Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِحِفْظِ الْقُرْآنِ وَغَيْرِهِ · حديث 1333

1333 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْقُرْآنُ يَنْفَلِتُ مِنْ صَدْرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِنَّ وَيَنْفَعُ مِنْ عَلَّمْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: " صَلِّ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَيَاسِينَ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحم الدُّخَانَ، وَفِي الثَّالِثَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَفِي الرَّابِعَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَتَبَارَكَ الْمُفَصَّلَ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ التَّشَهُّدِ فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنِ عَلَيْهِ وَصَلِّ عَلَى النَّبِيِّينَ وَاسْتَغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي بِتَرْكِ الْمَعَاصِي أَبَدًا مَا أَبْقَيْتَنِي، وَارْحَمْنِي أَنْ أَتَكَلَّفَ مَا لَا [ص:397] يَعْنِينِي وَارْزُقْنِي حُسْنَ النَّظَرِ فِيمَا يُرْضِيكَ عَنِّي، اللَّهُمَّ بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ، أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ بِجَلَالِكَ وَنُورِ وَجْهِكَ أَنْ تُلْزِمَ قَلْبِي حِفْظَ كِتَابِكَ كَمَا عَلَّمْتَنِي، وَارْزُقْنِي أَنْ أَتْلُوَهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي يُرْضِيكَ عَنِّي، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تُنَوِّرَ بِالْكِتَابِ بَصَرِي، وَتُطْلِقَ بِهِ لِسَانِي، وَتُفَرِّجَ بِهِ عَنْ قَلْبِي، وَتَشْرَحَ بِهِ صَدْرِي، وَتَسْتَعْمِلَ بِهِ بَدَنِي، وَتُقَوِّيَنِي عَلَى ذَلِكَ، وَتُعِينَنِي عَلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا يُعِينُنِي عَلَى الْخَيْرِ غَيْرُكَ، وَلَا يُوَفِّقُ لَهُ إِلَّا أَنْتَ فَافْعَلْ ذَلِكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا تَحْفَظْهُ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَا أَخْطَأَ مُؤْمِنًا قَطُّ " فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِسَبْعِ جُمَعٍ فَأَخْبَرَهُ بِحِفْظِهِ لِلْقُرْآنِ وَالْحَدِيثِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُؤْمِنٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ عَلِمَ أَبَا حَسَنٍ عَلِمَ أَبَا حَسَنٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں قرآن پژھتا اور قرآن میرے سینے سے نکل جاتا ہے ،اس پر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے کچھ ایسے کلمات نہ سکھلا دوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کلمات کے ذریعہ سے فائدہ دے گا اور جن کو بھی تو یہ کلمات سکھلائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ان کو بھی مفید بنادے گا : انہوں نے کہا :ہاں!اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان !آپ نے فرمایا:تم جمعہ کی رات کو چار رکعت نماز پڑھا کرو ،پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورہ یاسین ،دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ اور حم د خان ، تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور حامد تنزیل السجدہ ، چودتھی رکعت میں سورت فاتحہ اورملک مفصل۔ جب تم آخری رکعت میں تشہد کی دعاؤں سے فارغ ہو جاؤ او تو اللہ کی تعریف کو بیان کرو، اللہ کی حمدو ثناء کو بیان کرو، نبی پر درود پڑھو اور صاحب ایمان لوگوں کے لیے بخشش کا سوال کرو، پھر یہ دعا کرو : اللَّہُمَّ ارْحَمْنِی بِتَرْکِ الْمَعَاصِی اَبَدًا مَا اَبْقَیْتَنِی، وَارْحَمْنِی اَنْ اَتَکَلَّفَ مَا لَا (ص:397) یَعْنِینِی وَارْزُقْنِی حُسْنَ النَّظَرِ فِیمَا یُرْضِیکَ عَنِّی، اللَّہُمَّ بَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ وَالْعِزَّۃِ الَّتِی لَا تُرَامُ، اَسْاَلُکَ یَا اللَّہُ بِجَلَالِکَ وَنُورِ وَجْہِکَ اَنْ تُلْزِمَ قَلْبِی حِفْظَ کِتَابِکَ کَمَا عَلَّمْتَنِی، وَارْزُقْنِی اَنْ اَتْلُوَہُ عَلَی النَّحْوِ الَّذِی یُرْضِیکَ عَنِّی، وَاَسْاَلُکَ اَنْ تُنَوِّرَ بِالْکِتَابِ بَصَرِی، وَتُطْلِقَ بِہِ لِسَانِی، وَتُفَرِّجَ بِہِ عَنْ قَلْبِی، وَتَشْرَحَ بِہِ صَدْرِی، وَتَسْتَعْمِلَ بِہِ بَدَنِی، وَتُقَوِّیَنِی عَلَی ذَلِکَ، وَتُعِینَنِی عَلَیْہِ فَإِنَّہُ لَا یُعِینُنِی عَلَی الْخَیْرِ غَیْرُکَ، وَلَا یُوَفِّقُ لَہُ إِلَّا اَنْتَ،اے اللہ مجھ پر رحم فرما کہ میں ان گناہوں کو چھوڑ دوں جب تک میں زندہ رہوں ،اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما کہ میں ایسی چیزوں کے بارے میں تکلف نہ کرو ںجو مجھے فائدہ دینے والی نہیں ہیں، اے اللہ !مجھیہمت عطا فرماکہ میں اپنی نگاہوں کا اچھا استعمال کر سکوں کہ جس سے تو راضی ہوجائے ،اے اللہ !تو آسمانوں کو پیدا کرنے والا ہے، زمین کو پیدا کرنے والا ہے، جلالت اور اکرام والا ہے،ایسی عزتوں والا ہے جو ختم ہونے والی نہیں ہیں، اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ،تیری جلالت ، تیرے نور کے واسطے سے اورتیرے چہرے کے واسطے سے:تو میرے میرے دل کو مضبوط کر دے ،اپنی کتاب کو یاد کرنے کے لیے توفیق بخش دے جس طرح تو نے مجھے سکھلائی ہے ،اے اللہ !مجھے ہمت دے کہ میں اس کتاب کی اسی انداز میں تلاوت کر سکوں جس انداز میں تلاوت کرنا تجھے پسند ہے ،میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری میری نگاہوں کو اس کتاب کے ذریعے سے منور فرما دے، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری زبان پر قرآن کو جاری فرمادے ،میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرا سینہ قرآن کے لیے کھول دے ، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے بدن کو قرآن کی خدمت کے لیے قبول فرمالے ،میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو ان تمام چیزوں کی مجھے توفیق عطا فرما دے ۔ بلاشبہ تیرے علاوہ اس خیر اور برکت والے کام میں کوئی تعاون کرنے والا نہیں ہے ہے اور اس خیر اور برکت والے کام میں تیرے علاوہ کوئی توفیق دینے والا نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کام تین جمعے ، پانچ جمعے یا سات جمعے کرنا ہے ۔ اس طرح اللہ تعالی تمہارے سینے کو کھول دے گا۔ تمہیں قرآن یاد رہ جائے گا اور اس مومن سے کوئی خطا نہیں ہوگی ۔وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس کے بعد سات جمعے گزرجانے کے بعد آئے ،انہوں نے آ کر بتایا، اپنے قرآن کے حافظے کے حوالے سے حدیث کی حفاظت کے حوالے سے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ صاحب ایمان ہے ، مجھے کعبہ کے رب کی قسم !ابو حسن نے سیکھ لیا ، ابو حسن نے جان لیا ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1333

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِحِفْظِ الْقُرْآنِ وَغَيْرِهِ · حديث 1334

1334 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو طَاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيُّ الْمُفَسِّرُ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ح وَحَدَّثَنَا مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُوعِيَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حِفْظَ الْقُرْآنِ وَحِفْظَ أَصْنَافِ الْعِلْمِ فَلْيَكْتُبْ هَذَا الدُّعَاءَ فِي إِنَاءٍ نَظِيفٍ أَوْ فِي صَحْفَةِ قَوَارِيرَ بِعَسَلٍ وَزَعْفَرَانٍ وَمَاءِ مَطَرٍ وَيَشْرَبُهُ عَلَى الرِّيقِ وَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلْيَكُنْ إِفْطَارُهُ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يَحْفَظُهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو بِهِ فِي أَدْبَارِ صَلَوَاتِهِ الْمَكْتُوبَةِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ مَسْئُولٌ لَمْ يُسْأَلْ مِثْلُكَ وَلَا يُسْأَلُ، أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ رَسُولِكَ وَنَبِيِّكَ، وَإِبْرَاهِيمَ خَلِيلِكَ وَصَفِيِّكَ، وَمُوسَى كَلِيمِكَ وَنَجِيِّكَ، وَعِيسَى كَلِمَتِكَ وَرُوحِكَ، وَأَسْأَلُكَ بِصُحُفِ إِبْرَاهِيمَ، وَتَوْرَاةِ مُوسَى، وَزَبُورِ دَاوُدَ، وَإِنْجِيلِ عِيسَى، وَفُرْقَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسْأَلُكَ بِكُلِّ وَحْي أَوْحَيْتَهُ، وَبِكُلِّ حَقٍّ قَضَيْتَهُ، وَبِكُلِّ سَائِلٍ أَعْطَيْتُهُ، وَأَسْأَلُكَ بِأَسْمَائِكَ الَّتِي دَعَاكَ بِهَا أَنْبِيَاؤُكَ فَاسْتَجَبْتَ لَهُمْ، وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْمَخْزُونِ الْمَكْنُونِ الطُّهْرِ الطَّاهِرِ الْمُطَهَّرِ الْمُبَارَكِ الْمَقْدِسِ الْحَيِّ الْقَيُّومِ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْوَاحِدِ الْأَحَدِ الصَّمَدِ الْفَرْدِ الْوِتْرِ الَّذِي مَلَأَ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا وَالَّذِي مِنْ أَرْكَانِكَ كُلِّهَا، وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي وَضَعْتَهُ عَلَى السَّمَوَاتِ فَقَامَتْ، وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي وَضَعْتَهُ عَلَى الْأَرَضِينَ فَاسْتَقَرَّتْ [ص:398]، وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي وَضَعْتَهُ عَلَى الْجِبَالِ فَرَسَتْ وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي وَضَعْتَهُ عَلَى اللَّيْلِ فَأَظْلَمَ، وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي وَضَعْتَهُ عَلَى النَّهَارِ فَاسْتَنَارَ، وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي يَحْيَى بِهِ الْعِظَامُ وَهِيَ رَمِيمٌ، وَأَسْأَلُكَ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ بِالْحَقِّ، وَنُورِكَ التَّامِّ أَنْ تَرْزُقَنِي حِفْظَ الْقُرْآنِ، وَحِفْظَ أَصْنَافِ الْعِلْمِ، وَتُثَبِّتَهَا فِي قَلْبِي، وَأَنْ تَسْتَعْمِلَ بِهَا بَدَنِي فِي لِيَلِي وَنَهَارِي أَبَدًا مَا أَبْقَيْتَنِي يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ "

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس شخص کو یہ بات خوش کرتی ہوکہ اللہ تعالیٰ اس کا حافظہ مضبوط کردے اس کو قرآن یاد یاد رہے اور اس کے سینے میں علم کی دیگر اصناف محفوظ ہوجائیں۔تو وہ یہ دعاشہد کے ساتھ ،زعفران کے ساتھ یا بارش کے پانی کے ساتھ کسی بھی صاف اور پاکیزہ برتن میں، صاف ستھرے کاغذ میں، کسی شیشے پر پر لکھے لکھے ،اس پانی کو نوش کرلے اور اس کے بعد تین روزے رکھے،اور اسی پانی کے ساتھ کے وہ روزہ افطار کرے ۔ان شاء اللہ العزیز اللہ تعالیٰ اس کو یہ سب کچھ یاد کروا دے گا کبھی بھولے گا نہیں ۔اس کے ساتھ وہ ہر فرض نماز کے بعد دعا یہ کرے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ بِاَنَّکَ مَسْئُولٌ لَمْ یُسْاَلْ مِثْلُکَ وَلَا یُسْاَلُ، اَسْاَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ رَسُولِکَ وَنَبِیِّکَ، وَإِبْرَاہِیمَ خَلِیلِکَ وَصَفِیِّکَ، وَمُوسَی کَلِیمِکَ وَنَجِیِّکَ، وَعِیسَی کَلِمَتِکَ وَرُوحِکَ، وَاَسْاَلُکَ بِصُحُفِ إِبْرَاہِیمَ، وَتَوْرَاۃِ مُوسَی، وَزَبُورِ دَاوُدَ، وَإِنْجِیلِ عِیسَی، وَفُرْقَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَاَسْاَلُکَ بِکُلِّ وَحْی اَوْحَیْتَہُ، وَبِکُلِّ حَقٍّ قَضَیْتَہُ، وَبِکُلِّ سَائِلٍ اَعْطَیْتُہُ، وَاَسْاَلُکَ بِاَسْمَائِکَ الَّتِی دَعَاکَ بِہَا اَنْبِیَاوُکَ فَاسْتَجَبْتَ لَہُمْ، وَاَسْاَلُکَ بِاسْمِکَ الْمَخْزُونِ الْمَکْنُونِ الطُّہْرِ الطَّاہِرِ الْمُطَہَّرِ الْمُبَارَکِ الْمَقْدِسِ الْحَیِّ الْقَیُّومِ ذِی الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ، وَاَسْاَلُکَ بِاسْمِکَ الْوَاحِدِ الْاَحَدِ الصَّمَدِ الْفَرْدِ الْوِتْرِ الَّذِی مَلَاَ الْاَرْکَانَ کُلَّہَا وَالَّذِی مِنْ اَرْکَانِکَ کُلِّہَا، وَاَسْاَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی وَضَعْتَہُ عَلَی السَّمَوَاتِ فَقَامَتْ، وَاَسْاَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی وَضَعْتَہُ عَلَی الْاَرَضِینَ فَاسْتَقَرَّتْ (ص:398)، وَاَسْاَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی وَضَعْتَہُ عَلَی الْجِبَالِ فَرَسَتْ وَاَسْاَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی وَضَعْتَہُ عَلَی اللَّیْلِ فَاَظْلَمَ، وَاَسْاَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی وَضَعْتَہُ عَلَی النَّہَارِ فَاسْتَنَارَ، وَاَسْاَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی یَحْیَی بِہِ الْعِظَامُ وَہِیَ رَمِیمٌ، وَاَسْاَلُکَ بِکِتَابِکَ الْمُنَزَّلِ بِالْحَقِّ، وَنُورِکَ التَّامِّ اَنْ تَرْزُقَنِی حِفْظَ الْقُرْآنِ، وَحِفْظَ اَصْنَافِ الْعِلْمِ، وَتُثَبِّتَہَا فِی قَلْبِی، وَاَنْ تَسْتَعْمِلَ بِہَا بَدَنِی فِی لِیَلِی وَنَہَارِی اَبَدًا مَا اَبْقَیْتَنِی یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ،اے اللہ !میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ بے شک تو ہی طرح کی ذمہ داری رکھنے والا ہے کہ تیرے جیسے کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا ۔اے اللہ !میں تجھ سے حق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو تیرے رسول اور نبی ہیں کے ساتھ سوال کرتا ہوں اور ابراہیم خلیل اور صفی کے ذریعے سوال کرتا ہوں ،موسی کلیم اور نجی کے ذریعے سوال کرتا ہوں ،عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سوال کرتا ہوں جو تیرا کلمہ ہیں اورتیری روح ہیں۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں صحفِ ابراہیم کے ساتھ ،موسی علیہ السلام کی تورات کے ساتھ ،داؤد علیہ السلام کی زبور کے ساتھ ،عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل کے ساتھ اور محمد صلی اللہ وسلم کے فرقان کے ساتھ ۔میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ہو اور اس وحی کے ذریعے جو تو نے وحی کی ہو اور ہر اس حق کا جو فیصلہ تو نے کیا اور اس سائل کا جس کو تو نے عطاء کیا ۔میں تو تجھ سے تیرے ناموں کے ذریعے سوال کرتا ہوں وہ نام کے جن کے ذریعے سے تیرے نبیوں نے تجھ سے دعا کی ،اورتو نے ان کی دعائوں کو قبول کیا۔ میں تجھ سے دعا کرتا ہوں تیرے ان ناموں کے واسطے سے مخزون (خزانے والے)چھپائے ہوئے ،طاہر ، مطہر ، مبارک ،مقدس ،ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے ،ہمیشہ قائم رہنے والا ،جلالت والا ، عزتوں اور اکرام والا ہے ۔میں تجھ سے تیرے نام الواحد ، الاحد، الصمد، الفرد، الوتر ،جن سے نے تمام ارکان بھر دئیے ۔میں تجھ سے تیرے اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے آسمانوں میں رکھا ہے اورآسمان اس کے ساتھ قائم ہے ،میں تجھ سے تیرے ا س نام کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے زمینوں میں رکھا ہے اور زمین اس پر تو قرار پکڑے ہوئے ہے،میں تجھ سے تیرے اس نام کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے پہاڑوں پر رکھا ہے اورپہاڑ اس کی وجہ سے درست ہیں ،میں تجھ سے تیرے اس نام کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں جو تم نے رات میں رکھا ہے اور اس نے رات کو تاریک کر دیا، میںتجھ سے تیرے اس نام کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں جوتونے دنوں پررکھا ہے اور اس نے دن کو روشن کر دیا ، میں تجھ سے تیرے اس نام کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں جو گلی سڑی ہڈیوں کو زندہ کرنے والا ہے ،میں تجھ سے تیری کتاب منزل کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں اورمیں تجھ سے تیرے اس نور تام اور کامل کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے قرآن مجید کی یاد رکھنے کی توفیق اور ہمت عطاء کردیاور دیگر تمام علوم کا حافظہ عطاء کردے اور ان کو میرے دل کے اندر مضبوط فرما دے اور میرے بدن کو اسی کا تابع کر دے میرے راتوں میں میرے دنوں میں ہمیشہ جب تک میں زندہ رہوں اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيُّ الْمُفَسِّرُ، ← أَبُو طَاهِرِ بْنِ السَّرْحِ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1334

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter