Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 572

572 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا شهدوا أنه ضربه وهو صحيح فلم يزل صاحب فراش حتى مات جازت شهادتهم, ولم يكلفوا غير ذلك. وقال إبراهيم في رجل يضرب فيموت, فيشهد الشهود أنه لم يزل صاحب فراش حتى مات قال: أقيده منه, وآخذ له من العاقلة الدية إن كان خطاء. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب گواہ گواہی دیں کہ اسے فلاں نے مارا ہے اور وہ (مضروب ) مسلسل بستر پر رہے حتی ٰکہ مرجائے تو ان کی شہادت جائز ہوگی اور ان کومزید کسی بات کا مکلف نہیں بنایا جائے گا۔‘‘ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس کو مارا جائے پس وہ مر جائے اور گواہ گواہی دیں کہ وہ مرتے دم تک بستر پر رہا ہے تو وہ فرماتے ہیں میں اس کی طرف سے فدیہ دیتا ہوں (فدیہ کاحکم مراد ہے ) اور اگر خطاء کے طور پر ہوتو اس کے لئے عاقلہ پر دیت کا حکم دیتا ہوں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إذا شهدوا ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 572

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 573

573 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: تعقل العاقلة الخطأ كله إلا ما كان دون الموضحة والسن مما ليس فيه أرش معلوم. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں عاقلہ قتل خطاء کی تمام صورتوں میں دیت دے البتہ موضحہ زخم کی صورت مستثنیٰ ہے اور دانت کے بارے میں چٹی معلوم نہیں ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 573

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 574

574 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, حدثنا حماد, عن إبراهيم, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: العجماء جبار, والقليب جبار, والرجل جبار, والمعدن جبار, وفي الركاز الخمس. #503# قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, والجبار الهدر, إذا سار الرجل على الدابة فنفحت برجلها وهي تسير فقتلت رجلا, أو جرحته فذلك هدر, ولا يجب على عاقلة ولا غيرها, والعجماء: الدابة المنفلتة ليس لها سائق, ولا راكب توطأ رجلا فتقتله, فذلك هدر, والمعدن والقليب: الرجل يستأجر الرجل يحفر له بئرا, أو معدنا فيسقط عنه, فيموت فذلك هدر, ولا شيء على المستأجر, ولا على عاقلته.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جانور کے ہلاک کرنے سے خون معاف ہے کنویں میں گر کر مرنے سے خون معاف ہے جانور تیز دوڑ رہا ہو اور کسی شخص کو ہلاک کر دے تو اس کا خون معاف ہے کان میں گر کر مر جائے تو خون معاف ہے اور خزانے میں پانچواں حصہ ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ (تفصیل اس طرح ہے )الجبار کا معنی ہے الھدی ٰہے یعنی اس کی کوئی چٹی نہیں جب کوئی شخص سوار جارہا ہو وہ اسے پاؤں سے ایڑ لگائے اور جانور کسی شخص کو ہلاک کر دے یا زخمی کر دے تو یہ خون معاف ہے عاقلہ یاکسی دوسرے پر دیت واجب نہیں ہوگی العجما وہ جانور جو بھاگ گیا اب نہ تو اسے کوئی لے جانے والا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی سوار ہے اگر وہ کسی کو پاؤں کے نیچے روند ڈالے تو اس کا خون معاف ہے معد ن سے مراد کنواں وغیرہ ہے کوئی شخص کسی دوسرے کو کنواں یا کان کھود نے کے لئے اجرت پر حاصل کرتا ہے پس وہ اس میں گر کر مر جائے تویہ خون معاف ہے اور آجر یا اس کی عاقلہ پر کوئی چٹی نہیں ہوگی ۔“

العجماء جبار, والقليب جبار, والرجل جبار, والمعدن جبار, وفي الركاز الخمس. ← النَّبِيِّ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 574

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [87] بَابُ قوم حفروا حائطا فوقع عليهم · حديث 575

575 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم أنه قال في القوم يحفرون جدارا, فوقع الجدار عليهم قال: عليهم الدية بعضهم لبعض. قال محمد: وبه نأخذ, إلا أنه يرفع من دية كل واحد منهم حصته, فإن كانوا أربعة بطل ربع الدية من كل واحد, وإن كانوا ثلاثة بطل ثلث الدية من كل واحد, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں جو دیوار کھودتے ہیں تو وہ ان پر گر جاتی ہے وہ فرماتے ہیں ان پر دیت ہے جو بعض نے بعض کو ادا کرتا ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں مگر یہ کہ ہر ایک کی دیت ہے اس کا حصہ نکال لیا جائے اگر وہ چار ہوں تو ہر ایک کی دیت سے چوتھا حصہ باطل ہو جائے گا اگر تین ہوں تو تیسرا حصہ باطل ہوگا۔اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

عليهم الدية بعضهم لبعض. ← في القوم يحفرون جدارا, فوقع الجدار عليهم ← إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 575

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [88] بَابُ دية المرأة وجراحاتها · حديث 576

576 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: قول علي بن أبي طالب رضي الله عنه أحب إلي من قول عبد الله بن مسعود, وزيد بن ثابت, وشريح في جراحات النساء والرجال. قال محمد: وبقول علي رضي الله عنه, وإبراهيم نأخذ, كان علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول: جراحات النساء على النصف من جراحات الرجال في كل شيء. وكان عبد الله بن مسعود, #505# و شريح يقولان: تستوي في السن والموضحة ثم على النصف فيما سوى ذلك. وكان زيد بن ثابت رضي الله عنه يقول: يستويان إلى ثلث الدية, ثم على النصف فيما سوى ذلك. #506# فقول علي بن أبي طالب رضي الله عنه: على النصف في كل شيء أحب إلينا, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں مجھے عورتوں اور مردوں کے زخموں کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت زید بن ثابت اور حضرت شریح رضی اللہ عنھم کے قول کے مقابلے میں حضرت علی المرتضی ٰرضی اللہ عنہ کا قول ہے زیادہ پسند ہے ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم بھی حضرت علی المرتضی ٰرضی اللہ عنہ اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کے قول کو اختیار کرتے ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ فر ماتے ہیں عورتوں کے زخم ہر معاملے میں مردوں کے زخموں کا نصف ہیں جب کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت شریح رضی اللہ عنہما دونوں فرماتے تھے دانتوں اور واضح کرنے والے زخم برابر ہیں پھر اس کے علاوہ میں نصف ہے اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فر ماتے تھے۔ تہائی دیت تک برابر ہیں پھر اس کے علاوہ عورت کی دیت نصف ہے تو حضرت علی المرتضی ٰرضی اللہ عنہ کا قول کہ ہرچیز کا نصف ہے ہمیں زیادہ پسند ہے اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 576

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [88] بَابُ دية المرأة وجراحاتها · حديث 577

577 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: في حلمة ثدي المرأة نصف الدية, وفي الحلمتين الدية. قال محمد: وبه نأخذ, وفي حلمتي الرجل حكومة عدل, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں عورت کے پستان کے کنارے میں نصف دیت ہے اور دو میں پوری دیت ہے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور مرد کے پستان کے سرے میں عدل کے مطابق فیصلہ ہوگا ۔‘‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی ان سب باتوں کے قائل ہیں ۔“

في حلمة ثدي المرأة نصف الدية, وفي الحلمتين الدية. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 577

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [89] بَابُ جراحات العبيد · حديث 578

578 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: في سن العبد نصف عشر ثمنه, وقال: جراحات العبد, قال محمد: أظنه قال: على #507# جراحات الحر من قيمته. قال محمد: فبهذا كله كان يأخذ أبو حنيفة رحمه الله تعالى, وأما في قولنا فذلك كله على ما نقص العبد من قيمته.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں غلام کا دانت توڑنے میں اس کی قیمت کا بیسواں حصہ ہے اور فرماتے ہیں غلام کے زخم تو حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے فرمایا غلام کی قیمت سے آزاد کے زخموں کے مطابق ہیں ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی بات کو اختیار کرتے تھے اور ہمارے قول کے مطابق یہ سب کچھ اس وقت ہے جب غلام کی قیمت کم ہو جائے ۔‘‘

على جراحات الحر من قيمته. ← مُحَمَّدٌ: أَظُنُّهُ ← جراحات العبد, ← في سن العبد نصف عشر ثمنه, ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 578

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [89] بَابُ جراحات العبيد · حديث 579

579 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في العبد يقتل عمدا قال: فيه القود, فإن قتل خطأ فقيمته ما بلغ, غير أنه لا يجعل مثل دية الحر, وينقص منه عشرة دراهم, وإن أصيب من العبد شيء يبلغ ثمنه دفع العبد إلى صاحبه, وغرم ثمنه كاملا. #508# قال محمد: وبهذا كله كان أبو حنيفة رحمه الله تعالى, و به نأخذ إلا في خصلة واحدة, إذا أصيب من العبد ما يبلغ ثمنه مثل العينين, واليدين, والرجلين فسيده بالخيار إن شاء أسلمه برمته, وأخذ قيمته, وإن شاء أمسكه, وأخذ ما نقصه.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ غلام کو جان بوجھ کرقتل کیا جائے تو اس میں قصاص ہے اور اگر غلطی سے قتل کیا جائے تو اس کی قیمت ہوگی جب مقدار کو پہنچ جائے البتہ وہ آزاد کی دیت کو نہ پہنچے اور اس سے دس در ہم کم کی جائے اور اگر غلام کی طرف سے کسی کو کچھ (نقصان)پہنچے جواس کی قیمت کو پہنچتا ہوتو وہ غلام اس شخص کے حوالے کر دیا جائے اور اس پر اس کی پوری قیمت کی چٹی ہوگی۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ان تمام باتوں کو اختیار کر تے تھے اور ہم بھی ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں البتہ ایک بات میں اختلاف ہے کہ جب غلام کی طرف سے اس قدر نقصان پہنچے جواس کی قیمت کی مقدارکو پہنچے مثلا ًآنکھوں ہاتھوں اور پاؤں کے حوالے سے نقصان پہنچائے تو اس کے مالک کو اختیار ہے چاہے تو پورا غلام اس شخص کے حوالے کر دے اور ( غلام سے ) قیمت وصول کرے اور چاہے تواسے روک لے اور جو نقصان ہوا وہ وصول کرے ۔ ’’(امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک نقصان وصول نہیں کر سکتا)

إبراهيم في العبد يقتل عمدا ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 579

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [89] بَابُ جراحات العبيد · حديث 580

580 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا قتل العبد رجلا حرا عمدا, دفع العبد إلى أولياء المقتول فإن شاؤوا عفوا, وإن شاؤوا قتلوا, فإن عفوا رد العبد إلى مولاه, لأنه إنما كان لهم القصاص, ولم تكن لهم الدية. قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی غلام کسی آ زادآ دمی کو جان بو جھ کرقتل کرے تو یہ غلام مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے وہ چاہیں تو معاف کر دیں اور چاہیں تو قتل کر دیں اور اگر معاف کر دیں تو غلام اس کے مالکوں کی طرف لوٹا یا جائے کیونکہ ان کو قصاص کے لئے دیا گیا تھا اور دیت واجب نہیں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 580

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [90] بَابُ جناية المكاتب والمدبر وأم الولد · حديث 581

581 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن جناية المكاتب, والمدبر, وأم الولد على المولى. قال محمد: وبه نأخذ, إلا أنا نرى جناية المكاتب عليه في قيمته يكون عليه أقل من أرش الجناية, ومن قيمته, وأما المدبر وأم الولد فعلى المولى الأقل من أرش جنايتهما, ومن قيمتهما. وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ مکاتب مد بر اورام ولد کی جنایت ( کی چٹی )مولی ٰپر ہوگی ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں البتہ ہمارے خیال میں مکاتب کی جنابت اس کی قیمت میں ہوگی جنابت کی چٹی اور قیمت میں سے جو کم وہ دینار ہوگی لیکن مدبر اور ام ولد کی چٹی مولیٰ پر ہے اس جنایت کی چٹی اور قیمت میں سے جو کم ہو وہ ادا کرے۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

محمد: وبه نأخذ, إلا ← إبراهيم, أن جناية المكاتب, والمدبر, وأم الولد على المولى. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 581

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [90] بَابُ جناية المكاتب والمدبر وأم الولد · حديث 582

582 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في أم الولد, والمعتقة عن دبر تجنيان قال: يضمن سيدهما جنايتهما؛ لأن العتاقة قد جرت فيهما, فلا يستطيع أن يدفعهما, ولا تعقلهما العاقلة لأنهما مملوكان. قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے ام ولد اور اس لونڈی کے بارے میں جومولی ٰکے مرنے کے بعد آزاد ہو جائے ( یعنی مدبرہ) فرمایا کہ جب یہ جنایت کریں تو ان کی جنایت کا ضامن ان کا مولی ٰہوگا کیونکہ آزادی ان دونوں میں جاری ہوگئی پس ان کو (ذاتی طور پر دینا) ممکن نہیں اور ان کا قبیلے سے بھی تعلق نہیں ہوگا کیونکہ مملوک ہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

دبر تجنيان ← إبراهيم في أم الولد, والمعتقة ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 582

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [90] بَابُ جناية المكاتب والمدبر وأم الولد · حديث 583

583 - محمد, عن أبي حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن شريح قال: المكاتب في الحدود, والشهادة عبد ما بقي عليه درهم. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں مکاتب حد و داور شہادت میں غلام ہےجب تک اس پر ایک درہم بھی باقی ہو۔حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← المكاتب في الحدود, والشهادة عبد ما بقي عليه درهم. ← شُرَيْحٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أَبِي حَنِيفَةَ ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 583

chevron_left Previous
1…212223…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter