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 854

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [186] بَابُ التختم بالذهب والحديد وغيره ونقش الخاتم · حديث 855

855 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا إبراهيم بن محمد بن المنتشر, عن أبيه, أنه كان نقش خاتم مسروق بسم الله الرحمن الرحيم. قال: وكان نقش خاتم حماد لا إله إلا الله. قال محمد: لا نرى بأسا أن ينقش في الخاتم ذكر الله ما لم يكن آية تامة؛ فأن ذلك لا ينبغي أن يكون في يده في الجنابة, والذي على غير وضوء, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت ابراہیم بن محمد بن المنتشر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ حضرت مسروق رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی کا نقش بسم اللہ الرحمن الرحیم تھا۔ ‘‘ وہ فرماتے ہیں حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ کی انگوٹھی کا نقش لا الہ الا اللہ تھا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ انگوٹھی میں اللہ تعالی ٰکے ذکر سے نقش ہو جب تک مکمل آیت نہ ہو کیونکہ حالت جنابت میں اور بے وضو ہونے کی حالت میں اس کا ہاتھ میں مناسب نہیں۔ اور یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔

محمد: لا نرى بأسا أن ينقش في الخاتم ← وكان نقش خاتم حماد لا إله إلا الله. ← أبيه, أنه كان نقش خاتم مسروق بسم الله الرحمن الرحيم. ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 855

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [187] بَابُ الجهاد في سبيل الله وأن يدعو من لم تبلغه الدعوة · حديث 856

856 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن علقمة بن مرثد, عن ابن بريدة, عن أبيه رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: كان إذا بعث جيشا قال: اغزوا باسم الله, وفي سبيل الله, فقاتلوا من كفر بالله, لا تغلوا, ولا تغدروا, ولا تمثلوا, ولا تقتلوا وليدا, وإذا حاصرتم حصنا أو مدينة فادعوهم إلى الإسلام, فإن أسلموا, فأخبروهم أنهم من المسلمين لهم ما لهم وعليهم ما عليهم, وادعوهم إلى التحول إلى دار الإسلام, فإن أبوا, فأخبروهم أنهم كأعراب المسلمين, وإن أبوا فادعوهم إلى إعطاء الجزية, فإن فعلوا فأخبروهم أنهم ذمة, وإن أبوا أن يعطوا الجزية, فانبذوا إليهم ثم قاتلوهم, وإن أرادوكم أن تنزلوهم على حكم الله, فلا تنزلوهم؛ فإنكم لا تدرون ما حكم الله فيهم, ولكن أنزلوهم على حكمكم ثم احكموا فيهم, وإذا أرادوا منكم أن تعطوهم ذمة الله فلا تعطوهم, ولكن أعطوهم ذممكم وذمم آبائكم, فإنكم أن تخفروا ذممكم خير من أن تخفروا ذمة الله عز وجل. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت علقمہ بن مرثد سے وہ حضرت ابن بریدہ رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت بریدہ ( رضی اللہ عنہم ) سے روایت کرتے ہیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ جب بھی کوئی لشکر بھیجتے تو فرماتے اللہ کے نام سے اور اس کے راستے میں جہاد کرو اور اس سے لڑو جو اللہ تعالی ٰکا منکر ہے نہ حد سے بڑھو نہ دھوکہ دو نہ کسی کی شکل بگاڑو اور نہ ہی کسی بچے کوقتل کرو اور جب تم کسی قلع یا شہر کا معائنہ کر تو ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دو اگر وہ اسلام قبول کریں تو ان کو بتاؤ کہ وہ مسلمانوں میں سے ہیں ان کے لئے وہی (حقوق) ہیں جو ( دوسرے ) مسلمانوں کے لئے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہیں جو دوسرے مسلمانوں پر ہیں۔“ پھر ان کو دارالاسلام میں آنے کی دعوت دو اگر وہ انکار کریں تو ان کو بتاؤ کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہیں ( جنہوں نے دیہات سے نکالنا پسند نہ کیا ) اگر وہ اسلام ( قبول کرنے ) سے انکار کریں تو ان سے جز یہ دینے کا مطالبہ کرو اگر وہ جز یہ دیں تو ان کو بتاؤں کہ وہ ذمی ہیں اور اگر وہ جز یہ دینے سے انکار کر دیں تو ان کو اسی طرح چھوڑ کر ان سے لڑو اور اگر وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ تعالی ٰکے حکم پرا تارو تو یہ بات قبول نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں اللہ تعالی ٰکا کیا حکم ہے ۔“ بلکہ ان کو اپنے فیصلہ پرا تارو پھر ان کے بارے میں فیصلہ کر و اوراگر وہ ارادہ کریں کہ تم ان کو اللہ تعالی ٰکا ذمہ دو تو ان کو یہ ذمہ نہ دو بلکہ ان کو اپنا اور اپنے آباؤ اجداد کا ذمہ دو کیونکہ تمہارا اپنے ذمے کو توڑنا اللہ تعالی ٰکے ذمہ کو توڑنے سے بہتر ہے۔“ ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

كان إذا بعث جيشا ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 856

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [187] بَابُ الجهاد في سبيل الله وأن يدعو من لم تبلغه الدعوة · حديث 857

857 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا قاتلت قوما, فادعهم إذا لم تبلغهم الدعوة. قال محمد: وبه نأخذ, فإن كانت بلغتهم الدعوة فإن شئت فادعهم، وإن شئت فلا تدعهم، وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب تم کسی قوم سے لڑائی کرو تو ( پہلے ) ان کو (اسلام کی ) دعوت دو اگر ان تک دعوت نہ پہنچی ہو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور اگر ان تک دعوت پہنچ چکی ہوتو اگر چاہو تو ان کو دعوت دو اور اگر چاہو تو دعوت نہ دو۔ یہاں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إذا قاتلت قوما, فادعهم إذا لم تبلغهم الدعوة. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 857

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [188] بَابُ الغنيمة والنفل · حديث 858

858 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الله بن داود, عن المنذر بن أبي حمصة قال: بعثه عمر رضي الله عنه في جيش إلى مصر, فأصابوا غنائم, فقسم للفارس سهمين, وللراجل سهما, فرضي بذلك عمر رضي الله عنه. قال محمد: هذا قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, ولسنا نأخذ بهذا, ولكنا #732# نرى للفارس ثلاثة أسهم سهما له وسهمين لفرسه.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت عبداللہ بن داؤد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا انہوں نے حضرت منذر بن ابی جمعہ (رضی اللہ عنہم ) سے روایت کیا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عہ نے ان کو مصر کی طرف ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کو مال غنیمت حاصل ہوا جو انہوں نے ان میں یوں تقسیم فرمایا کہ سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ عطا فرمایا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے پسند فرمایا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور ہم اس بات کو اختیا رنہیں کرتے بلکہ سوار کے لئے تین حصوں کے قائل ہیں ایک حصہ اس کے لئے اور دو حصے اور اس کے گھوڑے کے لئے ۔“

المنذر بن أبي حمصة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 858

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [188] بَابُ الغنيمة والنفل · حديث 859

859 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه كان يستحب النفل ليضري بذلك المسلمين على عدوهم. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نفل ( وضاحت آئندہ حدیث میں ہے ) کو پسند کرتے تھے تاکہ اس کے ذریعے مسلمانوں کو ان کے دشمن کے خلاف ترغیب دی جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← إبراهيم, أنه كان يستحب النفل ليضري بذلك المسلمين على عدوهم. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 859

chevron_left Previous
1…444546…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter