Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [76] بَابُ اللعان · حديث 524

524 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في رجل قذف امرأته ثم طلقها ثلاثا قال: ليس بينهما لعان, ولا حد عليه؛ لأنه قذفها وهي تحته, فوقع اللعان فلم يلاعنها حتى طلقها, فبطل اللعان, وليس عليه حد.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی کو قذف کر تا (الزام لگاتا )ہے پھر اسے تین طلاقیں دے دیتا ہے تو وہ فرماتے ہیں ان کے درمیان لعان نہیں ہوگا اور نہ ہی اس پر حد ہوگی کیونکہ الزام اس وقت لگا یا جب وہ اس کی بیوی تھی پس لعان ہوالیکن لعان کیا نہیں حتی ٰ کہ طلاق دے دی پس ( طلاق کی وجہ سے )لعان باطل ہو گیا اور اس پر حد نہیں۔ ‘‘(کیونکہ اس نے اپنے آپ کو جھٹلایانہیں )

إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ قَذَفَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 524

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [76] بَابُ اللعان · حديث 525

525 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم في رجل قذف امرأته فسكتت عنه, ثم طلقها ثلاثا, ثم استعدت فليس بينهما لعان. قال: محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ جوشخص اپنی بیوی پر الزام لگائے اور عورت خاموش رہے پھر وہ اسے تین طلاقیں دے دے پھر(حلالہ کےبعد)پہلے خاوند سے نکاح کےلئے تیار ہو جائے تو ان کے درمیان لعان نہیں ہوگا۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 525

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [76] بَابُ اللعان · حديث 526

526 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا قذف الرجل امرأته فالتعن أحدهما توارثا مالم يلتعن الآخر. قال محمد: وبه نأخذ, يتوارثان مالم يلتعنا جميعا, ويفرق القاضي بينهما, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنی بیوی کو قذف کرے اور ان میں سے ایک لعان نہ کرے تو جب تک دوسرا لعان نہ کرے وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں جب تک دونوں لعان نہ کر یں وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور قاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کر دے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘ (یعنی ایک مر جائے تو دوسرا وارث ہوگا )

إذا قذف الرجل امرأته فالتعن أحدهما توارثا مالم يلتعن الآخر. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 526

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [77] بَابُ الخيار وأمرك بيدك · حديث 527

527 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا قال #468# الرجل لامرأته: أمرك بيدك, فليس لها أن تختار إلا واحدة, فإذا قال: ما بيدي من طلاق فهو بيدك, فهو بيدها, تحكم في مجلسها قبل أن يتفرقا, فإن قالت: تطليقة فهي تطليقة, وإن قالت: تطليقتان, فهي ما قالت من شيء. قال محمد: وأما في قولنا, فإذا قال لها: أمرك بيدك, فإن اختارت نفسها فهو ما نوى الزوج, فإن نوى واحدة فهي واحدة بائن, وإن نوى ثلاثا فهي ثلاث, وإن نوى اثنتين فهي واحدة بائن لا يكون أبدا إلا واحدة بائنا, أو ثلاثا إن نوى ذلك, وإن لم ينو طلاقا, وكان ذلك في الغضب لم يصدق في القضاء, وصدق فيما بينه وبين الله تعالى, وإن كان في غير غضب فهو مصدق في ذلك كله مع يمينه, وهذا كله قول أبي حنيفة, رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے امرک بیدک، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے تو وہ صرف ایک طلاق اختیار کرسکتی ہے۔اور اگر کہے ”ما بيدي من طلاق فهو بيدك‘‘ طلاق کا جو اختیار میرے پاس ہے وہ تیرے اختیار میں ہے تو وہ اختیاراس عورت کو حاصل ہو جائے گا دونوں کے جدا ہونے سے پہلے مجلس میں وہ فیصلہ کر سکتی ہے ۔“ اگر وہ کہے ایک طلاق ( میں نے اختیار کی) تو ایک طلاق ہوگی اور دوطلاقوں کا قول کرے تو جو کچھ کہا وہی ہوگا۔حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارا یہ قول جب عورت سے کہے تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے تو اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرے تو جو کچھ خاوند نے نیت کی وہی نافذ ہوگی اگر ایک کی نیت کی ہے تو ایک طلاق بائن ہوگی اور اگر تین کی نیت کی ہوتو تین ہوں گی اور اگر دو کی نیت کی ہوتو ایک بائن ہوگی ہمیشہ ایک یا تین ہوں گی اگر(تین کی ) نیت کرے اور اگر طلاق کی نیت نہ کرے اور وہ غصے کی حالت میں ہوتو قاضی کے ہاں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔لیکن اللہ تعالیٰ اور اس شخص کے درمیان تصدیق کی جائے گی۔‘‘ اور اگر غصے کی حالت نہ ہوتو قسم کے ساتھ دونوں صورتوں میں تصدیق کی جائے گی یہ تمام باتیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔“

«إِذَا ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 527

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [77] بَابُ الخيار وأمرك بيدك · حديث 528

528 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يقول لامرأته: اختاري, أو أمرك بيدك قال: هما سواء. قال محمد: ونحن نقول: إن ذلك سواء, وإن ذلك لها ما دامت في مجلسها #469# مالم تأخذ في عمل غير ذلك, فإن اخذت في عمل غير ذلك, أو قامت من مجلسها بطل خيارها, فإن اختارت نفسها افترق القولان, أما قوله: اختاري إذا أراد طلاقا فهي تطليقة بائن على كل حال إن أراد ثلاثا, أو غيرها, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جواپنی بیوی سے کہتا ہے ’’اختاری‘‘ تجھے اختیار ہے یا کہتا ہے ’’امرک بیدک‘‘ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے فرماتے ہیں دونوں باتیں برابر ہیں ۔ ‘‘(دونوں کا ایک ہی مطلب اور حکم ہے )حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم کہتے ہیں یہ بات ایک جیسی ہے اور یہ اختیار اس وقت تک ہوگاجب تک مجلس میں رہے اور کسی دوسرے کام میں مشغول نہ ہواگر کسی دوسرے کام میں مشغول ہو جائے یا مجلس میں سے اٹھ جائے تو اس (عورت) کا اختیار باطل ہو جائے گا اور جب اپنے نفس کو اختیار کر لے تو دونوں قولوں میں فرق ہو جائے گا ۔“اختاری کہنے کی صورت میں جب طلاق کا ارادہ ہوتو ہر صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہوگی تین کا ارادہ کرے یا اور ارادہ ہو یہ تمام باتیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔‘‘

هُمَا سَوَاءٌ. ← لامرأته: اختاري, أو أمرك بيدك ← إبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 528

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [77] بَابُ الخيار وأمرك بيدك · حديث 529

529 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا خير الرجل امرأته فقامت من مجلسها فلا خيار لها.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب خاوند اپنی بیوی کو اختیار دے پس وہ اپنی مجلس سے اٹھ جائے تو اب اسے اختیار نہیں ہوگاْ‘‘

إذا خير الرجل امرأته فقامت من مجلسها فلا خيار لها. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 529

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [77] بَابُ الخيار وأمرك بيدك · حديث 530

530 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عمرو بن دينار, عن جابر قال: إذا خير الرجل امرأته فقامت من مجلسها فلا خيار لها. #470# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. قال محمد: الذي روى عنه جابر بن زيد أبو الشعثاء.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ فرماتے ہیں ہم سے عمرو بن دینار رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اختیار دے اور وہ مجلس سے اٹھ جائے تو اسے کوئی اختیارنہیں۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسے حضرت جابر بن زید نے ابو الشعثاء ررحمتہ اللہ علیہ سےروایت کیا ۔“

محمد: الذي روى عنه جابر بن زيد أبو الشعثاء. ← مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← إذا خير الرجل امرأته فقامت من مجلسها فلا خيار لها. ← جَابِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 530

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [77] بَابُ الخيار وأمرك بيدك · حديث 531

531 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه, وعبد الله بن مسعود رضي الله عنه كانا يقولان في المرأة: إذا خيرها زوجها فاختارته فهي امرأته, وإن اختارت نفسها فهي تطليقة, وزوجها أملك بها.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں اس عورت کے بارے میں جسے خاوند اختیار دے فرماتے ہیں کہ اگر وہ خاوند کو اختیار کرے تو وہ اس کی بیوی ہے ( طلاق نہیں ہوگی )اور اگر اپنے آپ کو اختیار کرئےتو ایک طلاق ہوگی اور خاوند دوسروں کے مقابلے میں اس کا زیادہ حق دار ہوگا۔‘‘ (دوبارہ نکاح کرنے میں دوسروں کے مقابلے میں )

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 531

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [77] بَابُ الخيار وأمرك بيدك · حديث 532

532 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم, أن زيد بن ثابت رضي الله عنه كان يقول: إذا اختارت زوجها فلا شيء, وهي امرأته, وإذا اختارت نفسها فهي ثلاث, وهي عليه حرام حتى تنكح زوجا غيره, وكان علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول: إذا اختارت زوجها فهي واحدة, والزوج أملك بها, وإذا اختارت نفسها فهي واحدة وهي أملك بنفسها.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حمادرحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے تھے جب عورت اپنے خاوند کو اختیار کرے تو کوئی چیز واقع نہیں ہوگی اور وہ اس کی بیوی رہے گی اور جب اپنے آپ کو اختیار کرے تو تین طلاقیں ہوں گی اور وہ اس پر حرام ہوگی حتی ٰ کہ کسی اور شخص سے نکاح کرے اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے جب اپنے خاوند کو اختیار کرے تو ایک طلاق ہو گی اور خاوند کو رجوع کا زیادہ حق ہوگا اور جب اپنے نفس کو اختیار کرے تو ایک طلاق ہوگی اور وہ (عورت) اپنے نفس کی زیادہ مالک ہوگی ۔“

إبراهيم, أن زيد بن ثابت كان ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 532

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [77] بَابُ الخيار وأمرك بيدك · حديث 533

533 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم, عن عائشة رضي الله عنها قالت: خيرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخترنا, فلم يعد ذلك علينا طلاقا. #473# قال محمد: فأخذنا بقول عائشة رضي الله عنها التي روت عن النبي صلى الله عليه وسلم, #474# وبقول عمر رضي الله عنه, وابن مسعود رضي الله عنه: إنها إذا اختارت زوجها فلا شيء, وأخذنا بقول علي رضي الله عنه: إذا اختارت نفسها فهي واحدة, وهي أملك بنفسها, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ کو اختیار کیا تو آپ نے اسے ہم پرطلاق شمار نہ کی ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کو اختیار کیا جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور حضرت عمر فاروق اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے قول کو اختیا ر کیا کہ جب وہ عورت اپنے خاوند کو اختیار کرے تو طلاق واقع نہیں ہوگی ۔‘‘ اور ہم نے حضرت علی المرتضی ٰرضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کیا کہ جب وہ اپنے نفس کو اختیار کرے تو ایک طلاق واقع ہوگی اور وہ اپنے نفس کی زیادہ مالک ہوگی‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کابھی یہی قول ہے ۔“

محمد: فأخذنا بقول عائشة التي روت ← خيرنا رسول الله فاخترنا, فلم يعد ذلك علينا طلاقا. ← عَائِشَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 533

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [78] بَابُ الإيلاء · حديث 534

534 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا آلى الرجل من امرأته فوقع عليها في الأربعة الأشهر فعليه الكفارة. قال محمد: وبه نأخذ, وقد بطل الإيلاء, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ایلاء کرے۔ پھر چار مہینے کے اندراندراس سے جماع کرے تو اس پر کفارہ ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور ایلاء باطل ہو جائے گا اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

محمد: وبه نأخذ, وقد بطل الإيلاء, وهو قول أبي حنيفة تعالى. ← إذا آلى الرجل من امرأته فوقع عليها في الأربعة الأشهر فعليه الكفارة. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 534

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [78] بَابُ الإيلاء · حديث 535

535 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: آلى عبد الله بن أنس النخعي من امرأته, ثم غاب عنها خمسة أشهر, ثم قدم فوقع عليها, فخرج على أصحابه ورأسه يقطر من الجنابة, فقالوا له: أصبت من فلانة؟ قال: نعم, قالوا: أو لم تكن آليت منها؟ قال: بلى, قالوا فإنا نتخوف عليك أن تكون قد بانت منك, فانطلقوا به إلى علقمة فلم يجدوا عنده فيها شيئا, فانطلق بهم علقمة إلى عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فذكر له أمره, فأمره أن يأتيها فيخبرها أنها قد بانت منه #475# ويخطبها, فأتاها فأخبرها, ثم خطبها على مثاقيل فضة. قال محمد: وبه نأخذ, ونرى عليه صداقا بوقوعه عليها قبل النكاح الثاني, وهو قول أبي حنيفة, وإبراهيم النخعي, وحماد بن أبي سليمان.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن انس نخعی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا پھر اس سے پانچ مہینے غائب رہے پھر واپس آئے تو جماع کیا اپنے احباب کے پاس آئے تو غسل جنابت کی وجہ سے سر سے قطرے ٹپک رہے تھے انہوں نے کہاں تم نے فلاں (خاتون) کا قرب حاصل کیا؟ انہوں نے کہاہاں تو ان حضرات نے کہا کیا تم نے اس سے ایلا نہیں کیا تھا ؟ انہوں کہا ہاں کیا تھا ‘تو وہ کہنے لگے ہمیں آپ پر اس بات کا ڈر ہے کہ اس خاتون کو طلاق بائن ہو چکی ہے ۔ پس وہ سب حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو ان کے ہاں اس مسئلے کا حل نہ پایا تو حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ ان کو لے کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔اور ان کا معاملہ عرض کیا انہوں نے فرمایا خاتون کے پاس جا کر ان کو خبر دو کہ ان کو طلاق بائن ہو چکی ہے اور نکاح کا پیغام دو چنانچہ وہ آئے اور اسے خبر دی پھر ان کو پیغام نکاح دیا اور چند مثقال چاندی (بطور مہر )مقرر کی ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور ہم ایسے شخص پر مہر لازم جانتے ہیں کیونکہ وہ دوسرے نکاح سے پہلے جماع کرتا ہے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 535

chevron_left Previous
1…171819…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter