كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ نُزُولِ الْفِتَنِ · حديث 1331
1331 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ بِمِصْرَ يَنْكُتُ فِي بُسْتَانٍ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِيَدِهِ مِسْحَاةٌ قَالَ: فَكَأَنَّهُ إِزْدَرَأَهُ فَقَالَ: بِمَ تُحَدِّثُ نَفْسَكَ؟ فَسَكَتَ، فَقَالَ: تُحَدِّثُ نَفْسَكَ بِالدُّنْيَا فَإِنَّ الدُّنْيَا أَجَلٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، أَمَّا الْآخِرَةُ فَإِنَّ الْآخِرَةَ أَجَلٌ صَادِقٌ يُفْصَلُ فِيهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، فَكَأَنَّهُ أَعْجَبَهُ قَوْلُهُ فَقَالَ: كُنْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي بِمَا وَقَعَ فِي النَّاسِ وَذَلِكَ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَسُئِلَ مَنْ ذَا الَّذِي دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يُجِبْهُ، وَسَأَلَهُ فَلَمْ يُعْطِهِ، وَتَوَكَّلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَكْفِهِ، وَوَثِقَ بِهِ فَلَمْ يُنْجِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ سَلِّمْنِي وَسَلِّمْ مِنِّي قَالَ: فَتَخَلَّتِ الْفِتْنَةُ وَلَمْ تُصِبْ شَيْئًا
عون بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں ایک آدمی مصر میں اپنے باغ کے اندر کام کر رہا تھا ،اس نے اسی دوران اپنے سر کو اوپر اٹھا کر دیکھا تو ایک آدمی اس کے سر پر بیلچہ اٹھائے ہوئے کھڑا تھا ،اس نے کہا:گویا وہ بیلچہ کو گھما کر اس کو مارنا چاہتا ہے،اس نے کہا : تو اپنے آپ سے کیا باتیں کر رہا ہے؟وہ خاموش رہا، پھر اس سے پوچھا :کیا توا پنے آپ کے ساتھ دنیا کے بارے میں باتیں کر رہا ہے؟ بلاشبہ اس دنیا کا ایک خاص وقت مقرر ہے ہے ،یہ موجود ہے، یہاں سے نیک لوگ بھی کھاتے ہیںاور فاجر بھی کھاتے ہیں اور جو آخرت ہے ،آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے وہاں پر حق اور باطل کے درمیانفیصلہ کیا جائے گا، گویاایسے لگا کہ اس کو یہ بات پسند آئی ہے، اس نے کہا :میں اپنے آپ سے بات کر رہا تھا جوبات اس وقت میرے دل میں بات آئی ،وہ بات حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے تھی ، پھر پوچھا گیا :کون ہے وہ شخص ؟جواللہ سے دعا کرتا ہے اور اللہ تعالی اس کی دعا کو قبول نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ سے مانگتاہے اللہ تعالیٰ اس کو عطا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا، اللہ کی رسی کو تھام لیتا ہے لیکن اللہ اس کو نجات نہیں دیتا ۔اس نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ! مجھے محفوظ رکھنا،پرفتن دور سے گزرز ہوا لیکن میں فتنوں سے محفوظ رہا ۔
عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ← مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مِسْعَرٍ، ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى
Hadith 1331
