كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 632
632 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا خرج #549# الرجل فقطع الطريق, فأخذ المال وقتل, فللوالي أن يقتله أية قتلة شاء, إن شاء قتله صلبا, وإن شاء قتله بغير قطع ولا صلب, وإن شاء قطع يده ورجله من خلاف ثم قتله, وإن أخذ المال ولم يقتل قطع يده ورجله من خلاف, فإن لم يأخذ المال ولم يقتل أوجع عقوبة وحبس حتى يحدث خيرا. قال محمد: وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وبه نأخذ, إلا في خصلة واحدة: إذا قتل وأخذ المال قتل صلبا, ولم تقطع يده ولا رجله, وإذا اجتمع حدان أحدهما يأتي على صاحبه بدئ بالذي يأتي على صاحبه, ودرئ الآخر.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص باہر نکلے اور ڈاکہ ڈالے اور مال بھی لوٹے اورقتل بھی کر دے تو حکمران کو اختیار ہے کہ اسے جس طرح چاہے قتل کرے چاہے تو سولی چڑہا دے اور چاہے تو ہاتھ کاٹنے اور سولی چڑ ہائے بغیرقتل کر دے اگر چاہے تو اس کا ہاتھ اور پاؤں ایک دوسرے کے خلاف کاٹے ( دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ) پھر اسے قتل کرے۔“ اور اگر اس نے مال لیالیکن قتل نہیں کیا تو اس کا ہاتھ اور پاؤں الٹ کاٹے اور اگر مال بھی نہیں لیا اورقتل بھی نہیں کیا (محض خوف زدہ کیا )تو اسے دردناک سزادے اور قید کرے حتی ٰ کہ بھلائی ظاہر ہو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! یہ سب حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور ہم بھی اس بات کو اختیار کرتے ہیں البتہ ایک بات میں سب کا اختلاف ہے کہ اگر وہ قتل بھی کرے اور مال بھی لے تو اسے سولی چڑ ہا کرقتل کیا جائے اور اس کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹے جائیں اور جب دوسزائیں جمع ہو جا ئیں ان میں سے ایک اس کی جان کوختم کرتی ہوتو آغاز اس سے کرے اور دوسری ساقط ہو جائے گی۔‘‘
إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 632
