كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [142] بَابُ التجارة والشرط في البيع · حديث 728
728 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يشتري الجارية, ويشترط عليه أن لا يبيع, فكرهه وقال: ليست بامرأة تزوجتها, ولا بملك يمين, تصنع بها ما تصنع بملك يمينك. قال محمد: وبهذا نأخذ كل شرط اشترط في البيع ليس من البيع, فيه منفعة للبائع, أو للمشتري, أو للمشترى له فالبيع فيه فاسد وما كان من شرط لا منفعة فيه لواحد منهم فالبيع فيه جائز, والشرط فيه باطل, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو لونڈی خریدتا ہے اور اس پر یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ وہ اس کو نہ بیچے تو یہ مکروہ ہے وہ فرماتے ہیں (اے بیچنے والے! )وہ ایسی عورت نہیں جس کے ساتھ تم نے نکاح کیا ہواور نہ تمہاری ملک یمین میں ہے کہ اس ساتھ وہ سلوک کرو جو تم اپنی لونڈی سے کر تے ہو ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں‘ بیع میں رکھی گئی ہر وہ شرط جس کا بیع سے کوئی تعلق نہیں اور اس میں بیچنے والے یا خریدنے والے کو یا جس کے لئے وہ چیز خریدی گئی کا نفع ہوتو بیع فاسد ہو جائے گی اور جس شرط میں ان میں سے کسی کا نفع نہ ہوتو اس صورت میں بیع جائز ہے اور شرط باطل ہو جائے گی۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“
ليست بامرأة تزوجتها, ولا بملك يمين, تصنع بها ما تصنع بملك يمينك. ← إبراهيم في الرجل يشتري الجارية, ويشترط عليه أن لا يبيع, فكرهه ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 728
