كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِحِفْظِ الْقُرْآنِ وَغَيْرِهِ · حديث 1333
1333 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْقُرْآنُ يَنْفَلِتُ مِنْ صَدْرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِنَّ وَيَنْفَعُ مِنْ عَلَّمْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: " صَلِّ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَيَاسِينَ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحم الدُّخَانَ، وَفِي الثَّالِثَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَفِي الرَّابِعَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَتَبَارَكَ الْمُفَصَّلَ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ التَّشَهُّدِ فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنِ عَلَيْهِ وَصَلِّ عَلَى النَّبِيِّينَ وَاسْتَغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي بِتَرْكِ الْمَعَاصِي أَبَدًا مَا أَبْقَيْتَنِي، وَارْحَمْنِي أَنْ أَتَكَلَّفَ مَا لَا [ص:397] يَعْنِينِي وَارْزُقْنِي حُسْنَ النَّظَرِ فِيمَا يُرْضِيكَ عَنِّي، اللَّهُمَّ بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ، أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ بِجَلَالِكَ وَنُورِ وَجْهِكَ أَنْ تُلْزِمَ قَلْبِي حِفْظَ كِتَابِكَ كَمَا عَلَّمْتَنِي، وَارْزُقْنِي أَنْ أَتْلُوَهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي يُرْضِيكَ عَنِّي، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تُنَوِّرَ بِالْكِتَابِ بَصَرِي، وَتُطْلِقَ بِهِ لِسَانِي، وَتُفَرِّجَ بِهِ عَنْ قَلْبِي، وَتَشْرَحَ بِهِ صَدْرِي، وَتَسْتَعْمِلَ بِهِ بَدَنِي، وَتُقَوِّيَنِي عَلَى ذَلِكَ، وَتُعِينَنِي عَلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا يُعِينُنِي عَلَى الْخَيْرِ غَيْرُكَ، وَلَا يُوَفِّقُ لَهُ إِلَّا أَنْتَ فَافْعَلْ ذَلِكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا تَحْفَظْهُ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَا أَخْطَأَ مُؤْمِنًا قَطُّ " فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِسَبْعِ جُمَعٍ فَأَخْبَرَهُ بِحِفْظِهِ لِلْقُرْآنِ وَالْحَدِيثِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُؤْمِنٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ عَلِمَ أَبَا حَسَنٍ عَلِمَ أَبَا حَسَنٍ»
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں قرآن پژھتا اور قرآن میرے سینے سے نکل جاتا ہے ،اس پر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے کچھ ایسے کلمات نہ سکھلا دوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کلمات کے ذریعہ سے فائدہ دے گا اور جن کو بھی تو یہ کلمات سکھلائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ان کو بھی مفید بنادے گا : انہوں نے کہا :ہاں!اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان !آپ نے فرمایا:تم جمعہ کی رات کو چار رکعت نماز پڑھا کرو ،پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورہ یاسین ،دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ اور حم د خان ، تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور حامد تنزیل السجدہ ، چودتھی رکعت میں سورت فاتحہ اورملک مفصل۔ جب تم آخری رکعت میں تشہد کی دعاؤں سے فارغ ہو جاؤ او تو اللہ کی تعریف کو بیان کرو، اللہ کی حمدو ثناء کو بیان کرو، نبی پر درود پڑھو اور صاحب ایمان لوگوں کے لیے بخشش کا سوال کرو، پھر یہ دعا کرو : اللَّہُمَّ ارْحَمْنِی بِتَرْکِ الْمَعَاصِی اَبَدًا مَا اَبْقَیْتَنِی، وَارْحَمْنِی اَنْ اَتَکَلَّفَ مَا لَا (ص:397) یَعْنِینِی وَارْزُقْنِی حُسْنَ النَّظَرِ فِیمَا یُرْضِیکَ عَنِّی، اللَّہُمَّ بَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ وَالْعِزَّۃِ الَّتِی لَا تُرَامُ، اَسْاَلُکَ یَا اللَّہُ بِجَلَالِکَ وَنُورِ وَجْہِکَ اَنْ تُلْزِمَ قَلْبِی حِفْظَ کِتَابِکَ کَمَا عَلَّمْتَنِی، وَارْزُقْنِی اَنْ اَتْلُوَہُ عَلَی النَّحْوِ الَّذِی یُرْضِیکَ عَنِّی، وَاَسْاَلُکَ اَنْ تُنَوِّرَ بِالْکِتَابِ بَصَرِی، وَتُطْلِقَ بِہِ لِسَانِی، وَتُفَرِّجَ بِہِ عَنْ قَلْبِی، وَتَشْرَحَ بِہِ صَدْرِی، وَتَسْتَعْمِلَ بِہِ بَدَنِی، وَتُقَوِّیَنِی عَلَی ذَلِکَ، وَتُعِینَنِی عَلَیْہِ فَإِنَّہُ لَا یُعِینُنِی عَلَی الْخَیْرِ غَیْرُکَ، وَلَا یُوَفِّقُ لَہُ إِلَّا اَنْتَ،اے اللہ مجھ پر رحم فرما کہ میں ان گناہوں کو چھوڑ دوں جب تک میں زندہ رہوں ،اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما کہ میں ایسی چیزوں کے بارے میں تکلف نہ کرو ںجو مجھے فائدہ دینے والی نہیں ہیں، اے اللہ !مجھیہمت عطا فرماکہ میں اپنی نگاہوں کا اچھا استعمال کر سکوں کہ جس سے تو راضی ہوجائے ،اے اللہ !تو آسمانوں کو پیدا کرنے والا ہے، زمین کو پیدا کرنے والا ہے، جلالت اور اکرام والا ہے،ایسی عزتوں والا ہے جو ختم ہونے والی نہیں ہیں، اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ،تیری جلالت ، تیرے نور کے واسطے سے اورتیرے چہرے کے واسطے سے:تو میرے میرے دل کو مضبوط کر دے ،اپنی کتاب کو یاد کرنے کے لیے توفیق بخش دے جس طرح تو نے مجھے سکھلائی ہے ،اے اللہ !مجھے ہمت دے کہ میں اس کتاب کی اسی انداز میں تلاوت کر سکوں جس انداز میں تلاوت کرنا تجھے پسند ہے ،میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری میری نگاہوں کو اس کتاب کے ذریعے سے منور فرما دے، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری زبان پر قرآن کو جاری فرمادے ،میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرا سینہ قرآن کے لیے کھول دے ، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے بدن کو قرآن کی خدمت کے لیے قبول فرمالے ،میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو ان تمام چیزوں کی مجھے توفیق عطا فرما دے ۔ بلاشبہ تیرے علاوہ اس خیر اور برکت والے کام میں کوئی تعاون کرنے والا نہیں ہے ہے اور اس خیر اور برکت والے کام میں تیرے علاوہ کوئی توفیق دینے والا نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کام تین جمعے ، پانچ جمعے یا سات جمعے کرنا ہے ۔ اس طرح اللہ تعالی تمہارے سینے کو کھول دے گا۔ تمہیں قرآن یاد رہ جائے گا اور اس مومن سے کوئی خطا نہیں ہوگی ۔وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس کے بعد سات جمعے گزرجانے کے بعد آئے ،انہوں نے آ کر بتایا، اپنے قرآن کے حافظے کے حوالے سے حدیث کی حفاظت کے حوالے سے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ صاحب ایمان ہے ، مجھے کعبہ کے رب کی قسم !ابو حسن نے سیکھ لیا ، ابو حسن نے جان لیا ۔
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1333
