Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [169] بَابُ الأضحية وإخصاء الفحل · حديث 788

788 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن كدام بن عبد الرحمن, عن أبي كباش, أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه يقول: نعم الأضحية الجذع السمين من الضأن. #669# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت کدام بن عبد الرحمن ٰ رحمتہ اللہ علیہ سے اور ابو کباس رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے۔“قربانی کا بہترین جانور بھیڑ کا موٹا تازہ جذعہ (چھ مہینے کا بچہ ) ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← نعم الأضحية الجذع السمين من الضأن. ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أبي كباش, أنه ← كدام بن عبد الرحمن ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 788

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [169] بَابُ الأضحية وإخصاء الفحل · حديث 789

789 - محمد قال: حدثنا أبو حنيفة قال: حدثنا مسلم الأعور, عن رجل, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: البقرة تجزئ عن سبعة يضحون بها. #670# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت مسلم الاعود رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ایک شخص سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کرتی ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← سبعة يضحون بها. ← البقرة تجزئ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← رَجُلٌ: ← مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 789

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [169] بَابُ الأضحية وإخصاء الفحل · حديث 790

790 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يطعم أضحيته, ولا يأكل منها شيئا, قال: لا بأس به. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں اس شخص کے بارے میں جوقربانی کا گوشت ( دوسروں ) کھلا دیتا ہے اورخوداس سے نہیں کھاتا وہ فرماتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لاَ بَأْسَ بِهِ. ← إبراهيم في الرجل يطعم أضحيته, ولا يأكل منها شيئا, ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 790

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [169] بَابُ الأضحية وإخصاء الفحل · حديث 791

791 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الأضحية يشتريها الرجل وهي صحيحة, ثم يعرض لها عور, أو عجف, أو عرج قال: تجزئه إن شاء الله. #671# قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, لا تجزئ إذا عورت, أو عجفت عجفا لا تنقي, أو عرجت حتى لا تستطيع أن تمشي, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے قربانی کے اس جانور کے بارے میں روایت کرتے ہیں جسے کوئی شخص خریدتا ہے اور وہ صحیح ہوتا ہے پھر وہ بھینگا یا کمزور یا لنگڑا ہو جاتا ہے (یعنی کوئی واضح عیب پیدا ہو جاتا ہے ) تو وہ فر ماتے ہیں انشاءاللہ یہ جائز ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار نہیں کرتے جب وہ بھینگا ہو جائے تو کفایت نہیں کرتا یا اتنا کمزور ہو جائے کہ ہڈیوں میں مغز نہ رہے یا اتنا لنگڑا کہ چل نہ سکے ( تو جائز نہیں ) البتہ ذبح کرتے وقت کوئی عیب پیدا ہوتو اس کی قربانی جائز ہوگی۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 791

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [169] بَابُ الأضحية وإخصاء الفحل · حديث 792

792 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا بأس أن تشتري بجلد أضحيتك متاعا, ولا تبيعه بدراهم. قال إبراهيم: أما أنا فأتصدق بجلد أضحيتي. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اگر تم قربانی کے جانور کی کھال کے بدلے کوئی سامان خریدو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اسے درہم کے بدلے نہ بیچو۔ ‘‘ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے اپنی قربانی کی کھال کا صدقہ کر دیتا ہوں ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← فأتصدق بجلد أضحيتي. ← إبراهيم: أما ← لا بأس أن تشتري بجلد أضحيتك متاعا, ولا تبيعه بدراهم. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 792

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [169] بَابُ الأضحية وإخصاء الفحل · حديث 793

793 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الجذع من الضأن يضحى به قال: يجزئ, والثني أفضل. #672# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں بھیڑ کے چھ مہینے کے بچے کی قربانی جائز ہے لیکن ایک سال کا افضل ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← يجزئ, والثني أفضل. ← إبراهيم في الجذع من الضأن يضحى به ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 793

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [169] بَابُ الأضحية وإخصاء الفحل · حديث 794

794 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, قال: سئل إبراهيم عن الخصي والفحل أيهما أكمل للأضحية؟ فقال: الخصي؛ لأنه إنما طلب بذلك صلاحه. قال محمد: أسمنهما وأقصدهما خيرهما, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ان سے خصی اور غیر خصی نر جانور کے بارے میں پوچھا گیا کہ ان میں سے کس جانور کی قربانی زیادہ کامل ہے تو فرمایاخصی جانور کی قربانی (افضل ہے ) کیونکہ اس عمل کے ذریعے اس کی اصلاح طلب کی گئی ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان میں سے جو زیادہ موٹا تازہ اور درمیانہ جانور ہو وہ زیادہ بہتر ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

محمد: أسمنهما وأقصدهما خيرهما, وهو قول أبي حنيفة تعالى. ← الخصي والفحل أيهما أكمل للأضحية؟ فقال: الخصي؛ لأنه إنما طلب بذلك صلاحه. ← سُئِلَ إبْرَاهِيمُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 794

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [169] بَابُ الأضحية وإخصاء الفحل · حديث 795

795 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا بأس بإخصاء البهائم إذا كان يراد به صلاحها. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جانوروں کے خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں جب مقصود ان کی بہتری ہو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا بأس بإخصاء البهائم إذا كان يراد به صلاحها. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 795

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [169] بَابُ الأضحية وإخصاء الفحل · حديث 796

796 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه كان يكره أن يذكر اسم إنسان مع اسم الله على ذبيحته, أن يقول: بسم الله تقبل من فلان. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنے ذبیحہ پر اللہ تعالی ٰکے نام کے ساتھ کسی انسان کا نام لے ‘ مثلا کہے اللہ کے نام سے فلاں کی طرف سے قبول فرما ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 796

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [170] بَابُ الذبائح · حديث 797

797 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن يزيد بن عبد الرحمن, عن رجل, عن جابر رضي الله عنه قال: في كل مسلم اسم التسمية سمى أو لم يسم. #674# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة إذا ترك التسمية ناسيا.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت یزید بن عبدالرحمن ٰ رحمتہ اللہ علیہ سے وہ ایک شخص اور وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ہر مسلمان کے دل میں بسم اللہ ہے وہ بسم اللہ پڑھے یا نہ پڑھے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے جب بھول کر بسم اللہ پڑھنا چھوڑ دے۔“

محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة إذا ترك التسمية ناسيا. ← في كل مسلم اسم التسمية سمى أو لم يسم. ← جَابِرٍ ← رَجُلٌ: ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 797

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [170] بَابُ الذبائح · حديث 798

798 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن رجل, عن جابر رضي الله عنه قال: ذكاة كل مسلم ملته. يعني بذلك: أن الرجل يذبح وينسى أن يسمي, أنه لا بأس بأكل ذبيحته. #675# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ ایک شخص کے واسطے سے حضرت جابر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ہر مسلمان کا ذبح کرنا اس ( جانور ) کا حلال ہونا ہے۔ ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص (جانور ) ذبح کرے اور بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو اس کے ذبیحہ کو کھانے میں کوئی حرج نہیں۔“

جَابِرٍ ← رَجُلٌ: ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 798

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [170] بَابُ الذبائح · حديث 799

799 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم, عن عامر الشعبي قال: أصاب رجل من بني سلمة أرنبا بأحد, فلم يجد سكينا فذبحها بمروة, فسأل النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك, فأمره بأكلها. #676# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت ھیثم سے اور وہ حضرت شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں بنوسلمہ کے ایک آدمی نے احد ( پہاڑ ) میں ایک خرگوش کا شکار کیا تو چھری نہ پائی پس تیز (دہار والے) پتھر سے ذبح کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 799

chevron_left Previous
1…394041…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter