Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [29] بَابُ إِقَامَةِ الصُّفُوفِ وَفَضْلِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ · حديث 90

90 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، أَلَهُ فَضْلٌ عَلَى الصَّفِّ الثَّانِي؟ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ يُقَالُ: «لَا تَقُمْ فِي الصَّفِّ - يَعْنِي الثَّانِي - حَتَّى يَتَكَامَلَ الصَّفُّ الْأَوَّلُ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، لَا يَنْبَغِي إِذَا تَكَامَلَ الْأَوَّلُ أَنْ يُزَاحَمَ عَلَيْهِ؛ فَإِنَّهُ يُؤْذِي. وَالْقِيَامُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي خَيْرٌ مِنَ الْأَذَى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ! وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے پہلی صف کے بارے میں پوچھا کہ کیا اسے دوسری صف پر فضیلت حاصل ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہا جاتا تھا کہ دوسری صف میں کھڑے نہ ہوں حتی کہ پہلی صف مکمل ہو جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں کسی کے لئے مناسب نہیں کہ پہلی صف مکمل ہونے کے بعد اس میں گھسنے کی کوشش کرے اس سے دوسروں کو اذیت پہنچتی ہے اور (اس صورت میں ) پہلی صف کی بجائے دوسری صف میں کھڑا ہونا بہتر ہے۔ ‘‘

الصَّفِّ الْأَوَّلِ، أَلَهُ فَضْلٌ عَلَى الصَّفِّ الثَّانِي؟ ← سَأَلْتُ إبْرَاهِيمَ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 90

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [30] بَابُ الرَّجُلِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَوْ يَؤُمُّ الرَّجُلَيْنِ · حديث 91

91 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَإِنَّمَا قِيلَ: أَقْرؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ؛ لِأَنَّ النَّاسَ كَانُوا فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ أَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ أَفْقَهُهُمْ فِي الدِّينِ، فَإِذَا كَانُوا فِي هَذَا الزَّمَانِ عَلَى ذَلِكَ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْرَؤُهُمْ، فَإِنْ كَانَ غَيْرُهُ أَفْقَهَ مِنْهُ، وَأَعْلَمَ بِسُنَّةِ الصَّلَاةِ، وَهُوَ يَقْرَأُ نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، فَأَفْقَهُّمَا وَأَعْلَمُهُمَا بِسُنَّةِ الصَّلَاةِ أَوْلَاهُمَا بِالْإِمَامَةِ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمہ اللہ' سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں قوم کی امامت وہ شخص کرے جوان میں سے کتاب اللہ کا زیادہ قاری ہو (بشرطیکہ مسائل جانتا ہو ) اگر قرآت میں برابر ہوتو ہجرت میں مقدم ہے (وہ امام بنے ) حضر امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں یہ بات کہی گئی کہ ان میں سے جو قرآن مجید کا زیادہ قاری ہوتو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں جو لوگ زیادہ اچھے قاری ہوتے تھے وہ دین کی سمجھ بھی زیاہ رکھتے تھے اگر اس زمانے میں یہی صورت ہو تو جو قرات میں فوقیت رکھتا ہو وہ امامت کرائے اور اگر اس کا غیر اس سے زیادہ فقیہ ہو اور نماز کے بارے میں سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو اوراس جیسی قرات بھی کر سکتا ہوتو جو شخص زیادہ فقیہ اور سنت کو زیادہ جاننے والا ہے وہ امامت کے زیادہ لائق ہے۔“ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 91

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [30] بَابُ الرَّجُلِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَوْ يَؤُمُّ الرَّجُلَيْنِ · حديث 92

92 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «لَا بَأْسَ بِأَنْ يَؤُمَّهُمُ الْأَعْرَابِيُّ، وَالْعَبْدُ، وَوَلَدُ الزِّنَا إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ» #118# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، إِذَا كَانَ فَقِيهًا عَالِمًا بِأَمْرِ الصَّلَاةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں دیہاتی ، غلام ، اور ولد زنا کے امام بننے میں کوئی حرج نہیں جب وہ قرآن پڑھ سکتے ہوں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جب وہ نماز کے مسائل جانے والا ہو ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

«لَا بَأْسَ بِأَنْ يَؤُمَّهُمُ الْأَعْرَابِيُّ، وَالْعَبْدُ، وَوَلَدُ الزِّنَا إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ» ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 92

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [30] بَابُ الرَّجُلِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَوْ يَؤُمُّ الرَّجُلَيْنِ · حديث 93

93 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي " الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ. قَالَ: «يَقُومُ الْإِمَامُ فِي الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى. يَكُونُ الْمَأْمُومُ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے ہمیں خبر دی ‘ وہ حضرت حما رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے ان دو آدمیوں کے بارے میں روایت کرتے ہیں جن میں سے ایک دوسرے کی امامت کراتا ہے تو انہوں نے فرمایا امام بائیں جانب کھڑا ہو ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے کہ مقتدی امام کی دائیں جانب ہونا چاہئے ۔

يَمِينِ الإِمَامِ. ← مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى. يَكُونُ الْمَأْمُومُ ← «يَقُومُ الْإِمَامُ فِي الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ» ← إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 93

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [30] بَابُ الرَّجُلِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَوْ يَؤُمُّ الرَّجُلَيْنِ · حديث 94

94 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا زَادَ عَلَى الْوَاحِدِ فِي الصَّلَاةِ فَهِيَ جَمَاعَةٌ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے ہمیں خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب ایک سے زائد افراد ہوں تو یہ جماعت ہے (یعنی ایک امام اور ایک مقتدی ہو جائے ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← «إِذَا زَادَ عَلَى الْوَاحِدِ فِي الصَّلَاةِ فَهِيَ جَمَاعَةٌ» ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 94

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [30] بَابُ الرَّجُلِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَوْ يَؤُمُّ الرَّجُلَيْنِ · حديث 95

95 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَا: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَامَ يُصَلِّي فَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَقَامَ أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ قَامَ بَيْنَنَا، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: هَكَذَا، اصْنَعُوا إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً. وَكَانَ إِذَا رَكَعَ طَبَّقَ وَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ، قَالَ: «يُجْزِئُ إِقَامَةُ النَّاسِ حَوْلَنَا» #121# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الثَّلَاثَةِ، وَلَكِنَّا نَقُولُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً تَقَدَّمَهُمْ إِمَامُهُمْ، وَصَلَّى الْبَاقِيَانِ خَلْفَهُ، وَلَسْنَا نَأْخُذُ أَيْضًا بِقَوْلِهِ فِي التَّطْبِيقِ كَانَ يُطَبِّقُ بَيْنَ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ، ثُمَّ يَجْعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ، وَلَكِنَّا نَرَى أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَيُفَرِّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ تَحْتَ الرُّكْبَتَيْنِ. وَأَمَّا بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَذَلِكَ يُجْزِئُ وَالْآذَانُ وَالْإِقَامَةُ أَفْضَلُ. وَإِنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يُؤَذِّنْ فَذَلِكَ أَفْضَلُ مِنَ التَّرْكِ لِلْإِقَامَةِ؛ لِأَنَّ الْقَوْمَ صَلَّوْا جَمَاعَةً. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علقمہ بن قیس اور اسود بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ دونوں فرماتے ہیں ہم حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا وہ نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو ہم بھی ان کے پیچھے کھڑے ہوئے انہوں نے ہم میں سے ایک کو اپنی دہنی جانب اور دوسرے کو بائیں جانب کھڑا کیا پھر ہمارے درمیان خود کھڑے ہوئے جب فارغ ہوئے تو فرمایا جب تم تین افراد ہوتو اس طرح کیا کرو۔ اور جب آپ رکوع کرتے تو دونوں زانوؤں کی انگلیوں کو باہم ملا کر دونوں زانوں کے درمیان رکھتے اور اذان واقامت کے بغیر نماز پڑھتے اور فرماتے ہمارے اردگرد کے لوگوں کی اقامت کافی ہے ‘ (یعنی دوسری مساجد کی اذان واقامت ہمارے لئے کافی ہے )۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ! تین آدمیوں کی صورت میں ہم حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول پر عمل نہیں کرتے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ جب تین افراد ہوں تو ان کا امام آ گے ہو اور باقی دواس کے پیچھے نماز پڑھیں۔“ اس طرح ہم ان کے تطبیق والے قول پر بھی عمل نہیں کرتے وہ انگلیوں کو اکھٹا کر کے رانوں کے درمیان رکھتے تھے لیکن ہمارے نزدیک مرد اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھے اور گھٹنوں کے نیچے انگلیوں کو کشادہ کرے جہاں تک اذان واقامت کے بغیر نماز کاتعلق ہے تو یہ بھی کفایت کرتی ہے ۔ لیکن اذان واقامت افضل ہے اور نماز کے لئے اقامت کہے اوراذان نہ کہے تو یہ ا قامت چھوڑ نے کے مقابلے میں افضل ہے ۔ کیونکہ لوگ باجماعت نماز پڑھ رہیں ہیں۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

كُنَّا عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 95

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [30] بَابُ الرَّجُلِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَوْ يَؤُمُّ الرَّجُلَيْنِ · حديث 96

96 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " جَعَلَهُمَا خَلْفَهُ، وَصَلَّى بَيْنَ أَيْدِيهِمَا، وَكَانَ يَجْعَلُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ إبراهيم: صَنِيعُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَبُّ إِلَيَّ " #122# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ صَنِيعِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان دونوں ( حضرت علقمہ اور حضرت اسود رضی اللہ عنہا) کواپنے پیچھے کیا اور ان سے آگے ہوکر نماز پڑھائی ۔“ اور وہ اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھتے تھے ۔ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی ٰکا عمل مجھے زیادہ پسند ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور ہمارے نزدیک یہ طریقہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے طریقے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 96

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [31] بَابُ مَنْ صَلَّى الْفَرِيضَةَ · حديث 97

97 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَ أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَبِي الْهَيْثَمِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّيَا الظُّهْرَ فِي مَنَازِلِهِمَا، وَهُمَا يَرَيَانِ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ، فَجَاءَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَعَدَا، وَلَمْ يَدْخُلَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُمَا، فَأَقْبَلَا وَمَفَاصِلُهُمَا تُرْعَدُ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ حَدَثَ فِيهِمَا شَيْءٌ، فَقَالَ لَهُمَا: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا؟» فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ظَنَنَّا أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ فَصَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، ثُمَّ جِئْنَا، فَوَجَدْنَاكَ فِي الصَّلَاةِ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَنْ نُصَلِّيَ أَيْضًا، فَقَالَ: «إِذَا كَانَ كَذَلِكَ، فَادْخُلُوا فِي الصَّلَاةِ، وَاجْعَلُوا الْأُولَى فَرِيضَةً وَهَذِهِ نَافِلَةً» #124# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى، وَلَا تعَادُ الْفَجْرُ وَالْعَصْرُ وَالْمَغْرِبُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! مجھے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم اسے الھیثم بن الھیثم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم کے دو صحابہ کرام نے اپنے اپنے ٹھکانوں میں ظہر کی نماز ادا کی ان کا خیال تھا کہ ( جماعت کے ساتھ ) نماز پڑھی جا چکی ہے وہ حاضر ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے وہ دونوں بیٹھ گئے اور نماز میں شریک نہ ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ان دونوں کو بلایا وہ اس حالت میں تھے کہ ان کے کندھے اس خوف سے کانپ رہے تھے کہ ان کے بارے میں کوئی نیا حکم نہ آیا ہو آپ نے فرمایا تم دونوں کو نماز ( باجماعت ) پڑھنے میں کیا رکاوٹ تھی ؟ انہوں نے عرض کیا ہما را خیال تھا کہ نماز پڑھی جا چکی ہے پس ہم نے اپنی اپنی منازل میں پڑھ لی ہے ہم آئے تو آپ نماز میں مشغول تھے ہم نے خیال کیا کہ دوبارہ نماز پڑھنا مناسب نہیں آپ نے فرمایا جب یہ صورت پیدا ہوتو نماز میں داخل ہو جایا کرو پہلی نماز کو فرض قرار دو اور یہ نفل نماز ہو جائے گی ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے البتہ فجر ،عصر اور مغرب میں دوبارہ نہ پڑھی جائے ۔“

أَخْبَرَ أَبُو حَنِيفَةَ، ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 97

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [31] بَابُ مَنْ صَلَّى الْفَرِيضَةَ · حديث 98

98 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «إِذَا صَلَّيْتَ الْفَجْرَ وَالْمَغْرِبَ ثُمَّ أَدْرَكْتَهُمَا فَلَا تَعُدْ لَهُمَا غَيْرَ مَا صَلَّيْتَهُمَا» قَالَ مُحَمَّدٌ: أَمَّا الْفَجْرُ وَالْعَصْرُ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُصَلَّى بَعْدَهُمَا نَافِلَةٌ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ» وَأَمَّا الْمَغْرِبُ فَهِيَ وِتْرٌ، فَنكْرَهُ أَنْ يُصَلَّى التَّطَوُّعُ وِتْرًا، فَإِذَا دَخَلَ مَعَهُمْ رَجُلٌ تَطَوَّعًا، فَسَلَّمَ الْإِمَامُ، فَلْيَقُمْ، فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا رَكْعَةً رَابِعَةً، وَيَتَشَهَّدْ وَيُسَلِّمْ، وَهَذَا كُلُّهُ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت مالک بن انس رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے ( روایت کرتے ہوئے ) خبر دی ‘ وہ حضرت ابن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جب تم فجر اور مغرب کی نماز پڑھ لو پھر ان ( کی جماعت ) کو پاؤ تو اس نماز کو دوبارہ نہ پڑھو پس جو پڑھ چکے ہو اسی پر اکتفاء کرو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں فجر اور عصر کے بعد اس لئے کہ ان دونوں کے بعد نفل پڑھنا منا سب نہیں کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی (نفل) نماز نہیں اور نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک نماز نہیں اور مغرب کی نماز کی طاق رکعتیں ہیں اورنفل نما ز طاق رکعات میں پڑھنا مکروہ ( تحریمی ) ہے۔ ‘‘ جب کوئی شخص اس نماز میں نفل کی نیت سے داخل ہوتو امام کے سلام پھیرنے پر کھڑا ہو جائے اور اس کے ساتھ چوتھی رکعت ملائے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے یہ تمام باتیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ قول ہے ۔“

«إِذَا صَلَّيْتَ الْفَجْرَ وَالْمَغْرِبَ ثُمَّ أَدْرَكْتَهُمَا فَلَا تَعُدْ لَهُمَا غَيْرَ مَا صَلَّيْتَهُمَا» ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 98

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [32] بَابُ الصَّلَاةِ تَطَوُّعًا · حديث 99

99 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ، عَنِ الْحَسَنِ #125# الْبَصْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُحْتَبٍ تَطَوُّعًا قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، لَا نَرَى بَأْسًا بِذَلِكَ، فَإِذَا بَلَغَ السُّجُودَ حَلَّ حَبْوَتَهُ وسجد. وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں حضرت ابوسفیان رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نفل نماز پڑھتے کہ دونوں گھٹنوں کو کھڑا کر کے پیٹھ کے پیچھے سے چادر لا کر آگے باندھ دیتے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے پس جب آدمی سجدے میں جائے تو چادر کھول کر سجدہ کرے ‘‘ ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← أَبُو سُفْيَانَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 99

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [32] بَابُ الصَّلَاةِ تَطَوُّعًا · حديث 100

100 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مَا بَيْنَ صَلَّاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ #126# رَكْعَةً, ثَمَانِي رَكَعَاتٍ تَطَوُّعًا، وَثَلَاث الْوِتْرَ، وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ "

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت ابوجعفر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان تیرہ رکعات نماز پڑھتے تھے آٹھ رکعات نفل اور تین رکعات وتر ہوتے ۔اور دورکعتیں فجر کی نماز ہوتی ۔ ‘‘ ( سنتیں مراد ہیں)

أبو جعفر ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 100

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [32] بَابُ الصَّلَاةِ تَطَوُّعًا · حديث 101

101 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا «يُصَلِّي التَّطَوُّعَ عَلَى رَاحِلَتِهِ أَيْنَمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ فَإِذَا كَانَتِ الْفَرِيضَةُ أَوِ الْوَتْرُ نَزَلَ فَصَلَّى» #127# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأَخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حصین بن عبد الرحمن ٰرحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سواری پرنفل نماز پڑھتے وہ جس طرف بھی متوجہ ہوتے اور جب فرض نماز یا وتر پڑھتے تو اتر کر پڑھتے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 101

chevron_left Previous
1234…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter