Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 601

601 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تفسیر و تعمیل میں اپنے رکوع اور سجود میںیہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اللَّہُمَّ إِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ اغْفِرْ لِی ‘‘اے اللہ ،اے ہمارے رب !تو پاک ہے ،اپنی تعریف و تحمید کے ساتھ ،مجھے بخش دے ۔

كَانَ النَّبِيُّ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 601

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 602

602 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تفسیر و تعمیل میں اپنے رکوع اور سجود میں اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی‘‘اے اللہ ،اے ہمارے رب !تو پاک ہے ،اپنی تعریف و تحمید کے ساتھ ،مجھے بخش دے ۔

فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ [لِي] يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ. ← كَانَ النَّبِيُّ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 602

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 603

603 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تفسیر و تعمیل میں اپنے رکوع اور سجود میں اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ، اغْفِرْ لِی ‘‘اے اللہ ،اے ہمارے رب !تو پاک ہے ،اپنی تعریف و تحمید کے ساتھ ،مجھے بخش دے ۔

فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُكْثِرُ أَنْ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← مَنْصُورٌ، ← مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 603

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 604

604 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ نَزَلَتْ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ يُصَلِّي صَلَاةً إِلَّا قَالَ فِيهَا: «سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سے سورہ نصر یعنی {جب اللہ تعالیٰ کی مدد کی مدد آئے گی ۔}نازل ہوئی اس کے بعد میں نے کبھی اس دعا کے بغیر نماز پڑھتے نہیں دیکھا ،آپ یہ دعا پڑھاکرتے تھے :’’سُبْحَانَ رَبِّی وَبِحَمْدِہِ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی،میرا رب پاک ہے ، اسی کی تعریف ہے ،اے اللہ !!مجھے بخش دے ۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 604

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 605

605 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتسر سے گم پایا ،میں نے یہ گمان کیا کہ آپ کسی اور زوجہ مکرمہ کے پاس چلے گئے ہیں ،میں اپنے حجرے میں آپ کو تلاش کرنے لگی ، مجھے محسوس ہوا کہ آپ حالت نماز میں رکوع با سجدہ کی حالت میں ہیں او ر یہ دعا پڑ ھ رہے ہیں :’’سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ، لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ ‘‘تو پاک ہے ، اپنی حمد کے ساتھ ،تیرے سواء کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :میں نے کہا میرے ماں پاب آپ پر قربان ہوں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس شان میں ہیں اور جبکہ میں کچھ اور سوچ لیے ہوئے ہوں ۔

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 605

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 606

606 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ [ص:195] مِنْ شَعْبَانَ لَيْلَتِي، فَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَدْتَهُ فَأَخَذَنِي مَا يَأْخُذُ النِّسَاءَ مِنَ الْغَيْرَةِ فَتَلَفَّعْتُ بِمِرْطِي، أَمَا وَاللَّهِ مَا كَانَ مِرْطِي خَزًّا وَلَا قَزًّا وَلَا حَرِيرًا وَلَا دِيبَاجًا وَلَا قُطْنًا وَلَا كَتَّانًا، قِيلَ: وَمِمَّ كَانَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: كَانَ سَلَاوهُ شَعَرًا وَلُحْمَتُهُ مِنْ أَوْبَارِ الْإِبِلِ، قَالَتْ: فَطَلَبْتُهُ فِي حُجَرِ نِسَائِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَانْصَرَفْتُ إِلَى حُجْرَتِي فَإِذَا بِهِ كَالثَّوْبِ السَّاقِطِ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ سَاجِدًا وَهُوَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَخَيَالِي وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي، هَذِهِ يَدِي وَمَا جَنَيْتُ بِهَا عَلَى نَفْسِي، يَا عَظِيمُ يُرْجَى لِكُلِّ عَظِيمٍ، اغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيمَ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ» ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَعَادَ سَاجِدًا فَقَالَ: " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ، أَقُولُ كَمَا قَالَ أَخِي دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أُعَفِّرُ وَجْهِي فِي التُّرَابِ لِسَيِّدِي، فَحَقٌّ لَهُ إِنْ سَجَدَ " ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي قَلْبًا مِنَ الشَّرِّ نَقِيًّا لَا كَافِرًا وَلَا شَقِيًّا» قَالَتْ: ثُمَّ انْصَرَفَ فَدَخَلَ مَعِي فِي الْخَمِيلَةِ وَلِي نَفَسٌ عَالٍ فَقَالَ: «مَا هَذَا النَّفَسُ يَا حُمَيْرَاءُ؟» فَأَخْبَرْتُهُ فَطَفِقَ يَمْسَحُ بِيَدِهِ عَنْ رُكْبَتِي وَيَقُولُ: «وَبِئْسَ هَاتَيْنِ الرُّكْبَتَيْنِ مَاذَا لَقِيَتَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ» سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ فِي مَعْنَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ عَلَى عِبَادِهِ فَيَغْفِرُ لِأَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ» قَالَ: الْمُشَاحِنُ: هُمْ أَهْلُ الْبِدَعِ الَّذِينَ يُشَاحِنُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيُعَادُونَهُمْ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :شعبان کی پندرہویں رات تھی ، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں رات بسر کی ،جب آدھی رات ہوئی تو میں نے آپ کو بسترسے گم پایا ،اس حالت میں مجھے انہی خیالات نے گھیرلیا جس طرح کے خیالات ایسی حالت میں عورتوں کو آیا کرتے ہیں ،میں نے اپنے آپ کو چادرمیں لپیٹا ،اللہ کی قسم !میری چادروں میں کوئی اونی چادر،باریک ریشمی کی چادر،موٹے ریشم کی چادر یاکوئی نرم گرم چادر نہیں نہیں تھی ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہاگیاکہ پھر آ پ کے پاس کون سی چادر ہوا کرتی تھی ؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :وہ چادر بالوں کی اور اونٹ کی پشم کی تیاد کردہ تھی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی ازواج کے حجرات میں تلاش کیا ،لیکن آپ مجھے وہاں نہیں ملے ،میں واپس اپنے حجرے میں آگئی ، میں نے دیکھا ،گرے ہوئے کپڑے کی طرح زمین پر سجدے میں گرے ہوئے تھے اور اپنے سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے :’’سَجَدَ لَکَ سَوَادِی وَخَیَالِی وَآمَنَ بِکَ فُوَادِی، ہَذِہِ یَدِی وَمَا جَنَیْتُ بِہَا عَلَی نَفْسِی، یَا عَظِیمُ یُرْجَی لِکُلِّ عَظِیمٍ، اغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِیمَ، سَجَدَ وَجْہِی لِلَّذِی خَلَقَہُ وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ‘‘اللہ !میرے سر نے تیرے لیے سجدہ کیا ، میرے خیالالت نے تیرے لیے سجدہ کیا ، میرا دل تجھ پر ایمان لایا ، یہ میرا ہاتھ ہے میں نے اس کے ذریعے اپنے آپ پر کوئی ظلم نہیں کیا ،اے عظیم ذات !ہر عظیم کا م کے لیے تجھ سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں ،میرے بڑے گناہوں کو بخش دے ، میرے بڑے گناہوں کو بخش دے ، میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیا ،جس نے اس کے لیے کی سماعت کو پھاڑا ،جس نے اس کو بنائی جیسی نعمت سے نوازا ۔‘اس کے بعد آپ نے اپنا سر سجدے سے اٹھایا اور دوبارہ سجدے میں چلے گئے ،تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی :’’اَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَاَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْکَ، اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ‘‘اے اللہ !میں تیری رضا کے واسطے سے تیرے غضب سے پناہ چاہتا ہوں ، تیری معافی کے واسطے سے تیرے عذابوں سے پناہ چاہتا ہوں ،تیری رحمت کے واسطے سے تیری پکڑ کی پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ !میں تیری حمد اس طرح سے بیان نہیں کرسکتا جس طرح تونے خود اپنی حمد بیان کی ہے ،میں وہی دعا کرتا ہوں جو دعا میرے بھائی دائود نے کی تھی :میں اپنا چہرہ گرد آلود کرتا ہوں اپنے مالک کی رضا کے لیے (میں اپنے مالک کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرتا ہوں )اس کے لیے بہترین طریقہ یہی ہے اللہ کے لیے سجدہ کیا جائے ۔اس کے بعد آپ نے اپنا سر سجدے سے اٹھایا اور یہ دعا کی :اے اللہ !مجھے ایسا دل عطاء کر جو ہر طرح کے شر سے پاک ہو ،ایسا دل عطا نہ کرنا جو انکار ی اور بدبختی والا ہو ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے سے اٹھے اور میرے ساتھ چادر میں لیٹ گئے ،تب میرا دل دھڑ ک رہا تھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :اے عائشہ یہ کیا ہے ؟میں نے آپ کو ساری بات کی خبر دی ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ میرے گھٹنے پر پھیرنے لگے ،آپ نے فرمایا:یہ گھٹنے کتنے ہی برے ہیں ،ان کہ شعبان کی اس درمیانی شب میں کیا پیش آیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ تعالیٰ آسمان ِدنیا پر تشریف فرماہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کومعاف کردیتا ہے سوائے مشرک اور مشاحن کے ۔میں نے عبد اللہ بن احمد بن حنبل رحمہما اللہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے والدسے سنا وہاسی معنی میں حدیث بیا ن کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ عزوجل شعبان کی پندرہویں رات کو آسمان دنیا پر تشریف فرماہوتا ہے ،اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کو معاف کردیتا ہے سوائے مشرک اور مشاحن کے ۔مشاحن ایسے اہل بدعت ہیں جو اہل اسلام سے عداوت رکھتے ہیں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سليمان بن أبي كريمة ← عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 606

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 607

607 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ وَجِلَّهُ، وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجود میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہُ، دِقَّہُ وَجِلَّہُ، وَعَلَانِیَتَہُ وَسِرَّہُ، وَاَوَّلَہُ وَآخِرَہُ‘‘اے اللہ !میرے تمام گناہوں کو معاف کردے ،چھوٹے اور بڑے تمام گناہوں کو ،علانیہ اور چھپے ہوئے گناہوں کو پہلے گناہوں کواور بعد والے گناہوں کو معاف کردے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 607

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 608

608 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " مِنْ أَحَبِّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ وَهُوَ سَاجِدٌ: رَبِّ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي "

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ پسندیدہ کلام یہ ہے کہ بندہ سجدہ کی حالت میں یہ کلمات کہے :’’رَبِّ ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی‘‘اے میرے رب!میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ،تو مجھے بخش دے ۔

الْعَبْدُ وَهُوَ سَاجِدٌ: رَبِّ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ← مِنْ أَحَبِّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ ← عَلِيٍّ، ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 608

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْأَمْرِ بِالدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ · حديث 609

609 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ فَرَأَى النَّاسَ صُفُوفًا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کی جانب سے پردہ اٹھایا ، آپ نے دیکھا کہ لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی امامت میں صفیں باندھے کھڑے ہیں ،تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اب نبوت کی بشارتوں میں سے صرف نیک اور صالح خواب باقی ہیں ، جن کو مسلمان شخص دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں ،آپ نے فرمایا:رکوع اور سجدہ کی حالت میں مجھے قرآن مجید کی قرأت کرنے سے منع کردیا گیا ، رکوع کرو تو رکوع میں اپنے رب کی عظمت کوبیان کرو ،اور جب تم سجدہ کرو ،تو سجدہ میں دعا کرنے کی بھوپورکوشش کرو ،زیادہ لائق ہے کہ سجدہ میں کی ہوئی دعا قبول کرلی جائے ۔

رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ السِّتَارَةَ فَرَأَى النَّاسَ صُفُوفًا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 609

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْأَمْرِ بِالدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ · حديث 610

610 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ»

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا::جب تم رکوع کرو تو رکوع میں اپنے رب کی عظمت کوبیان کرو ،اور جب تم سجدہ کرو ،تو سجدہ میں دعا کرنے کی بھوپورکوشش کرو ،زیادہ لائق ہے کہ سجدہ میں کی ہوئی دعا قبول کرلی جائے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنُ عَائِشَةَ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 610

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْأَمْرِ بِالدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ · حديث 611

611 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حالت سجدہ میں بندہ اپنے رب عزوجل کے سب سے زیادہ قریب تر ہوتا ہے ،اس لیے سجدہ کی حالت میں کثرت سے دعا کیا کرو ۔

«أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 611

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْأَمْرِ بِالدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ · حديث 612

612 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ أَقْرَبَ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ» قَالَ الطَّبَرَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو صَالِحٍ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَرَوَاهُ عَنُ اللَّيْثِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ أَيْضًا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یقینارسو ل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حالت سجدہ میں بندہ اپنے رب عزوجل کے سب سے زیادہ قریب تر ہوتا ہے ،اس لیے سجدہ کی حالت میں کثرت سے دعا کیا کرو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 612

chevron_left Previous
1…505152…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter