Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 13

13 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ، عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: «يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ، يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ إِنْ تَلْقَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا بَعْدَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا أَلْقَكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً»

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :اے آدم کے بیٹے !تو مجھ سے جو بھی دعا کرے گا اور اْمید کرے گا تو میں تجھے معاف کردوں گا ، تو چاہے جس عمل پر بھی ہو ۔ا آدم کے بیٹے !اگرتو بھری ہوئی زمین کے برابر گناہ لے کر میرے پاس آئے لیکن تو نے میرے ساتھ ذزا بھی شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اسی قدر مغفر ت کو لے کر آئوں گا ۔

رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← النَّبِيِّ يَرْوِيهِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← مَعْدِي كَرِبَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 13

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 14

14 - حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو مُسْهِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: «يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ، يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُ فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ، وَيَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَجِنَّكُمْ وَإِنْسَكُمُ اجْتَمَعُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي جَمِيعًا فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مَسْأَلَتَهُ لَمْ يَنْقُصْ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا غُمِسَ فِي الْبَحْرِ»

حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :اے میرے بندو!تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلا دوں، لہٰذاتم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا، اے میرے بندو!تم سب ننگے ہو ،سوائے اس کے جسے میں کپڑا پہنا دوں، لہٰذا تم مجھ سے کپڑا مانگو، میں تمہیں کپڑا پہناؤں گا،اے میرے بندو!اگر تمہارا پہلا، تمہارا آخری، تمہارے انسان اور تمہارے جنات سب کے سب ایک جگہ کھڑے ہوکر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کا مطلوب عطا کردوں ،تو بھی جو کچھ میرے پاس ہے اس میں صرف اتنی ہی کمی واقع ہوگی جتنا سوئی کو سمندر میں ڈالنے سے ( اس کے پانی میں)کمی آتی ہے۔

أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Hadith 14

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 15

15 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ الثَّقَفِيَّ يَعْنِي مُوسَى بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَبِّهِ، عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: " يَقُولُ [ص:27]: يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ فَاسْأَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ، وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ فَاسْأَلُونِي أَرْزُقْكُمْ، وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمُ اجْتَمَعُوا فَسَأَلَ كُلُّ إِنْسَانٍ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ فَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مَا سَأَلَ لَمْ يَنْقُصْ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي شَيْئًا إِلَّا كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ عَلَى شَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ فِيهِ إِبْرَةً ثُمَّ انْتَزَعَهَا، ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ أَفْعَلُ مَا أَشَاءُ، عَطَائِي كَلَامٌ وَإِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ كُنَّ فَيَكُونَ "

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :اے میرے بندو!تم سارے کے سارے گمراہ ہو ، سوائے ا س کے جس کو میں ہدایت دے دوں ، اس لیے تم مجھ سے ہدایت طلب کرو ، میں تمہیں ہدایت دوں گا ، تم سارے کے سارے فقیر اور محتاج ہو ،سوائے اس کے جسے میں غنی کردوں ، اس لیے تم مجھ سے رزق کا سوال کرو ، میں تمہیں رزق دوں گا ،اور اگر تمہارے پہلے ،تمہارے بعد والے ، تمہارے رطب ، تمہارے خشک ،تمہارے زندہ اور تمہارے فوت شدہ سارے کے سارے ایک جگہ جمع ہوجائیں اور ہر ایک کی اپنی آرزوہوں اور امیدوں کے مطابق مانگنا شروع کردیں ،میں ہر ایک کو اس کا مطلوب عطا کردوں ،تو بھی جو کچھ میرے پاس ہے اس میں صرف اتنی ہی کمی واقع ہوگی جتنا تم میں سے کوئی شخص سمندر کے کنارے بیٹھ کر اس میں اپنی انگلی کو ڈبو کر باہر نکالنے میں کمی آتی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جواد اور سخی ہوں ،بزرگی والا ہوں ،میری عطاء تو کلام ہے ،جب میں کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہوں تو اس کے لیے کہتا ہوں ’’ہوجا ‘‘ تو وہ ہوجاتا ہے ۔

رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← أَبَا جَعْفَرٍ الثَّقَفِيَّ يَعْنِي مُوسَى بْنَ الْمُسَيَّبِ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Hadith 15

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 16

16 - حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، قَالَا: ثنا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ، عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: «أَرْبَعُ خِصَالٍ يَا ابْنَ آدَمَ، وَاحِدَةٌ لِي، وَوَاحِدَةٌ لَكَ، وَوَاحِدَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ، وَوَاحِدَةٌ فِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ عِبَادِي، فَأَمَّا الَّتِي لِي فَتَعْبُدُنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا، وَأَمَّا الَّتِي لَكَ فَمَا عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ جَزَيْتُكَ بِهِ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَمِنْكَ الدُّعَاءُ وَعَلَيَّ الْإِجَابَةُ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ عِبَادِي فَارْضَ لَهُمْ مَا تَرْضَى لِنَفْسِكَ»

حضرت انس بن مالک ر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :اے آدم کے بیٹے !چار خصائل ہیں ،ان میں سے ایک میرے لیے ہے اور ایک تیرے لیے ہے ، ایک میرے اور تیرے درمیان مشتر ک ہے اور آخری ایک تیرے اور میرے بندوں کے درمیان مشترک ہے ۔وہ خصلت جو صرف میرے لیے ہے وہ یہ ہے کہ تم میری ہی عبادت کرنا میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ، جو تیرے لیے ہے وہ یہ ہے کہ تو جو بھی نیک اور صالح عمل کرے گا میں تجھے اس کا بدلہ دوں گا ، جو خصلت میرے اور تیرے درمیان مشتر ک ہے وہ دعا ہے ، تیرا کام دعا کرنا ہے اور میرا کام اس دعا کو قبول کرنا ہے اور جو تیرے اور میرے بندو ں کے درمیان مشتر ک ہے وہ یہ ہے کہ تو میرے بندوں کے لیے وہی کچھ پسند کرنا جسے تو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔

رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← النَّبِيِّ فِيمَا يَحْكِي ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← صالح المري ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ،

Hadith 16

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 17

17 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: «عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :میں اپنے بندے کے ساتھ اسی طرح سے پیش آتا ہوں میرا بندہ مجھ سے جس طرح کا گمان رکھتا ہے ، میرا بندہ جب مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔

اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: «عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي» ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Hadith 17

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 18

18 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَدْعُونِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ جَاءَنِي يَمْشِي جِئْتُهُ مُهَرْوِلًا "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آ جاتا ہوں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو صَالِحٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ الْعَيْشِيُّ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Hadith 18

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 19

19 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيَّ، عَنْ حَسَنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ مَعَ مَا كَانَ فِيكَ، وَلَوْ لَقِيتَنِي مِلْءَ الْأَرْضِ خَطَايَا لَقِيتُكَ مِلْءَ الْأَرْضِ مَغْفِرَةً مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي، وَلَوْ بَلَغَتْ خَطَايَاكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ "

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا اور مجھ سے پر امید رہے گا، میں تجھے بخشتا رہوں گا، جو بھی گناہ ہوں گے کوئی پروا نہیں کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں پرواہ کیے بغیر تجھے بخش دوں گا۔ اے ابن آدم! اگر تو زمین کے لگ بھگ گناہ لے کر میرے پاس آئے اور اس حال میں مجھے ملے کہ میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو میں تجھے (ان گناہوں کے) بقدر بخشش عطا کروں گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Hadith 19

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 20

20 - حَدَّثَنَا وَاثِلَةُ بْنُ الْحَسَنِ الْعِرْقِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَذَّاءُ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْمُلِحِّينَ فِي الدُّعَاءِ»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دعا کرنے میںاللہ عزوجل اصرار کرنے کو پسند کرتا ہے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَذَّاءُ الْحِمْصِيُّ، ← وَاثِلَةُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَرْقِيُّ،

Hadith 20

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 21

21 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عِيسَى الرَّقَاشِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الْعَبْدَ لِيَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَيُعْرِضُ عَنْهُ، وَيَدْعُوهُ فَيُعْرِضُ عَنْهُ، ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيَقُولُ لِمَلَائِكَتِهِ: أَبَى عَبْدِي أَنْ يَدْعُوَ غَيْرِي يَدْعُونِي فَأُعْرِضُ عَنْهُ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدِ اسْتَجَبْتُ لَهُ "

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ اس بندے پر ناراض ہوتا ہے ، اس لیے اس بندے سے اعراض کرلیتا ہے ،بندہ پھر دعا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ پھر اعراض کرلیتا ہے ، بندہ اس کے بعد پھر دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے :میرے بندے نے میرے علاوہ کسی اور سے مانگنے سے انکار کردیا ہے ، میں اپنے اس بندے سے اعراض کررہا تھا ، اب تم گواہ ہوجائو میں اس کی دعا کوقبول کرتا ہوں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← الْفَضْلِ بْنِ عِيسَى الرَّقَاشِيِّ، ← أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 21

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 22

22 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَرُزِّيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَّارُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ، وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو ، اس لیے کہ اللہ عزوجل پسند کرتا ہے کہ اس سے سوال کیا جائے ، سب سے افضل عبادت کشادگی کا انتظار کرنا ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَارُ ← محمد بن عبد الله الأرزي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ

Hadith 22

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 23

23 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَا يَسْأَلْهُ يَغْضَبْ عَلَيْهِ» يَعْنِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا تو اللہ عزوجل اس سے ناراض ہوجاتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Hadith 23

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 24

24 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ، عَنِ الْمُبَارَكِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَذْكُرُ عَنْ رَبِّهِ، عَزَّ وَجَلَّ: «يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ إِنْ سَأَلْتَنِي أَعْطَيْتُكَ، وَإِنْ لَمْ تَسْأَلْنِي غَضِبْتُ عَلَيْكَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے ابن آدم !بلا شبہ اگر تو مجھ سے سوال کرے گا تو میں تجھے عطاء کروں گا اور اگر تو نے مجھ سے سوال نہ کیا تو میں تجھ سے ناراض ہوجائوں گا ۔

النَّبِيِّ فِيمَا يَذْكُرُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← الْمُبَارَكِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← حماد بن عبد الرحمن الكلبي ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Hadith 24

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter