كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1050
1050 - حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى الْمُقْرِئُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَاجَتِهِ وَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ، فَلَقِيَ ابْنَ حُنَيْفٍ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ، فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَقُلِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا نَبِيِّ الرَّحْمَةِ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ فَيَقْضِي لِي حَاجَتِي، وَتُذْكُرُ حَاجَتَكَ " حَتَّى أَرْوَحَ مَعَكَ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ، ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَهُ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ فَقَالَ: حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ وَقَضَاهَا لَهُ، وَقَالَ لَهُ: مَا فَهِمْتَ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَ السَّاعَةُ، وَقَالَ لَهُ: مَا كَانَ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ فَسَلْ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ عُثْمَانَ فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَقَالَ لَهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مَا كَانَ يَنْظُرُ إِلَيَّ فِي حَاجَتِي وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتُهُ فِي، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: مَا كَلِمَتُهُ فِيكَ، وَلَكِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ ضَرِيرٌ فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَتَصْبِرُ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ [ص:321] فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ: «ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ادْعُ بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ» قَالَ ابْنُ حُنَيْفٍ: وَاللَّهِ مَا تَفَرَّقْنَا حَتَّى دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضَرَرٌ قَطُّ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: خَالَفَ شُعْبَةُ رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ فَرَوَاهُ عَنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس اکثر آیا کرتا تھا اور آکر ان سامنے اپنی پریشانی کا اظہار کیا کرتا تھا ،جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس کی طرف توجہ نہیں دیاکرتے تھے اور نہ ہی اس کی پریشانیوں کو دیکھتے تھے۔ ایک دن وہ شخص ابن حنیف کو ملا اور ان کے سامنے اس بات کا شکوہ کیا ۔حضرت عثمان بن حنیف نے اس سے کہا :تم میضاء کے کنویں پر جاؤ ، روضوء ا کرو اورمسجد میںآکر مسجد میں آ کر دو رکعت نماز ادا کرو اور پھر اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا کرو: اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ: یَا مُحَمَّدُ إِنِّی اَتَوَجَّہُ بِکَ إِلَی رَبِّکَ فَیَقْضِی لِی حَاجَتِی، وَتُذْکُرُ حَاجَتَک،اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف آپ کے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں، (اے نبی)میں آپ کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا: تاکہ میری اس ضرورت کو پورا کردیا جائے ، اے اللہ!تو میرے حق میں ان کی سفارش قبول فرما۔وہ شخص چلا گیا اس نے وہی کیا جواس کو کو عثمان بن حنیف نے کہا تھا: اس کے بعد وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے دروازے پر آیا، دروازے پہ دربان آیا، اس نے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا اور اس کو لے جا کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے چٹائی پربٹھا دیا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہاری حاجت کیاہے؟ اس نے اپنی حاجت کو بیان کیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی ضرورت کو پورا کیا اور اسے کہا میں تمہاری حاجت کوپہلے نہیں سمجھ سکا، یہاں تک کہ آج کا وقت آگیا ،اس سے کہا : تمہاری جو بھیضرورت ہے ،آج مجھ سے سوال کرو، مجھ سے مانگو ، وہ آدمی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکل کر عثمان بن حنیف کو ملا اور ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور آسمان کی طرف دیکھتے تھے، نا تومیری طرف توجہ کرتے تھے اور نہ میری ضروریات کے بارے میں پوچھتے تھے ،یہاں تک کہ میں نے یہ کلمہ کہا۔عثمان بن حنیف نے پوچھا :آج انہوں نے تمہیں کیا کہا؟اس نے بتانا شروع کیا کہ وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ کے پاس ایک نابینا آدمی آیا اس کی بصارت ختم ہو چکی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: صبر کرے گا اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میری رہنمائی کرنے والا نہیں ہے، لانے لے جانے والا کوئی نہیں ہے، میرے لیے گزر بسر مشکل ہو چکی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہی فرمایا تھا،میضاء کے کنویں پر جاؤ وضوء کرو، دو رکعت نماز ادا کرو، پھر انہی کلمات کے ساتھ دعا کرو کرو۔ ابن حنیف کہتے ہیں :اللہ کی قسم! ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر نہیں گئے تھے کہ وہ آدمی ہمارے پاس واپس آیا تو اس کی حالت یہ تھی گویا وہ کبھی نابینا ہوا ہی نہیں۔
عمه عثمان بن حنيف ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← طَاهِرُ بْنُ عِيسَى الْمُقْرِئُ الْمِصْرِيُّ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1050
