Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَجْنُونِ · حديث 1080

1080 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيُّ فَقَالَ: إِنَّ لِي أَخًا وَجِعًا، فَقَالَ: «وَمَا وَجَعُ أَخِيكَ؟» قَالَ: بِهِ لَمَمٌ، قَالَ: «اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ» قَالَ: فَسَمِعْتُهُ " عَوَّذَهُ بِفَاتِحَةِ الْقُرْآنِ وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْبَقَرَةِ وَآيَتَيْنِ مِنْ وَسَطِهَا {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ} [البقرة: 163] {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} الْآيَتَيْنِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ وَثَلَاثِ آيَاتٍ خَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ، وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [آل عمران: 18] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَآيَةِ مِنَ الْأَعْرَافِ {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [ص:331]، وَآيَةٍ مِنْ سُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ {فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ. . .} [طه: 114] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَآيَةٍ مِنْ سُورَةِ الْجِنِّ {وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا} [الجن: 3] وَعَشْرِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الصَّافَّاتِ آخِرُهُنَّ {طِينٍ لَازِبٍ} [الصافات: 11] وَآخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ "، فَأَتَى الْأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ بَرَأَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ

حضرت عبد الرحمن بن ابو لیلیٰ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اچانک سے وہا ں ایک اعرابی آیا ، اس نے کہا:میرا بھائی بیمار ہے ، آپ نے اس سے پوچھا :اس کو کون سی بیماری ہے ؟اس نے کہا:لمم یعنی دیوانگی کا مرض ۔ آپ نے فرمایا:جائو ، اس کے اپنے ساتھ لے کر آئو ۔جب وہ لے کر آیا تومیں نے آپ کو دم کرتے ہوئے سنا ، آپ نے سورہ فاتحہ ،سورہ بقرہ کی ابتدائی چار آیات ، سورہ بقرہ کے وسط سے {وَإِلَہُکُمْ إِلَہٌ وَاحِدٌ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِیمُ}تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،وہ بہت رحم کرنے والااور بڑا مہربان ہے۔(البقرۃ:163){إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنَ السَّمَاء ِ مِنْ مَاء ٍ فَأَحْیَا بِہِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیہَا مِنْ کُلِّ دَابَّۃٍ وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ } آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لئے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمان سے پانی اتار کر، مردہ زمین کو زندہ کردینا، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ:164)، آیۃ الکرسی ، اور تین آیات سورہ بقرہ کے آخرس سے پڑھیں ،آل عمران سے ایک آیت مکمل {اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عدل کو قائم رکھنے والاہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ }(آل عمران :18)سورہ اعراف کی آیت :{بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر قائم ہوا، وہ شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وہ شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے،اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔ }(الاعراف:54)سورہ مؤمنون کی آیت :{اللہ تعالیٰ سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والاہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے۔}(مؤمنون:116)سورہ جن کی آیت :{اور بیشک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے نہ اس نے کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے نہ بیٹا۔}(الجن:03)سورہ صافات کی ابتدائی دس آیات :{قسم ہے صف باندھنے والے (فرشتوں) کی۔پھر پوری طرح ڈانٹنے والوں کی۔پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے۔آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں اور مَشرقوں کا رب وہی ہے۔ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا۔اور حفاظت کی سرکش شیطان سے۔عالم بالا کے فرشتوں (کی باتوں) کو سننے کے لئے وہ کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ہر طرف سے وہ مارے جاتے ہیں۔بھگانے کے لئے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو (فوراً ہی) اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے۔ان کافروں سے پوچھو توکہ آیا ان کا پیدا کرنازیادہ دشوار ہے یا (ان کا)جنہیں ہم نے (ان کے علاوہ)پیدا کیا؟ہم نے (انسانوں)کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے۔} (الصافات:01تا11)سورہ حشر کی آخری آیات :{وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، چھپے کھلے کا جاننے والا مہربان اور رحم کرنے والا۔وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے والا، نگہبان، غالب زورآور، اور بڑائی وا?، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں. وہی اللہ ہے پیدا کرنے والاوجود بخشنے والا ، صورت بنانے والا، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں، ہر چیز خواہ وہ آسمانوں میں ہو خواہ زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے(3)، اور وہی غالب حکمت والا ہے ۔}(الحشر:22،23،24)اور معوذات {آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔}(سورہ اخلاص){آپ کہہ دیجئے! میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے۔اور گرہ (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی۔اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وہ حسد کرے۔}(سورہ فلق ){آپ کہہ دیجئے! میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں۔لوگوں کے مالک کی۔لوگوں کے معبود کی (پناہ میں۔وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔(خواہ) وہ جن میں سے ہو یا انسان میں سے۔}(سورہ ناس )کی تلاوت کرکے دم کیا ۔اس کے بعد وہ اعرابی آیا ، اس نے کہا:بلاشبہ مریض ٹھیک ہوگیا ہے اب اس کو کوئی مرض نہیں ہے ۔

اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ ← به لمم ← «وَمَا وَجَعُ أَخِيكَ؟» ← إِنَّ لِي أَخًا وَجِعًا ← إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيُّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1080

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَجْنُونِ · حديث 1081

1081 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَرَأَ فِي أُذُنِ مُبْتَلًى فَأَفَاقَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قَرَأْتَ فِي أُذُنِهِ؟» قَالَ: قَرَأْتُ {أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ} [المؤمنون: 115] حَتَّى فَرَغَ مِنَ السُّورَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ رَجُلًا مُوقِنًا قَرَأَهَا عَلَى جَبَلٍ لَزَالَ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مریض کے کان میں قرآن مجید کی آیت کی تلاوت کی ، وہ ٹھیک ہوگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا :تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا ؟حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :میں نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت کی تھی:{کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے،اللہ تعالیٰ سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے۔جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بیشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں۔اور کہو :{اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَاَنَّکُمْ إِلَیْنَا لَا تُرْجَعُونَ}کیا تم نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری نہیں لوٹائے جائو گے ۔(مؤمنین : 115)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل یقین رکھنے والا شخص اگر کسی پہاڑ پر کھڑے ہوکر ان آیات کو پڑھے تو پہاڑ اپنی جگہ سے زائل ہوجائے گا ۔

حَتَّى فَرَغَ مِنَ السُّورَةِ ← فِي أُذُنِهِ ← لَهُ رَسُولُ اللهِ «مَا ← ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَرَأَ فِي أُذُنِ مُبْتَلًى فَأَفَاقَ ← حنش الصنعاني ← عبد الله بن هبيرة ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1081

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter