كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ لُبْسِ الثِّيَابِ · حديث 393
393 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَالِسًا يَوْمًا فِي جَمْعٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ دَعَا بِقَمِيصٍ لَهُ جَدِيدٍ فَلَبِسَهُ، فَمَا أَحْسَبُهُ بَلَغَ تَرَاقِيهِ حَتَّى قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي» ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ مِثْلَ مَا قُلْتُ، ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٌ يَلْبَسُ ثَوْبًا جَدِيدًا، ثُمَّ يَقُولُ مِثْلَ مَا قُلْتُ، ثُمَّ يَعْمَدُ إِلَى شَمْلٍ مِنْ أَخْلَاقِهِ الَّتِي وَضَعَ فَيَكْسُوهُ إِنْسَانًا مُسْلِمًا مِسْكِينًا فَقِيرًا، لَا يَكْسُوهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا لَمْ يَزَلْ فِي حِرْزِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَفِي ضَمَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَفِي جِوَارِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دَامَ عَلَيْهِ سِلْكٌ وَاحِدٌ حَيًّا وَمَيِّتًا
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن صحابہ کرام کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ،اسی دوران انہوں نے اپنے لئے ایک لباس منگوایا، اس کو زیب تن کیا ،میرا خیال ہے کہ جب ان کی وہ قمیص ان کے حلق تک پہنچ گئی تو انہوں نے یہ دعائیہ الفاظ کہے:الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا اُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی وَاَتَجَمَّلُ بِہِ فِی حَیَاتِی ، تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں،کہ جس ذات نے مجھے یہ لباس مہیا کیا کہ جس کے ساتھ میں اپنے ستر کو چھپا سکتا ہوں ہو اور اپنی زندگی میں خوبصورتی حاصل کر سکتا ہوں۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نیا لباس پہنا اور آپ نے بھی یہی دعائیہ الفاظ کہے تھے ،جو میں نے کہے ہیں ،پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے جو بھی مسلمان آدمی نیا لباس پہنتا ہے اس کے بعد یہ دعا کر لیتا ہے جو دعا کے الفاظ ابھی میں نے کہے ہیں پھر اس کے بعد وہ وہ اپنے پرانے لباس کو جو اس نے اتارا تھا وہ لباس کسی مسلمان مسکین و فقیر کو پہنا دیتا ہے ،اس کو صرف اللہ عزوجل کی رضا کے لئے دیتا ہے تووہ شخص اللہ عزوجل کی حفاظت میں چلا جاتا ہے ، اللہ کی پناہ میں آجاتا ہے اور اللہ کی ہمسائیگی میں چلا جاتا ہے جب تک کہ اس لباس کا آخری حصہ اس پر رہتا ہے ، چاہے وہ زندہ ہو یا فوت شدہ ۔
كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ جَالِسًا يَوْمًا فِي جَمْعٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 393
