كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَجْنُونِ · حديث 1080
1080 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيُّ فَقَالَ: إِنَّ لِي أَخًا وَجِعًا، فَقَالَ: «وَمَا وَجَعُ أَخِيكَ؟» قَالَ: بِهِ لَمَمٌ، قَالَ: «اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ» قَالَ: فَسَمِعْتُهُ " عَوَّذَهُ بِفَاتِحَةِ الْقُرْآنِ وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْبَقَرَةِ وَآيَتَيْنِ مِنْ وَسَطِهَا {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ} [البقرة: 163] {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} الْآيَتَيْنِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ وَثَلَاثِ آيَاتٍ خَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ، وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [آل عمران: 18] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَآيَةِ مِنَ الْأَعْرَافِ {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [ص:331]، وَآيَةٍ مِنْ سُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ {فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ. . .} [طه: 114] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَآيَةٍ مِنْ سُورَةِ الْجِنِّ {وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا} [الجن: 3] وَعَشْرِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الصَّافَّاتِ آخِرُهُنَّ {طِينٍ لَازِبٍ} [الصافات: 11] وَآخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ "، فَأَتَى الْأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ بَرَأَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ
حضرت عبد الرحمن بن ابو لیلیٰ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اچانک سے وہا ں ایک اعرابی آیا ، اس نے کہا:میرا بھائی بیمار ہے ، آپ نے اس سے پوچھا :اس کو کون سی بیماری ہے ؟اس نے کہا:لمم یعنی دیوانگی کا مرض ۔ آپ نے فرمایا:جائو ، اس کے اپنے ساتھ لے کر آئو ۔جب وہ لے کر آیا تومیں نے آپ کو دم کرتے ہوئے سنا ، آپ نے سورہ فاتحہ ،سورہ بقرہ کی ابتدائی چار آیات ، سورہ بقرہ کے وسط سے {وَإِلَہُکُمْ إِلَہٌ وَاحِدٌ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِیمُ}تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،وہ بہت رحم کرنے والااور بڑا مہربان ہے۔(البقرۃ:163){إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنَ السَّمَاء ِ مِنْ مَاء ٍ فَأَحْیَا بِہِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیہَا مِنْ کُلِّ دَابَّۃٍ وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ } آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لئے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمان سے پانی اتار کر، مردہ زمین کو زندہ کردینا، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ:164)، آیۃ الکرسی ، اور تین آیات سورہ بقرہ کے آخرس سے پڑھیں ،آل عمران سے ایک آیت مکمل {اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عدل کو قائم رکھنے والاہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ }(آل عمران :18)سورہ اعراف کی آیت :{بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر قائم ہوا، وہ شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وہ شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے،اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔ }(الاعراف:54)سورہ مؤمنون کی آیت :{اللہ تعالیٰ سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والاہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے۔}(مؤمنون:116)سورہ جن کی آیت :{اور بیشک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے نہ اس نے کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے نہ بیٹا۔}(الجن:03)سورہ صافات کی ابتدائی دس آیات :{قسم ہے صف باندھنے والے (فرشتوں) کی۔پھر پوری طرح ڈانٹنے والوں کی۔پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے۔آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں اور مَشرقوں کا رب وہی ہے۔ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا۔اور حفاظت کی سرکش شیطان سے۔عالم بالا کے فرشتوں (کی باتوں) کو سننے کے لئے وہ کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ہر طرف سے وہ مارے جاتے ہیں۔بھگانے کے لئے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو (فوراً ہی) اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے۔ان کافروں سے پوچھو توکہ آیا ان کا پیدا کرنازیادہ دشوار ہے یا (ان کا)جنہیں ہم نے (ان کے علاوہ)پیدا کیا؟ہم نے (انسانوں)کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے۔} (الصافات:01تا11)سورہ حشر کی آخری آیات :{وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، چھپے کھلے کا جاننے والا مہربان اور رحم کرنے والا۔وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے والا، نگہبان، غالب زورآور، اور بڑائی وا?، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں. وہی اللہ ہے پیدا کرنے والاوجود بخشنے والا ، صورت بنانے والا، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں، ہر چیز خواہ وہ آسمانوں میں ہو خواہ زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے(3)، اور وہی غالب حکمت والا ہے ۔}(الحشر:22،23،24)اور معوذات {آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔}(سورہ اخلاص){آپ کہہ دیجئے! میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے۔اور گرہ (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی۔اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وہ حسد کرے۔}(سورہ فلق ){آپ کہہ دیجئے! میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں۔لوگوں کے مالک کی۔لوگوں کے معبود کی (پناہ میں۔وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔(خواہ) وہ جن میں سے ہو یا انسان میں سے۔}(سورہ ناس )کی تلاوت کرکے دم کیا ۔اس کے بعد وہ اعرابی آیا ، اس نے کہا:بلاشبہ مریض ٹھیک ہوگیا ہے اب اس کو کوئی مرض نہیں ہے ۔
اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ ← به لمم ← «وَمَا وَجَعُ أَخِيكَ؟» ← إِنَّ لِي أَخًا وَجِعًا ← إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيُّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1080
