كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ تَأْوِيلُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ} [النحل: 90] · حديث 1583
1583 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ} [النحل: 90] قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، {وَالْإِحْسَانِ} [النحل: 90] : أَدَاءُ الْفَرَائِضِ، {وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى} [النحل: 90] : صِلَةُ الْأَرْحَامِ، {وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ} [النحل: 90] : عَنِ الزِّنَا، {وَالْمُنْكَرِ} [النحل: 90] : الشِّرْكِ، {وَالْبَغْيِ} [الأعراف: 33] : الْكِبْرِ وَالظُّلْمِ، {يَعِظُكُمْ} [البقرة: 231] : يُوصِيكُمْ "
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر میں فرماتے ہیں :{إِنَّ اللَّہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ}بے شک اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے ۔(النحل:90) یعنی کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنااور اس کی گواہی دینا ۔{والاحسان}تمہیں احسان کا حکم دیتا ہے ۔(النحل:90)فرائض کو ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ۔{وَإِیتَاء ِ ذِی الْقُرْبَی}قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ۔(النحل :90)یعنی اللہ تعالیٰ صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتا ہے ۔{وَیَنْہَی عَنِ الْفَحْشَائِ}اور وہ منع کرتا ہے بے حیائی سے ۔(النحل :90)یعنی اللہ تعالیٰ زناکاری سے روکتا ہے ۔{وَالْمُنْکَرِ}اور وہ منع کرتا ہے برائی سے ۔(النحل:90)یعنی اللہ تعالیٰ شر ک سے روکتا ہے ۔{وَالْبَغْیِ}وہ منع کرتا ہے بغاوت سے ۔(الاعراف:30)یعنی اللہ تعالیٰ تکبر اور ظلم سے منع کرتا ہے ۔{یَعِظُکُمْ}تمہیں نصیحت کرتا ہے ۔(البقرۃ:231)یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1583
