Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2016

2016 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبِي، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ: «هَلْ كُنْتَ تَدْعُو اللَّهَ بِشَيْءٍ وَتَسْأَلُهُ إِيَّاهُ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تَسْتَطِيعُهُ، لَوْ قُلْتَ: {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی تیمارداری کی :بیماری کی وجہ سے سوکھ کر کمزور چوزے کی طرح ہوچکا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کی تھی یا کسی چیز کا سوال کیا تھا ؟اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں اکثر یہ دعا کیا کرتا ہوں :اللَّہُمَّ مَا کُنْتَ مُعَاقِبِی بِہِ فِی الْآخِرَۃِ فَعَجِّلْہُ لِی فِی الدُّنْیَا،اے اللہ !تو نے مجھے جو عذاب اور سزا آخرت میں دینی ہے وہ سزا مجھے اس دنیا میں عطاء کردے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تعجب اور حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:سبحان اللہ !تم اس کی ہمت اور طاقت نہیں رکھتے ، کاش !تم نے یہ دعا کی ہوتی :{رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ}اے ہمارے رب!تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور ہمیں آخرت میں بھی بھلائی عطاء کرنا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔(البقرۃ:201)

لَهُ: «هَلْ كُنْتَ تَدْعُو اللَّهَ بِشَيْءٍ وَتَسْأَلُهُ إِيَّاهُ؟» ← عَادَ رَسُولُ اللَّهِ رَجُلًا قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ. ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2016

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2017

2017 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ: «هَلْ دَعَوْتَ اللَّهَ بِشَيْءٍ؟» قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا رَبِّ مَا أَرَدْتَ أَنْ تُعَاقِبَنِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ لَا طَاقَةَ لَكَ بِعَذَابِ اللَّهِ أَلَا قُلْتَ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی تیمارداری کی :بیماری کی وجہ سے سوکھ کر کمزور چوزے کی طرح ہوچکا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کی تھی یا کسی چیز کا سوال کیا تھا ؟اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں اکثر یہ دعا کیا کرتا ہوں :اے اللہ !تو نے مجھے جو عذاب اور سزا آخرت میں دینی ہے وہ سزا مجھے اس دنیا میں عطاء کردے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تعجب اور حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:سبحان اللہ !تم اس کی ہمت اور طاقت نہیں رکھتے ، کاش !تم نے یہ دعا کی ہوتی :{اللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ }اے ہمارے رب!تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور ہمیں آخرت میں بھی بھلائی عطاء کرنا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔(البقرۃ:201)

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2017

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2018

2018 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي 8213 يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ قَدْ عَادَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنْتَ تَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ؟ " قَالَ: كُنْتُ أَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْنِيهِ فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ أَبَدًا، أَفَلَا قُلْتَ: {رَبَّنَا آتِنَا} [البقرة: 201] فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " ثُمَّ دَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُفِيَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی تیمارداری کی :بیماری کی وجہ سے سوکھ کر کمزور چوزے کی طرح ہوچکا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کی تھی یا کسی چیز کا سوال کیا تھا ؟اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں اکثر یہ دعا کیا کرتا ہوں :اے اللہ !تو نے مجھے جو عذاب اور سزا آخرت میں دینی ہے وہ سزا مجھے اس دنیا میں عطاء کردے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تعجب اور حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:سبحان اللہ !تم اس کی ہمت اور طاقت نہیں رکھتے ، کاش !تم نے یہ دعا کی ہوتی :{اللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ }اے ہمارے رب!تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور ہمیں آخرت میں بھی بھلائی عطاء کرنا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔(البقرۃ:201)پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی اور اللہ کی طرف سے ان کی شفاء عطاء کردی گئی ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2018

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2019

2019 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا أَبِي، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ: «هَلْ دَعَوْتَ بِشَيْءٍ؟» فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ: " سَأَلْتَ الْبَلَاءَ، أَلَا قُلْتَ: {رَبَّنَا آتِنَا} [البقرة: 201] فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی تیمارداری کی :بیماری کی وجہ سے سوکھ کر کمزور چوزے کی طرح ہوچکا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کی تھی یا کسی چیز کا سوال کیا تھا ؟اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں اکثر یہ دعا کیا کرتا ہوں :اے اللہ !تو نے مجھے جو عذاب اور سزا آخرت میں دینی ہے وہ سزا مجھے اس دنیا میں عطاء کردے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تعجب اور حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:سبحان اللہ !تم اس کی ہمت اور طاقت نہیں رکھتے ، کاش !تم نے یہ دعا کی ہوتی :{اللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ }اے ہمارے رب!تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور ہمیں آخرت میں بھی بھلائی عطاء کرنا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔(البقرۃ:201)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2019

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2020

2020 - حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَقَالَ: «تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» فَقَالَ: دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ، قَالَ: «فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ الْفَوْزُ بِالْجَنَّةِ وَالنَّجَاةُ مِنَ النَّارِ» وَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ فَقَالَ: «قَدْ سَأَلْتَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ الْبَلَاءَ فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ» ، وَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ "

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ، وہ شخص یہ دعا کررہا تھا :اَسْاَلُکَ تَمَامَ النِّعْمَۃِ،ا ے اللہ !میں تجھ سے مکمل نعمت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا:کیا تمہیں علم ہے مکمل نعمت کیا ہے ؟اس نے کہا:یہ ایک دعا ہے جومیں نے کی ہے اور میں اس سے خیر اور بھلائی کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مکمل نعمت سے مراد جنت کا حصول اور جہنم سے چھٹکارا پاناہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اورشخص کو سنا: وہ شخص ان الفاظ میں دعا کررہا تھا :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الصَّبْرَ، اے اللہ !میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نے اپنے رب سے بلا اور آزمائش کا سوال کیا ہے ، تم اللہ سے عافیت کا سوال کرو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور شخص کے پاس سے گزر ہوا وہ ان الفاظ میں دعا کررہا تھا :یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ ، اے جلالت اور اکرام والے !اس کی سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یقینا تمہاری دعا قبول کی جائے گی ، اس لیے تم اللہ سے سوال کرو ۔

قدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ. ← يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ← «قَدْ سَأَلْتَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ الْبَلَاءَ فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ» وَمَرَّ بِرَجُلٍ ← اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ الصَّبْرَ، ← رَجُلًا ← «فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ الْفَوْزُ بِالْجَنَّةِ وَالنَّجَاةُ مِنَ النَّارِ» ← دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ. ← «تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» ← اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ تَمَامَ النَّعْمَۃِ، ← مَرَّ النَّبِيُّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← اللَّجْلَاجِ، ← أَبِي الْوَرْدِ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2020

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2021

2021 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَا: ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي وَهُوَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ، فَقَالَ: «قَدْ سَأَلْتَهُ الْبَلَاءَ، فَاسْأَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ» وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ نِعْمَتِكَ، فَقَالَ: «ابْنَ آدَمَ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ، قَالَ: «فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَوْزٌ مِنَ النَّارِ وَدُخُولُ الْجَنَّةِ» وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ: قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ "

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ،وہ شخص نماز پڑھتے ہوئے یہ دعا کررہا تھا :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الصَّبْرَ، اے اللہ !میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نے اپنے رب سے بلا اور آزمائش کا سوال کیا ہے ، تم اللہ سے عافیت کا سوال کرو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور شخص کے پاس سے گزر ہوا وہ ان الفاظ میں دعا کررہا تھا : وہ شخص یہ دعا کررہا تھا :اَسْاَلُکَ تَمَامَ النِّعْمَۃِ،ا ے اللہ !میں تجھ سے مکمل نعمت کا سوال کرتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا:کیا تمہیں علم ہے مکمل نعمت کیا ہے ؟اس نے کہا:یہ ایک دعا ہے جومیں نے کی ہے اور میں اس سے خیر اور بھلائی کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مکمل نعمت سے مراد جنت کا حصول اور جہنم سے چھٹکارا پاناہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور شخص کے پاس سے گزر ہوا وہ ان الفاظ میں دعا کررہا تھا :یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ ، اے جلالت اور اکرام والے !اس کی سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یقینا تمہاری دعا قبول کی جائے گی ، اس لیے تم اللہ سے سوال کرو ۔

«ابْنَ آدَمَ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» ← اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ نِعْمَتِكَ، ← «قَدْ سَأَلْتَهُ الْبَلَاءَ، فَاسْأَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ» وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ ← فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ، ← أَتَى رَسُولُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي وَهُوَ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← اللَّجْلَاجِ، ← أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ الْقُشَيْرِيِّ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2021

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2022

2022 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، كِلَاهُمَا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ قَالَ: «لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» فَقَالَ قُلْتُ: طَهُورٌ كَلَّا بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ، عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَعَمْ إِذَنْ»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے پاس اس کی عیادت کے لیے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے یہ الفاظ کہا کرتے تھے :لَا بَاْسَ طَہُورٌ إِنْ شَاء َ اللَّہُ ،کوئی بات نہیں ، اللہ کے حکم سے ٹھیک ہوجانے والا ہے ۔اس اعرابی نے کہا:آپ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہونے والا ہے ، ہرگز نہیں بلکہ یہ تو بخار ہے جو جوش ماررہا ہے ، ایک بوڑھے پر ، اس کو قبرمیں پہنچانے والا ہے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تب ایسا ہی ہوگا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، كِلَاهُمَا ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2022

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2023

2023 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَهُوَ مَحْمُومٌ فَقَالَ: «كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ» فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: بَلْ حُمَّى تَفُورُ، عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے پاس اس کی عیادت کے لیے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے یہ الفاظ کہا کرتے تھے :لَا بَاْسَ طَہُورٌ إِنْ شَاء َ اللَّہُ ،کوئی بات نہیں ، اللہ کے حکم سے ٹھیک ہوجانے والا ہے ۔اس اعرابی نے کہا:آپ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہونے والا ہے ، ہرگز نہیں بلکہ یہ تو بخار ہے جو جوش ماررہا ہے ، ایک بوڑھے پر ، اس کو قبرمیں پہنچانے والا ہے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو چھوڑ دیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سنان أبو ربيعة ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبَغْدَادِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2023

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2024

2024 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ فَقَالَ: «كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَلْ حُمَّى تَفُورُ، عَلَى شَيْخٍ، كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَعَمْ إِذًا وَمَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ» فَمَا خَرَجَ حَتَّى مَاتَ

مخلد بن عقبہ بن شرحبیل رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے پاس اس کی عیادت کے لیے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے یہ الفاظ کہا کرتے تھے :لَا بَاْسَ طَہُورٌ إِنْ شَاء َ اللَّہُ ،کوئی بات نہیں ، اللہ کے حکم سے ٹھیک ہوجانے والا ہے ۔اس اعرابی نے کہا:آپ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہونے والا ہے ، ہرگز نہیں بلکہ یہ تو بخار ہے جو جوش ماررہا ہے ، ایک بوڑھے پر ، اس کو قبرمیں پہنچانے والا ہے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تب ایسا ہی ہوگا اور جو اللہ چاہے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے باہر نہیں نکلے تھے کہ اس کی موت ہوگئی ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مَخْلَدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2024

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2025

2025 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ: «مَا قُلْتَ؟» فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَافِهِ» أَوِ اشْفِهِ فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں بیمار تھا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے ، تب میں یہ دعا کررہا تھا :اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ اَجَلِی قَدْ حَضَرَ فَاَرِحْنِی، وَإِنْ کَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِی، وَإِنْ کَانَ بَلَاء ً فَصَبِّرْنِی،اے اللہ !اگر میری موت کا وقت آچکا ہے تو مجھے راحت عطا فرما ، اگر میری موت کا وقت ابھی نہیں آیا تو مجھے بلند فرما اور اگر یہ بیماری میرے لیے آازمائش ہے تو مجھے صبر عطاء فرما ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا :تم کیا دعا کررہے تھے؟میں نے الفاظ دْہرا دئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ٹانگ سے مارا اور اللہ سے دعا کی :اے اللہ !اس کو عافیت عطاء فرما ، یا آپ کے الفاظ تھے:اے اللہ !اس کو شفا عطاء کر ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس بیماری کے بعد میں کبھی بیمار نہیں ہوا ۔

مريض ← دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2025

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2026

2026 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اشْتَكَيْتُ بَطْنِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا حُضُورُ أَجَلِي فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ مُسْتَأْخَرًا فَخَفِّفْ عَنِّي، وَإِنْ كَانَتِ الشِّدَّةُ وَالْبَلَاءُ فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» فَأَعَدْتُ الْقَوْلَ، فَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى بَطْنِي وَقَالَ: «اللَّهُمَّ اشْفِهِ» فَمَا اشْتَكَيْتُ بَطْنِي بَعْدُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں بیمار تھا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے ، تب میں یہ دعا کررہا تھا :اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ اَجَلِی قَدْ حَضَرَ فَاَرِحْنِی، وَإِنْ کَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِی، وَإِنْ کَانَ بَلَاء ً فَصَبِّرْنِی،اے اللہ !اگر میری موت کا وقت آچکا ہے تو مجھے راحت عطا فرما ، اگر میری موت کا وقت ابھی نہیں آیا تو مجھے بلند فرما اور اگر یہ بیماری میرے لیے آازمائش ہے تو مجھے صبر عطاء فرما ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا :تم کیا دعا کررہے تھے؟میں نے الفاظ دْہرا دئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ٹانگ سے مارا اور اللہ سے دعا کی :اے اللہ !اس کو عافیت عطاء فرما ، یا آپ کے الفاظ تھے:اے اللہ !اس کو شفا عطاء کر ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس بیماری کے بعدکبھی میرے پیٹ میں بھی درد نہیں ہوئی ۔

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← غَيْلاَنَ بْنَ جَامِعٍ ← عمرو بن ثابت ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2026

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّعَاءِ بِالْبَلَاءِ · حديث 2027

2027 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَوْرٍ الْجُذَامِيُّ، وَابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَا: ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف فرماہوئے ،تب میں بیمار تھا ، انہوں نے اسی طرح بیان کیا ۔

دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا مَرِيضٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ ثَوْرٍ الْجُذَامِيُّ، وَابْنُ أَبِي مَرْيَمَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2027

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter