Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسَافِرُ لِمُخَلِّفِيهِ عِنْدَ الْوَدَاعِ · حديث 823

823 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يُسَافِرَ فَلْيَقُلْ لِمَنْ يُخَلِّفُ: أَسْتَوْدِعُكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا يُضِيعُ وَدَائِعُهُ "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص سفر پر چانا چاہتا ہوں ، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے رخصت کرنے والوں کواس دعاکے ساتھ الوداع کہے :اَسْتَوْدِعُکُمُ اللَّہَ الَّذِی لَا یُضِیعُ وَدَائِعُہُ، میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں جو اپنی امانتو ں کو ضائع نہیں کرتا ۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ ثَوْبَانَ ← رشدين بن سعد ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 823

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسَافِرُ لِمُخَلِّفِيهِ عِنْدَ الْوَدَاعِ · حديث 824

824 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْرِضُ النَّاسَ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مَعَهُ ابْنُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «مَا رَأَيْتُ غُرَابًا بِغُرَابٍ أَشْبَهَ بِهَذَا مِنْكَ» قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ إِلَّا مَيِّتَةً، فَاسْتَوَى لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَيْحَكَ حَدِّثْنِي قَالَ: " خَرَجْتُ فِي غَزَاةٍ وَأُمُّهُ حَامِلٌ بِهِ فَقَالَتْ: تَخْرُجُ وَتَدَعُنِي عَلَى هَذِهِ الْحَالَةِ حَامِلًا مُثْقِلًا، فَقُلْتُ: أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ مَا فِي بَطْنِكِ قَالَ: فَغِبْتُ ثُمَّ قَدِمْتُ فَإِذَا بَابِي مُغْلَقٌ، فَقُلْتُ: فُلَانَةُ، فَقَالُوا: مَاتَتْ فَذَهَبْتُ إِلَى قَبْرِهَا فَبَكَيْتُ عِنْدَهُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ قَعَدْتُ مَعَ [ص:261] بَنِي عَمِّي أَتَحَدَّثُ، وَلَيْسَ يَسْتُرُنَا مِنَ الْبَقِيعِ شَيْءٌ، فَارْتَفَعَتْ لِي نَارٌ بَيْنَ الْقُبُورِ، فَقُلْتُ: لِبَنِي عَمِّي مَا هَذِهِ النَّارُ؟ فَتَفَرَّقُوا عَنِّي، فَأَتَيْتُ أَقْرَبَهُمْ مِنِّي، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: نَرَى عَلَى قَبْرِ فُلَانَةَ كُلَّ لَيْلَةٍ نَارًا، فَقُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَصَوَّامَةً قَوَّامَةً عَفِيفَةً مُسْلِمَةً، انْطَلِقْ بِنَا، فَأَخَذْتُ الْفَأْسَ فَإِذَا الْقَبْرُ مُنْفَرِجٌ، وَهِيَ جَالِسَةٌ، وَهَذَا يَدِبُّ حَوْلَهَا، وَنَادَى مُنَادٍ: أَلَا أَيُّهَا الْمُسْتَوْدِعُ رَبَّهُ وَدِيعَتَهُ خُذْ وَدِيعَتَكَ، أَمَا وَاللَّهِ لَوِ اسْتَوْدَعْتَ أُمَّهُ لَوَجَدْتَهَا، فَأَخَذْتُهُ وَعَادَ الْقَبْرُ كَمَا كَانَ فَهُوَ وَاللَّهِ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ "

زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے موجود تھے ، اچانک سے ایک ایسے شخص کو وہاں لایا گیا جس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا:میں نے کوے کوے کے ساتھ اس قدر مشابہ نہیں دیکھا ،جس قدر تمہارایہ بیٹا تمہارے مشابہ ہے ، اس نے کہا:اے امیر المؤمنین !اللہ کی قسم !اس کی ماں اس کو جنم دے کر اس دنیا سے چلی گئی ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے لیے سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ،اس سے کہا :تمہارے لیے ہلاکت ہو ، (پیار بھری ڈانٹ ہے )مجھے تفصیل سے آگاہ کرو ، وہ شخص کہتا ہے کہ میں ایک غزوہ میں شریک ہونے کے لیے نکلا ، تب اس کی ماں اس کے ساتھ حاملہ تھی ، اس نے مجھے کہا:تم مجھے اس حالت میں چھوڑ کر جارہے ہو کہ میں حاملہ ہوں اور میری طبیعت بوجھل ہے ، میں نے کہا:جو کچھ تمہارے بطن میں ہے میں اسے اللہ کے سپرد کرتا ہوں ، وہ شخص کہتا ہے اس کے بعد میں گھر سے چلاگیا ، جب میں واپس آیا،میں نے دیکھا میرے گھر کا دروازہ بند تھا ، آس پاس کے لوگوں سے پوچھا ، انہوں نے بتایا، اس کی وفات ہوگئی ، میں اس کی قبر پر گیا ، وہاں بیٹھ کر روتارہا ، جب رات ہوئی تو میں اپنے چچا کے بیٹے کے پاس بیٹھ گیا اس سے باتیں کرتا رہا ، وہاں سے بقیع قبرستان کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا ، اچانک میں نے دیکھا قبروں کے درمیان سے آگ بلند ہوتی ہوئی میری طرف آرہی تھی ،میں نے اپنے چچا کے بیٹے سے پوچھا :یہ آگ کیسی ہے ؟، وہ تمام میرے پاس سے اُٹھ کر بھاگ گئے ،میں اپنی جگہ سے اٹھا اور چلتے ہوئے ان میں سے اس شخص کے پاس آیا جو میرے سب سے قریب تھا ،میں نے اس سے سوال کیا ، اس نے بتایا کہ فلاں عورت کی قبر پر روزانہ آگ دیکھتے ہیں ، میں نے کہا:إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ،اللہ کی قسم !وہ عورت تو بہت زیادہ روزے رکھنے والی ، راتوں کا قیام کرنے والی ، عفت و عصمت دار مسلمان خاتون تھی ، میں نے کہا:میرے ساتھ چلو ، میں کدال اٹھایا ، قبر ستان گئے تو اس کی قبر کھلی ہوئی تھی ، وہ عورت قبر کے اندر بیٹھی ہوئی تھی ، یہ بچہ اس کے ارد گرد رینگ رہا تھا ، اسی وقت آواز دینے والے نے آواز دی ، اے اپنی امانت کو اپنے رب کے سپر د کرنے والے !اپنی امانت کو اٹھا لو ، اس نے کہا:اللہ کی قسم !اگر تو نے اس بچہ کی ماں کو اللہ کے سپر د کیا ہوتا تو اس کو بھی زندہ سلامت پالیتا ، میں نے آگے بڑھ کر میں نے آگے بڑھ کر بچے کو اٹھا لیا او رقبر خود بخود بند ہوگئی ۔اللہ کی قسم !یہ ہے وہ بچہ ، اے امیر المؤمنین !

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 824

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسَافِرُ لِمُخَلِّفِيهِ عِنْدَ الْوَدَاعِ · حديث 825

825 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " ذَكَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِشُهَدَاءَ أُشْهِدُهُمْ، فَقَالَ: كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا، فَقَالَ: ائْتِنِي بِكَفِيلٍ، فَقَالَ: كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا، قَالَ: فَدَفَعَهَا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ الْتَمَسَ مَرْكَبًا يَقْدُمُ عَلَيْهِ لِأَجَلِهِ الَّذِي أَجَّلَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مَرْكَبًا فَأَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا الدَّنَانِيرَ وَصَحِيفَةً مِنْهُ إِلَى صَاحِبِهَا ثُمَّ سَدَّ مَوْضِعَهَا، ثُمَّ أَتَى بِهَا الْبَحْرَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي تَسَلَّفْتُ فُلَانًا أَلْفَ دِينَارٍ فَسَأَلَنِي شَهِيدًا، فَقُلْتُ: كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا، ثُمَّ سَأَلَنِي كَفِيلًا، فَقُلْتُ: كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا، وَإِنِّي قَدْ جَهِدْتُ أَنْ أَجِدَ مَرْكِبًا أَبْعَثُ إِلَيْهِ بِالَّذِي لَهُ، فَلَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُكَهَا فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ حَتَّى وَلَجَتْ فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُوَ فِي ذَلِكَ يَطْلُبُ مَرْكَبًا يَخْرُجُ إِلَى بَلَدِهِ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ قَدْ جَاءَ مَالُهُ فَإِذَا تِلْكَ الْخَشَبَةُ الَّتِي فِيهَا الْمَالُ وَالصَّحِيفَةُ، فَأَخَذَهَا لِأَهْلِهِ حَطَبًا فَلَمَّا كَسَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ، وَقَدِمَ الَّذِي كَانَ تَسَلَّفَ مِنْهُ، فَأَتَاهُ بِأَلْفِ دِينَارٍ، وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا زِلْتُ جَاهِدًا فِي طَلَبِ مَرْكَبٍ لِآتِيَكَ بِمَالِكَ فَمَا وَجَدْتُ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي أَتَيْتُ فِيهِ قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَدَّى عَنْكَ الَّذِي بُعِثْتَ فِيهِ فِي الْخَشَبَةِ فَانْصَرِفْ بِأَلْفِكَ رَاشِدًا "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایاکہ انہوں نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے آدمی سے ایک ہزار دینار قرض مانگے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ایسے گواہ لا جن کی گواہی پر مجھے اعتبار ہو۔ قرض مانگنے والا بولا کہ گواہ تو بس اللہ ہی کافی ہے پھر انہوں نے کہا کہ اچھا کوئی ضامن لا۔ قرض مانگنے والا بولا کہ ضامن بھی اللہ ہی کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تو نے سچی بات کہی۔ چنانچہ اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے اس کو قرض دے دیا۔ یہ صاحب قرض لے کر دریائی صفر پر روانہ ہوئے اور پھر اپنی ضرورت پوری کرکے کسی سواری ( کشتی وغیرہ ) کی تلاش کی تاکہ اس سے دریا پار کرکے اس مقررہ مدت تک قرض دینے والے کے پاس پہنچ سکے جو اس سے طے پائی تھی۔ ( اور اس کا قرض ادا کردے ) لیکن کوئی سواری نہیں ملی۔ آخر ایک لکڑی لی اور اس میں سوراخ کیا۔ پھر ایک ہزار دینار اور ایک ( اس مضمون کا ) خط کہ اس کی طرف سے قرض دینے والے کی طرف ( یہ دینار بھیجے جارہے ہیں ) اور اس کا منہ بند کردیا۔ اور اسے دریا پر لے آئے، پھر کہا، اے اللہ ! تو خوب جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لئے تھے۔ اس نے مجھ سے ضامن مانگا تو میں نے کہہ دیا تھا کہ میرا ضامن اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بھی تجھ پر راضی ہوا۔ اس نے مجھ سے گواہ مانگا تو اس کا بھی جواب میں نے یہی دیا کہ اللہ پاک گواہ کافی ہے تو وہ مجھ پر راضی ہو گیا اور ( تو جانتا ہے کہ ) میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی سواری ملے جس کے ذریعہ میں اس کا قرض اس تک ( مدت مقررہ میں ) پہنچا سکوں۔ لیکن مجھے اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ اس لیے اب میں اس کو تیرے ہی حوالے کرتا ہوں ( کہ تو اس تک پہنچا دے ) چنانچہ اس نے وہ لکڑی جس میں رقم تھی دریا میں بہا دی۔ اب وہ دریا میں تھی اور وہ صاحب ( قرض دار ) واپس ہو چکے تھے۔ اگرچہ فکر اب بھی یہی تھا کہ کس طرح کوئی جہاز ملے۔ جس کے ذریعہ وہ اپنے شہر میں جاسکیں۔ دوسری طرف وہ صاحب جنہوں نے قرض دیا تھا اسی تلاش میں ( بندرگاہ ) آئے کہ ممکن ہے کوئی جہاز ان کا مال لے کر آیا ہو۔ لیکن وہاں انہیں ایک لکڑی ملی۔ وہی جس میں مال تھا۔ انہوں نے لکڑی اپنے گھر میں ایندھن کے لیے لے لی۔ لیکن جب اسے چیرا تو اس میں سے دینا رنکلے اور ایک خط بھی نکلا۔ ( کچھ دنوں کے بعد جب وہ صاحب اپنے شہر آئے ) تو قرض خواہ کے گھر آئے۔ اور ( یہ خیال کرکے کہ شادی وہ لکڑی نہ مل سکی ہو دوبارہ ) ایک ہزار دینا ان کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ اور کہا کہ قسم اللہ کی ! میں تو برابر اسی کوشش میں رہا کہ کوئی جہاز ملے تو تمہارا مال لے کر پہنچوں لیکن اس دن سے پہلے جب کہ میں یہاں پہنچنے کے لیے سوار ہوا۔ مجھے اپنی کوششوں میں کامیابی نہیں ہوئی۔ پھرانہوں نے پوچھا: اچھا یہ تو بتاؤ کہ کوئی چیز کبھی تم نے میرے نام بھیجی تھی؟ مقروض نے جواب دیا بتا تو رہا ہوں آپ کو کہ کوئی جہاز مجھے اس جہاز سے پہلے نہیں ملا جس سے میں آج پہنچا ہوں۔ اس پر قرض خواہ نے کہا کہ پھر اللہ نے بھی آپ کا وہ قرضا ادا کر دیا۔ جسے آپ نے لکڑی میں بھیجا تھا۔ چنانچہ وہ صاحب اپنا ہزار دینار لے کر خوش خوش واپس لوٹ گئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 825

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسَافِرُ لِمُخَلِّفِيهِ عِنْدَ الْوَدَاعِ · حديث 826

826 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 826

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسَافِرُ لِمُخَلِّفِيهِ عِنْدَ الْوَدَاعِ · حديث 827

827 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ نَهْشَلٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، وَأَبِي قَزَعَةَ سُوَيْدِ بْنِ حُجَيْرٍ أَوْ أَحَدِهُمَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لُقْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا اسْتُودِعَ شَيْئًا حَفِظَهُ "

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بلاشبہ لقمان علیہ السلام کہا کرتے تھے :جب کسی چیز کواللہ کے سپرد کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي غَالِبٍ، وَأَبِي قَزَعَةَ سُوَيْدِ بْنِ حُجَيْرٍ أَوْ أَحَدِهُمَا ← نهشلٍ الضبي، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 827

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسَافِرُ لِمُخَلِّفِيهِ عِنْدَ الْوَدَاعِ · حديث 828

828 - حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْمُطْعِمِ بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْغَزْوِ أَنَا وَرَجُلٌ مَعِي فَشَيَّعَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا أَرَادَ فِرَاقَنَا قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ أُعْطِيكُمَا وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا اسْتُودِعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا حَفِظَهُ» وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ دِينَكُمَا وَأَمَانَتَكُمَا وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمَا

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھ ایک اور شخص تھا ہم جہاد کے لیے روانہ ہوئے ، ہم حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب وہ ہمارے پاس سے اٹھ کر جانا چاہتے تھے تو انہوں نے فرمایا:میرے پاس کوئی مال نہیں ہے جو میں تمہیں دے سکوں ، لیکن میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جب کسی چیز کو اللہ کے سپر د کر دیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے ، اور میں تمہارا دین ، تمہاری امانتیں اور تمہار ے اعمال کا خاتمہ اللہ کے سپر د کرتا ہوں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← إِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ أُعْطِيكُمَا وَلَكِنِّي ← وَرجل معي فشيعنا عبد الله بن عمر فَلَمَّا أَرَادَ فراقنا ← خرجت إِلَى الْغَزْو ← مُجَاهِدٍ ← الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 828

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter