Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [56] بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ · حديث 198

198 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ فَقُلْ يَرْحَمُنَا اللَّهُ وَإِيَّاكَ وَلْيَقُلِ الَّذِي عَطَسَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكَ»

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد الله کہے تو تم ’’ ير حمنا الله ويرحمک ‘‘ کہو (یعنی اللہ تعالیٰ ہم پراورتم پر رحم فرمائے ) پر چھینکنے والا کہے ’’ یغفرو الله لنا ولك “ (اللہ ہمیں اور تمہیں بخش دے)

«إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 198

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [57] بَابٌ: صَلَاةُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَالْخُطْبَةُ · حديث 199

199 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ، وَأَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعَةٌ لَا جُمُعَةَ عَلَيْهِمُ: الْمَرْأَةُ، وَالْمَمْلُوكُ، وَالْمُسَافِرُ، وَالْمَرِيضُ " #211# وقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: فَإِنْ فَعَلُوا أَجْزَأَهُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرما تے ہیں ہم سے خیلان رحمتہ اللہ علیہ اور ایوب بن عائذ الطائی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت محمد بن کعب القرظی رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا چار قسم کے لوگوں پر جمعہ نہیں ،عورت ، غلام ،مسافر اور بیمار ۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر یہ لوگ نماز جمعہ پڑھ لیں تو جائز ہوگا ( اور کفایت کرے گا نماز ظہر ساقط ہو جائے گی ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ ← أَبُو حَنِيفَةَ: فَإِنْ فَعَلُوا أَجْزَأَهُمْ ← أَرْبَعَةٌ لَا جُمُعَةَ عَلَيْهِمُ: الْمَرْأَةُ، وَالْمَمْلُوكُ، وَالْمُسَافِرُ، وَالْمَرِيضُ ← النَّبِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← غَيْلَانُ، وَأَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 199

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [57] بَابٌ: صَلَاةُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَالْخُطْبَةُ · حديث 200

200 - محمد قال: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنِ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: «أَمَا تَقْرَأُ سُورَةَ الْجُمُعَةِ؟» قَالَ: بَلَى وَلَكِنِّي لَا أَدْرِي كَيْفَ هِيَ؟ قَالَ: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: 11] «فَالْخُطْبَةُ قَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، إِلَّا أَنَّهَا خُطْبَتَانِ بَيْنَهُمَا جِلْسَةٌ خَفِيفَةٌ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے خطبہ جمعہ کے بارے میں پو چھا تو انہوں نے فرمایا کیا تم سورۂ جمعہ نہیں پڑھتے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں پڑھتا ہوں لیکن میں نہیں جانتا ہوں کے وہ کیسے ہے؟ فرمایا ( یوں ہے ) وإذا رأو تجارة أولهوا انفضواليها وتركوك قائما ( الجمعہ ۱۱) اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا اس کی طرف چل دیئے اور تمہیں خطبے میں کھڑا چھوڑگئے۔(ترجمہ کنز الایمان)حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں مگر یہ کہ یہ دو خطبے ہیں جن کے درمیان معمولی سا بیٹھنا ہے۔حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

«فَالْخُطْبَةُ قَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ» ← بلى، ولكني لا أدري كيف هي؟ ← أما تقرأ سورة الجمعة؟ ← الخطبة يوم الجمعة، ← عبد الله بن مسعود: أن رجلاً سأله ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 200

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [58] بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ · حديث 201

201 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ #212# عَنِ الرَّجُلِ يَخْرُجُ إِلَى الْمُصَلَّى فَيَجِدُ الْإِمَامَ قَدِ انْصَرَفَ أَيُصَلِّي؟ قَالَ: «لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُصَلِّيَ، وَإِنْ شَاءَ صَلَّى» قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَخْرُجْ إِلَى الْمُصَلَّى أَيُصَلِّي فِي بَيْتِهِ كَمَا يُصَلِّي الْإِمَامُ؟ قَالَ: «لَا» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، إِنَّمَا صَلَاةُ الْعِيدِ مَعَ الْإِمَامِ فَإِذَا فَاتَتْكَ مَعَ الْإِمَامِ فَلَا صَلَاةَ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو عیدگاہ کی طرف جاتا ہے تو امام کو یوں پاتا ہے کہ وہ نماز سے فارغ ہو چکا ہوتا ہے تو کیا وہ نماز پڑھے؟ انہوں نے فرمایا اس پر نماز لازم نہیں اور اگر چاہے تو پڑھے (حضرت حمادرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ) میں نے کہا اگر وہ عید گاہ کی طرف نہ جائے تو کیا گھر میں امام کی طرح نماز پڑھے؟ فرمایانہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں عید کی نما ز صرف امام کے ساتھ ہوتی ہے جب تم امام کے ساتھ نہ پڑھ سکو تو اب ( تنہا ) نمازنہیں پڑھ سکتے ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

«لَيْسَ عَلَيْهِ ← الرَّجُلِ يَخْرُجُ إِلَى الْمُصَلَّى فَيَجِدُ الْإِمَامَ قَدِ انْصَرَفَ أَيُصَلِّي؟ ← سَأَلْتُ إبْرَاهِيمَ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 201

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [58] بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ · حديث 202

202 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ وَمَعَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمُ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ - وَهُوَ أَمِيرُ الْكُوفَةِ يَوْمَئِذٍ - فَقَالَ: إِنَّ غَدًا عِيدَكُمْ فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَا: أَخْبِرْهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَأَمَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يُصَلِّيَ #213# بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَأَنْ يُكَبِّرَ فِي الْأُولَى خَمْسًا وَفِي الثَّانِيَةِ أَرْبَعًا وَأَنْ يُوَالِيَ بَيْنَ الْقِرَاءَتَيْنِ وَأَنْ يَخْطُبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ " #215# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَلَا بَأْسَ بأَنْ يَخْطُبَهَا قَائِمًا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں آپ مسجد کوفہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت موسی ٰبن اشعری رضی اللہ عنہا بھی تھے ۔ ولید بن عقبہ ابی معیط جو ان دنوں کوفہ کا امیر تھا وہاں آیا اور اس نے کہا کل تمہاری عید ہے تو میں کیا طریقہ اختیار کروں؟ تو ان دونوں حضرات نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے ابوعبد الرحمن ٰرضی اللہ عن ! اس کو طریقہ بتا ئیے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے بتایا کہ وہ اذان واقامت کے بغیر نماز پڑھائے پہلی رکعت میں پانچ اور دوسری میں چار تکبیریں کہے اور دونوں ( رکعات کی ) قراتوں کو ملائے اور نماز کے بعد سواری پر خطبہ دے۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں میں کھڑے ہو کر خطبہ دینے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ سواری پر نہ ہو ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مَعَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 202

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [58] بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ · حديث 203

203 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كَانَتِ الصَّلَاةُ فِي الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَقِفُ الْإِمَامُ عَلَى رَاحِلَتِهِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَيَدْعُو وَيُصَلِّي بِغَيْرِ أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ»

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہوتی تھی پھر امام نماز کے بعد سواری پر خطبہ دیتا تھا ۔ دعامانگتا اور نماز اذان اورا قامت کے بغیر پڑھاتا ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 203

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [59] بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ وَلرُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 204

204 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ يُرَخَّصُ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُرُوجِ فِي الْعِيدَيْنِ: الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى " قَالَ مُحَمَّدٌ: لَا يُعْجِبُنَا خُرُوجُهُنَّ فِي ذَلِكَ إِلَّا الْعَجُوزَ #217# الْكَبِيرَةَ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ عبدالکریم بن الی المخارق رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو دونوں عیدوں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے لئے جانے کی اجازت دیتے تھے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں اس مقصد کے لئے بوڑھی عورتوں کے علاوہ عورتوں کا جانا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ ‘‘ (یعنی مکروہ ہے ) حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

كان يرخص للنساء في الخروج في العيدين الفطر والأضحى. ← أُمِّ عَطِيَّةَ ← عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 204

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [59] بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ وَلرُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 205

205 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي قَوْمٍ شَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوْا هِلَالَ شَوَّالٍ فَقَالَ حَمَّادٌ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنْ جَاءُوا صَدْرَ النَّهَارِ فَلْيُفْطِرُوا وَلْيَخْرُجُوا، وَإِنْ جَاءُوا آخِرَ النَّهَارِ، فَلَا يَخْرُجُوا وَلَا يُفْطِرُوا حَتَّى الْغَدِ» #218# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، إِلَّا فِي خَصْلَةٍ وَاحِدَةٍ، يُفْطِرُونَ وَيَخْرُجُونَ مِنَ الْغَدِ إِذَا جَاءُوا مِنَ الْعَشِيِّ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے ان لوگوں کے بارے میں روایت کرتے ہیں جنہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے شوال کا چاند دیکھا حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے اس سلسلے میں حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اگر دن کے شروع میں گواہی دیں تو روزہ توڑ دیں اور نماز عید کے لئے جائیں اور اگر دن کے آخر میں گواہی دیں تو نہ نماز کے لئے جائیں نہ روزہ توڑیں حتی کہ دوسرے دن نماز پڑھیں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم بھی اس پر عمل کر تے ہیں لیکن ایک بات کو نہیں مانتے ہمارے نزدیک وہ روزہ توڑ دیں البتہ نماز دوسرے دن پڑھیں جب شہادت دن کے آخر میں ملے۔حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

ذَلِكَ ← حَمَّادٍ سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ ← إِبْرَاهِيمَ فِي قَوْمٍ شَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوْا هِلَالَ شَوَّالٍ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 205

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [60] بَابُ مَنْ يَطْعَمُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْمُصَلَّى · حديث 206

206 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ «يَطْعَمَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمُصَلَّى». يَعْنِي يَوْمَ الْفِطْرِ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں (حضرت ابراہیم کو ) یہ بات پسند تھی کہ عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے کچھ کھائیں یعنی عید الفطر کے دن ۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 206

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [60] بَابُ مَنْ يَطْعَمُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْمُصَلَّى · حديث 207

207 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ، «كَانَ يَطْعَمُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ وَلَا يَطْعَمُ يَوْمَ الْأَضْحَى حَتَّى يَرْجِعَ» #219# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ عیدالفطر کے دن عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے کچھ کھاتے اور عیدالاضحی ٰکے دن واپسی تک کچھ نہ کھائے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 207

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [61] بَابُ التَّكْبِيرِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ · حديث 208

208 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ «كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَلَمْ يَكُنْ أَبُو حَنِيفَةَ يَأْخُذُ بِهَذَا، وَلَكِنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ يُكَبِّرُ فِي الْعَصْرِ ثُمَّ يَقْطَعُ. والله أعلم

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ذوالحجہ کی نماز فجر تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک تکبیر کہتے تھے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں لیکن حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس بات کو اختیار نہیں کرتے وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کرتے ہیں وہ نو ذوالحجہ کی نماز فجر سے قربانی کے دن عصر کی نماز تک تکبیر کہتے تھے۔ نماز عصر کے بعد تکبیر کہتے پھر چھوڑ دیتے ۔ ‘‘

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 208

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [62] بَابُ السُّجُودِ فِي ص · حديث 209

209 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ «لَمْ يَكُنْ يَسْجُدُ فِي ص #221# وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ» لَمْ يَكُنْ يَسْجُدُ فِيهَا " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَكِنَّا نَرَى السُّجُودَ فِيهَا وَنَأْخُذُ بِالْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ )سورۃ ص میں سجدہ نہیں کرتے تھے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی یہی منقول ہے کہ آپ اس میں سجدہ نہیں کرتے تھے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک اس میں سجد ہ ہوگا اور ہم اس حدیث پر عمل کرتے ہیں جو حضور علیہ السلام سے مروی ہے ۔ ‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← مُحَمَّدٌ: وَلَكِنَّا نَرَى السُّجُودَ فِيهَا وَنَأْخُذُ بِالْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ» لَمْ يَكُنْ يَسْجُدُ فِيهَا ← إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ «لَمْ يَكُنْ يَسْجُدُ فِي ص ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 209

chevron_left Previous
1…111213…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter