Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [99] بَابُ الحدود إذا اجتمعت فيها قتل · حديث 608

608 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا اجتمعت على الرجل الحدود فيها القتل درئت الحدود, وأخذ بالقتل, وإذا اجتمعت الحدود وقد قتل, قتل ودفع ما سوى ذلك؛ لأن القتل قد أحاط بذلك كله. قال محمد: وهذا كله قول أبي حنيفة وقولنا إلا حد القذف فإنه من حقوق الناس, فيضرب حد القذف ثم يقتل, وإنما الذي يدرأ عنه الحدود التي لله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کسی شخص پر کئی حدود جمع ہو جائیں تو اسے قتل کیا جائے حدود ساقط ہو جائیں گی اورقتل کا طریقہ اختیار کیا جائے گا اور اگر کئی حدود جمع ہوں اور اس نے قتل بھی کیا ہوتو اسے قتل کیا جائے اور اس کے علاوہ چھوڑ دیا جائے کیونکہ قتل نے ان تمام سزاؤں کو گھیر لیا۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ تمام باتیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور ہمارے نزدیک ہیں البتہ حد قذف لوگوں کے حقوق میں سے ہے پس اس میں قذف کی حد نافذ کر کے پھر قتل کیا جائے صرف وہی سزائیں (قتل کے باعث) دور ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کے حقوق میں شامل ہیں۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 608

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [100] بَابُ من غصب امرأة نفسها · حديث 609

609 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه من كان من الناس حرا أو مملوكا غصب امرأة نفسها فعليه الحد, ولا صداق عليه, قال: وإذا وجب الصداق درئ الحد, وإذا ضرب الحد بطل الصداق. #530# قال محمد: وهذا كله قول أبي حنيفة, وقولنا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جو آزاد یا غلام کسی عورت کو غصب ((اغواء) کرے اس پر حد ہے اور مہر نہیں ہے وہ فرماتے ہیں جب مہر لازم ہو جائے تو حد ساقط ہو جاتی ہے اور جب حد لگائی جائے تو مہر باطل ہو جا تا ہے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ تمام باتیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا اور ہماراقول ہیں۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 609

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [101] بَابُ الشهود على المرأة بالزنا أحدهم زوجها · حديث 610

610 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا شهد أربعة بالزنا أحدهم زوجها أقيم عليها الحد, وإذا شهدوا وأحدهم زوجها رجمت إن كان زوجها دخل بها, وجازت شهادتهم إذا كانوا عدولا. قال محمد: وهذا قول أبي حنيفة, وقولنا, فإن كان الزوج دخل بها رجمت, وإن كان لم يدخل بها ضربت الحد مئة جلدة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب چار آدمی زنا کی گواہی دیں اور ان میں سے ایک اس عورت کا خاوند ہوتو اس عورت پر حد نافذ کی جائے اور اگر دو گواہی دیں اور ان میں سے ایک اس کا خاوند ہواوراس نے اس سے جماع بھی کیا تو اب اس عورت کور جم کیا جائے ان لوگوں کی گواہی جائز ہے اگر وہ عادل ہوں۔‘‘(فاسق نہ ہوں)حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا اور ہمارا قول ہے ۔“ اور اگر خاوند نے اس سے جماع کیا ہے تو عورت کو رجم کیا جائے اور اگر جماع نہیں کیا تو اسے حد کےطور پر ایک سو کوڑے مار میں جائیں ۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 610

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [102] بَابُ البكر يفجر بالبكر · حديث 611

611 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن ابن #531# مسعود رضي الله عنه قال في البكر يفجر بالبكر: إنهما يجلدان وينفيان سنة. وقال علي بن أبي طالب رضي الله عنه: نفيهما من الفتنة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کنوارہ لڑ کا کنواری لڑکی سے زنا کرے تو ان کو کوڑے لگائیں جائیں اور سال بھر کے لئے ملک بدر کر دیاجائے۔“اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کو ملک بدر کر نا فتنہ ہے۔“

علي بن أبي طالب نفيهما من الفتنة. ← في البكر يفجر بالبكر: إنهما يجلدان وينفيان سنة. ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 611

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [102] بَابُ البكر يفجر بالبكر · حديث 612

612 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: كفى بالنفي فتنة. قال محمد: فقلت لأبي حنيفة: ما يعني إبراهيم بقوله: كفى بالنفي فتنة؟ أي لا ينفى؟ قال: نعم. قال محمد: وهذا قول أبي حنيفة وقولنا, نأخذ بقول علي بن أبي طالب رضي الله عنه.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ملک بدر کرنا فتنہ کے لئے کافی نہیں ہے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کے اس قول کے فتنہ کے لئے ملک بدر کرنا کافی ہے کا کیا مطلب ہے یعنی ملک بدر نہ کیا جائے تو فرمایا ہاں! (یہی مطلب ہے ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا اور ہمارا یہی قول ہے ہے ہم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قول پر عمل کرتے ہیں ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 612

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [103] بَابُ حد اللوطي · حديث 613

613 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: اللوطي بمنزلة الزاني. قال محمد: وهذا قولنا, إن كان محصنا رجم, وإن كان غير محصن ضرب الحد مئة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں لوطی ( بدفعلی کرنے والا ) زانی کی طرح ہے۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر وہ محضن ہو ( نکاح صحیح کے ساتھ ایک بار جماع کر چکا ہو )تو اسے رجم کیا جائے اور غیر محضن ہوتو اسے ایک سو کوڑے لگائےجائیں۔‘‘

اللُّوطِيُّ بِمَنْزِلَةِ الزَّانِي. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 613

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [103] بَابُ حد اللوطي · حديث 614

614 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد قال: من قذف باللوطية جلد الحد. قال محمد: وهو قولنا, إذا بين فلم يكن, فأما إذا قال: يا لوطي فهذه لها مصادر غير القذف, فلا نحده حتى يبين.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘اور وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جو شخص کسی کولوطی کہے اس پر حد قذف نافذ کی جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارا قول بھی یہی ہے جب وہ واضح الفاظ میں کہے کنایہ کا طریقہ اختیار نہ کرے اور اگر اسے کہا اے لوطی تو یہ اس (لواطت ) کے لئے مصدر ہے ۔ قذف نہیں تو جب تک واضح الفاظ میں نہ کہے ہم اس کو حد نہیں لگاتے ۔“

يا لوطي فهذه لها مصادر غير القذف, فلا نحده حتى يبين. ← محمد: وهو قولنا, إذا بين فلم يكن, فأما إذا ← من قذف باللوطية جلد الحد. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 614

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [104] بَابُ حد الأمة إذا زنت · حديث 615

615 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن معقل بن مقرن المزني أتى عبد الله بن مسعود رضي الله عنه بأمة له زنت, قال: اجلدها خمسين جلدة, فقال: إنها لم تحصن؟ قال عبد الله: إسلامها إحصانها, قال: فإن عبدا لي سرق من عبد لي آخر, قال: ليس عليه قطع, مالك بعضه في بعض. قال: إني حلفت أن لا أنام على فراش أبدا, يريد العبادة, قال ابن مسعود رضي الله عنه {يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم ولا تعتدوا إن #534# الله لا يحب المعتدين}. فقال الرجل: لولا هذه الآية لم أسألك, فأمره أن يكفر بعتق رقبة, وكان موسرا, وأن ينام على فراش. قال محمد: وهذا كله قول أبي حنيفة, وقولنا, إلا في خصلة واحدة: الحد لا يقيمه إلا السلطان, فإذا زنت الأمة, أو العبد كان السلطان هو الذي يحده دون المولى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معقل بن مقرن مزنی رحمتہ اللہ علیہ لے کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اس لونڈی نے زنا کا ارتکاب کیا تھا تو انہوں نے فرمایا اسے پچاس کوڑے مارو‘انہوں نے کہا یہ محضن ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کا اسلام ہی اس کا احسان ہے۔‘‘انہوں نے کہا میرے ایک غلام نے میرے دوسرے غلام کی چوری کی ہے تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کا ہاتھ کا ٹنالازمی نہیں تمہارا بعض مال بعض کے پاس ہے انہوں نے کہا میں نے قسم کھائی ہے کہ میں کبھی بھی بستر پر نہیں سوؤں گا ان کا مقصد عبادت کرنا تھا تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت کریمہ پڑھی۔يا أيها لذين امنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم ولا تعتدوا إن الله لايحب المعتدين ( ۷پ المائده ۸۷) اے ایمان والوحرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اللہ کو نا پسند ہیں۔(ترجمہ کنز الایمان )اس شخص نے کہا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو میں آپ سے سوال نہ کر تا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک غلام آزادکرے اور وہ کشادہ حال شخص تھا اور بستر پرسوئے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ سب باتیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا اور ہمارا قول ہے البتہ ایک بات ہے کہ حد صرف بادشاہ قائم کرے گا پر جب کوئی غلام یا لونڈی زنا کا ارتکاب کرے تو بادشاہ (حکمران) ہی اسے حد لگائے گا مولیٰ کو یہ حق نہیں ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 615

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [105] بَابُ من أتى فرجا بشبهة · حديث 616

616 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن علقمة, أنه سئل عن جارية امرأته, فقال: ما أبالي إياها أتيت, أو جارية عوسجة. قال: وعوسجة منكب حيه. قال محمد: وهذا قول أبي حنيفة وقولنا, جارية امرأته وغيرها سواء إلا أنه إذا أتاها على وجه الشبهة درأنا عنه الحد, وكذلك بلغنا عن علي بن أبي طالب, وابن مسعود رضي الله عنهما.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ان سے بیوی کی لونڈی کے پاس جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ میں اس کے پاس جاؤں عوسجہ کی پاس جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ میں اس کے پاس جاؤں عوسجہ کی لونڈی کے پاس جاؤں اور منکب قبیلے کے مددگار یا قابل اعتماد کو کہتے ہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا اور ہمارا قول یہی ہے آدمی کی بیوی کی لونڈی اور دوسری لونڈی کا حکم ایک جیسا ہے البتہ جب اس کے پاس شبہ کے طور پر جائے تو ہم اس سے حد کو ساقط کر دیتے ہیں حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے یہ بات ہمیں اسی طرح پہنچی ہے۔‘‘

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 616

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [105] بَابُ من أتى فرجا بشبهة · حديث 617

617 - محمد قال: أخبرنا سفيان الثوري, عن المغيرة الضبي, عن الهيثم بن بدر, عن حرقوص, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه, أن امرأة أتت عليا رضي الله عنه فقالت: إن زوجي وقع على أمتي, فقال: صدقت, هي ومالها #536# لي. قال: اذهب فلا تعد. قال محمد: يدرأ عنه الحد, لأنها شبهة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت مغیرہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی وہ ھیثم بن بدر رضی اللہ عنہ سے وہ حضرت حرقوص رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت حضرت علی المرتضی ٰرضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ میرے خاوند نے میری لونڈی کا قرب اختیار کیا اس نے کہا (میری بیوی نے )سچ کہا یہ اور اس کا مال میرا ہے تو حضرت علی المرتضی ٰرضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ آئندہ ایسانہ کرنا۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے حدود ساقط ہو جائے گی کیونکہ شبہ میں وطی ہوئی ہے۔‘‘۔

محمد: يدرأ عنه الحد, لأنها شبهة. ← اذهب فلا تعد. ← صدقت, هي ومالها لي. ← إن زوجي وقع على أمتي, ← علي بن أبي طالب أن امرأة أتت عليا ← حُرْقُوصٍ، ← الْهَيْثَمِ بْنِ بَدْرٍ ← الْمُغِيرَةِ الضَّبِّيِّ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 617

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [106] بَابُ درء الحدود · حديث 618

618 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه قال: ادرؤوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم, فإن الإمام أن يخطئ في العفو خير من أن يخطئ في العقوبة, فإذا وجدتم للمسلم مخرجا فادرؤوا عنه. #537# قال محمد: وهذا قول أبي حنيفة وقولنا.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عمر بن خطاب رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس قدر ممکن ہو مسلمانوں سے حدود کو دور کر دو‘ امام کا معاف کر نے میں غلطی کرنا سزادینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے جب تم کسی مسلمان کے لئے نکلنے کا راستہ پاؤ تو اس سے (حدکو) ساقط کر دو۔“ حضرت امام محمدرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا اور ہمارا یہی قول ہے۔“

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 618

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [106] بَابُ درء الحدود · حديث 619

619 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا قال الرجل لامرأته أنه قد تزوجها: لم أجدها عذراء, فلا حد عليه. #538# قال محمد: وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. وهو قولنا.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے جس سے نکاح کیا تھا کہ میں نے اس کو کنواری نہیں پایا تو اس شخص پر حد نہیں ہوگی۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور ہمارا بھی یہی قول ہے۔“

محمد: وهذا قول أبي حنيفة تعالى. وهو قولنا. ← الرجل لامرأته أنه قد تزوجها: لم أجدها عذراء, فلا حد عليه. ← «إِذَا ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 619

chevron_left Previous
1…242526…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter