Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [1] بَابُ الطواف والقراءة في الكعبة · حديث 332

332 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن سعيد بن جبير, أنه قرأ في الكعبة في الركعة الأولى بالقرآن, وفي الركعة الثانية بـ {قل هو الله أحد} قال محمد: ولسنا نرى بهذا بأسا إذا فهم ما يقول, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کعبہ شریف میں پہلی رکعت میں قرآن مجید مکمل پڑھا اور دوسری رکعت میں قل ھو اللہ احد سورت پڑھی۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب کہ سمجھ کر پڑھے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 332

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [4] بَابُ متى يقطع التلبية والشرط في الحج · حديث 333

333 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: يقطع المحرم التلبية بالعمرة إذا استلم الحجر, ويقطع التلبية بالحج في أول حصاة يرمي بها جمرة العقبة. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں عمرہ کر نے والامحرم جب حجر اسود کا استلام کرے تو تلبیہ ختم کر دے اور حج کرنے والا جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے کے ساتھ ہی تلبیہ ختم کر دے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 333

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [4] بَابُ متى يقطع التلبية والشرط في الحج · حديث 334

334 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يشترط في الحج قال: ليس شرطه بشيء. #334# قال محمد: وبه نأخذ وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ کسی شخص کے حج میں کوئی شرط رکھنے کی کوئی حقیقت نہیں ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← ليس شرطه بشيء. ← إبراهيم في الرجل يشترط في الحج ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 334

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [5] بَابُ العمرة في أشهر الحج وغيرها · حديث 335

335 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل إذا أهل بالعمرة في غير أشهر الحج ثم أقام حتى يحج, أو رجع إلى أهله ثم حج فليس بمتمتع, وإذا أهل بالعمرة في أشهر الحج, ثم رجع إلى أهله, ثم حج فليس بمتمتع, وإذا اعتمر في أشهر الحج ثم أقام حتى يحج فهو متمتع. #335# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص حج کے علاوہ مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھے پھر وہاں مقیم ہو جائے حتی کہ حج کرے یا گھر کی طرف واپس آ جائے پھر حج کرے تو وہ متمتع نہیں ہے اور جب حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھے پھر گھر کی طرف واپس آ جائے پھر حج کرے وہ بھی متمتع ہے اور جب حج کے مہینوں میں عمرہ کرے پھر وہاں ٹھہر جائے حتی کہ حج کرے تو وہ متمع ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔ ‘‘

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 335

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [5] بَابُ العمرة في أشهر الحج وغيرها · حديث 336

336 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في رجل من أهل مكة اعتمر في أشهر الحج, ثم حج من عامه ذلك, قال: ليس هدي بمتعته. قال محمد: وبه نأخذ وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وذلك لقوله تعالى {ذلك لمن لم يكن أهله حاضري المسجد الحرام}

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو مکہ کا رہنے والا ہو اور حج کے دنوں میں عمرہ کرے پھر اسی سال حج کرے تو اس پر تمتع کی قربانی نہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ‘‘ ۔ اس کی وجہ ارشاد خداوندی ہے! لمن لم يكن أهله حاضرى المسجد الحرام۔(سورۃ بقرہ آیت ۱۹۲) ترجمہ ! یہ حکم یعنی تمتع ان لوگوں کے لئے جو مسجد حرام کے قریب رہنے والے نہ ہوں ۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 336

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [5] بَابُ العمرة في أشهر الحج وغيرها · حديث 337

337 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يقدم متمتعا في شهر رمضان فلا يطوف حتى يدخل شوال, قال: هو متمتع, لأنه طاف في أشهر الحج. #336# قال محمد: وبه نأخذ, عمرته في الشهر الذي يطوف فيه, وليس في الشهر الذي يحرم فيه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو ماہ رمضان میں تمتع کے طور پر آتا ہے اور طواف نہیں کرتاحتی کہ شوال کا مہینہ داخل ہو جاتا ہے تو فرمایا وہ متمتع ہے کیونکہ اس نے حج کے مہینوں میں طواف کیا۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اس کا عمرہ اس مہینے میں ہوگا جس میں اس نے طواف کیا اس مہینے میں نہیں جس میں احرام باندھا ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 337

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [5] بَابُ العمرة في أشهر الحج وغيرها · حديث 338

338 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يفوته صوم ثلاثة أيام في الحج قال: عليه الهدي, لا بد منه ولو أن يبيع ثوبه. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت کر تے ہیں جس سے حج کے دنو ں میں تین دنوں کے روزے چھوٹ جائیں تو وہ فرماتے ہیں اس پر قربانی (لازم ) ہے اگر چہ اسے اپنے کپڑے فروخت کر نا پڑیں۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← عليه الهدي, لا بد منه ولو أن يبيع ثوبه. ← إبراهيم في الرجل يفوته صوم ثلاثة أيام في الحج ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 338

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [5] بَابُ العمرة في أشهر الحج وغيرها · حديث 339

339 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا يزيد بن عبد الرحمن, عن عجوز من العتيك, عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أنها قالت: لا بأس بالعمرة في أي السنة شئت ما خلا خمسة أيام: يوم عرفة, ويوم النحر, وأيام التشريق. #337# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, إلا أنا نقول: عشية عرفة, فأما غداة عرفة فلا بأس بالعمرة فيها.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ فرماتے ہیں ہم سے یزید بن عبد الرحمن ٰرحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ عتیک ( قبلہ ) کی ایک خاتون ( معاذ ہ عد ویہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں اور وہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں ام المومنین نے فرمایا سال کے جس حصے میں عمرہ کرو کوئی حرج نہیں سوائے پانچ دنوں کے اور وہ یوم عرفہ (نو ذوالحجہ ) یوم نحر ( قربانی کا دن دس ذوالحجہ ) اورایام تشریق ہیں ۔ ‘‘ ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذوالحجہ ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے البتہ ہم نو ذوالحجہ کی صبح کی بات کرتے ہیں ‘ اس کی رات( گذشتہ ) رات میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔“

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عجوز من العتيك، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 339

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [6] بَابُ الصلاة بعرفة وجمع · حديث 340

340 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا صليت يوم عرفة في رحلك فصل كل واحدة من الصلاتين لوقتها, ولا ترتحل من منزلك حتى تفرغ من الصلاة. #338# قال محمد: وبهذا كان يأخذ أبو حنيفة رحمه الله تعالى. فأما في قولنا فإنه يصليهما في رحله كما يصليهما مع الإمام يجمعهما جميعا بأذان وإقامتين, لأن العصر إنما قدمت للوقوف. وكذلك بلغنا عن عائشة أم المؤمنين, وعن عبد الله بن عمر, وعن عطاء بن أبي رباح, وعن مجاهد رضي الله عنهم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ! وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب تم نو ذوالحجہ کواپنی منزل (خیمہ شیح وغیرہ) میں نماز پڑھو تو ہر نماز کو اس کے وقت پر پڑھو اور جب تک نماز سے فارغ نہ ہو جاؤ اپنی منزل سے کوچ نہ کرو۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ۔“ ہمارا یہ قول ہے کہ وہ اپنی منزل میں اسی طرح نماز پڑھے جس طرح امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کہ دونوں کو ایک اذان اور دوبارہ اقامت کے ساتھ جمع کرے کیونکہ عصر کی نماز وقوف ( عرفات) کے لئے مقدم کی گئی۔“ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عبداللہ بن عمر حضرت عطا اور حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے ہم تک یہ بات پہنچی۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 340

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [6] بَابُ الصلاة بعرفة وجمع · حديث 341

341 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الصلاة بجمع قال: إذا صليتهما بجمع صليتهما بإقامة واحدة, وإن تطوعت بينهما #339# فاجعل لكل واحدة إقامة. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, ولا يعجبنا أن يتطوع بينهما.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جب تم یہ دونوں نمازیں مزدلفہ میں پڑھوتو ایک اقامت سے پڑھواور دونوں کے درمیان نوافل (اورسنتیں ) پڑھو تو دونوں کے لئے الگ الگ اقامت کہو ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اوران کے درمیان نفل ہمیں پسند نہیں ۔“

إبراهيم في الصلاة بجمع ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 341

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [6] بَابُ الصلاة بعرفة وجمع · حديث 342

342 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه لم يكن يخرج يوم عرفة من منزله. وقال أبو حنيفة: التعريف الذي يصنعه الناس يوم عرفة محدث, إنما التعريف بعرفات. قال محمد: وبه نأخذ.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نو ذوالحجہ کواپنی منزل (خیمے ) سے نہیں نکلتے تھے ۔ اور امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔لوگ جونو ذوالحجہ کو عرفات مناتے ہیں یہ بدعت ہے عرفات کا وقوف تو عرفات میں ہوتا ہے۔ ‘‘ ( دوسری جگہ نہیں ہوتا ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ ← أبو حنيفة: التعريف الذي يصنعه الناس يوم عرفة محدث, إنما التعريف بعرفات. ← إبراهيم, أنه لم يكن يخرج يوم عرفة من منزله. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 342

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [7] بَابُ من واقع أهله وهو محرم · حديث 343

343 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عبد العزيز بن رفيع, عن مجاهد, عن ابن عباس رضي الله عنهما, أن رجل أتاه فقال: إني قبلت امرأتي #340# وأنا محرم فحذفت بشهوتي؟ فقال: إنك لشبق, أهرق دما, وتم حجك. قال محمد: وبه نأخذ, ولا يفسد الحج حتى يلتقي الختانان, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وكذلك بلغنا عن عطاء بن أبي رباح.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت عبدالعزیز بن رفیع رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے حالت احرام میں اپنی بیوی کا بوسہ لیا اور یوں اپنی شہوت کو توڑا انہوں نے فرمایا یہ تو شد ید شہوت ہے خون بہاؤ ( قربانی کرو ) اور اپنے حج کو پورا کرو۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور ہمیں حضرت عطا بن ابی رباح رضی اللہ عنہ سے بھی یہی بات پہنچی ہے ۔“ترجمہ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور جب تک دوشرمگاہیں باہم مل نہ جائیں حج فاسد نہیں ہوتا۔“

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 343

chevron_left Previous
1234…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter