Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 632

632 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا خرج #549# الرجل فقطع الطريق, فأخذ المال وقتل, فللوالي أن يقتله أية قتلة شاء, إن شاء قتله صلبا, وإن شاء قتله بغير قطع ولا صلب, وإن شاء قطع يده ورجله من خلاف ثم قتله, وإن أخذ المال ولم يقتل قطع يده ورجله من خلاف, فإن لم يأخذ المال ولم يقتل أوجع عقوبة وحبس حتى يحدث خيرا. قال محمد: وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وبه نأخذ, إلا في خصلة واحدة: إذا قتل وأخذ المال قتل صلبا, ولم تقطع يده ولا رجله, وإذا اجتمع حدان أحدهما يأتي على صاحبه بدئ بالذي يأتي على صاحبه, ودرئ الآخر.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص باہر نکلے اور ڈاکہ ڈالے اور مال بھی لوٹے اورقتل بھی کر دے تو حکمران کو اختیار ہے کہ اسے جس طرح چاہے قتل کرے چاہے تو سولی چڑہا دے اور چاہے تو ہاتھ کاٹنے اور سولی چڑ ہائے بغیرقتل کر دے اگر چاہے تو اس کا ہاتھ اور پاؤں ایک دوسرے کے خلاف کاٹے ( دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ) پھر اسے قتل کرے۔“ اور اگر اس نے مال لیالیکن قتل نہیں کیا تو اس کا ہاتھ اور پاؤں الٹ کاٹے اور اگر مال بھی نہیں لیا اورقتل بھی نہیں کیا (محض خوف زدہ کیا )تو اسے دردناک سزادے اور قید کرے حتی ٰ کہ بھلائی ظاہر ہو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! یہ سب حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور ہم بھی اس بات کو اختیار کرتے ہیں البتہ ایک بات میں سب کا اختلاف ہے کہ اگر وہ قتل بھی کرے اور مال بھی لے تو اسے سولی چڑ ہا کرقتل کیا جائے اور اس کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹے جائیں اور جب دوسزائیں جمع ہو جا ئیں ان میں سے ایک اس کی جان کوختم کرتی ہوتو آغاز اس سے کرے اور دوسری ساقط ہو جائے گی۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 632

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 633

633 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في سارق سرق, فأخذ فانفلت, ثم سرق فأخذ الثانية قال: يقطع. قال محمد: وبه نأخذ, ولا نرى عليه إلا قطعا واحدا, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں جو چوری کرنے پر پکڑا جائے پھر بھاگ جائے پھر چوری کرے اور دوبارہ پکڑا جائے تو اس کا صرف ہاتھ کاٹا جائے ۔‘‘(پاؤں نہ کاٹے جائیں) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار کرتے ہیں ہم صرف ایک بار اس کا ہاتھ کاٹناجائز سمجھتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

يُقْطَعُ. ← إبراهيم في سارق سرق, فأخذ فانفلت, ثم سرق فأخذ الثانية ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 633

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 634

634 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا رجل عن الحسن البصري, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: لا يقطع مختلس. #550# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے ایک شخص نے بیان کیا وہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اچکنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔‘‘ (کیونکہ یہ سرقہ کے معنی میں نہیں ہے)

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا يقطع مختلس. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← رَجُلٌ: ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 634

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [109] بَابُ حد النباش · حديث 635

635 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم, أنه قال في النباش إذا نبش عن الموتى فسلبهم: إنه يقطع. #551# وقال أبو حنيفة: لا يقطع؛ لأنه متاع غير محرز, لكنه يوجع ضربا, ويحبس حتى يحدث خيرا. قال محمد: وبلغنا عن ابن عباس رضي الله عنه أنه أفتى مروان بن الحكم أن لا يقطعه, وهو قولنا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کفن چور کے بارے میں فرمایا جب وہ مردوں کا کفن اتارکر لے جائے تو اس کا ہاتھ کا ٹا جائے ۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے کیونکہ یہ غیر محفوظ سامان ہے البتہ اسے مارنے کے ذریعے سزادی جائے اور قید کر دیا جائے حتیٰ کہ اس کی اصلاح ہو جائے ۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے مروان بن حکم کوفتوی ٰدیا کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے اور یہی ہمارا قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 635

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [110] بَابُ شهادة أهل الذمة على المسلمين · حديث 636

636 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في قوله تعالى {شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت حين الوصية اثنان ذوا عدل منكم أو آخران من غيركم} , إلى آخرها, قال: منسوخة. #552# قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وإنما يعني بهذه الشهادة في السفر عند حضرة الموت على الوصية, إذا لم يكن أحد من المسلمين جازت شهادة أهل الذمة على وصية المسلم, نسخ ذلك, فلا يجوز على وصية المسلم ولا غير ذلك من أمره إلا المسلمين. والله أعلم.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اللہ تعالیٰ کے قول شهادة بينكم اذا حضر احد كم الموت حين الوصية اثنا ن ذوا عدل منكم او آخران من غيركم ....... تمہاری آپ کی شہادت جب تم میں سے کسی ایک کو موت آئے وصیت کے وقت دو انصاف والے تم(مسلمانوں) میں سے ہوں یا دوسرے دو جو تمہارے غیر ( غیر مسلموں میں ) سے ہوں ۔ کے بارے میں فرماتے ہیں یہ منسوخ ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور اس شہادت سے مرادسفر میں جب اسے موت آئے تو وصیت پر گواہ بنانا ہے جب مسلمانوں میں سے کوئی ایک نہ ہوتو مسلمان کی وصیت پر ذمی ( کفار ) کی شہادت جائز ہے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا پس (اب) مسلمان کی وصیت یا کسی دوسرے معاملے میں صرف مسلمانوں کی شہادت ہی جائز ہے۔‘‘ واللہ اعلم

منسوخة. ← إبراهيم في قوله تعالى إلى آخرها, ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 636

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [111] بَابُ شهادة المحدود · حديث 637

637 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم في نصراني قذف مسلمة فضرب الحد ثم أسلم, أنه جائز الشهادة. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى؛ لأنه لم يضرب حدا في الإسلام.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس عیسائی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو کسی مسلمان عورت پر زنا کا الزام لگائے(قذف کرے) پس اسے حد لگائی جائے اور پھر وہ مسلمان ہو جائے تواس کی گواہی جائز ہے ۔حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے کیونکہ اسے اسلام کی حالت میں حد نہیں لگائی گئی ۔“

إبراهيم في نصراني قذف مسلمة فضرب الحد ثم أسلم, أنه جائز الشهادة. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 637

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [111] بَابُ شهادة المحدود · حديث 638

638 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: إذا جلد القاذف لم تجز شهادته أبدا, وقال في قول الله تعالى: {إلا الذين تابوا من بعد ذلك وأصلحوا} , قال: يرفع عنه اسم الفسق, فأما الشهادة فلا تجوز أبدا. #553# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حمادرحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب قذف کرنے والے کو حد لگائی جائے تو اس کی گواہی کبھی بھی جائز نہیں انہوں نے اللہ تعالی ٰکے اس ارشاد گرامی!الا الذین تابو امن بعد ذلک واصلحوا۔‘‘(۲پ البقرہ۱۶۰) مگر وہ لوگ جو اس کے بعد ( حد کے بعد )توبہ قبول کر لیں اوراپنی اصلاح کرلیں ۔ ‘‘کے بارے میں فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے فسق کا لفظ اٹھ جائے گا جہاں تک شہادت کا تعلق ہے تو ہمیشہ کے لئے نا جائز ہے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← يرفع عنه اسم الفسق, فأما الشهادة فلا تجوز أبدا. ← في قول الله تعالى: {إلا الذين تابوا من بعد ذلك وأصلحوا} ← إذا جلد القاذف لم تجز شهادته أبدا, ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 638

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [111] بَابُ شهادة المحدود · حديث 639

639 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الهيثم عن عامر الشعبي قال: أجيز شهادة القاذف إذا تاب. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے الھیثم بن ابی الھیثم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اور حضرت عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں قازف (قذف کرنے والے ) کی شہادت کو جائز قرار دیتا ہوں جب تو بہ کر لے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار نہیں کرتے ۔“

محمد: ولسنا نأخذ بهذا. ← أجيز شهادة القاذف إذا تاب. ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 639

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [111] بَابُ شهادة المحدود · حديث 640

640 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الهيثم, عن عامر الشعبي, عن شريح قال: أتاه أقطع بني أسد فقال: أتقبل شهادتي؟ وكان من خيارهم, #554# فقال: نعم, وأراك لذلك أهلا. قال محمد: وبه نأخذ, كل محدود في سرقة, أو زنا, أو غير ذلك إذا تاب قبلت شهادته إلا المحدود في القذف خاصة؛ لقول الله تعالى: {ولا تقبلوا لهم شهادة أبدا}.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے الھیثم بن ابی الھیثم رحمتہ اللہ علیہ نے عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا اور وہ حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ان کے پاس بنواسد کا ایک شخص آیا جس کا ہاتھ چوری میں کاٹا گیا تھا اس نے پوچھا کیا میری شہادت قبول ہوگی اور وہ ان کے معتبر لوگوں میں سے تھا تو حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہاں میں تجھے اس کا اہل سمجھتا ہوں۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جس شخص کو چوری یا زنا وغیرہ میں حد لگائی جائے جب تو بہ کر لے تو اس کی گواہی قبول ہوگی لیکن جس کو حد قذف لگائی گئی خاص اس کی گواہی قبول ہوگی ‘کیونکہ ارشاد خداوندی ہے! ولا تقبلوا لهم شهادة ابدا(پ۱۸ النور۴) اوران کی گواہی کبھی نہ مانو۔“(ترجمہ کنز الایمان)

نعم, وأراك لذلك أهلا. ← أتقبل شهادتي؟ وكان من خيارهم, ← أتاه أقطع بني أسد ← شُرَيْحٍ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 640

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [112] بَابُ شهادة الزور · حديث 641

641 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم بن أبي الهيثم, عمن حدثه عن شريح قال: كان إذا أخذ شاهد زور, فإن كان من أهل السوق قال للرسول: قل لهم: إن شريحا يقرئكم السلام, ويقول: إنا أخذنا هذا #555# شاهد زور فاحذروه, وإن كان من العرب أرسله إلى مسجد قومه أجمع ما كانوا, فقال للرسول مثل ما قال في المرة الأولى. قال محمد: وبهذا كان يأخذ أبو حنيفة رحمه الله تعالى, ولا يرى عليه ضربا, وأما في قولنا فإنا نرى عليه مع ذلك التعزير, ولا يبلغ به أربعين سوطا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت الھیثم بن ابی الهیثم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کی و ہ فرماتے ہیں جب جھوٹا گواہ پکڑا جائے تو اگر وہ بازاری ہے تو اسے بازار کی طرف بھیجا جائے اور قاصد سے کہیں کہ حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ تمہیں سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں ہم نے اس شخص کو جھوٹی گواہی دیتے ہوئے پایا پس اس سے بچو اور اگر وہ دیہاتیوں میں سے ہو تو اپنی قوم کی اس مسجد کی طرف بھیجا جائے جہاں وہ سب جمع ہوئے ہیں اور قاصد کو وہی بات فرمائی جو پہلے سے کہی تھی۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی بات کو اختیار کر تے تھے اور وہ اس کو مارنا جائز نہیں سمجھتے تھے لیکن ہمارے خیال میں اس کے ساتھ ساتھ اسے سزا بھی دی جائے جو چالیس کوڑوں سے کم ہو۔“

شُرَيْحٍ ← الهيثم بن أبي الهيثم, عمن ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 641

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [112] بَابُ شهادة الزور · حديث 642

642 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثني رجل, عن عامر الشعبي, أنه كان يضرب شاهد الزور ما بينه وبين أربعين سوطا. #556# قال محمد: وبه نأخذ.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم نے حضرت عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ وہ جھوٹے گواہ کو چالیس کوڑوں تک (یعنی ان سے کم ) مارتے تھےحضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ ← عامر الشعبي, أنه كان يضرب شاهد الزور ما بينه وبين أربعين سوطا. ← رَجُلٌ: ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 642

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [106] بَابُ شهادة النساء ما يجوز منها, وما لا يجوز · حديث 643

643 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: شهادة النساء مع الرجال جائزة في كل شيء ما خلا الحدود. قال محمد: ونحن نقول: ما خلا الحدود والقصاص, وهو قول أبي حنيفة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں مردوں کے ساتھ عورتوں کی گواہی حدود کے علاوہ ہر جگہ جائز ہے۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم کہتے ہیں حدود اور قصاص کے علاوہ جائز ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

محمد: ونحن نقول: ما خلا الحدود والقصاص, وهو قول أبي حنيفة. ← شهادة النساء مع الرجال جائزة في كل شيء ما خلا الحدود. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 643

chevron_left Previous
1…262728…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter