كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَقُولُ مَنْ رَأَى عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ثَوْبًا جَدِيدًا · حديث 399
399 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَمِيصًا أَبْيَضَ فَقَالَ: «أَجَدِيدٌ قَمِيصُكَ هَذَا أَمْ غَسِيلٌ؟» فَقَالَ: بَلْ جَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا، وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ تَعَالَى قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» قَالَ: وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ [ص:144]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر ایک سفید قمیص دیکھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:کیا تمہاری یہ قمیص نئی ہے یا دھو کر پہنی ہوئی ہے ؟انہوں نے کہا:یہ نئی قمیص ہے ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ دعا دی :الْبَسْ جَدِیدًا، وَعِشْ حَمِیدًا، وَمُتْ شَہِیدًا،وَیَرْزُقُکَ اللَّہُ تَعَالَی قُرَّۃَ عَیْنٍ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ،نیا لباس زیب تن کرو ، اچھی زندگی بسر کرو او شہادت کی موت پائو اور اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطاء فرمائے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس دعا کے جواب میں کہا :وَإِیَّاکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ،اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ساری دعائی اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں بھی قبول فرمائے ۔
ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 399
