Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1050

1050 - حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى الْمُقْرِئُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَاجَتِهِ وَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ، فَلَقِيَ ابْنَ حُنَيْفٍ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ، فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَقُلِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا نَبِيِّ الرَّحْمَةِ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ فَيَقْضِي لِي حَاجَتِي، وَتُذْكُرُ حَاجَتَكَ " حَتَّى أَرْوَحَ مَعَكَ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ، ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَهُ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ فَقَالَ: حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ وَقَضَاهَا لَهُ، وَقَالَ لَهُ: مَا فَهِمْتَ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَ السَّاعَةُ، وَقَالَ لَهُ: مَا كَانَ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ فَسَلْ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ عُثْمَانَ فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَقَالَ لَهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مَا كَانَ يَنْظُرُ إِلَيَّ فِي حَاجَتِي وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتُهُ فِي، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: مَا كَلِمَتُهُ فِيكَ، وَلَكِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ ضَرِيرٌ فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَتَصْبِرُ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ [ص:321] فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ: «ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ادْعُ بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ» قَالَ ابْنُ حُنَيْفٍ: وَاللَّهِ مَا تَفَرَّقْنَا حَتَّى دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضَرَرٌ قَطُّ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: خَالَفَ شُعْبَةُ رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ فَرَوَاهُ عَنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس اکثر آیا کرتا تھا اور آکر ان سامنے اپنی پریشانی کا اظہار کیا کرتا تھا ،جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس کی طرف توجہ نہیں دیاکرتے تھے اور نہ ہی اس کی پریشانیوں کو دیکھتے تھے۔ ایک دن وہ شخص ابن حنیف کو ملا اور ان کے سامنے اس بات کا شکوہ کیا ۔حضرت عثمان بن حنیف نے اس سے کہا :تم میضاء کے کنویں پر جاؤ ، روضوء ا کرو اورمسجد میںآکر مسجد میں آ کر دو رکعت نماز ادا کرو اور پھر اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا کرو: اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ: یَا مُحَمَّدُ إِنِّی اَتَوَجَّہُ بِکَ إِلَی رَبِّکَ فَیَقْضِی لِی حَاجَتِی، وَتُذْکُرُ حَاجَتَک،اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف آپ کے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں، (اے نبی)میں آپ کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا: تاکہ میری اس ضرورت کو پورا کردیا جائے ، اے اللہ!تو میرے حق میں ان کی سفارش قبول فرما۔وہ شخص چلا گیا اس نے وہی کیا جواس کو کو عثمان بن حنیف نے کہا تھا: اس کے بعد وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے دروازے پر آیا، دروازے پہ دربان آیا، اس نے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا اور اس کو لے جا کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے چٹائی پربٹھا دیا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہاری حاجت کیاہے؟ اس نے اپنی حاجت کو بیان کیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی ضرورت کو پورا کیا اور اسے کہا میں تمہاری حاجت کوپہلے نہیں سمجھ سکا، یہاں تک کہ آج کا وقت آگیا ،اس سے کہا : تمہاری جو بھیضرورت ہے ،آج مجھ سے سوال کرو، مجھ سے مانگو ، وہ آدمی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکل کر عثمان بن حنیف کو ملا اور ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور آسمان کی طرف دیکھتے تھے، نا تومیری طرف توجہ کرتے تھے اور نہ میری ضروریات کے بارے میں پوچھتے تھے ،یہاں تک کہ میں نے یہ کلمہ کہا۔عثمان بن حنیف نے پوچھا :آج انہوں نے تمہیں کیا کہا؟اس نے بتانا شروع کیا کہ وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ کے پاس ایک نابینا آدمی آیا اس کی بصارت ختم ہو چکی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: صبر کرے گا اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میری رہنمائی کرنے والا نہیں ہے، لانے لے جانے والا کوئی نہیں ہے، میرے لیے گزر بسر مشکل ہو چکی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہی فرمایا تھا،میضاء کے کنویں پر جاؤ وضوء کرو، دو رکعت نماز ادا کرو، پھر انہی کلمات کے ساتھ دعا کرو کرو۔ ابن حنیف کہتے ہیں :اللہ کی قسم! ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر نہیں گئے تھے کہ وہ آدمی ہمارے پاس واپس آیا تو اس کی حالت یہ تھی گویا وہ کبھی نابینا ہوا ہی نہیں۔

عمه عثمان بن حنيف ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← طَاهِرُ بْنُ عِيسَى الْمُقْرِئُ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1050

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1051

1051 - حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔

النَّبِيِّ بِمَعْنَاهُ ← عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ← إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1051

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1052

1052 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ عَلِيُّ: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ عَلِيُّ: وَمَا أَرَى رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ إِلَّا قَدْ حَفِظَهُ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: وَرَوَاهُ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى عُثْمَانَ

ایک روایت میں عثمان بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:روح بن قاسم نے اس کو یاد کرلیا تھا ۔دوسری روایت میںحضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کام تھا ۔

جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى عُثْمَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الطَّبَرَانِيُّ: وَرَوَاهُ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ← عَلِيُّ: وَمَا أَرَى رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ إِلَّا قَدْ حَفِظَهُ ← عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← عَلِيُّ: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، ← رَوَى شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1052

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1053

1053 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَهِمَ عَوْنٌ فِي الْحَدِيثِ وَهْمًا فَاحِشًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کام تھا ۔۔امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عون کو حدیث بیان کرنے میں وہم فاحش لاحق ہوا ہے ۔

الطَّبَرَانِيُّ وَهِمَ عَوْنٌ فِي الْحَدِيثِ وَهْمًا فَاحِشًا ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← مِثْلَ حَدِيثِ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى عُثْمَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1053

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1054

1054 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا فَرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، بِالْأَبْوَاءِ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ يَحْيَى الْحَاطِبِيُّ، حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَمِّهِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَدَوْنَا يَوْمًا غَدَاةً مِنَ الْغَدَوَاتِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كُنَّا فِي مَجْمَعِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَبَصُرْنَا بِأَعْرَابِيٍّ آخِذٍ بِخِطَامِ بَعِيرِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:322] وَنَحْنُ حَوْلَهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ فَقَالَ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ قَالَ: وَرَغَا الْبَعِيرُ، وَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ حَرَسِيُّ، فَقَالَ الْحَرَسِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ سَرَقَ الْبَعِيرَ، فَرَغَا الْبَعِيرُ سَاعَةً وَحَنَّ فَأَنْصَتَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ رُغَاهَ وَحَنِينَهُ فَلَمَّا هَدَأَ الْبَعِيرُ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَرَسِيِّ فَقَالَ: «انْصَرِفْ عَنْهُ، فَإِنَّ الْبَعِيرَ يَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ كَاذِبٌ» فَانْصَرَفَ الْحَرَسِيُّ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ: «أَيُّ شَيْءٍ قُلْتَ حِينَ جِئْتَنِي؟» قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى صَلَاةٌ، اللَّهُمَّ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى بَرَكَةٌ، اللَّهُمَّ وَسَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى سَلَّامٌ، اللَّهُمَّ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا حَتَّى لَا تَبْقَى رَحْمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَاهَا لِي وَالْبَعِيرُ يَنْطِقُ بِعُذْرِهِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ سَدُّوا الْأُفُقَ»

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں موجود تھے۔ ہم نے ایک اعرابی کو دیکھا ۔اس نے ایک اونٹ کی لگام کو تھما ہوا تھا، وہ چلتا ہوا ہماری طرف آیا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر رک گیا۔تب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس موجود تھے۔ اس نے کہا: اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ! آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور اس سے پوچھا: تمہارا کیا حال ہے ؟ اس کے ساتھ ہی اس کا اونٹ بلبلانے لگا ،اسی دوران ایک اور آدمی وہاں آیا گویا وہ حرسی تھا، اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس اعرابی نے اونٹ چوری کیا ہے ۔اس پر اونٹ رونے اور بلبلانے لگا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خاموش کیا، آپ اس کے بلانے اور اس کے رونے کی آواز کو سن رہے تھے ،جب اونٹ خاموش ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا :تم ان سے الگ ہو جائو۔ یہ اون تیرے خلاف گواہی دے رہا ہے ہے،وہ حرسی چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعرابی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے کہا: جب تو میرے پاس آیا تھا تونے آتے وقت کونسی دعا پڑھی تھی، اس نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!میں نے آتے ہوئے آپ پر ان الفاظ میں درود پڑھا تھا: اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا تَبْقَی صَلَاۃٌ، اللَّہُمَّ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا تَبْقَی بَرَکَۃٌ، اللَّہُمَّ وَسَلِّمْ عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا یَبْقَی سَلَّامٌ، اللَّہُمَّ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا حَتَّی لَا تَبْقَی رَحْمَۃٌ،اے اللہ !محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرما! ایسا درود کہ درود کی کوئی قسم باقی نہ رہے۔اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکتیں نازل فرما!کہ ایک برکت بھی باقی نہ رہے۔اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی نازل فرما !یہاں تک کہ سلامتی کا ذرا بھی باقی نہ رہے۔اے اللہ !محمد صلی اللہ علیہ وسلمپر رحمتوں کا نزول فرما! کہ کوئی بھی رحمت باقی نہ رہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے اس کو اسی وجہ سے میرے لئے ظاہر کردیا اور اونٹ نے بول کر تمہاری بے گناہی ثابت کردی بولنے لگا اور بے شک اللہ کے فرشتوں نے افق کو اس کے لیے بند کر دیا تھا

عَمِّهِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ← أَبِيهِ إِسْمَاعِيلَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← هارون بن يحيى الحاطبي ← فَرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1054

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1055

1055 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمُّوسِ بْنِ نَصْرٍ الْقَطَّانُ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُوسَى الْأَزْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءُوا بِرَجُلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدُوا عَلَيْهِ أَنَّهُ سَرَقَ نَاقَةً لَهُمْ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ فَوَلَّى الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ صَلِّي عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْ صَلَاتِكِ شَيْءٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْ بَرَكَاتِكَ شَيْءٌ، وَسَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنَ السَّلَامِ شَيْءٌ، فَتَكَلَّمَ الْجَمَلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُ بَرِيءٌ مِنْ سَرِقَتِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَأْتِينِي بِالرَّجُلِ؟» فَابْتَدَرَهُ سَبْعُونَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَجَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا هَذَا مَا قُلْتَ آنِفًا وَأَنْتَ مُدْبِرٌ؟» فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ نَظَرْتُ إِلَى الْمَلَائِكَةَ يَخْتَرِقُونَ سِكَكَ الْمَدِينَةِ حَتَّى كَادَ أَنْ يَحُولَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ الْمَلَائِكَةُ " ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَرِدَنَّ عَلَى الصِّرَاطِ وَوَجْهُكَ أَضْوَأُ مِنَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ایک آدمی کو پکڑ کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے ،وہ سب گواہی دے رہے تھے کہ اس شخص نے ان کی اونٹنی چرائی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ جب وہ شخص وہاں سے واپس پلٹا تو اس نے ان الفاظ میں دعا کی :اللَّہُمَّ صَلِّی عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا یَبْقَی مِنْ صَلَاتِکِ شَیْء ٌ، وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا یَبْقَی مِنْ بَرَکَاتِکَ شَیْء ٌ، وَسَلِّمْ عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا یَبْقَی مِنَ السَّلَامِ شَیْئٌ،اے اللہ !محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرما! کہ تیرا کوئی درود باقی نہ رہے۔اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکتیں نازل فرما!کہ تیری برکتوں میں سے ایک برکت بھی باقی نہ رہے۔اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی نازل فرما !یہاں تک کہ تیری سلامتی میں سے ایک سلامتی باقی نہ رہے۔اس کے خلاف گواہی دینے والوں میں سے ایک نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !وہ شخص میری چوری سے بری ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس شخص کو میرے پاس کون لے کر آئے گا ؟بدری صحابہ میں سے ستر صحابہ اس کی طرف لپکے ۔ اس کو نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے ، آپ نے اس سے پوچھا :اے اللہ کے بندے !تو نے ابھی واپس جاتے ہوئے کون سی دعا کی تھی ؟اس نے اپنی طرف سے کی ہوئی دعا کے بارے میں بتایا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسی وجہ سے میں نے اللہ کے فرشتوں کو دیکھا ہے وہ مدینہ کی گلیوں کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں ، یہاں تک وہ تیرے پاس پہنچنے والے تھے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:تو میرے پاس صراط پر اس حال میں آئے گا کہ تیرا سر ما کامل سے زیادہ روشن ہوگا ۔

جَاءُوا بِرَجُلٍ إِلَى النَّبِيِّ فَشَهِدُوا عَلَيْهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ مُوسَى الْأَزْدِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ الْحِمْصِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمُّوسِ بْنِ نَصْرٍ الْقَطَّانُ الْهَمْدَانِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1055

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1056

1056 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَخَوَّفَ أَحَدُكُمُ السُّلْطَانَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانٍ - تُسَمِّي الَّذِي تُرِيدُ - وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب تم میں سے کسی ایک کو کسی بادشاہ کی طرف ڈر پیدا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ ان الفاظ میں دعا کرے :اللَّہُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، کُنْ لِی جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانٍ۔تُسَمِّی الَّذِی تُرِیدُ۔وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَاَتْبَاعِہِمْ اَنْ یَفْرُطَ عَلَیَّ اَحَدٌ مِنْہُمْ، عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاوُکَ وَلَا إِلَہَ غَیْرُکَ،اے اللہ !اے ساتوں آسمانوں کے رب ،عرش عظیم کے رب !تو میرامدد گاربن جا ، فلاں شخص کے شر کے مقابلے میں ۔۔ اس آدمی کا نام لے کر دعا کرے جس شر کے حوالے سے ڈر ہو۔۔جنات کے شر سے کا فی ہوجا اور اور انسانوں کے شر سے کافی ہوجا اور ان کے پیرورکارلوگوں کے شرسے کافی ہوجا ، کہ ان میں سے کوئی بھی مجھ پر ظلم و زیادتی کرے ۔تیری مدد بلند تر ہے تیری ثنا ء جلالت والی ہے اور تیرے سوا عبادت کے لائق نہیں ہے ۔

النَّبِيِّ ← جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← عتبة بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1056

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1057

1057 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَخَوَّفْتَ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَقُلِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَرَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ فُلَانِ وَأَشْيَاعِهُ وَأَتْبَاعِهِ أَنْ يَفْرُطُوا عَلَيَّ أَوْ أَنْ يَطْغَوْا عَلَيَّ أَبَدًا، عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب تم میں سے کسی ایک کو کسی کی طرف ڈر پیدا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ ان الفاظ میں دعا کرے :اللَّہُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَنْ فِیہِنَّ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَرَبَّ جِبْرِیلَ وَمِیکَائِیلَ وَإِسْرَافِیلَ، کُنْ لِی جَارًا مِنْ فُلَانِ وَاَشْیَاعِہُ وَاَتْبَاعِہِ اَنْ یَفْرُطُوا عَلَیَّ اَوْ اَنْ یَطْغَوْا عَلَیَّ اَبَدًا، عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاوُکَ، وَلَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِکَ،اے اللہ !اے ساتوں آسمانوں کے رب اور جو کچھ ان میں ہے ان کے رب ،اور اے عرش عظیم کے رب !اے جبریل ، میکائیل اور اسرافیل کے رب !تو میرامدد گاربن جا ، فلاں شخص کے شر کے مقابلے سے ، اس جیسوں کے شر اوران کے پیرورکارلوگوں کے شرسے کافی ہوجا کہ ان میں سے کوئی کبھی بھی مجھ پر ظلم و زیادتی کرے ۔تیری مدد بلند تر ہے تیری ثنا ء جلالت والی ہے اور تیرے سوا عبادت کے لائق نہیں ہے ،نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی ہمت تیری توفیق کے ساتھ ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1057

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1058

1058 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ صُرِفَ إِلَيْهِ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْجِنِّ شُعْلَةً مِنْ نَارٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: " يَا مُحَمَّدُ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ طُفِيَتْ شُعْلَتُهُ وَانْكَبَّ لِمِنْخَرِهِ، قُلْ: أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّةِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ، وَمَا تَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقٍ يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ "

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنات سے ملاقات والی میںاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی ایک جماعت گئے تھے ۔تب جنات میں سے ایک جن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کا شعلہ لے کر آیا ، حضرت جبریل امین علیہ السلام نے آپ سے کہا:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں آپ کو ایسے کلمات نہ سکھلائوں کہ جب آپ وہ کلمات کہیں گے تو اس کی آگ کا شعلہ بجھ جائے گا اور یہ جن اپنے نتھنے کے بل گرجائے گا ،آپ یہ کلمات کہیں:اَعُوذُ بِوَجْہِ اللَّہِ الْکَرِیمِ وَکَلِمَاتِہِ التَّامَّۃِ الَّتِی لَا یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَاء ِ، وَمَا یَعْرُجُ فِیہَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَاَ فِی الْاَرْضِ، وَمَا تَخْرُجُ مِنْہَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ إِلَّا طَارِقٍ یَطْرُقُ بِخَیْرٍ یَا رَحْمَنُ،میں اللہ کے کریم چہرے اور کے کامل کلمات کے ذریعے پناہ مانگتاہوں، اس کی تمام مخلوقات ، بالخصوص ان کی ذریت و نسل اور ہر قسم کے حیوانات کی برائی سے کہ ان سے نہ کوئی نیک تجاوز کرتا ہے اور نہ کوئی بد، اور آسمان سے اترنے والی ہر چیز کے شر سے اور اس میں چڑھنے والی ہر چیز کے شر سے اور زمین میں پھیلنے والی ہر نسل سے اور اس سے نکلنے والی ہر چیز کے شر سے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے اور ہر کھٹکھٹانے والے کے شر سے ، مگر وہ آنے والا جو خیر و بھلائی کے ساتھ آئے، اے رحمن۔‘‘

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَرِيفٍ، ← أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1058

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1059

1059 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُهَاجِرٍ الْقُرَشِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ الْعَمَّارُ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسِ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ وَهُوَ يَعْرِضُ خَيْلًا وَعِنْدَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ أَيْنَ هَذِهِ مِنَ الْخَيْلِ الَّتِي كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: تِلْكَ وَاللَّهِ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ} [الأنفال: 60] وَهَذِهِ هُيِّئَتْ بِالرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ، فَغَضِبَ الْحَجَّاجُ وَقَالَ: لَوْلَا كِتَابُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ إِلَيَّ لَفَعَلْتُ وَلَفَعَلْتُ، فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ: إِنَّكَ لَنْ تُطِيقَ ذَلِكَ لَقَدْ [ص:324] عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْتَرِزُ بِهِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ وَمِنْ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، فَجَثَا الْحَجَّاجُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ: عَلِّمْنِيهِنَّ يَا عَمُّ، فَقَالَ: لَسْتَ لَهَا بِأَهْلٍ قَالَ: فَدَسَّ إِلَى عِيَالِهِ وَوَلَدِهِ فَأَبَوْا عَلَيْهِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ: قَالَ أَبِي: حَدَّثَنِي بَعْضُ بَنِيهِ أَنَّهُ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي وَدِينِي، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى مَا أَعْطَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى أَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ رَبِّي، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، أَجِرْنِي مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ، وَمِنْ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ»

محمد بن سہل عمار بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ حجاج بن یوسف کی مجلس میں موجود تھے ، ان کے سامنے ایک گھوڑے کو پیش کیا گیا ، اس کے پاس انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، اس نے کہا:اے ابو حمزہ !یہ گھوڑا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کے مقابلے میں کہاں ہے ؟انہوں نے کہا:اللہ کی قسم !وہ تواللہ تعالیٰ حکم کے موافق ہے جوکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے :{تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو۔}(الانفال :60)یہ تو شہرت اور ریاکار ی کے لیے ہے ۔اس پر حجاج غضبناک ہوگیا ، اس نے کہا:اگر امیر المؤمنین عبد الملک کا خط میرے پاس نہ آیاہوتا تو میں یہ کرتا وہ کرتا ، اس پر ضحرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا:تو ایسا کچھ بھی نہیں کرسکتا ۔ اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تحفظ اور بچائو کے لیے حرز سکھلائے ہیں جن کے ذریعے ہر شیطان رجیم اور سرکش اور باغی حکمران وغیرہ کے شر سے بچا جاسکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی حجاج حضرت انس رضی اللہ عنہ کے سامنے دوزانو ہوکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ اے چچا !وہ دعا مجھے بھی سکھلادیں ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :تم وہ دعا سیکھنے کے لائق نہیں ہو ۔ اس کے بعد اس نے اہل و عیال اور اپنے بچوں کو اس سفارش میں شامل کیا ، انہوں نے اس پر انکار کردیا ۔محمد بن سہل کہتے ہیں :میرے والد نے بتایا کہ مجھے انس رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں سے کسی نے بتایا کہ اس کے کلمات اس طرح سے ہیں :’’ بِسْمِ اللَّہِ عَلَی اَہْلِی وَمَالِی، اللَّہُ اَکْبَرُ، اللَّہُ رَبِّی، اللَّہُ اَکْبَرُ، اللَّہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، اَجِرْنِی مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَجِیمٍ، وَمِنْ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ{ إِنَّ وَلِیِّیَ اللَّہُ الَّذِی نَزَّلَ الْکِتَابَ وَہُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ}اللہ کے نام کے ساتھ اپنے اہل و عیال پر ،اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ ہی میرا رب ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ میرا رب ہے ، میں اس کے ساتھ کچھ بھی شرک نہیں کرتا ، مجھے ہر شیطان رجیم سے محفوظ فرما ، مجھے ہر سرکش اور عناد رکھنے والے سے محفوظ فرما ، بلاشبہ میرا ولی اور کارساز اللہ ہے ، جس نے کتاب کو نازل کیا ،اور ہی صالحین کا والی ہے ، اگر تم پھر گئے تو مجھے اللہ ہی کافی ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، اسی پر میں نے توکل کیا اور وہ عظیم عرش کا رب ہے ۔‘‘

أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ الْعَمَّارُ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُهَاجِرٍ الْقُرَشِيُّ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1059

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1060

1060 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ فَقُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَعَزُّ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمُمْسِكُ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ وَجُنُودِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَأَشْيَاعِهِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، اللَّهُمَّ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ "

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم کسی ظالم بادشاہ کے سامنے آئو اور تمہیں اس بات کا ڈر ہوکہ وہ تم پر حملہ آور ہوگا تو یہ دعا پڑھو:اَعُوذُ بِاللَّہِ الَّذِی لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ الْمُمْسِکُ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ اَنْ یَقَعْنَ عَلَی الْاَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِہِ مِنْ شَرِّ عَبْدِکَ فُلَانٍ وَجُنُودِہِ وَاَتْبَاعِہِ وَاَشْیَاعِہِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، اللَّہُمَّ کُنْ لِی جَارًا مِنْ شَرِّہِمْ، جَلَّ ثَنَاوُکَ وَعَزَّ جَارُکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ لَا إِلَہَ غَیْرُکَ،اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات سے زیادہ عزتوں والا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ عزتوں والا ہے جس سے میں ڈر اورکانپ رہا ہوں ، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، وہ سات آسمانوں کو تھامنے والا ہے کہ وہ زمین پر گرنہ جائیں ، مگر اسی کی اجازت اور اس کے حکم سے ، تیرے فلاں بندے کے شر سے ، اس کے لشکر اور اس کے پبروکاروں کے شر اور جنات اور انسانوں میں سے ان جیسے لوگوں کے شر سے ۔ا ے اللہ !ان کے شر کے مقابلے میں تو میرا مدد گار بن جا ، تیری تعریف بلند ہے اور تیری مدد عزت والی ہے ، تیرا نام بابرکت ہے ،تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔تین بار یہ دعا پڑھے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1060

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1061

1061 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنْ يُوسُفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ دَخَلَ عَلَى الْمَلِكِ قَالَ: «إِنِّي أَسْأَلُكَ بِخَيْرِكَ مِنْ خَيْرِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ غَيْرِهِ» ، فَأَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الَّذِي أَعْطَاهُ

عبد الرحمن بن زیاد بن انعم کہتے ہیں :مجھے یہ بات پہنچی کہ اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام جب عزیز مصر کو دیکھا تو یہ دعا کی :إِنِّی اَسْاَلُکَ بِخَیْرِکَ مِنْ خَیْرِہِ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ وَشَرِّ غَیْرِہِ،اے اللہ !میں تیری خیر کے ساتھ اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس کے غیر کے شر سے ۔

بَلَغَنِي أَنْ يُوسُفَ حِينَ دَخَلَ عَلَى الْمَلِكِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1061

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter