Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [86] باب زكاة الذهب والفضة ومال اليتيم · حديث 294

294 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا ليث بن أبي سليم, عن مجاهد, عن ابن مسعود رضي الله عنه أنه قال: ليس في مال اليتيم زكاة.

لَيْسَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ زَكَاةٌ. ← ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ ← مُجَاهِدٍ ← ليث بن أبي سليم ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 294

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [86] باب زكاة الذهب والفضة ومال اليتيم · حديث 295

295 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا أبو بكر, عن عثمان بن عفان رضي الله عنه أنه كان يقول إذا حضر شهر رمضان: أيها الناس, إن هذا شهر زكاتكم قد حضر, فمن كان عليه دين فليقضه, ثم ليزك ما بقي. قال محمد: وبه نأخذ, عليه الزكاة بعد قضاء دينه.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ابو بکر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو وہ فرماتے اے لوگو! تمہارا یہ زکوۃ کا مہینہ آ چکا ہے پس جب قرض ہو وہ اس کی ادائیگی کرے پھر باقی مال کی زکوۃ ادا کرے ۔“

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّهُ كَانَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 295

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [86] باب زكاة الذهب والفضة ومال اليتيم · حديث 296

296 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الهيثم, عن ابن سيرين, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: إذا كان لك دين على الناس فقبضته فزكه لما مضى. #303# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے الہیثم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جب لوگوں پر تمہارا قرض ہو پس تم اسے وصول کرو تو گذشہ ( سالوں ) کی زکوۃ بھی ادا کرو۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اس پر ادائیگی قرض کے بعد زکوۃ (واجب) ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اس پر ادائیگی قرض کے بعد زکوۃ ( واجب ) ہے اور امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← إذا كان لك دين على الناس فقبضته فزكه لما مضى. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 296

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [86] باب زكاة الذهب والفضة ومال اليتيم · حديث 297

297 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في رجل أقرض رجلا ألف درهم قال: زكاتها على الذي يستعملها وينتفع بها. #304# قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكنا نأخذ بقول علي: زكاتها على صاحبها إذا قبضها زكاها لما مضى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو کسی شخص کو ایک ہزار درہم قرض دیتا ہے وہ فرماتے ہیں اس کی زکوۃ اس پر ہے جو اس رقم کو کام میں لگاتا ہے اور اس سے نفع حاصل کرتا ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار نہیں کرتے اور بلکہ ہم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے قول کو (جو حدیث نمبر۹ ۲۹ میں ہے ) اختیار کرتے ہیں اس کی زکوۃ اس کے مالک پر ہے جب وہ اس پر قبضہ کرے تو گذشتہ عرصے کی زکوۃ بھی دے۔ ‘‘ (یا ساتھ ساتھ دیتا رہا اگر قرض کی واپسی ممکن ہے )

زكاتها على الذي يستعملها وينتفع بها. ← إبراهيم في رجل أقرض رجلا ألف درهم ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 297

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [87] باب زكاة الحلي · حديث 298

298 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه, أن امرأة قالت له: إن لي حليا, فهل علي فيه زكاة؟ فقال لها: نعم, فقالت: إن لي ابني أخ يتامى في حجري, أفيجزئ عني أن أجعل ذلك فيهما؟ قال: نعم. #305# قال محمد: وبهذا نأخذ, ولا بأس بأن يعطى من الزكاة كل ذي رحم إلا ولدا, ووالدا, وولد ولد, وجدا أو جدة, وإن كانوا في عياله, والزوجة لا تعطى من الزكاة. وقال أبو حنيفة: لا يعطى الزوج من الزكاة. وأما نحن فلا نرى بأسا بأن يعطى الزوج من الزكاة, ولا نرى في شيء من الحلي زكاة إلا في الذهب والفضة, وأما في الجوهر واللؤلؤ فلا زكاة فيه إلا أن يكون للتجارة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون نے ان سے کہا میرے پاس زیورات میں کیا مجھ پران کی زکوۃ ہے؟ آپ نے اس (عورت) سے فرمایا! ’’ ہاں ‘‘ اس نے کہامیری پرورش میں میرے دو بھتیجے ہیں تو اگر میں ان پر خرچ کروں میرے طرف سے ادائیگی ہو جائے گی؟ فرمایا! ’’ ہاں‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں کسی بھی ذی رحم کوزکوۃ دی جاسکتی ہے لیکن اولا د ‘ والد ‘ اولاد کی اولاد ‘ دادا ‘ دادی ‘ نانا ‘ نانی کو نہیں دے سکتے ۔ اگر چہ اس کی پرورش میں ہوں اور بیوی کو زکوۃ نہیں دے سکتے ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں خاوند کو بھی زکوۃ نہ دی جائے لیکن (امام محمد رحمتہ اللہ علیہ ) خاوند کوزکوۃ دینے میں حرج نہیں سمجھتے ، اور ہمارے نزدیک صرف سونے چاندی کے زیورات میں زکوۃ ہے جو اہرات اور موتیوں میں زکوۃ نہیں البتہ تجارت کے لئے ہوں ۔“

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 298

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [87] باب زكاة الحلي · حديث 299

299 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ليس في الجوهر واللؤلؤ زكاة إذا لم يكن للتجارة. #306# قال محمد: و بهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جواہرات اور موتیوں میں زکوۃ نہیں جب تجارت کے لئے نہ ہوں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

محمد: و بهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة تعالى. ← ليس في الجوهر واللؤلؤ زكاة إذا لم يكن للتجارة. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 299

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [88] باب زكاة الفطر والمملوكين · حديث 300

300 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم في صدقة الرجل على كل مملوك أو حر, أو صغير أو كبير نصف صاع من بر, أو صاع من تمر. قال محمد: وبه نأخذ, فإن أدى صاعا من شعير أجزأه أيضا. وقال أبو حنيفة: نصف صاع من زبيب يجزئه, وأما في قولنا فلا يجزئه إلا صاع من زبيب.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ ہر آدمی اپنے غلام ‘ آزاد ، چھوٹے اور بڑے ( تمام زیر کفالت ) کی طرف سے ( فی کس ) نصف صاع گندم دوکلو یا ایک صاع کھجور دے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اگر ایک صاع جو ادا کرے تب بھی جائز ہے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں نصف صاع کشمش بھی کفایت کرتی ہے لیکن ہمارے نز د یک (امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک ) کشمش ایک صاع ہو تو جائز ہے۔

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 300

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [88] باب زكاة الفطر والمملوكين · حديث 301

301 - محمد قال: أخبرنا سفيان الثوري, عن عثمان بن الأسود المكي, عن مجاهد قال: ما سوى البر فصاعا صاعا. قال محمد: وبهذا نأخذ.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ عثمان بن اسودالملکی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا گندم کے علاوہ ہر چیز ایک ایک صاع ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ۔“

محمد: وبهذا نأخذ. ← ما سوى البر فصاعا صاعا. ← مُجَاهِدٍ ← عثمان بن الأسود المكي, ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 301

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [88] باب زكاة الفطر والمملوكين · حديث 302

302 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ليس في المملوكين الذين يؤدون الضريبة زكاة, ولكن إذا كانوا للتجارة كانت الزكاة في القيمة. #308# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں وہ غلام جو خراج ( ٹیکس ) ادا کر تے ہیں ان میں زکوۃ نہیں لیکن جب تجارت کے لئے ہوں تو ان کی قیمت میں زکوۃ ہوگی۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 302

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [88] باب زكاة الفطر والمملوكين · حديث 303

303 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا كان المملوكون للتجارة فالصدقة من القيمة, في كل مئتي درهم خمسة دراهم. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب غلام تجارت کے لئے ہوں تو ان کی قیمت میں زکوۃ (واجب) ہوگی ہر دوسو درہم پر پانچ درہم ہوں گے ۔ ‘‘ ( کیونکہ وہ مال تجارت ہو نگے ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 303

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [89] باب زكاة الدواب العوامل · حديث 304

304 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه قال في الخيل السائمة التي يطلب نسلها: إن شئت في كل فرس دينار, وإن شئت عشرة دراهم, وإن شئت فالقيمة, ثم كان في كل مئتي درهم خمسة دراهم في كل فرس ذكر أو أنثى. #309# قال محمد: وبهذا كله يأخذ أبو حنيفة, وأما في قولنا فليس في الخيل صدقة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے ان گھوڑوں کے بارے میں جو چر کر گزارہ کرتے ہیں اور ان سے نسل مطلوب ہوتی ہے فرمایا اگر تم چاہو ‘ تو ایک گھوڑے کے بدلے میں ایک دینار دینا اور چاہوتو دس درہم دو اور اگر چاہو تو قیمت لگا کر دو سو درہم کی زکوۃ پانچ درہم دو گھوڑا نر ہو یا مادہ ۔ ‘‘ (برابر ہیں ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کابھی یہی قول ہے ۔ اور ہمارا یہ کہنا کہ گھوڑوں میں زکوۃ نہیں ( تواس کی دلیل یہ احادیث ہیں )

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 304

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [89] باب زكاة الدواب العوامل · حديث 305

305 - بلغنا عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «عفوت لأمتي عن صدقة الخيل والرقيق».

ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! میری امت سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی گئی ۔ ‘‘ (اگر تجارت کے لئے نہ ہوں )

صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ. ← «عفوت لأمتي ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← بَلَغَنَا

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 305

chevron_left Previous
1…192021…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter