Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ اسْتِسْقَاءِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ وَهُوَ غُلَامٌ صَغِيرٌ · حديث 2210

2210 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى أَبُو السِّكِّينِ الطَّائِيُّ، ثنا عَمُّ أَبِي زَحْرِ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدِّهِ حُمَيْدِ بْنِ مِنْهَبٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَأْمٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَ مَخْرَمَةُ بْنُ نَوْفَلٍ، عَنْ أُمِّهِ رُقَيْقَةَ بِنْتِ أَبِي صَيْفِيِّ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَكَانَتْ لُدَّةَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ: تَتَابَعَتْ عَلَى قُرَيْشٍ سِنُونَ أَقْحَلَتِ الضَّرْعَ وَأَرَقَّتِ الْعَظْمَ فَبَيْنَا أَنَا رَاقِدَةٌ الْهَمِّ أَوْ مَهْمُومَةٌ فَإِذَا هَاتِفٌ يَصْرُخُ بِصَوْتٍ صَحِلٍ يَقُولُ: مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّ [ص:606] هَذَا النَّبِيَّ الْمَبْعُوثَ قَدْ أَظَلَّتْكُمْ أَيَّامُهُ، وَهَذَا إِبَّانُ نُجُومِهِ فَحَيَّ هَلَّا بِالْحَيَا وَالْخِصْبِ أَلَا فَانْظُرُوا رَجُلًا مِنْكُمْ وَسِيطًا عِظَامًا جِسَامًا أَبْيَضَ بَضًّا أَوْطَفَ الْأَهْدَابِ، سَهْلَ الْخَدَّيْنِ، أَشَمَّ الْعِرْنِينِ، لَهُ فَخْرٌ يَكْظِمُ عَلَيْهِ وَسُنَّةٌ تَهْدِي إِلَيْهِ، فَلْيَخْلُصْ هُوَ وَوَلَدُهُ وَلْيَهْبِطْ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ فَلْيَشُنُّوا مِنَ الْمَاءِ، وَلْيَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ وَيَسْتَلِمُوا الرُّكْنَ، ثُمَّ لِيَرْقَوْا أَبَا قُبَيْسٍ ثُمَّ لِيَدْعُ الرَّجُلُ وَلْيُؤَمِّنِ الْقَوْمُ فَغِثْتُمْ مَا شِئْتُمْ، فَأَصْبَحْتُ عَلِمَ اللَّهُ مَذْعُورَةً اقْشَعَرَّ جِلْدِي وَوَلِهَ عَقْلِي وَاقْتَصَصْتُ رُؤْيَايَ وَنِمْتُ فِي شِعَابِ مَكَّةَ فَوَالَحُرْمَةِ وَالْحَرَمِ مَا بَقِيَ بِهَا أَبْطَحِيُّ إِلَّا قَالَ: هَذَا شَيْبَةُ الْحَمْدِ وَتَنَاهَتْ إِلَيْهِ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ وَهَبَطَتْ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ فَشَنُّوا الْمَاءَ وَمَسُّوا وَاسْتَلَمُوا ثُمَّ ارْتَقَوْا أَبَا قُبَيْسٍ وَاصْطَفُّوا حَوْلَهُ مَا يَبْلُغُ سَعْيُهُمْ مُهِلَّهُ حَتَّى إِذَا اسْتَوَوْا بِذِرْوَةِ الْجَبَلِ قَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ وَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ قَدْ أَيْفَعَ أَوْ كَرَبَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ سَادَّ الْخَلَّةِ وَكَاشِفَ الْكُرْبَةِ أَنْتَ مُعَلَّمِ غَيْرُ مُعَلَّمٍ مَسْؤولٌ غَيْرُ مُبَخَّلٍ وَهَذِهِ عَبْدَاؤُكَ وَإِمَاؤُكَ بِعَذَرَاتِ حَرَمِكَ يَشْكُونَ إِلَيْكَ سَنَتَهُمْ أَذْهَبَتِ الْخُفَّ وَالظِّلْفَ، اللَّهُمَّ فَأَمْطِرَنْ عَلَيْنَا مُغْدِقًا مَرْتَعًا» فَوَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا رَامُوا حَتَّى تَفَجَّرَتِ السَّمَاءُ بِمَا فِيهَا وَاكْتَظَّ الْوَادِي بِثَجِيجِهِ فَسَمِعْتُ شِيخَانَ قُرَيْشٍ وَجِلَّتَهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ وَحَرْبَ بْنَ أُمَيَّةَ وَهِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ يَقُولُونَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ: هَنِيئًا لَكَ أَبَا الْبَطْحَاءِ أَيْ عَاشَ بِكَ أَهْلُ الْبَطْحَاءِ وَفِي ذَلِكَ مَا تَقُولُ رُقَيْقَةُ بِنْتُ أَبِي صَيْفِيٍّ: [البحر البسيط] بِشَيْبَةَ الْحَمْدِ أَسْقَى اللَّهُ بَلْدَتَنَا ... وَقَدْ فَقَدْنَا الْحَيَا وَاجْلَوَّذَ الْمَطَرُ فَجَادَ بِالْمَاءِ جُونِيُّ لَهُ سَبَلٌ ... سَحًّا فَعَاشَتْ بِهِ الْأَنْعَامُ وَالشَّجَرُ مَنَا مِنَ اللَّهِ بِالْمَيْمُونِ طَائِرُهُ ... وَخَيْرِ مَنْ بُشِّرَتْ يَوْمًا بِهِ مُضَرُ مُبَارَكُ الْأَمْرِ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِهِ ... مَا فِي الْأَنَامِ لَهُ عَدْلٌ وَلَا خَطَرُ

حضرت رُقیقہ بنت ابی صیفی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدِ گرامی کی چچا زاد بہن)نے ایک خواب دیکھا، حضوراکرم، نورِ مجسم، رحمتِ عالم? کے عہدِ طفلی کا یہ واقعہ خود ان ہی کی زبانی نقل کیا جاتا ہے، وہ فرماتی ہیں : قریش کے اوپر مسلسل قحط اور خشک سال گزر رہے تھے جنہوں نے لوگوں کی صحت کوبہت متاثر کردیا تھا، ہڈیوں کو نرم اور کمزور کر دیا تھا۔ (اس صورتِ حال سے انسان، چرند، پرند الغرض حجاز کی ہر روح متاثر ہوئی تھی) میں نے خواب دیکھا، کہنے والا مجھے سنا کر کہہ رہا تھا:اے قریش کی جماعت!بے شک وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو چکا ہے جو تم لوگوں میں سے ہے اور یہی اس کے ظہور کا وقت ہے۔ وہ خیر اور شادابی کو لے کر آیا ہے۔ خبردا!تم لوگ دیکھو اپنے اندر سے ایسے آدمی کو جو سب سے لمبا ہے، بڑا ہے، انڈے کی سفیدی جیسا اس کا رنگ ہے، اُونچی ناک والا ہے۔ اس کو وہ بڑائی حاصل ہے جو صرف اسی پر بند ہے اور اس کا طور طریقہ ایسا ہے جس کی طرف راستہ بنایا جاتا ہے۔ (لوگ اس کی اتباع کرتے ہیں ) غور سے سنو!اسی کو اور اس کے بیٹے (پوتے)کو منتخب کیا جائے اور چاہیے کہ ہر قبیلے کی ہر شاخ جمع ہو کر اس کے پاس آئے اور سب لوگ خوشبو لگا کر آئیں ، حجرِ اسود کا استیلام کریں اور سات مرتبہ کعبہ کا طواف کریں ۔ اس کے بعد لوگ جبلِ ابوقُبیس پر چڑھ جائیں اور و ہی خاص شخص بارش کی دعا کرے اور باقی قوم آمین کہے۔ آگاہ رہو!پھر تم لوگوں پر بارش برسائی جائے گی، جس قدر چاہو گے اور جب تک جیو گے۔ حضرت رقیقہ صیفی کہتی ہیں کہ میں نے صبح کی، اللہ جانتا ہے کہ میں دل گرفتہ تھی، ڈر رہی تھی، خوف سے میری جلد سکڑ رہی تھی، میری عقل مائوف ہو رہی تھی۔ میں نے اپنا خواب بیان کیا، چنانچہ وہ مکے کی ہر گھاٹی میں پھیل گیا۔حرمت و عزت کی اور حرم کی، مکے میں سے کوئی مکی باقی نہ رہا مگر سب نے کہا:اس خواب (کے اندر جس شخص کی تصویر بتائی گئی) وہ شیبۃُ الحمد ہے (یہ عبدالمطلب کی کنیت تھی)۔قریش ان کے پاس جمع ہو گئے اور ہر قبیلے کی ہر شاخ کا ایک ایک آدمی اُن کے پاس آیا۔ سب نے غسل کیا، خوشبو لگائی، حجرِ اسود کا استیلام کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس کے بعد سب جبل ابی قبیس پر چڑھ گئے اورحضرت عبدالمطلب کے پاس جمع ہونے لگے،اہلِ حرم بغیر کسی تاخیر کے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے۔ وہ اس وقت جوانی کے قریب تھے۔ اب حضرت عبدالمطلب دعا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے دعا کی۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کی دعا:اے اللہ!اے درست اور سچی دوستی کرنے والے، اے حقیقی مشکل کشائی کرنے والے!آپ ایسے حقیقت آگاہ ہیں جس کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ ایسے ذمہ دار ہیں جو کسی سے زیادتی نہیں کرتے (نا کسی کے ساتھ بخل کرتے ہیں ) یہ لوگ تیرے بندے، تیرے غلام ہیں اور یہ تیری بندیاں ہیں آپ کے حرم کے صحن میں ، یہ آپ کی بارگاہ میں اپنی قحط سالی کی شکایت کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے مویشی تک سوکھ گئے ہیں ۔ (اے اللہ!) آپ ہم سب کی دعا قبول فرمائیے۔ اے اللہ!آپ بارش برسائیے ایسی بارش جو سیراب کرنے والی ہو اور سبزہ اُگانے والی ہو۔ (دعا ختم ہوئی) یہ لوگ (دعا) کر کے ابھی واپس بیت اللہ میں نہیں پہنچے تھے کہ آسمان پھٹ پڑا (زوردار بارش ہو ئی)جس نے سیلاب کی صورت اختیار کر لی۔ خاندانی بزرگوں کی امیدیں:بنو ہاشم کا ہر فرد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے والا ہر شخص یہ تصور کرتا تھا کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم بہت بڑی شخصیت کے مالک ہیں ۔ اگر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی دی تو ایسے کام کر دکھائیں گے جو عام آدمی سے ممکن نہیں ہیں ، لوگوں کی اس امید کی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلوص،اندازِ گفتگو، نتیجہ خیز باتیں ، صفائی، ستھرائی، چال ڈھال، مقصد کی لگن، ان تھک محنت اور مسلسل غور و فکر ہوسکتا ہے، کم عمری میں ہی اللہ نے ان صلاحیتوں کو ظاہر فرما دیا تھا۔ ایک دن جنابِ عبدالمطلب نے حضرت محمد? کو اپنے گمشدہ اونٹ کی تلاش کے لیے بھیجا، جب آپ? دیر تک واپس نہ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا اپنے لائق پوتے کی جدائی میں اشعار پڑھنے لگے، وہ طواف کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ شیبۃ الحمد(عبد المطلب)کا شکریہ !اللہ عزوجل نے ان کی دعا پر ہمیں بارش سے نوزاز ۔جبکہ ہم زندگی کی رمق اور بارش کی بوندوں کو ترس چکے تھے ۔موسلادھار بارش سے سیلابی کیفت اور ریل پیل پیداہوئی ۔۔اس بارش کی وجہ سے مخلوقات اورنباتات کی زندگی لوٹ آئی ۔یہ اللہ عزوجل کی طرف سے احسان،نعمت،خیرو برکت ہے ۔۔تنگی و ترشی کے دنوں میں دی جانے والی بہترین بشارت ہے ۔بادلوں سے بارش کا برسنا نہایت بابرک عمل ہے ۔۔اس میں مخلوقات کے لیے خیر ہی خیر ہے ، اس میں کوئی خوف و خطرہ نہیں ہے ۔

عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لاَمَ الطَّائِيِّ ← جَدِّهِ حُمَيْدِ بْنِ مُنْهِبٍ، ← عَمُّ أَبِي زَحْرِ بْنِ حُصَيْنٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى أَبُو السِّكِّينُ الطَّائِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2210

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter