كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَعْزِيَةِ الْمُصَابِ · حديث 1216
1216 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، ثنا مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسَدِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَزِّيهِ بِابْنِهِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعْظَمَ اللَّهُ لَكَ الْأَجْرَ، وَأَلْهَمَكَ الصَّبْرَ، وَرَزَقَنَا وَإِيَّاكَ الشُّكْرَ، فَإِنَّ أَنْفُسَنَا وَأَمْوَالَنَا وَأَهْلِينَا وَأَوْلَادَنَا مِنْ مَوَاهِبِ اللَّهِ الْهَنِيَّةِ وَعَوَارِيهِ الْمُسْتَوْدَعَةِ، مَتَّعَكَ بِهِ فِي غِبْطَةٍ وَسُرُورٍ، وَقَبَضَهُ مِنْكَ بِأَجْرٍ كَبِيرٍ، الصَّلَاةُ وَالرَّحْمَةُ [ص:366] وَالْهُدَى إِنِ احْتَسَبْتَهُ فَاصْبِرْ، وَلَا يُحْبِطْ جَزَعُكَ أَجْرَكَ فَتَنْدَمَ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْجَزَعَ لَا يَرُدُّ مَيِّتًا وَلَا يَدْفَعُ حُزْنًا، وَمَا هُوَ نَازِلٌ فَكَأَنْ قَدْ وَالسَّلَامُ»
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے بیٹے کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعزیت کرنے کے لئے ان کو خط لکھا ،خط کے الفاظ :اللہ کے نام کے ساتھ جوبڑا مہربان ،نہایت رحم کرنے والا ہے ۔یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لئے ہے، تمہارے اوپر سلامتی ہو، میں تمہارے سامنے اس اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اس کی تعریف بیان کرتا ہوں کہ جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، حمد و ثناء کے بعد! اللہ تعالیٰ تمہیں عظیم اجر سے نوازے، تمہیں صبر کی توفیق دے، ہمیں اور تمہیں شکر کی نعمت سے مالا مال کرے ،بلاشبہ ہماری جانیں ،ہمارے مال، ہمارے اہل و عیال اور ہماری اولادیں اللہ تعالی کے عطیات میں سے ہیں اور اللہ تعالی نے یہ سب کچھ ہمیں عاریتاًعطاء کیا ہے ،اللہ تعالی نے تمہیں تمہارے بیٹے کے ذریعے سے رشک اور سرور کے انداز میں فائدہ پہنچایا کیا اوراس نے اجر کبیر کے ساتھتمہارے بیٹے کو تم سے واپس بلالیا ۔ تمہارے لیے تمہارا بیٹا بخشش کا،رحمت کااور ہدایت کا باعث ہوگا اگر تم اس پرثواب کی امید رکھو گے ،اس لئے صبرسے کام لو ، جزع وفزع کرکے اپنے اجر کو ضائع نہ کرو،اس پرتمہیں ندامت کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ بات یاد رکھو! بلاشبہ جزع وفزع کرنا، رونا پیٹنا فوت شدہ کو واپس نہیں لوٹا سکتا اورنہ اس غم ہلکا ہوسکتا ہے ۔جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والا تھا وہ ہو چکا ۔و السلام۔
إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ يُعَزِّيهِ بِابْنِهِ، ← مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو الأَسَدِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1216
