كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ: أَعَزَّكَ اللَّهُ · حديث 1973
1973 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَالْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: «مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ؟» فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ أَعَزَّكَ اللَّهُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهُ قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ مُثِّلَ بِهِ وَاللَّهِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ فَوَقَفَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْقَتْلَى فَقَالَ: «أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ لُفُّوهُمْ بِدِمَائِهِمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ جَرِيحٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا جَاءَ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى، لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَ الْقَوْمِ قُرْآنًا فَاجْعَلُوهُ فِي اللَّحْدِ»
حضرت ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد کے موقع پر فرمایا: تم میں سے کس نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قتل گاہ کو دیکھا ہے ،موجود لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: میں نے ان کے مقتل کو دیکھا ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ آپ کو عزتوں سے نوازے اورکہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ہی اس نے آپ کے پکڑا اورچلنا شروع کردیا یہاں تک کہ چلتے ہوئے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قتل گاہ پر جا کر کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان کے پیٹ کو چاک کیا گیاہے ان کا مثلہ کیا جا چکا،اس آدمی نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یقینی طور پر ان کا مثلہ کیا گیا ہے، اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منظر کو دیکھنا ناپسند کیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقتولوں کے درمیان بیٹھ گئے اور فرمایا کہ میں ان تمام مقتولوں کی شہادت پر گواہ ہوں، ان کو ان کے خون آلودلباس میں لپیٹ دو،جو بھی زخمی اللہ کی راہ میں شہید کیاجاتا ہے اس کو قیامت کے دن زخمی حالت میں ہی اٹھایا جائے گا اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا،بظاہر دیکھنے میں خون کا رنگ ہوگا لیکن اس کی خوشبو کستوری کی خوشبو ہوگی اور فرمایا کہ ان کو اجتماعی طور پر دفنا دو اوران کو قبر قبرمیں اتارتے وقت اس کو قبلہ کی جانب مقدم کرناجو ان میں قرآن کا علم زیادہ رکھنے والا ہو اور ان کے لیے لحدقبر تیار کرنا۔
أَبِيهِ ← ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الأَنْصَارِيُّ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَالْحَضْرَمِيُّ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1973
