Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [80] بَابُ الظهار · حديث 548

548 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, في الرجل يظاهر من امرأته ثم يجامعها بالليل وهو يصوم قال: يستقبل الصوم. قال محمد: وبه نأخذ, لأن الله تعالى يقول: {فصيام شهرين متتابعين من قبل أن يتماسا} , فإذا مسها وهو يصوم فسد صومه, واستقبل شهرين متتابعين, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ جوشخص اپنی بیوی سے ظہار کرے پھر رات کے وقت اس سے جماع کرے اور وہ کفارہ کے روزے رکھ رہا ہو تو نئے سرے سے روزے شروع کرے ۔ ‘‘(کیونکہ مسلسل روزے رکھنا ضروری ہے)حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں کیونکہ اللہ عز وجل نے فرمایا! فصيام شهرين متتابعين من قبل أن يتماسا۔ ( پ ۲۸المجادله۴)لگا تار دو مہینے کے روزے قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ۔ ( ترجمہ کنز الایمان ) تو جب روزے کی صورت میں اس سے جماع کر لیا تو روزہ ٹوٹ گیا ( یعنی روزں کا سلسلہ ٹوٹ گیا ) پس دوبارہ دو مہینے کے مسلسل روزے رکھے ۔‘‘

محمد: وبه نأخذ, لأن الله تعالى ← يَسْتَقْبِلُ الصَّوْمَ. ← إبراهيم, في الرجل يظاهر من امرأته ثم يجامعها بالليل وهو يصوم ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 548

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [80] بَابُ الظهار · حديث 549

549 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في رجل قال لامرأته: إن قربتك فأنت علي كظهر أمي. قال: إن تركها أربعة أشهر بانت بالإيلاء, وإن وقع عليها في الأربعة الأشهر وقعت عليه كفارة الظهار. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جواپنی بیوی سے کہتا ہے اگر میں تیرے قریب جاؤں تو تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے اگر اسے چار ماہ تک چھوڑے رکھے ایلاء کے ذریعے بائن ہو جائے گی اور اگر چار مہینوں کے اندراندر جماع کر لے تو اس پر ظہار کا کفارہ ہوگا۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

لاِمْرَأَتِهِ ← إبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 549

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [81] بَابُ ظهار الأمة · حديث 550

550 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن الظهار يقع على الأمة إذا ظاهر منها زوجها. #483# قال محمد: يقع عليها الظهار إذا ظاهر منها زوجها, ولا يقع عليها الظهار إذا ظاهر منها مولاها؛ لأن الله تعالى يقول: {الذين يظاهرون منكم من نسائهم} , فليست الأمة بزوجة يقع عليها الظهار, وهو قول أبي حنيفة, وسعيد بن المسيب, ومجاهد, وعامر الشعبي رحمهم الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب لونڈی کا خاوند اس سے ظہار کرے تو یہ ظہار واقع ہو جا تا ہے۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر خاوند ظہار کرے تو واقع ہو جا تا ہے لیکن اس کا مالک ظہار کرےتو واقع نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالی ٰفرماتا ہے!والذين يظاهرون من نساء هم (پ ۲۸ المجادلہ۲) اور تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں؟اورلونڈی اپنے آقا کی بیوی نہیں کہ اس پر ظہار واقع ہو۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا حضرت سعید بن مسیب ‘حضرت مجاہد ‘حضرت عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 550

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [82] بَابُ الديات وما يجب على أهل الورق والمواشي · حديث 551

551 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم, عن عامر الشعبي, عن عبيدة السلماني, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: على أهل الورق من الدية عشرة آلاف درهم, وعلى أهل الذهب ألف دينار, وعلى أهل البقر مئتا بقرة, وعلى أهل الإبل مئة من الإبل, وعلى أهل الغنم ألفا شاة, وعلى أهل الحلل مئتا حلة. #484# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وكان أبو حنيفة يأخذ من ذلك الإبل, والدراهم, والدنانير.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں !ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت الھیثم سے وہ حضرت عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جن لوگوں کے پاس چاندی ہے ان پر دس ہزار درہم اور جن کے پاس سونا ہے ان کے ذمہ ایک ہزار دینار ہیں گاے والوں پر دوسوگا ے اور اونٹ رکھنے والوں پر ایک سو اونٹ ہیں نیز جو بکریوں کے مالک ہیں ان پر دو ہزار بکریاں ہیں اور قیمتی جوڑوں کے مالک حضرات کے ذمہ دوسو جوڑے ہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک دیت صرف اونٹوں درہموں اور دیناروں کی صورت میں لی جائے گی ‘باقی چیزوں میں نہیں ہوگی ۔‘‘

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 551

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [83] بَابُ دية ما كان في الإنسان منه واحدة · حديث 552

552 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: في اللسان إذا قطع منه شيء فامتنع من الكلام, أو قطع من أصله ففيه الدية. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کسی کی زبان کاٹی جائے اور وہ گفتگو نہ کر سکے یا زبان جڑ سے کاٹی جائے تو اس میں مکمل دیت ہے۔‘‘ (انسانی جسم میں زبان صرف ایک ہوتی ہے)حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 552

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [83] بَابُ دية ما كان في الإنسان منه واحدة · حديث 553

553 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: كل شيء من الإنسان إذا لم يكن فيه إلا شيء واحد, فأصيب خطأ ففيه الدية كاملة: الأنف, والذكر, واللسان, والصلب, وذهاب العقل, وأشباهه, وما كان #486# في الإنسان اثنين ففي كل واحد منهما نصف الدية: الثديين, واليدين, والرجلين, والعينين, وأشباه ذلك. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں انسان کا وہ عضو جوصرف ایک ہواور اسے غلطی سے نقصان پہنچایا جائے تو اس میں کامل دیت ہے مثلا ناک ‘شرمگاہ (آلہ تناسل )زبان' پیٹھ‘عقل کا چلا جانا وغیرہ۔ اور جو چیز یں انسان میں دودو ہوں تو ہر ایک میں نصف دیت ہے جیسے پستان ‘پاؤں اور آنکھیں وغیرہ۔حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 553

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [83] بَابُ دية ما كان في الإنسان منه واحدة · حديث 554

554 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ما أصيب من ذلك من شيء عمدا ففيه القصاص, وما لم يستطع فيه القصاص ففيه الدية, فإن كان خطأ فخمسة أسنان من الإبل, فإن كان شبه العمد فأربعة أسنان من #487# الإبل, وشبه العمد في الجراحات كل شيء تعمدت ضربه بسلاح أو غيره ولم يستطع فيه القصاص ففيه الدية مغلظة. قال محمد: وبهذا كله كان يأخذ أبو حنيفة رحمه الله تعالى, وبه نأخذ نحن أيضا إلا في خصلة واحدة, ما كان من شبه العمد فثلاثة أسنان من الإبل: من الحقاق سن, ومن الجذاع سن, وسن ثالث ما بين الثنية إلى بازل عامها كلها خلفة, وكان أبو حنيفة يقول: أربعة أسنان من الإبل: سن من بنات المخاض, وسن من بنات اللبون, وسن من الحقاق, وسن من الجذاع, وأما الخطاء فقولنا وقوله فيه واحد: خمسة أسنان من الإبل: سن من بني المخاض, وسن من بنات المخاض, وسن من بنات اللبون, وسن من الحقاق, وسن من الجذاع, وهو قول عبد الله بن مسعود رضي الله عنه, #488# وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أيضا ما قلنا في شبه العمد, فقال في خطبته يوم فتح مكة: ألا إن قتيل خطأ العمد قتيل السوط والعصا فيه مئة من الإبل, ثلاثون حقة, وثلاثون جذعة, وأربعون ما بين ثنية إلى بازل عامها كلها خلفة.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ان میں سے کسی چیز کو قصد اًنقصان پہنچائے تواس میں قصاص ہے اور قصاص ممکن نہ ہوتو اس میں دیت ہوگی ۔“ اور اگر غلطی سے ہوتو عمر کے اعتبار سے پانچ قسم کے اونٹ اگر شبہ عمدہ ہوتو عمر کے اعتبار سے چار قسم کے اونٹ ہوں گے اور زخموں میں شبہ عمد یہ یہ ہے کہ آلہ قتل سے ارادتاً زخمی کرے اور اس میں قصاص نہ ہوسکتا ہو تو اس میں دیت مغلظہ ہوگی ۔‘‘ (دیت مغلظہ کی تفصیل حدیث نمبر ۵۶۸ کے تحت حاشیہ میں دیکھیں)حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ان تمام باتوں کو اختیارفر ماتے تھےاور ہم بھی ان تمام باتوں پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن ایک بات میں اختلاف ہے جو شبہ عمد سے ہو تو عمر کی اعتبار سے تین قسم کے اونٹ لازم ہوں گےحقے ‘جذعے اور وہ جو ثینہ سے بازل عام تک ہو اور یہ سب حاملہ اونٹنیاں ہوں۔‘‘اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں چار اونٹ ہوں گئے ایک بنت مخاض ، ایک بنت لبون ، ایک حقہ اور ایک جذعہ ‘جب کہ قتل خطا میں ہم سب کا ایک ہی قول ہے پانچ اونٹ ہوں ایک ابن مخاض سے ایک بنت ہون سے ایک حقہ سے اور ایک جذعہ سے ہوگا۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے جو کچھ ہم نے شبہ عمد سے کے سلسلے میں کہا ہے آپ نے فتح مکہ کے موقع پرخطبہ دیتے ہوئےفرمایا۔‘‘سنو! خطا ءعمد میں مقتول وہ ہے جوکوڑے یالاٹھی سے قتل کیا جائے اس میں ایک سواونٹ ہیں تیس حقےتیس جذ عہ اور چالیس جو ثنیہ سے بازل عام تک ہو اور سب اونٹنیاں حاملہ ہوں ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 554

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [83] بَابُ دية ما كان في الإنسان منه واحدة · حديث 555

555 - بلغنا نحو ذلك عمر بن الخطاب رضي الله عنه يرفع: منها أربعون في بطونها أولادها. وبلغنا نحو ذلك عن عمر بن الخطاب, والمغيرة بن شعبة, وأبي موسى الأشعري, وزيد بن ثابت رضي الله عنهم, وبه نأخذ.

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی مرفوع حدیث بھی ہم تک پہنچتی ہے کہ چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جو حاملہ ہوں حضرت عمر فاروق ‘حضرت مغیرہ بن شعبہ ‘حضرت ابوموسی ٰاشعری اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان سے بھی اسی قسم کی بات ہم تک پہنچی ہے اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ۔“

زيد بن ثابت وبه نأخذ. ← أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 555

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [83] بَابُ دية ما كان في الإنسان منه واحدة · حديث 556

556 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم بن أبي الهيثم, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه في الرجل يحلق لحية الرجل فلا تنبت. قال: عليه الدية. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت الھیثم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی ابن طالب رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو کسی دوسرے آدمی کی داڑھی مونڈھ دیتا ہے اور اب اس کے بال نہیں اگے فرماتے ہیں اس پر کامل دیت ہے۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← «عَلَيْهِ الدِّيَةُ» ← علي بن أبي طالب في الرجل يحلق لحية الرجل فلا تنبت. ← الهيثم بن أبي الهيثم ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 556

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [84] بَابُ دية الأسنان والأشفار والأصابع · حديث 557

557 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: أصابع اليدين والرجلين سواء, في كل أصبع عشر الدية. #491# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیاں برابر ہیں ہر انگلی میں دیت کا دسواں حصہ ہے ۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← أصابع اليدين والرجلين سواء, في كل أصبع عشر الدية. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 557

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [84] بَابُ دية الأسنان والأشفار والأصابع · حديث 558

558 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن شريح قال: الأسنان سواء في كل سن نصف عشر الدية. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں دانت سب برابر ہیں یہ دانت میں دیت کا بیسواں حصہ ہے ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← الأسنان سواء في كل سن نصف عشر الدية. ← شُرَيْحٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 558

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [84] بَابُ دية الأسنان والأشفار والأصابع · حديث 559

559 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: في السمحاق والباضعة وأشباه ذلك إذا كان خطأ أو عمدا لا يستطاع فيه القصاص, ففيه حكومة عدل. #492# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس زخم کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ جوسر کے اندر باریک چمڑے تک پہنچ جائے اور وہ جو گوشت کو کاٹ دے اور اس قسم کے دوسرے زخم جب غلطی سے یا جان بوجھ کرلگائے جائیں اور ان میں قصاص ممکن نہ ہوتو انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوگا۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 559

chevron_left Previous
1…192021…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter