Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [36] بَابُ مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْإِمَامِ حَائِطٌ أَوْ طَرِيقٌ · حديث 114

114 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْمُؤَذِّنِينَ يُؤَذِّنُونَ فَوْقَ الْمَسْجِدِ ثُمَّ يُصَلُّونَ فَوْقَ الْمَسْجِدِ، قَالَ: «يُجْزِئُهُمْ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ مَا لَمْ يَكُونُوا قُدَّامَ الْإِمَامِ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے ان موذنین کے بارے میں پوچھا جو مسجد کی چھت پر اذان دیتے اور پھر چھت پر نماز پڑھتے ہیں ۔انہوں نے فرمایا یہ ان کے لئے کافی ہے۔ ( جب کہ امام کی آواز سنتے ہوں یا اس کا کچھ حصہ دیکھ رہے ہوں )۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں جب کہ وہ امام سے آگے نہ ہوں۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

يُجْزِئُهُمْ. ← الْمُؤَذِّنِينَ يُؤَذِّنُونَ فَوْقَ الْمَسْجِدِ ثُمَّ يُصَلُّونَ فَوْقَ الْمَسْجِدِ، ← سَأَلْتُ إبْرَاهِيمَ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 114

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [36] بَابُ مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْإِمَامِ حَائِطٌ أَوْ طَرِيقٌ · حديث 115

115 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي " الرَّجُلِ يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْإِمَامِ حَائِطٌ، قَالَ: «حَسَنٌ مَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْإِمَامِ طَرِيقٌ أَوْ نِسَاءٌ» #138# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں اس شخص کے بارے میں جس کے (درمیان) اور امام کے درمیان دیوار ہو ۔ فرماتے ہیں اچھی بات ہے جب تک اس کے اور امام کے درمیان راستہ یا عورتیں نہ ہوں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ ← «حَسَنٌ مَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْإِمَامِ طَرِيقٌ أَوْ نِسَاءٌ» ← إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْإِمَامِ حَائِطٌ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 115

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [37] بَابُ مَسْحِ التُّرَابِ عَنِ الْوَجْهِ قَبْلَ الفَرَاغِ مِنَ الصَّلَاةِ · حديث 116

116 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ: رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ يُصَلِّي فِي الْمَكَانِ فِيهِ الرَّمْلُ وَالتُّرَابُ الْكَثيرُ فَيَمْسَحُ عَنْ وَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ " قَالَ مُحَمَّدٌ: لَا نَرَى بَأْسًا بِمَسْحِهِ ذَلِكَ قَبْلَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ؛ لِأَنَّ تَرْكَهُ يُؤْذِي الْمُصَلِّي، وَرُبَّمَا شغله عَنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کودیکھا وہ اس جگہ نماز پڑھتے جہاں بہت زیادہ ریت اور مٹی تھی تو سلام پھیرنے سے پہلے اسے اپنے چہرے سے صاف کرتے۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کر نے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ تشہد یا سلام سے پہلے پو نچھے کیونکہ اس کو اسی طرح چھوڑ نے سے نمازی کو تکلیف ہوتی ہے اور بعض اوقات نماز میں خلل آ تا ہے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ‘‘ ۔

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 116

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [38] بَابُ الصَّلَاةِ قَاعِدًا وِالتَّعَمُّدِ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يُصَلِّي إِلَى سدة · حديث 117

117 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: #139# «صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى مِثْلِ نِصْفِ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَائِمًا» وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت اور وہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں !وہ فرماتے ہیں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا اجر کھڑے ہوکر پڑھنے کے مقابلے میں نصف ہے۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔ ‘‘

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 117

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [38] بَابُ الصَّلَاةِ قَاعِدًا وِالتَّعَمُّدِ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يُصَلِّي إِلَى سدة · حديث 118

118 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: لَا يُجْزِئُ الرَّجُلُ أَنْ يَعْرِضَ بَيْنَ يَدَيْهِ سَوْطًا وَلَا قَصَبَةً حَتَّى يَنْصِبَهُ نَصْبًا " قَالَ مُحَمَّدٌ: النَّصْبُ أَحَبُّ إِلَيْنَا فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَجْزَأَتْهُ صَلَاتُهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے سامنے کوئی لاٹھی چوڑائی میں رکھے یا کوئی بانس وغیر رکھے حتی کہ اسے کھڑا کر دے۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمارے نز دیک کھڑا کرنا زیادہ پسند یدہ ہے اور اگر ایسا نہ کرے تب بھی نماز جائز ہوگی ۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 118

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [38] بَابُ الصَّلَاةِ قَاعِدًا وِالتَّعَمُّدِ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يُصَلِّي إِلَى سدة · حديث 119

119 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا «كَانَ إِذَا سَجَدَ، فَأَطَالَ اعْتَمَدَ بِمِرْفَقَيْهِ عَلَى #140# فَخِذَيْهِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَسْنَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب سجدہ کرتے تو اسے لمبا کرتے اور اپنی کہنیوں کو رانوں پر رکھ کر ٹیک لگاتے ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اور امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 119

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [38] بَابُ الصَّلَاةِ قَاعِدًا وِالتَّعَمُّدِ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يُصَلِّي إِلَى سدة · حديث 120

120 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عن حماد عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَمِدُ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى فِي الصَّلَاةِ، يَتَوَاضَعُ لِلَّهِ تَعَالَى " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَيَضَعُ بَطْنَ كَفِّهِ الْأَيْمَنِ عَلَى رُسْغِهِ الْأَيْسَرِ تَحْتَ السُّرَّةِ فَيَكُونُ الرُّسْغُ فِي وَسَطِ الْكَفِّ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک ہاتھ کو دوسرے پر رکھ کر سہارا لیتے آپ اللہ تعالی ٰکے لئے تواضع اختیار فرماتے ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی کلائی پر ناف کے نیچے رکھتے پس کلائی ہتھیلی کے درمیان میں ہو ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 120

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [38] بَابُ الصَّلَاةِ قَاعِدًا وِالتَّعَمُّدِ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يُصَلِّي إِلَى سدة · حديث 121

121 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى تَحْتَ السُّرَّةِ #142# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں ربیع بن صبیح رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ ابومعثر رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کہ اوپر ناف کے نیچے رکھتےتھے۔حضرت امام محمدرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ ← إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى تَحْتَ السُّرَّةِ ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 121

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [39] بَابُ الْوِتْرِ وَمَا يُقْرَأُ فِيهَا · حديث 122

122 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ، عَنْ ذَرٍّ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَفِي الثَّانِيَةِ» قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا «يَعْنِي قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَهِيَ هَكَذَا فِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَفِي الثَّالِثَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» #144# قَالَ مُحَمَّدٌ: إِنْ قَرَأْتَ بِهَذَا فَهُوَ حَسَنٌ وَمَا قَرَأْتَ مِنَ الْقُرْآنِ فِي الْوِتْرِ مَعَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهُوَ أَيْضًا حَسَنٌ إِذَا قَرَأْتَ مَعَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ بِثَلَاثِ آيَاتٍ فَصَاعِدًا وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے زبید الیامی نے ذرالھمد انی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے وہ سعید بن عبد الرحمن ٰبن البریٰ رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز کی پہلی رکعت میں ” سبح اسم ربک الا على “ دوسری میں قل للذين كفروایعنی قل يايها الكفرون پڑھتے تھے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں اسی طرح ہے اور تیسری میں قل ھو اللہ احد پڑھتے تھے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں !اگر تم یہ ( مذکورہ بالا ) قرآت کرو تو اچھی بات ہے اور وتر میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ جوقرات بھی کرو ٹھیک ہے جب کہ سورۃ فاتحہ کے ساتھ تین آیات یا اس سے زائد پڑھو۔حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← سَعِيدٌ، ← ذَرٍّ الْهَمْدَانِيِّ ← زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 122

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [39] بَابُ الْوِتْرِ وَمَا يُقْرَأُ فِيهَا · حديث 123

123 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا أُحِبُّ أَنِّي تَرَكْتُ الْوِتْرَ بِثَلَاثٍ، وَإِنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ. الْوِتْرُ ثَلَاثٌ لَا يُفْصَلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں تین رکعات وتر کو چھوڑوں اور میرے لئے سرخ اونٹ ہوں۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں کہ وتر تین رکعات ہیں ان کے درمیان سلام کے ذریعے فصل ( جدائی ) نہیں ہے ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

«مَا أُحِبُّ أَنِّي تَرَكْتُ الْوِتْرَ بِثَلاثٍ، وَإِنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ» ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 123

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [39] بَابُ الْوِتْرِ وَمَا يُقْرَأُ فِيهَا · حديث 124

124 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا أَصْبَحَ، وَلَمْ يُوتِرْ، فَلَا وِتْرَ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِهَذَا. يُوتِرُ عَلَى كُلِّ حَالٍ إِلَّا #146# فِي سَاعَةٍ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ، أَوْ يَنْتَصِفَ النَّهَارُ حَتَّى تَزُولَ أَوْ عِنْدَ احْمِرَارِ الشَّمْسِ حَتَّى تَغِيبَ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب صبح ہو جائے اور وتر نہ پڑھے ہوں ‘ تو اب وتر نہ پڑھے۔“حضرت امامحمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیارنہیں کرتے وتر ہر حالت میں پڑھے جا سکتے ہیں ۔ مکر وہ وقت میں نہیں پڑھ سکتے یعنی جب سورج طلوع ہورہا ہو یا دو پہر کا وقت ہوحتی کہ سورج ڈھل جائے یا جب سورج کا رنگ زرد ہو جائے حتی کہ غروب ہو جائے ‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

«إِذَا أَصْبَحَ، وَلَمْ يُوتِرْ، فَلَا وِتْرَ» ← إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 124

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [40] بَابُ مَنْ سَمِعَ الْإِقَامَةَ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ · حديث 125

125 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي " الرَّجُلِ يُصَلِّي الْفَرِيضَةَ فِي الْمَسْجِدِ، فَيُقِيمُ الْمُؤَذِّنُ وَهُوَ فِي الرَّكْعَةِ قَالَ: يُتِمُّ إِلَيْهَا رَكْعَةً أُخْرَى ثُمَّ يَدْخُلُ فِي صَلَاةِ الْقَوْمِ بِتَكْبِيرٍ، فَإِذَا صَلَّى الْإِمَامُ رَكْعَتَيْنِ وَجَلَسَ فَتَشَهَّدَ سَلَّمَ الرَّجُلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فِي نَفْسِهِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُكَبِّرُ وَيُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ تَطَوُّعًا لَا يَدْخُلُ فِي صَلَاةِ الْقَوْمِ إِلَّا فِي شَفْعٍ مِنْ صَلَاتِهِ " وَقَالَ عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ: يُضِيفُ إِلَيْهَا رَكْعَةً أُخْرَى وَيَنْصَرِفُ ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ #147# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَوْلُ الشَّعْبِيِّ أَحَبُّ إِلَيْنَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ! کہ جوشخص مسجد میں نماز پڑھ رہا ہو اور موذن اقامت کہ دے اور ابھی وہ پہلی رکعت میں ہو تو وہ اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملائے پھر تکبیر کہہ کر لوگوں کہ ساتھ نماز با جماعت میں شامل ہو جائے ۔ پس جب امام دو رکعتیں پڑھے تو وہ شخص دل میں ہی دائیں بائیں سلام پھیرے پھر کھڑا ہوکر تکبیر کہے اور جونماز باقی ہے اسے امام کے ساتھ بطور نفل پڑھے وہ لوگوں کے ساتھ صرف دورکعتوں میں شامل ہوا ہے ۔ حضرت علامہ شعبی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وہ شخص ایک اور رکعت ملا کر سلام پھیرے پھر لوگوں کے ساتھ شامل ہو۔حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمارے نزدیک حضرت شعبی رحمتہ اللہ علیہ کا قول زیادہ پسندیدہ ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘ (اسی پرعمل ہے ۔۱۲ ہزاروی ) ۔

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 125

chevron_left Previous
1…456…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter