Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [106] بَابُ درء الحدود · حديث 620

620 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا قال الرجل للرجل: لست لفلانة, فليس بشيء. قال محمد: وهذا قول أبي حنيفة وقولنا؛ لأنه لم ينفه من أبيه, إنما قال: لم تلده أمه, وإنما النفي الذي يحد فيه الذي يقول: لست لأبيك.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص کسی دوسرے سے کہے تم فلاں عورت کے بیٹے نہیں ہوتو اس بات کی کوئی حیثیت نہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا اور ہمارا بھی یہی قول ہے کیونکہ اس نے اس کے باپ سے نفی نہیں کی بلکہ یہ کہا کہ اس کی ماں نے اسے نہیں جنا اور جس نفی میں حد نافذ ہوتی ہے اس میں وہ کہتا ہے تم اپنے باپ کے نہیں ہو۔

لست لأبيك. ← لم تلده أمه, وإنما النفي الذي يحد فيه الذي ← محمد: وهذا قول أبي حنيفة وقولنا؛ لأنه لم ينفه من أبيه, إنما ← الرجل للرجل: لست لفلانة, فليس بشيء. ← «إِذَا ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 620

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [106] بَابُ درء الحدود · حديث 621

621 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة رضي الله عنه, عن الهيثم بن أبي الهيثم, عن رجل يحدثه عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه, أنه أتي برجل وقع على بهيمة فدرأ عنه الحد, وأمر بالبهيمة فأحرقت.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام بوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ھیثم بن ابی االھیثم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ ایک شخص کے واسطے سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جو شخص کسی جانور سے بدفعلی کرے اس پر کوئی حد نہیں تو انہوں نے اس سے حد کو ساقط کر دیا اور جانورکو جلانے کا حکم دیا۔“

رجل يحدثه ← الهيثم بن أبي الهيثم ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 621

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [106] بَابُ درء الحدود · حديث 622

622 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عاصم بن أبي النجود, عن أبي رزين, عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: من أتى بهمة فلا حد عليه. #540# قال محمد: وهذا قول أبي حنيفة, وقولنا, وقال أبو حنيفة ومحمد: إذا كانت البهيمة له ذبحت وأحرقت, ولم تحرق بغير ذبح, فإنها مثلة

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت عاصم بن ابی النجو د رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ ابورزین رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سےروایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جوشخص کسی جانور سے بدفعلی کرے اس پر حد نہیں ۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا اور ہمارا قول یہی ہے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا جب جانوراس کا اپنا ہوتو اسے ذبح کر کے جلایا جائے اور ذبح کے بغیر نہ جلایا جائے کیونکہ یہ مثلہ ہے۔‘‘

محمد: وهذا قول أبي حنيفة وقولنا. ← من أتى بهمة فلا حد عليه. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ رَزَینٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 622

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [107] بَابُ حد السكران · حديث 623

623 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الكريم بن أبي المخارق يرفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه وسلم, أنه أتي بسكران, فأمرهم أن يضربوه بنعالهم, وهو يومئذ أربعون رجلا, فضرب كل واحد بنعليه, فلما ولي أبو بكر رضي الله عنه أتي بسكران, فأمرهم فضربوه بنعالهم, فلما ولي عمر رضي الله عنه, واستخرج الناس ضرب بالسوط. #541# قال محمد: وبهذا نأخذ, نرى الحد على السكران من نبيذ كان, أو غيره ثمانين جلدة بالسوط يحبس حتى يصحو ويذهب عنه السكر, ثم يضرب الحد, ويفرق على الأعضاء ويجرد, إلا أنه لا يضرب الفرج, ولا الوجه, ولا الرأس, وضربه أشد من ضرب القاذف, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے عبد الکریم بن ابی المخارق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع حدیث روایت کرتے ہیں آپ کے پاس ایک نشے والا آ دمی لایا گیا تو آپ نے حکم دیا کہ اسے جوتوں سے ماریں اور اس دن وہاں چالیس افراد تھے پس ہر ایک نے اپنے دونوں جوتوں سے مارا۔“ پھر جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلافت پر متمکن ہوئے اور آپ کے پاس ایک نشے والا لایاگیا تو آپ کے حکم سے حاضرین نے اسے جوتوں سے مارا جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آیا اور آپ نے لوگوں کو باہر نکلنے کا حکم دیا تو اسے کوڑے مارے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں کسی شخص کو نبیذ پینے یا کسی اور وجہ سے نشہ آئے تو اسے اسی کوڑے لگائیں جائیں اسے قید کر دیا جائے حتی ٰکہ وہ ٹھیک ہو جائے اور اس سے نشہ دور چلا جائے تو پھر حد لگائی جائے اور اس کے جسم کو ننگا کر کے متفرق جگہ پر کوڑے لگائیں جائیں البتہ شرمگاہ چہرے اور سر پر کوڑے نہ لگائیں جائیں اور اسے قذف کرنے والے (کسی پر زنا کا الزام لگانے والے ) سے سخت ضرب لگائی جائے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 623

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [107] بَابُ حد السكران · حديث 624

624 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لو أن رجلا شرب حسوة من خمر ضرب, قال: وأخاف أن يكون السكر مثل ذلك. قال محمد: يضرب الحد في الحسوة من الخمر, فأما من السكر فلا يحد حتى يسكر, ولكنه يعزر, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص ایک چسکی شراب پئے تو اسے مارا جائے وہ فرماتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ اس کی مثل سے نشہ ہو جائے۔‘‘ (یعنی اتنی مقدار سے نشہ ہو جائے ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں شراب کی ایک چسکی میں حد لگائی جائے لیکن دیگر نشہ آور چیزوں میں جب تک نشہ نہ آئےحد نہ لگائی جائے بلکہ سزادی جائے ‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

وأخاف أن يكون السكر مثل ذلك. ← لو أن رجلا شرب حسوة من خمر ضرب, ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 624

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 625

625 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا القاسم بن عبد الرحمن, عن أبيه, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: لا تقطع يد السارق في أقل من عشرة دراهم. #542# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے قاسم بن عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے باپ سے اور وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں دس درہم سے کم ( کی چوری ) میں چور کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا تقطع يد السارق في أقل من عشرة دراهم. ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 625

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 626

626 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا تقطع يد السارق في أقل من ثمن الحجفة, وكان ثمنها عشرة دراهم, وقال: قال إبراهيم أيضا: لا تقطع يد السارق في أقل من ثمن المجن, وكان ثمنه يومئذ عشرة دراهم, ولا تقطع في أقل من ذلك.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں الحجفہ کی قیمت سے کم میں چورکا ہاتھ نہ کاٹا جائے اور اس کی قیمت دس درہم تھی ۔ ‘‘اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ نے بھی فرمایا مجن کی قیمت سے کم میں چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے (مجن بھی ڈہال کو کہتے ہیں )اور وہ ان دنوں میں دس درہم کی ہوتی تھی اس سے کم ( کی چوری) میں ہاتھ نہ کاٹا جائے ۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 626

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 627

627 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم بن أبي الهيثم, عن الشعبي يرفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: لا يقطع السارق في ثمر, ولا في كثر. #544# قال محمد: وبه نأخذ, والثمر ما كان في رؤوس النخل والشجر لم يحرز في البيوت, فلا قطع على من سرقه, والكثر الجمار جمار النخل, فلا قطع على من سرقه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ھیثم بن ابی االھیثم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! پھل اور کھجور کے شگوفے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے ‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ثمر ( کالفظ استعمال ہوا یعنی پھل ہیں ) سے مراد وہ پھل جو کھجور یا کسی دوسرے درخت کے اوپر ہو گھروں میں ذخیرہ نہ کیا گیا ہو پس جواسے چوری کرے اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ( کیونکہ وہ محفوظ نہیں ) اور کثر ( کالفظ فرمایا اس کا )معنی کھجور کا شگوفہ ہے جو اس کی چوری کرے اس کا ہاتھ بھی نہ کاٹا جائے ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

لا يقطع السارق في ثمر, ولا في كثر. ← الشعبي يرفعه إلى النبي أنه ← الهيثم بن أبي الهيثم ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 627

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 628

628 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عمرو بن مرة, عن عبد الله بن سلمة, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: إذا سرق الرجل قطعت يده اليمنى, فإن عاد قطعت رجله اليسرى, فإن عاد ضمن السجن حتى يحدث خيرا, إني لأستحي من الله أن أدعه ليست له يد يأكل بها, ويستنجي بها, ورجل يمشي عليها. #546# قال محمد: وبه نأخذ, ولا يقطع من السارق إلا يده اليمنى, ورجله اليسرى, لا يزاد على ذلك شيئا إذا أكثر السرقة مرة بعد مرة, ولكنه يعزر, ويحبس حتى يحدث خيرا, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ ہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی و وفرماتے ہیں ہم سے عمر و بن مرہ رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت عبد اللہ بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب چوری کرے تو اس کا دایاں ہاتھ کا ٹا جائے اگر دوبارہ چوری کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹا جائے پھر چوری کرے تو اسے قید خانے میں ڈال دیا جائے حتیٰ کہ وہ بھلائی کا ارتکاب کرے کیونکہ مجھے اللہ تعالی ٰسے حیا آتا ہے کہ میں اس شخص کو اس حالت میں چھوڑ دوں کہ اس کے پاس کھانے اور استنجاء کے لئے ہاتھ نہ ہوں اور پاؤں نہ ہوں جس کے ساتھ وہ چلے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور چور کا صرف دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کا ٹاجائے اس پر کچھ اضافہ نہ کیا جائے جب بار بار چوری کرے البتہ اسے سزادی جائے اور قید کر دیا جائے حتی ٰکہ بھلائی پیدا ہو ‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی یہی قول ہے ۔“

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 628

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 629

629 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: يقطع السارق ويضمن. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, إذا قطع السارق بطل عنه ضمان السرقة إلا أن توجد السرقة بعينها فترد على صاحبها, وهو قول عامر الشعبي, وأبي حنيفة رحمهما الله تعالى.

حضرت محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں چور کا ہاتھ کاٹا جائے اور چٹی لی جائے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس کو اختیار نہیں کرتے جب چورکا ہاتھ کاٹا جائے تو چورکی ضمان (چٹی )باطل ہوگی البتہ چوری کاما ل بعینہ پایا جائے تو وہ مالک کی طرف لوٹا یا جائے حضرت عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

يقطع السارق ويضمن. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 629

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 630

630 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا إبراهيم بن محمد بن المنتشر, عن أبيه, عن يزيد بن أبي كبشة قال: أتي أبو الدرداء رضي الله عنه بجارية سوداء قد سرقت, وهو على دمشق, فقال: يا سلامة, أسرقت؟ قولي: لا, فقالت: لا. فقالوا: أتلقنها يا أبو الدرداء؟ قال: أتيتموني بامرأة لا تدري ما يراد بها, لتعترف فأقطعها.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے ابراہیم بن محمد بن المنتشر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے والد سے اور وہ یزید بن ابی کبشہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سیاہ رنگ کی لونڈی لائی گی جس نے چوری کی تھی اور وہ دمشق کے والی تھے انہوں نے فرمایا اے سلامہ ! تم نے چوری کی؟ کہو نہیں اس نے کہا نہیں لوگوں نے کہا اے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ! آپ اسے سمجھارہے ہیں فرمایا تم میرے پاس ایک عورت کر لاتے ہو اسے معلوم نہیں کہ اس سے کیا مراد ہے پس ( میں نے اس لئے کہا کہ )وہ اعتراف کرے اور اس کا ہاتھ کاٹوں۔“

أتلقنها يا أبو الدرداء؟ ← لَا۔ ← يا سلامة, أسرقت؟ قولي: لا, ← أتي أبو الدرداء بجارية سوداء قد سرقت, وهو على دمشق, ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 630

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 631

631 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: أتي أبو مسعود الأنصاري رضي الله عنهما بسارق فقال: أسرقت؟ قل: لا, فقال: لا, فخلى سبيله. قال محمد: وأما نحن فنقول: لا ينبغي للحاكم أن يقول له: أسرقت؟ ولكن يسكت عنه حتى يقر, أو يدع, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, قال محمد: وإنما أراهما قالا للسارقين: قولا: لا؛ لقولهما: أسرقتما مخافة أن يجيبا بنعم بمسألتهما, إياهما ولم يفعلا. وكذلك قال أبو حنيفة في الشاهد يشهد عند الحاكم: لا ينبغي للحاكم أن يقول له: أتشهد بكذا وكذا؟ مخافة أن يقول: نعم, ولكن يدعه حتى يأتي بما عنده من الشهادة, فإن كانت شهادة قاطعة أنفذها, وإن كانت غير قاطعة ردها, وكذلك الحدود.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حما درحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور لا یا گیا تو انہوں نے پوچھا تم نے چوری کی کہونہیں کی اس نے کہا نہیں کی تو آپ نے اسے چھوڑ دیا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک حاکم کے لئے ایسا کہنا مناسب نہیں کہ کیا تم نے چوری کی بلکہ وہ خاموش رہے حتیٰ کہ وہ شخص اقرار کرے یا اسے چھوڑ دے۔‘‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ ان دونوں حضرات نے دونوں چوروں سے جو کہا تھا کہ کہو چوری نہیں کی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ان سے پوچھا کیا تم نے چوری کی تو یہ اس بات کا ڈر ہوا کہ وہ دونوں ہاں کے ساتھ جواب دیں ۔ کیونکہ ان سے پوچھا گیا تھا اور (ہوسکتا ہے )انہوں نے چوری نہ کی ہو حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس گواہ کے بارے میں بھی یہی فرماتے ہیں جو حاکم کے پاس گواہی دیتا ہے کہ حاکم کے لئے جائز نہیں کہ اس سے کہے کہ کیا تو فلاں فلاں بات کی گواہی دیتا ہے اسے ڈرنا چا ہے کہ کہیں وہ ہاں کہ دے بلکہ ایسے چھوڑ دے حتی ٰ کہ وہ اس شہادت کو لائے جو اس کے پاس ہے پس اگر قطعی شہادت ہو تو اسے نافذ کر دے اور غیر قطعی ہوتو اسے رد کر دے حدود کاحکم بھی یہی ہے ۔“

لاَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ. ← أَسَرَقْتَ؟ قُلْ: لاَ، ← أتي أبو مسعود الأنصاري بسارق ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 631

chevron_left Previous
1…252627…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter