Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [137] بَابُ النذر في المعصية · حديث 716

716 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا محمد بن الزبير, عن الحسن, عن عمران بن حصين رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: لا نذر في معصية, وكفارته كفارة يمين. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے محمد بن زبیر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا گناہ (کے کاموں ) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کاکفارہ ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← «لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ» ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 716

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [137] بَابُ النذر في المعصية · حديث 717

717 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: سمعت عامر الشعبي يقول: لا نذر في معصية, من حلف على يمين معصية فليرجع, ولا كفارة عليه. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكنا نأخذ بالحديث الأول, ومن ذلك أن يحلف الرجل أن لا يكلم أباه, أو أمه, أو أن لا يحج ولا يتصدق ونحو ذلك من أنواع البر, فليفعل الذي حلف أن لا يفعله, وليكفر يمينه, ألا ترى أن الله تبارك وتعالى جعل الظهار منكرا من القول وزورا, وجعل فيه الكفارة؟ فكذلك ههنا, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ کوفر ما تے ہوئے سنا کہ گناہ کی نذر نہیں جو شخص گناہ کی قسم کھائے وہ رجوع کرئے اور اس پر کوئی کفار نہیں ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیارنہیں کرتے بلکہ ہم پہلی حدیث پرعمل کر تے ہیں اور اسی سلسلے میں یہ بات بھی ہے کہ ایک آدمی قسم کھائے کہ وہ اپنے باپ یا اپنی ماں سے کلام نہیں کرے گا یا حج نہیں کر ے اور صدقہ نہیں دے گا اور اس قسم کے دوسرے نیکی کے کاموں سے رکنے کی قسم ہے تو جس نے اس قسم کی قسم کھائی ہے اسے چاہئے کہ اس پرعمل نہ کرے اور قسم کا کفارہ ادا کرے۔“ کیا تم نہیں دیکھتے اللہ تعالی ٰنے ظہار کو نا پسندیدہ بات اور جھوٹ قرار دیا ہے اور اس میں کفارہ بھی رکھا اسی طرح یہاں بھی ہے۔‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 717

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [138] بَابُ الخيار في الكفارة, والذي يجعل ماله في المساكين · حديث 718

718 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ما كان في القرآن من قوله: أو فصاحبه فيه بالخيار, أي ذلك شاء فعل, يعني: في الكفارة. قال محمد: وبه نأخذ, ومن ذلك قوله تعالى في كفارة اليمين: {إطعام عشرة مساكين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو كسوتهم أو تحرير رقبة}. فأي هذه الكفارات كفر بها يمينه أجزأه ذلك, ولا يجزئه الصوم ما دام يجد بعض هذه الكفارات؛ لأن الله تعالى يقول {فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام} , ولم يخيره في الصوم كما خيره في غيره, وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں قرآن مجید میں جولفظ او آیا ہے تو اس شخص کو اختیار ہے کفارہ میں جو کام چاہے کرئے ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور اسی سے اللہ تعالی ٰکا قول قسم کے کفارے میں ہے۔ اطعام عشرة مساكين من أوسط ما تطمعون الهليكم أو كسوتهم (پ۷ المائدہ ۸۹) اور تحرير رقبة ..... دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے اس درمیانے کھانے سے ہو جوتم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کولباس پہنا نا یا غلام آزاد کرتا ہے۔‘‘وہ فرماتے ہیں ان میں سے کوئی بھی کفارہ دے اس کی قسم سے جائز ہوگا لیکن روزہ رکھنا جائز نہ ہوگا جب وہ ان میں سے کوئی چیز پائے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے, فمن لم يجد فصيام ثلثة ايام ( پ ۳ البقره ۸۹ ) پس جو (ان میں سے کوئی چیز )نہ پائے وہ تین دن کے روزے رکھے اور اللہ تعالیٰ نے روزے میں اس طرح اختیار نہیں دیا جس طرح دوسری باتوں میں دیا ہے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 718

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [138] بَابُ الخيار في الكفارة, والذي يجعل ماله في المساكين · حديث 719

719 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا جعل الرجل ماله في المساكين صدقة فلينظر ما يسعه ويسع عياله, فليمسكه وليتصدق بالفضل, فإذا أيسر تصدق بمثل ما أمسك. #610# قال محمد: و بهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی آدمی اپنا تمام مال مساکین کے لئے کر دے تو دیکھے اسے اور اس کے اہل وعیال کو کس قدر کافی ہے پھر اتنی مقدار روک کر باقی صدقہ کر دے پھر جب حالات اچھے ہوں تو جس قد ر روکا ہے وہ صدقہ کر دے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 719

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [139] بَابُ من جعل على نفسه المشي · حديث 720

720 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم أنه قال فيمن جعل على نفسه المشي فمشى بعضا, وركب بعضا قال: يعود فيمشي ما ركب. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكنا نأخذ بقول علي بن أبي طالب رضي الله عنه: إذا ركب أهدى هديا, وشاة تجزئه يذبحها, ويتصدق بها, ولا يأكل منها شيئا, ويعتمر عمرة أو حجة, ولا شيء عليه غير ذلك, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ اس شخص کے بارے میں جو پیدل چلنے کی نذر مانتا ہے کچھ سفر پیدل چل کر اور کچھ سواری پر کرتا ہے وہ فرماتے ہیں واپس آئے اور جس قد رسوار ہوا اتنی مقدار پیدل چلے۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار نہیں کرتے بلکہ ہم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کر تے ہیں (وہ فرماتے ہیں ) جب سوار ہوتو قربانی دے یا ایک بکری اسے کفایت کرے گی جسے وہ ذبح کر کے صدقہ کرے اور اس میں سے کچھ بھی نہ کھائے اور عمرہ کرے یاں حج اور اس پر اس کے علاوہ کچھ بھی لازم نہیں ہوگا ۔‘‘

يعود فيمشي ما ركب. ← فيمن جعل على نفسه المشي فمشى بعضا, وركب بعضا ← إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 720

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [140] بَابُ من جعل على نفسه نحر ابنه, أو نحر نفسه · حديث 721

721 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يجعل عليه أن ينحر ابنه أن عليه مئة ناقة ينحرها. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكنا نأخذ بقول ابن عباس, ومسروق بن الأجدع.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانتا ہے کہ اس پر سو اونٹوں کو ذبح کرنالازم ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار نہیں کرتے بلکہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت مسروق بن اجدع رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 721

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [140] بَابُ من جعل على نفسه نحر ابنه, أو نحر نفسه · حديث 722

722 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا سماك بن حرب, عن محمد بن المنتشر قال: أتى رجل ابن عباس رضي الله عنهما فقال: إني جعلت ابني نحيرا, ومسروق بن الأجدع جالس في المسجد, فقال له ابن عباس رضي الله عنهما: اذهب إلى ذلك الشيخ فاسأله, ثم تعال فأخبرني بما #612# يقول, فأتاه فسأله, فقال مسروق: إن كانت نفسا مؤمنة تعجلت إلى الجنة, وإن كانت كافرة عجلتها إلى النار, اذبح كبشا فإنه يجزئك, فأتى ابن عباس رضي الله عنهما فحدثه بما قال مسروق, قال: وأنا آمرك بما أمرك به مسروق. #613# قال محمد: فبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رضي الله عنه.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے سماک بن حرب رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت محمد بن المنتشر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا میں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے اور حضرت مسروق بن اجدع رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا اس شخص کے پاس جاؤ اور (مسئلہ) پوچھو پھر آکر مجھے بتایا کہ انہوں نے کیا جواب دیاہے پس وہ شخص ان کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو حضرت مسروق رضی اللہ عنہ نےفرمایا اگر وہ مومن نفس ہے تو اس نے جنت کی طرف جلدی کی اور اگر وہ کافر ہے تو تم نے اس کو جہنم میں لے جانے کی جلدی کی ایک میندہا ذبح کر دو تمہیں کافی ہے ۔‘‘ وہ شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور جو کچھ حضرت مسروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھاان کو بتادیا انہوں نے فرمایا میں بھی تمہیں اسی بات کا حکم دیتا ہوں جس کا حضرت مسروق نے تمہیں حکم دیا۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔‘‘

مَسْرُوقٍ ← فَأَتَاهُ، فَسَأَلَهُ، ← بِمَا ← له ابن عباس اذهب إلى ذلك الشيخ فاسأله, ثم تعال ← إني جعلت ابني نحيرا, ومسروق بن الأجدع جالس في المسجد, ← أَتَى رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 722

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [140] بَابُ من جعل على نفسه نحر ابنه, أو نحر نفسه · حديث 723

723 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا سماك بن حرب, عن محمد بن المنتشر, عن ابن عباس رضي الله عنهما في الرجل يجعل عليه أن يذبح نفسه, قال: يذبح كبشا أو شاة. #614# قال محمد: وبه نأخذ.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے سماک بن حرب رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ محمد بن المنتشر رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو یوں نذر مانتا ہے کہ وہ اپنے حصے کو ذبح کرے گا (یا اپنے نفس کو ذبح کرے گا )تو وہ فرماتے ہیں ایک مینڈھایا بکری ذبح کرے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیا رکرتے ہیں۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ ← يذبح كبشا أو شاة. ← ابن عباس في الرجل يجعل عليه أن يذبح نفسه, ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 723

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [141] بَابُ من حلف وهو مظلوم · حديث 724

724 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا استحلف الرجل وهو مظلوم فاليمين على ما نوى, وعلى ما ورَّى, وإذا كان ظالما فاليمين على نية من استحلفه. قال محمد: وبه نأخذ, اليمين فيما بينه وبين ربه على ذلك, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے جب کسی شخص سے قسم لی جائے اور وہ مظلوم ہوتو قسم اس کے مطابق ہوگی جس کی اس نے نیت کی ہے اور جب ظالم ہو تو قسم لینے والے کی نیت کے مطابق قسم ہوگی ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اس کے اور اس کے رب کے درمیان جسم اس پر ہوگی اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 724

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [141] بَابُ من حلف وهو مظلوم · حديث 725

725 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: اليمين #615# يمينان: يمين تكفر, ويمين فيها الاستغفار, فاليمين التي تكفر فالرجل يقول: والله لأفعلن, والتي فيها الاستغفار فالذي يقول: والله لقد فعلت. قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں قسم کی دوقسمیں ہیں ایک وہ قسم ہے جس میں کفار و دینا ہوتا ہے اور دوسری وہ جس میں طلب مغفرت ہے جس قسم میں کفارہ ہے اس میں کوئی شخص کہتا ہے اگر اللہ کی قسم میں ایساضر وکروں گا اور جس میں استغفار ہے اس میں وہ کہتا ہے اللہ کی قسم میں نے ایسا کیا ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة تعالى. ← والله لقد فعلت. ← والله لأفعلن, والتي فيها الاستغفار فالذي ← اليمين يمينان: يمين تكفر, ويمين فيها الاستغفار, فاليمين التي تكفر فالرجل ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 725

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [141] بَابُ من حلف وهو مظلوم · حديث 726

726 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها في اللغو قالت: هو كل شيء يصل به الرجل كلامه لا يريد يمينا: لا والله, وبلى والله, وما لا يعقد #616# عليه قلبه. #617# قال محمد: وبه نأخذ, ومن اللغو أيضا الرجل يحلف على الشيء يرى أنه على على ما حلف عليه, فيكون على غير ذلك, فهذا أيضا من اللغو, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے لغوقسم کے بارے میں روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں یہ ہر وہ چیز ہے جسے آدمی اپنے کلام سے ملا تا ہے اور قسم کا ارادہ نہیں کرتا جیسے لا ‘واللہ بلی ‘واللہ (وغیرہ) اور اسی طرح جس پر دل کا ارادہ نہیں ہوتا۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور یہ بھی لغوقسم ہے کہ کوئی شخص کسی بات پر قسم کھائے اور وہ یہ سمجھے کہ بات اسی طرح ہے جس طرح اس نے قسم کھائی پس وہ اس کے علاوہ ہوتو یہ بھی لغو ہے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عائشة أم المؤمنين في اللغو ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 726

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [142] بَابُ التجارة والشرط في البيع · حديث 727

727 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا يحيى بن عامر, عن رجل, عن عتاب بن أسيد رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم, أنه قال له: انطلق إلى أهل الله -يعني أهل مكة- فانههم عن أربع خصال: عن بيع ما لم يقبضوا, وعن ربح ما لم يضمنوا, وعن شرطين في بيع, وعن سلف وبيع. #618# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, فأما قوله: سلف وبيع فالرجل يقول للرجل: أبيعك عبدي هذا بكذا وكذا على أن تقرضني كذا وكذا, أو يقول: تقرضني على أن أبيعك فلا ينبغي هذا. وقوله: شرطين في بيع فالرجل يبيع الشيء بالحال بألف درهم, وإلى شهر بألفين, فيقع عقده البيع على هذا فهذا لا يجوز, وأما قوله: ربح ما لم يضمنوا فالرجل يشتري الشيء فيبيعه #619# قبل أن يقبضه بربح فليس ينبغي له ذلك, وكذلك لا ينبغي له أن يبيع شيئا اشتراه حتى يقبضه, وهذا كله قول أبي حنيفة إلا في خصلة واحدة: العقار من الدور والأرضين قال: لا بأس أن يبيعهما الذي اشتراها قبل أن يقبضها؛ لأنها لا تحول عن موضعها. قال محمد: وهذا عندنا لا يجوز, وهو كغيره من الأشياء.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے یحیی ٰبن عامر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ایک شخص سے وہ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اہل اللہ یعنی اہل مکہ کی طرف جاؤ اوران کو چار باتوں سے منع کرو۔1۔ جب تک کسی (خریدی ہوئی )چیز پر قبضہ نہ کریں اسے آگے نہ بیچیں ۔“2۔ جب تک ضامن نہ ہوں نفع حاصل نہ کریں ۔“ 3۔ایک بیع میں دوشرطیں نہ رکھیں ۔‘‘4۔ قرض اور بیع جمع نہ کریں ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں۔“ قرض اور بیع جمع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے آدمی سے کہے میں تجھ پر اپنا غلام اتنی رقم پر بیچتا ہوں اس شرط پر کہ تو مجھے اتنا قرض دے یا کہے تو مجھے قرض دے اس شرط پر کہ میں تجھ پر بیچوں تو یہ مناسب نہیں ۔ اور ایک بیع میں دوشرطوں کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کوئی چیز نقد ایک ہزار پر بیچے اور دہار دو ہزار میں بیچے اور یوں سواد ہو جائے تو یہ نا جائز ہے۔‘‘اور جب تک ضامن نہ ہونفع جائز نہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ایک چیز خریدتا ہے اور قبضہ کر نے سے پہلے نفع کے ساتھ بیچتا ہے تو یہ بات بھی جائز نہیں اسی طرح یہ بھی مناسب نہیں کہ کسی چیز کوخریدنے کے بعد قبضہ کرنے سے پہلے بیچے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی ان سب باتوں کے قائل ہیں البتہ ایک بات میں اختلاف ہے یعنی وہ گھروں یا زمین کے ٹکڑوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کو خریدنے کے بعد قبضہ کر نے سے پہلے بیچنا جائز ہے کیونکہ یا اپنی جگہ سے متنقل نہیں ہوتیں ۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک یہ جائز نہیں اور ان کا حکم بھی دوسری اشیاء کی طرح ہے ۔‘‘

عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ← رَجُلٌ: ← يحيى بن عامر، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 727

chevron_left Previous
1…333435…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter