Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [82] باب الصوم في السفر والفطر · حديث 282

282 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: أفطر عمر بن الخطاب وأصحابه في يوم غيم, ظنوا أن الشمس قد غابت قال: فطلعت الشمس, فقال عمر رضي الله عنه: ما تعرضنا لجنف, نتم هذا اليوم, ثم نقضي يوما مكانه. #291# قال محمد: وبه نأخذ, أيما رجل أفطر في سفر في شهر رمضان, أو حائض أفطرت ثم طهرت في بعض النهار, أو قدم المسافر في بعض النهار إلى مصره أتم ما بقي من يومه, فلم يأكل ولم يشرب, وقضى يوما مكانه. وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور آپ کے اصحاب نے بادلوں والے دن روزہ افطار کیا ان کا خیال تھا کہ سورج غروب ہو چکا ہے ‘ فرماتے ہیں پھر سورج ظاہر ہو گیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے یہ کام کسی گناہ کے لئے نہیں کیا ( جان بوجھ کر افطار نہیں کیا ) ہم اس دن کا روزہ پورا کریں گے اور پھر اسے افطار کریں گے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جو شخص ماہ رمضان میں حالت سفر میں روزہ افطار کر لے یا حیض والی عورت روزہ نہ ر کھے پھر دن کے کسی حصے میں پاک ہو جائے یا مسافر دن کے کسی حصے میں اپنے شہر میں آئے تو باقی دن مکمل کرے اس میں کھائے نہ پئے اور اس کی جگہ ایک دن کی قضاءکرے ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کابھی یہی قول ہے ۔“

أفطر عمر بن الخطاب وأصحابه في يوم غيم, ظنوا ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 282

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [83] باب قبلة الصائم ومباشرته · حديث 283

283 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقبل وهو صائم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 283

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [83] باب قبلة الصائم ومباشرته · حديث 284

284 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا زياد بن علاقة, عن عمرو بن ميمون, عن عائشة رضي الله عنها, أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقبل وهو صائم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے زیاد بن علاقہ رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ عمرو بن میمون رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے تھے ۔“

عَائِشَةَ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 284

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [83] باب قبلة الصائم ومباشرته · حديث 285

285 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا رجل, عن عامر الشعبي, عن مسروق, عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصيب من وجهها وهو صائم. #294# قال محمد: لا نرى بذلك بأسا إذا ملك الرجل نفسه عن غير ذلك, أي الإنزال, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ایک شخص نے حضرت عامر بن شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا وہ حضرت عروق رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بوسہ لیتے اور وہ روزہ دار ہوتے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی میں کوئی حرج نہیں سمجھتے بشرطیکہ آ دی اپنے نفس کو قابو میں رکھ سکتا ہو یعنی انزال سے بچ سکتا ہو ‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

غير ذلك, أي الإنزال, وهو قول أبي حنيفة تعالى. ← محمد: لا نرى بذلك بأسا إذا ملك الرجل نفسه ← كان رسول الله يصيب من وجهها وهو صائم. ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← رَجُلٌ: ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 285

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [83] باب قبلة الصائم ومباشرته · حديث 286

286 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يباشر وهو صائم. #296# قال محمد: لا نرى بذلك بأسا ما لم يخف على نفسه غير المباشرة, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مباشرت فرماتے ‘ حالانکہ آپ روزہ دار ہوتے۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب تک اسے مباشرت سے کسی بات (انزال ) کا ڈر نہ ہو۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 286

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [84] باب ما ينقض الصوم · حديث 287

287 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه قال في الرجل يمضمض, أو يستنشق وهو صائم, فيسبقه الماء, فيدخل حلقه, قال: يتم صومه, ثم يقضي يوما. قال محمد: وبه نأخذ, إن كان ذاكرا لصومه, فإن كان ناسيا لصومه #297# فلا قضاء عليه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جو کلی کرتا یا ناک میں پانی چڑہاتا ہے تو پانی سبقت کر کے حلق میں چلا جاتا ہے‘ فرمایا وہ اپنے روزے کو پورا کرے پھر اس کی جگہ ایک دن قضا کرے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اگر اسے روزہ یاد ہو اور اگر وہ بھول کر ایسا کرے تو اس پر قضا نہیں ۔حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

يتم صومه, ثم يقضي يوما. ← في الرجل يمضمض, أو يستنشق وهو صائم, فيسبقه الماء, فيدخل حلقه, ← إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 287

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [84] باب ما ينقض الصوم · حديث 288

288 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال في القيئ: لا قضاء عليه, إلا أن يكون تعمده, فيتم صومه, ثم يقضيه بعد. قال محمد: و به نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے قے کے بارے میں فرمایا کہ اس میں قصا نہیں البتہ جان بوجھ کر قے کرے تو روزہ پورا کرے پھر بعد میں قضا کرے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

في القيئ: لا قضاء عليه, إلا ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 288

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [84] باب ما ينقض الصوم · حديث 289

289 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يصيب أهله وهو صائم في شهر رمضان, قال: يتم صومه, و يقضي ما أفطر, ويتقرب إلى الله تعالى بما استطاع من خير, ولو علم به الإمام لعزره. #298# قال محمد: وبه نأخذ ونرى مع ذلك أن عليه الكفارة: عتق رقبة, فإن لم يجد فصيام شهرين متتابعين, فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا, لكل مسكين نصف صاع من حنطة, أو صاع من تمر أو شعير, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس آدمی کے بارے میں میں روایت کرتے ہیں جو ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے وہ اس روزے کو پورا کرے پھر اس کی قضا کرے اور جس قدر ممکن ہو بھلائی وغیرہ کے ذریعے اللہ تعالی ٰکا قرب حاصل کرے اور اگر حکمران کو معلوم ہو جا ئے تو وہ اسے سزادے۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں لیکن ہمارے نزدیک اس کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی لازم ہے ایک غلام آزاد کرے اگر نہ پائےتو دو مہینے مسلسل روزے رکھے اگر یہ بھی نہ کر ے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ہر مسکین کو نصف صاع گندم ( دو کلوگندم ) یا ایک صاع کھجور یا جو ( چار کلو ) ہے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 289

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [85] باب فضل الصوم · حديث 290

290 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن سعيد بن جبير قال: صوم يوم عاشوراء يعدل بصوم سنة, وصوم يوم عرفة بصوم سنتين: سنة قبلها, وسنة بعدها.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں عاشورہ (دسویں محرم ) کا روز ہ ایک سال کے روزے کے برابر ہے ( یعنی ثواب میں ) عرفہ ( نو ذوالحجہ ) کا روزہ دو سال کے روزوں کے برابر ہے او ر ایک سال اس سے پہلے اور ایک سال اس کے بعد ۔“

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 290

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [85] باب فضل الصوم · حديث 291

291 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا علي بن الأقمر, أن #299# النبي صلى الله عليه وسلم كان يظل صائما, و يبيت طاويا قائما, ثم ينصرف إلى شربة من لبن قد وضعت له فيشربها, فتكون فطره وسحوره إلى مثلها من القابلة. قال: فانصرف إلى شربته, فوجد بعض أصحابه قد بلغ مجهوده فشربها, فطلب له في بيوت أزواجه طعام أو شراب فلم يوجد, فطلبوا عند أصحابه فلم يجدوا عندهم شيئا, فقال: «من يطعمني أطعمه الله» -مرتين- فلم يجدوا شيئا يطعمونه إياه قال: فأقبلوا على العنز فوجدوها كأحفل ما كانت, فحلبوا منها مثل شربة رسول الله صلى الله عليه وسلم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے علی بن اقمر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دن کو روزہ رکھتے اور رات کو خالی پیٹ قیام فرماتے پھر واپس تشریف لاتے تو دودھ نوش فرماتے جو آپ کے لئے رکھا جاتا اور وہ اتنا ہوتا جسے صرف ایک ہی مرتبہ پیا جاتا (یعنی کم ہوتا ) تو آپ کی افطاری اور سحری ایک جیسی ہوتی حتی کہ دوسری رات آ جاتی ۔“ ایک رات آپ اس دودھ کی طرف تشریف لائے تو معلوم ہوا کہ کسی صحابی نے سخت بھوک میں اسے پی لیا ہے آپ کیلئے ازواج مطہرات کے گھروں میں کھانے پینے کی کوئی چیز تلاش کی گئی لیکن نہ ملی صحابہ کرام کے ہاں تلاش کی گئی تو نہ ملی آپ نے دو مرتبہ فرمایا جو مجھے کھانا کھلائے گا اللہ تعالی ٰاسے کھلائے گا تو انہوں نے کچھ نہ پایا جو آپ کو کھلائے تو وہ ایک بکری کے پاس گئے پس اس میں پہلے سے زیادہ دودھ پایا چنانچہ اس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوراک کے مطابق دودھ دوہا گیا۔ ‘‘

عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 291

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [86] باب زكاة الذهب والفضة ومال اليتيم · حديث 292

292 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ليس في أقل من عشرين مثقالا من الذهب زكاة, فإذا كان الذهب عشرين مثقالا ففيها نصف مثقال, فما زاد فبحساب ذلك, وليس فيما دون المئتي درهم صدقة, فإذا بلغت الورق مئتي درهم ففيها خمسة دراهم, فما زاد فبحساب ذلك. #300# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وكان أبو حنيفة يأخذ بذلك كله, إلا في خصلة واحدة, فما زاد على المئتي درهم فليس في الزيادة شيء حتى تبلغ أربعين درهما, فيكون فيها درهم, فما زاد على العشرين مثقالا من الذهب فليس فيه شيء حتى يبلغ أربع مثاقيل, فيكون فيه بحساب ذلك.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں بیس مثقال (ساڑھے سات تولے ) سے کم سونے میں زکوۃ نہیں جب سونا بیس مثقال کی مقدار کو پہنچ جائے تو اس میں نصف مثقال ہے اور جو اس سے زائد ہوتو اس کے حساب سے ہے اور دو سو درہم سے کم میں زکوۃ نہیں جب چاندی دو سو درہموں کو پہنچ جائے تو اس میں پانچ درہم میں اس سے زیادہ میں اس حساب سے ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور وہ ان تمام باتوں کو اختیار کر تے تھے البتہ ایک بات میں اختلاف فرمایا کہ آپ کے نزدیک دوسو سے زائد درہموں میں زکوۃ نہیں حتی کہ چالیس درہم ہو جائیں تو مزید ایک درہم ہو گا اور بیس مثقال سے زائد میں کچھ نہیں حتی کہ چار مثقال کو پہنچ جائے پس اس میں حساب ہو گا۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 292

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [86] باب زكاة الذهب والفضة ومال اليتيم · حديث 293

293 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ليس في مال اليتيم زكاة, ولا تجب عليه الزكاة حتى تجب عليه الصلاة. #301# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں یتیم کے مال میں زکوۃ نہیں اور نہ ہی اس ( یتیم ) پر زکوۃ واجب ہے حتی کہ اس پر نماز واجب ہو جائے ۔ ‘‘ ( بالغ ہو جائے ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 293

chevron_left Previous
1…181920…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter