Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [84] بَابُ دية الأسنان والأشفار والأصابع · حديث 560

560 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن شريح قال: في الجائفة ثلث الدية, وفي الآمة ثلث الدية, فإذا ذهب العقل فالدية كاملة, وفي المنقلة عشر ونصف عشر الدية, وفي الموضحة نصف عشر الدية, وفي سائر ذلك من الجراحات حكم عدل, ولا تكون الموضحة إلا في الوجه والرأس, ولا تكون الجائفة إلا في الجوف. #493# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. والآمة من الشجاج: كل شجة بلغت الدماغ. والمنقلة: ما نقل منها العظام. والموضحة: ما أوضحت عن العظم. والهاشمة: ما هشمت العظم, وحكومتها عشر الدية, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. والسمحاق دون الموضحة بينها وبين الموضحة جلدة رقيقة, وفيها حكم عدل. بلغنا أن علي بن أبي طالب رضي الله عنه حكم فيها أربعا من الإبل. والباضعة دون السمحاق وهي الني تبضع اللحم, وفيها حكم عدل. والدامية دون الباضعة, وهي التي تشق الجلد وفيها حكم عدل دون الباضعة, والمتلاحمة وهي الشجة يسود موضعها, أو يحمر ولا تدمى ولا تبضع ففيها حكم عدل ونرى كل شيء كان من ذلك دون الموضحة لا تعقله العاقلة, وهو في مال الرجل وإن كان خطأ.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ اور وہ حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں وہ زخم جو پیٹ وغیرہ کے اندر تک پہنچے اس میں دیت کا تہائی ہے جو زخم سر کے اندر دماغ تک پہنچے اس میں دیت کا تہائی ہے اور اگر عقل چلی جائے تو کامل دیت ہے جو زخم ہڈی کو پھیر دے دسواں حصہ اور بیسواں حصہ دیت ہے ( پندرہ اونٹ ) جو زخم ہڈی کو ظاہر کر دے اس میں بیسواں حصہ دیت ہے اور ان کے علاوہ تمام زخموں میں عدل پرمبنی فیصلہ ہوگا اور موضحہ ( ظاہر کر نے والا ) زخم صرف چہرے سر میں ہوتا ہے اور جائفہ اندر تک پہنچنے والاصرف پیٹ میں ہوتا ہے۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان سب باتوں کو اختیا کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ الأمة وہ زخم ہے جو دماغ تک پہنچے اور منقلہ وہ زخم جو ہڈی کو اپنی جگہ سے ہٹادے لو ضحہ وہ زخم ہے جو ہڈی کو ظاہر کر دے الہاشمہ وہ زخم جو ہڈی کوتوڑ دے اور ان کا فیصلہ دیت کا دسواں حصہ ہے۔حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“السمحاق (جوبار یک چمڑے تک پہنچائے) موضحہ سے کم ہوتا ہے اس کے اور موضحہ کے درمیان باریک چمڑا ہوتا ہے اور اس میں عدل کے ساتھ فیصلہ ہے۔“ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اس میں چا راونٹوں کا فیصلہ فرمایا اوراليا ضعه سمحاق سے کم درجے میں ہے اور یہ گوشت کو کاٹ دیتا ہے اس میں عدل پرمبنی فیصلہ ہوگا اور دامیہ باضعہ سے کم درجے میں ہے اور یہ چمڑے کو کاٹ دیتا ہے اس میں بھی حکومت عدل ہے اور متلاحمہ یعنی وہ زخم جو اس جگہ کوسیاہ یا سرخ کر دے لیکن نہ تو خون نکلے اور نہ گوشت کٹے تو اس میں حکومت عدل ہے ۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں سے جوموضحہ زخم سے کم درجے میں ہو اس میں عاقلہ (میت کی برادری ) د یت نہیں دے گی یہ اس شخص (زخم لگانے والے ) کے مال سے دی جائے گی اگر چہ خطا سے ہو۔‘‘

شُرَيْحٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 560

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [84] بَابُ دية الأسنان والأشفار والأصابع · حديث 561

561 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: في أشفار العينين الدية كاملة إذا لم تنبت, وفي كل واحدة منهن ربع الدية, وفي الجفون الدية, وفي كل جفن منها ربع الدية, وفي الشفتين الدية, وفي كل واحدة منهما نصف الدية. #494# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں آنکھوں کی پلکیں اگنے کی جگہ میں کامل دیت ہے جب کہ پلکوں میں سے ہر ایک میں دیت کا چوتھا حصہ ہے اور آنکھوں کے پپوٹوں میں کامل دیت ہے اور ہر پپوٹے میں دیت کا چوتھا حصہ ہے دونوں ہونٹوں میں پوری دیت اور ان میں سے ایک میں نصف دیت ہے۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان سب باتوں کو اختیار کر تے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 561

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [85] بَابُ ما لا يستطاع فيه القصاص · حديث 562

562 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الأعمى يفقأ عين الصحيح قال: عليه الدية في ماله. قال محمد: وبه نأخذ, لأنه لا يستطاع القصاص في ذلك, وإنما يعني العمد, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ اگر نا بینا آدمی کسی تندرست شخص کی آنکھ نکال لے تو اس کے مال میں سے دیت دی جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی بات کو اختیار کرتے ہیں کیونکہ قصاص ممکن نہیں اور اس سےمراد قصدا آنکھ نکالنا ہے ‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عليه الدية في ماله. ← إبراهيم في الأعمى يفقأ عين الصحيح ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 562

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [85] بَابُ ما لا يستطاع فيه القصاص · حديث 563

563 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: من ضرب بحديدة أو بعصا فيما لا يستطاع فيه القصاص فعليه الدية في ماله مغلظة. #495# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وذلك فيما دون النفس.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جو شخص لو ہے ( کے ہتھیار ) یا لاٹھی سے مارے اور قصاص ممکن نہ ہوتو اس پر اس کے مال سے دیت مغلظہ دی جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 563

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [85] بَابُ ما لا يستطاع فيه القصاص · حديث 564

564 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ما كان من شبه العمد فيما دون النفس ففي ماله, وهو كل شيء ضربته متعمدا لا يستطاع فيه القصاص. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں اگر شبہ عمد ہواورنفس سے کم جنایت ہو ( قتل نہ ہو) تو وہ اس آدمی کے مال سے ہوگی اور یہ وہ صورتیں ہیں جہاں ارادہ پایا گیالیکن قصاص ممکن نہیں ۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 564

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [85] بَابُ ما لا يستطاع فيه القصاص · حديث 565

565 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: القتل على ثلاثة أوجه: قتل خطأ, وقتل عمد, وقتل شبه العمد. فالخطأ: أن تريد الشيء فتصيب صاحبك بسلاح أو غيره, ففيه الدية أخماسا. والعمد: إذا تعمدت صاحبك فضربته بسلاح, ففي هذا قصاص إلا أن تصطلحوا أو يعفو. وشبه العمد: كل شيء تعمدت ضربه بغير سلاح, ففيه الدية مغلظة على العاقلة إذا أتى ذلك على النفس. وشبه العمد في الجراحات: كل شيء تعمدت ضربه بسلاح أو غيره, فلم #496# يستطع فيه القصاص, ففيه الدية مغلظة. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, إلا في خصلة واحدة, ما ضربته به من غير سلاح وهو يقع موقع السلاح أو أشد, ففيه أيضا القصاص, وهو قول أبي حنيفة الأول ولا قصاص في قوله الأخير إلا فيما كان بسلاح.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں قتل کی تین قسمیں ہیں (1) قتل خطاء(2) قتل عمد (3) قتل شبہ عمد ۔قتل خطاء یہ ہے کہ تم کسی چیز کونشانہ بنانے کا ارادہ کرو لیکن اسلحہ وغیرہ سے کسی شخص کو مار دو پس اس میں دیت پانچ قسم کے اونٹوں میں تقسیم کے ساتھ ہوگی ۔‘‘قتل عمد یہ ہے کہ تم جان بوجھ کر کسی شخص کو ہتھیار سے مار دواس میں قصاص ہے البتہ یہ کہ صلح کر لیں یا معاف کر دیں اور شبہ عمد یہ ہے کہ تم کسی شخص کو ارادتا ً ہتھیار کے بغیر مار و پس اس میں قاتل کے قبیلے پر دیت مغلظہ ہوگی جب کسی کی جان کو ہلاک کر دے اور زخموں میں شبہ عمد یہ ہے کہ جب کسی کو ہتھیار کے ساتھ جان بوجھ کر مارواس میں قصاص ممکن نہ ہوتو اس میں دیت مغلظہ ہے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کر تے ہیں البتہ ایک بات میں اختلاف ہے کہ جب ہتھیار کے بغیر مارو اور وہ ہتھیار کی جگہ یا اس سے بھی زیادہ تخت واقع ہوتو اس میں بھی قصاص ہے یہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے لیکن آپ کے آخری قول کے مطابق قصاص اسی صورت میں ہے جب ہتھیار کے ساتھ ہو۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 565

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [85] بَابُ ما لا يستطاع فيه القصاص · حديث 566

566 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم بن أبي الهيثم, عن رجل, عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه في رجل رمى رجل بسهم فأنفذه, فجعل فيه ثلثي الدية. #497# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, في الجائفة ثلث الدية, فإن نفذت إلى الجانب الآخر ففيها ثلث الدية, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ الھیثم بن ابی الھیثم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ ایک شخص کے واسطے سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو کسی شخص پر تیر چلائے اور وہ اس کے جسم میں داخل ہو کر پار ہو جائے تو اس میں دو تہائی دیت ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان سب باتوں کو اختیار کرتے ہیں جائفہ زخم میں ایک تہائی دیت ہے اگر دوسری جانب نکل جائے تو دوتہائی ہے‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

رَجُلٌ: ← الهيثم بن أبي الهيثم ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 566

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [85] بَابُ ما لا يستطاع فيه القصاص · حديث 567

567 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: كل شيء كان دون النفس يتعمد الإنسان ضربه بحديدة, أو بعصا, أو بيد, أو بقصبة, أو بغير ذلك فهو عمد, وفيه القصاص, وإن كان لا يستطاع فيه القصاص, فهو على الذي جنى في ماله, فإن ذهبت منه النفس فكان بحديدة, أو بسلاح ففيه القصاص, وإن كان بغير ذلك ففيه الدية على العاقلة. قال محمد: وبهذا كله كان يأخذ أبو حنيفة, وبه نأخذ نحن أيضا, إلا في خصلة واحدة, إذا ضربه بغير سلاح يقع موقع السلاح ففيه القود, وهو قول أبي يوسف, وهو قولنا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں قتل نفس سے کم میں ہتھیار کے ساتھ مارنے کا ارادہ لازم ہولیکن قصاص ممکن نہ ہوتو اس شخص کے مال سے چٹی دی جائے اور اگر وہ آدمی (جس کو مارا گیا) ہلاک ہو جائے تو اگر وہ لو ہے یا ہتھیار کے ساتھ ہے تو اس میں قصاص ہوگا اور اگر اس کے علاوہ ہے تو اس کےعاقلہ پر (دیت لازم ) ہوگی ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں البتہ ایک بات میں اختلاف ہے کہ جب اس کو ہتھیار کے بغیر مارے لیکن وہ ہتھیار والا عمل کرے تو اس میں قصاص ہے اورحضرت امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور ہم بھی اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 567

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 568

568 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في دية الخطاء, وشبه العمد في النفس على العاقلة: على أهل الورق في ثلاثة أعوام, لكل عام الثلث, وما كان من جراحات الخطاء فعلى العاقلة على أهل الديوان, إن بلغت الجراحة ثلثي الدية ففي عامين, وإن كان النصف ففي عامين, وإن كان الثلث ففي عام, وذلك كله على أهل الديوان. #498# قال محمد: وبه نأخذ, وذلك في أعطية المقاتلة دون أعطية الذرية والنساء, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ قتل خطا ء اور شبہ عمد میں جب جان چلی جائے تو عاقلہ پر دیت ہوگی جن کے پاس چاندی ہے وہ تین سال میں ادا کریں ہر سال تہائی حصہ دیں اور اگر خطاء کی صورت میں زخم ہوتو بھی عاقلہ پر ہے یعنی اہل دیوان پر ہے ۔‘‘ اگر زخم دوتہائی دیت کو پہنچ جائے تو دوسالوں میں دیں اور اگر نصف تک ہوتو بھی دوسالوں میں اوراگر تہائی تک ہوتو ایک سال میں ادا کر یں اور یہ سب اہل دیوان پر ہے ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور یہ لڑ نے والوں کے حصوں سے ہو ۔ بچوں اور عورتوں کے عطیات سے نہیں ‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 568

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 569

569 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا تعقل العاقلة في أدنى من الموضحة. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ للہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں موضح زخم سے کم میں عاقلہ دیت ادانہیں کریں گے۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا تعقل العاقلة في أدنى من الموضحة. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 569

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 570

570 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا تعقل #499# العاقلة عمدا, ولا صلحا, ولا اعترافا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب قصد اًقتل کی صورت میں دیت لازم ہو ۔یا صلح یا قاتل کے اعتراف کی وجہ سے دیت لازم ہوتو وہ عاقلہ ادانہیں کرے گی ۔

لا تعقل العاقلة عمدا, ولا صلحا, ولا اعترافا. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 570

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 571

571 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ما كان من صلح, أو اعتراف, أو عمد فهو في مال الرجل. #500# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جودیت صلح یا اعتراف یا قصدا ً آ لہ قتل کی وجہ سے لازم ہو وہ اس شخص کے مال سے دی جائے گی۔‘‘ (عاقلہ کے ذمہ ہوگی)حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← ما كان من صلح, أو اعتراف, أو عمد فهو في مال الرجل. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 571

chevron_left Previous
1…202122…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter