كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْأَمْرِ بِتَرْكِ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ إِذَا لَمْ يَحْمَدْ · حديث 1989
1989 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ قَالَ: فَسَمَّتْ أَوْ قَالَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ أَوْ قَالَ: فَشَمَّتَ وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ فَشَمَّتُّهُ وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَمْ أُشَمِّتْهُ»
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوشخص موجود تھے ، ان میں سے ایک شخص نے چھینک ماری ،الحمد للہ کہا، آپ نے اس کا جواب دیا جبکہ دوسرے نے چھینک ماری لیکن الحمد للہ نہ کہا ، اس لیے آپ نے ا س کا جواب نہیں دیا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے چھینک ماری اور الحمد للہ کہا ، میں نے اس کا جواب دیا جبکہ دوسرے نے چھینک مارنے کے بعد الحمد للہ نہیں کہا ، اس لیے آپ نے ا س کا جواب نہیں دیا ۔
فَشَمَّتَ وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، ← فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ أَوْ ← فَسَمَّتْ أَوْ ← عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ رَجُلَانِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1989
