Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2179

2179 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ شَاذَانُ الْفَارِسِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَحَطَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَيَبِسَ الشَّجَرُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَأَسْنَتَ النَّاسُ فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّكَ، فَقَالَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ كَذَا وَكَذَا فَاخْرُجُوا مَعَكُمْ بِصَدَقَاتٍ» فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ يَمْشِي وَيَمْشُونَ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ، حَتَّى أَتَوُا الْمُصَلَّى فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالِاسْتِسْقَاءِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ بِوَجْهِهِ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ ثُمَّ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْنِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَكَبَّرَ تَكْبِيرَةً قَبْلَ أَنْ يَسْتَسْقِيَ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا وَأَغِثْنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا هَنِيئًا وَحَيًا رَبِيعًا وَحَنًا طَبَقًا غَدَقًا مُغْدِقًا عَامًّا هَنِيًّا مَرِيًّا مَرِيعًا مَرْتَعًا وَابِلًا شَامِلًا مُسْبِلًا مُجَلِّلًا دَائِمًا دَرَرًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ رَايِثٍ، غَيْثًا اللَّهُمَّ تُحْيِي بِهِ الْبِلَادَ، وَتُغِيثُ بِهِ الْعِبَادَ، وَتَجْعَلُهُ بَلَاغًا لِلْحَاضِرِ مِنَّا وَالْبَادِ، اللَّهُمَّ أَنْزِلْ فِي أَرْضِنَا زِينَتَهَا، وَأَنْزِلْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِنَا [ص:597] سَكَنَهَا، اللَّهُمَّ أَنْزِلْ عَلَيْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا تُحْيِي بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا وَاسْقِهِ مِمَّا خَلَقْتَ أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا» قَالَ: فَمَا بَرِحْنَا حَتَّى أَقْبَلَ قَزَعٌ مِنَ السَّحَابِ فَالْتَأَمَ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ مَطَرَتْ عَلَيْهِمْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لَا يُقْلِعُ عَنِ الْمَدِينَةِ، فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَرِقَتِ الْأَرْضُ وَتَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَصْرِفَهَا عَنَّا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِسُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» اللَّهُمَّ عَلَى رُءُوسِ الظِّرَابِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَظُهُورِ الْآكَامِ " فَتَصَدَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ حَتَّى كَانَتْ فِي مِثْلِ التُّرْسِ يُمْطِرُ مَرَاعِيهَا وَلَا يُمْطِرُ فِيهَا قَطْرَةً

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قحط سالی ہوئی،بارش نہیں ہو رہی تھیں، مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم !بارش نہیں ہو رہی درخت خشک ہو رہے ہیں ،مویشی ہلاک ہو رہے ہیںاور لوگوں کوخشک سالی کا سامنا ہے ،آپ ہمارے لئے اپنے رب سے بارش کی دعا کریں ،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب فلاں دن اور فلاں وقت ہو گا تو پھر تم اپنے صدقات کو ساتھ لے کے نکلنا، جب مقررہ دن آیا تو رسول اللہ صلی اللہ وسلم نکلے ،لوگ آپ کے ساتھ تھے ، آپ بھی ساتھ چل رہے تھے لوگ بھی پیدل چل رہے تھے ،ان پر سکینت اور وقار طاری تھا، چلتے ہوئے عید گاہ پہنچے ،اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے آپ نے لوگوں کو دور رکعت نماز پڑھائی ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے وہی انداز اختیار کیا جو نماز عیدین میں کیا جاتا ہے،ان دورکعتوں میں سے پہلی رکعت میں اپنے سورہ فاتحہ پڑھی اور سورہ اعلیٰ کی تلاوت کی ، دوسری رکعت میں دوسری سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اور اس کے بعدسورہ غاشیہ کو پڑھا ۔جب آپ نے نماز کو مکمل کیا یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور اپنی چادر کو الٹ کرلیا اوراپنے گھٹنوں تک پھیلا لیا۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اللہ کی تکبیر اور بڑائی کو بیان کیا بارش کی دعا کرنے سے پہلے، پھر آپ نے ان الفاظ میں اللہ سے بارش کی دعا کی :’’ اللَّہُمَّ اسْقِنَا وَاَغِثْنَا، اللَّہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُغِیثًا ہَنِیئًا وَحَیًا رَبِیعًا وَحَنًا طَبَقًا غَدَقًا مُغْدِقًا عَامًّا ہَنِیًّا مَرِیًّا مَرِیعًا مَرْتَعًا وَابِلًا شَامِلًا مُسْبِلًا مُجَلِّلًا دَائِمًا دَرَرًا نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَیْرَ رَایِثٍ، غَیْثًا اللَّہُمَّ تُحْیِی بِہِ الْبِلَادَ، وَتُغِیثُ بِہِ الْعِبَادَ، وَتَجْعَلُہُ بَلَاغًا لِلْحَاضِرِ مِنَّا وَالْبَادِ، اللَّہُمَّ اَنْزِلْ فِی اَرْضِنَا زِینَتَہَا، وَاَنْزِلْ عَلَیْنَا فِی اَرْضِنَا سَکَنَہَا، اللَّہُمَّ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً طَہُورًا تُحْیِی بِہِ بَلْدَۃً مَیْتًا وَاسْقِہِ مِمَّا خَلَقْتَ اَنْعَامًا وَاَنَاسِیَّ کَثِیرًا، اے اللہ !ہمیں پانی پلا دے ،ہمیں بارش عنایت فرما، ازحد مفید ، مددگار ، بہترین انجام والی ، جو شادابی لائے ، نفع آور ہو ، کسی ضرر کا باعث نہ بنے اور جلدی آئے ، دیر نہ کرے ۔اے اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، عمدہ ہو،برکت والی ہو، خوشگوارہو، بہارکا باعث ہو، بہاؤ والی ہو،موسلادھار ہو،تیز برسنے والی ہو،اے اللہ !ہمیں پانی پلا دے ،ہمیں بارش عنایت فرما، اے اللہ !ہمیں بارش عنایت فرما،وافر پانی عطاء کردے ،باعث برکت ہو،آسمان سے اترنے والا ہو ، بہاربننے والاہو ،موسلا دھار ہو،وافر اورکشادہ ہو،عام ہو ، خیر کا باعث ہو ،دکھائی دینے والی بارش ہو، مفیدہو، بے ضررہو، فوری آنے والی ہو۔اے اللہ !بارش سے ملک کو زندہ کردے،اس کے ساتھ بندوں کی مدد فرما اور اس کو ہمارے اور ملک کے لیے خوش حالی کے لیے پیغام بنادے ۔اے اللہ!ہماری زمین پر اس کی زینت نازل فرما، اور ہماری زمین پر اس کی آبادکاری نازل فرما۔ اے اللہ!ہم پر آسمان سے پاکیزہ پانی برسا، جس سے تو نے ایک مردہ بستی کو زندہ کیا، اور جس سے اس چیز سے پانی پلا، جسے تو نے بہت سے پیدا کیا ہے۔ مویشی اور لوگ اور اسے اس چیز سے پانی پلا جس پانی سے تو نے چوپائوں اور بہت انسانوں کو زندگی بخشی ۔راوی کہتے ہیں کہ ہم نے اسی وقت آسمان سے بادلوں کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا دیکھا تو وہ اچانک پھیلتے پھیلتے پورے افق پر پھیل گیا، پھر بارش برسنا شروع ہوئی اور مسلسل سات دن اور ساتھ راتوں تک بارش برستی رہی، اس عرصہ میں مدینہ سے بارش کا برسنا منقطع نہیں ہوا ، اگلے ہفتے مسلمان پھررسول اللہ صلی وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم!زمین غرق ہورہی ہے ، گھرگر رہے ہیں ،زمین پھٹ رہی ہے ،آب اللہ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس بارش کو ہم سے دور لے جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر تشریف فرما تھے ، لوگوں کی بات سن کر آپ ہنسے ، یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نمایاں ہو گئیں ۔لوگوں کی جلد بازی کی وجہ سے اور ابن آدم کے اس انداز کی وجہ سے۔ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے دعا کے لئے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا کی:حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا اللَّہُمَّ عَلَی رُء ُوسِ الظِّرَابِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ وَبُطُونِ الْاَوْدِیَۃِ وَظُہُورِ الْآکَامِ، اے اللہ! اس بارش کو ہمارے اوپر نہ برسا ،ہمارے آس پاس لے جا ،اے اللہ !چوٹیوں کے اوپر، اللہ !درختوں کے جھنڈوں میں ،اللہ !وادیوں کے درمیان میںاور اے ا اللہ !پہاڑوں کے اوپر لے جا۔ اسی وقت مدینے کی فضا صاف ہو گی حتی کہ اس طرح جس طرح چھتری ہوا کر تی ہے کہ اس کے آس پاس تو بارش برس رہی ہے لیکن مدینہ میںبارش کا ایک قطرہ بھی نہیں برس رہاتھا۔

قَحَطَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ شَاذَانُ الْفَارِسِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2179

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2180

2180 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رَشَدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ ثنا مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَتَيْنَاكَ وَمَا لَنَا بَعِيرٌ يَئِطُّ وَلَا صَبِيُّ يَصْطَبِحُ وَأَنْشَدَهُ: [البحر الطويل] أَتَيْنَاكَ وَالْعَذْرَاءُ تَدْمَى لِبَانُهَا ... وَقَدْ شُغِلَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ عَنِ الطِّفْلِ وَأَلْقَى بِكَفَّيْهِ الشُّجَاعُ اسْتِكانَةً ... مِنَ الْجُوعِ ضَعْفًا مَا يَمُرُّ وَمَا يُحَلِي وَلَا شَيْءَ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ عِنْدَنَا ... سِوَى الْحَنْظَلِ الْعَامِيِّ وَالْعِلْهِزِ الْفَشْلِ وَلَيْسَ لَنَا إِلَّا إِلَيْكَ فِرَارُنَا ... وَأَيْنَ فِرَارُ النَّاسِ إِلَّا إِلَى الرُّسْلِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: «اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيًّا مَرِيعًا غَدَقًا طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَايِثٍ نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ تَمْلَأُ بِهِ الضَّرْعَ وَتُنْبِتُ بِهِ الزَّرْعَ وَتُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا» فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ يَدَيْهِ إِلَى نَحْرِهِ حَتَّى أَلْقَتِ السَّمَاءُ بَأَوْرَاقِهَا وَجَاءَ أَهْلُ الْبِطَاحِ يَعُجُّونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْغَرَقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» فَانْجَابَ السَّحَابُ عَنِ السَّمَاءِ حَتَّى أَحْدَقَ بِالْمَدِينَةِ كَالْإِكْلِيلِ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ: «لِلَّهِ أَبُو طَالِبٍ لَوْ كَانَ حَيًّا قَرَّتْ عَيْنَاهُ، مَنْ يُنْشِدُنَا قَوْلَهُ؟» فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ أَرَدْتَ قَوْلَهُ: وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ... ثِمَالِ الْيَتَامَى عِصْمَةٍ لِلْأَرَامِلِ يَلُوذُ بِهِ الْهُلَّاكُ مِنْ آلِ هَاشِمٍ ... فَهُمْ عِنْدَهُ فِي نِعْمَةٍ وَفَوَاضِلِ كَذَبْتُمْ وَبَيْتِ اللَّهِ يُبْزَى مُحَمَّدٌ ... وَلَمَّا نُقَاتِلْ دُونَهُ وَنُنَاضِلِ وَنُسْلِمُهُ حَتَّى نُصَرَّعَ حَوْلَهُ ... وَنَذْهَلَ عَنْ أَبْنَائِنَا وَالْحَلَائِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ كِنَانَةَ فَقَالَ: [ص:598] لَكَ الْحَمْدُ وَالْحَمْدُ مِمَّنْ شَكَرْ ... سُقِينَا بِوَجْهِ النَّبِيِّ الْمَطَرْ دَعَا اللَّهَ خَالِقَهُ دَعْوَةً ... أُجِيبَتْ وَأَشْخَصَ مِنْهُ الْبَصَرْ وَلَمْ يَكُ إِلَّا كَقَلْبِ الرِّدَاءِ ... وَأَسْرَعَ حَتَّى رَأَيْنَا الْمَطَرْ دُفَاقَ الْعَزَالِي وَجَمَّ الْبُعَاقِ ... أَغَاثَ بِهِ اللَّهُ عُلْيَا مُضَرْ وَكَانَ كَمَا قَالَهُ عَمُّهُ ... أَبُو طَالِبٍ ذُو رِدَاءٍ وَغُرَرْ وَيَسْقِي بِكَ اللَّهُ صَوْبَ الْغَمَامِ ... وَهَذَا الْعَيَانُ لِذَاكَ الْخَبَرْ فَمَنْ يَشْكُرِ اللَّهَ يَلْقَى الْمَزِيدَ ... وَمَنْ يَكْفُرِ اللَّهَ يَلْقَ الْغِيَرْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ يَكُ شَاعِرٌ قَدْ أَحْسَنَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ کے پاس اس حال میں آئے ہیں کہ ہمارے پاس نہ کوئی سواری کے قابلا اونٹ ہے اور نہ ہی کوئی گھاس ہے جو اگتی ہو۔اس کے بعد اس نے اشعار کہے : ہم آپ کے پاس اس حال میں حاضر ہوئے کہ (شدت بھوک کی وجہ سے )بچوں کے مسوڑھوں سے خون بہہ رہا تھا اور شیرخواربچے کی ماں بچے سے غافل ہو چکی تھی۔ بھوک کی شدت اور گزرتے ہوئے دگر گوں حالات کی وجہ سے ۔۔ بہادراور شجاع لوگ نحیف ،بے یس اور کمزور ہوکر ہتھیلیوں کے بل گر پڑے ،ہمارے پاس ہمارے اپنے کھانے کے لیے عام کڑوے خربوزے اور مایوسی کے علاوہ یہاںکچھ نہیں ہے ۔اور ہماری اڑان صرف آپ کی طرف ہے اور لوگوں کی اڑان رسولوں کے سوا کہاں ہوسکتی ہے؟اس کے یہ اشعار سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے کھڑے ہوئے اور منبر پر تشریف فرماہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا او راللہ سے بارش کی دعا کرنے لگے :اسْقِنَا غَیْثًا مُغِیثًا مَرِیًّا مَرِیعًا غَدَقًا طَبَقًا عَاجِلًا غَیْرَ رَایِثٍ نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ تَمْلَاُ بِہِ الضَّرْعَ وَتُنْبِتُ بِہِ الزَّرْعَ وَتُحْیِی بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا ،اے اللہ !ہمیں پانی پلا دے ،ہمیں بارش عنایت فرما،تالابوں کو بھرنے والی بارش ،فصلوں کو اگانے والی ہو ، زمین کے بے آباد ہونے کے بعد زمین کو زندہ کرنے والی ہو ۔اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک ابھی مکمل طورپر نیچے نہیں آئے تھے کہ آسمان سے موسلادھار بارش برسنے لگی ۔کچھ ہی دیر کے بعد لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوڑتے ہوئے آئے او رعرض کرنے لگے :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بارش کی وجہ سے لوگ ڈوب رہے ہیں ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی :اے اللہ !ہمارے آس پاس بارش برسا ،ہم سے بارش کو لے جا ۔ اسی وقت آسمان سے بادل چھٹ گئے ،مدینہ کے آس پاس بارش برسنے لگی ،مدینہ منورہ سفید پھول کی طرف صاف ہوگیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے ،یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نمایاں ہوگئیں اور آپ نے فرمایا:اللہ کی قسم !اگرآج ابو طالب زندہ ہوتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتیں ۔ کون ہے ؟جو آج ہمارے سامنے ان کے اشعار کو دُہرائے گا ۔اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !گویاکہ آپ ابو طالب کے یہ اشعار سننا چاہتے ہیں ، اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ اشعار کہے :ان کا سفید وگورا رنگ، وہ حامی یتیموں کا، بیواؤں کی عصمت کا محافظ ۔وہ ہاشم کے خاندان کی تباہی سے پناہ مانگے گا تو وہ اس کے ساتھ نعمتوں اورراحتوں میں ہیں۔تم نے جھوٹ بولا اور(کہا کہ)بیت اللہ محمد سے افضل ہے (تم نے کہا)وہم بیت اللہ کی خاطر لڑائی کرتے ہیں اور ہم اسی کا دفاع کرتے ہیں ۔اور ہم اسی کے تابع ہیں یہاں تک کہ ہم اسی کے گرد چکر کاٹتے ہیں اور (اس کی وجہ سے )ہم اپنے بیٹوں اوربیٹوں سے بے فکرہوجاتے ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں !کنانہ میں سے ایک شخص کھڑا ہوا ، تب اس نے یہ اشعار کہے :آپ کا شکریہ ہے اور تمام تعریفات اس ذات کے لیے ہیں جو لائق ستائش ہے ۔۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہمیں بارش سے نوزاز گیا ۔انہوں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم )نے اپنے پیدا کرنے والے اللہ سے عاجزانہ دعا کی ۔۔ان کی دعا کو قبولیت سے نوازا گیا ،آنکھیں چمک اٹھیں ۔(دعا کے بعد)چادروں کو پلٹنے اور درست کرنے کی مہلت تھی اور بس ۔۔۔بہت جلدی اورتیزی سے بارش برسی ،ہم نے بارش کا مشاہدہ کیا ۔رحمت الہی نے جوش مارا اوربرکتوں کی کثرت ہوئی ۔موسلادھار اور تیز بارش ہوئی ۔۔اللہ عزوجل نے بارش کے ذریعے افلاس اورفاقوں کے خلاف مدد کی ۔بالکل ایسا ہی ہوا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب نے چادر اوڑھے ہوئے چمکتے دانتوں سے کہا تھا ۔(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم)تمہاری وجہ سے اللہ عزوجل نے بادلوں کی طرف سے بارش کو برسایا ہے ۔۔یہ مشاہدہ ہے اور وہ خبر ہے۔جو بھی اللہ کا شکرگزارہوگا وہ مزید نعمتوں سے مستفید ہوگا ۔۔جس نے اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کی وہ اس کی پکڑ سے دوچار ہوگا ۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر وہ شاعر تھا تو اچھا شاعر تھااور اچھے شعر کہے اور یقینا تم نے بھی بہت اچھا کہا ۔

جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ فَقَالَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، ← عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رَشَدِ بْنِ خُثَيْمِ الْهِلَالِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2180

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2181

2181 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسَ، ثنا شَيْبَانُ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَسْنَتَ النَّاسُ فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ، فَنَظَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا نَرَى مِنْ كَثِيرِ سَحَابٍ فَاسْتَسْقَى فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ مُطِرُوا حَتَّى سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِينَةِ وَاطَّرَدَتْ طُرُقُهَا أَنْهَارًا، فَمَا زَالَتْ كَذَلِكَ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ ثُمَّ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ وَنَبِيُّ اللَّهِ يَخْطُبُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ غَرِقْنَا، ادْعُ رَبَّكَ يَحْبِسْهَا عَنَّا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا، يُمْطِرُ مَا حَوْلَهَا وَلَا يُمْطِرُ مَا فِيهَا شَيْئًا يُرِيهِمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كَرَامَةَ نَبِيِّهِ وَإِجَابَةَ دَعْوَتِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص نے کھڑے ہو کر غل مچایا، کہنے لگاکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!بارش کے نام بوند بھی نہیں لوگ خشک سالی سے دوچار ہیں ، آپاپنے رب عزوجل سے دعا کیجئے کہ ہمیں سیراب کرے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا، ہمہیں آسمان پر بالکل بادل دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی :اللہم اسقنا اے اللہ!ہمیں سیراب کر۔ اس وقت آسمان پر بادل پھیل گئے اور بارش شروع ہو گئی۔مدینہ کی وادیاں بہنے لگیں ، راستے نہروں کی شکل اختیار کرگئے ، بارش کا سلسلہ اسی طرح جاری و ساری رہا یہاں تک کہ اگلا جمعہ آگیا ، تب تک بارش نہیں تھمی ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے جمعہ میں خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو وہی شخص تھا یا اس کے علاوہ کوئی اور تھاوہ کھڑا ہوا اس نے کہا:اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !ہم ڈوب گئے ،آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ بارش بند کر دے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور دعا کی: اللہم حوالینا ولا علینا ،اے اللہ!ہمارے اطراف میں اب بارش برسا،آپ نے یا دو یا تین مرتیہ یہ دعا کی ۔ اس کے ساتھ ہی بادل مدینہ سے دائیں بائیں جانب چھٹنے لگے ۔بادل آس پاس تو بارش برسا رہے تھے لیکن مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برسایا اس کے بعد ۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے نبی کی کرامت اور دعا کی قبولیت کا مظہر پیش کیا ۔

بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانُ، كِلَاهُمَا ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2181

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2182

2182 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَا: ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا بَشَّارُ بْنُ مُوسَى الْخَفَّافُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ [ص:599]، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَنَادَى النَّاسُ مِنْ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْمَاشِيَةُ وَاحْتَبَسَ الْقَطْرُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، وَالنَّبِيُّ عَلَى الْمِنْبَرِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا فِي السَّمَاءِ مِنْ نُكْتَةِ غَيْمٍ فَمَا زَالَ يَتَأَلَّفُ السَّحَابُ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى مُطِرْنَا، فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ حَتَّى أَهَمَّ الرَّجُلُ الشَّدِيدُ مِنَّا مَتَى يَبْلُغُ إِلَى مَنْزِلِهِ فَمُطِرْنَا سَبْعًا فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَنَادَى النَّاسُ مِنْ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَهُوَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» فَتَفَرَّقَ عَنِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ أَهْلُ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ يُمْطَرُونَ وَمَا يُصِيبُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنَ الْمَطَرِ وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَالْآخَرُونَ نَحْوَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں لوگوں نے کھڑے ہو کر غل مچایا، کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! بارش کے نام بوند بھی نہیں درخت سرخ ہو چکے (یعنی تمام پتے خشک ہو گئے) اور جانور تباہ ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمیں سیراب کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اللہم اسقنا اے اللہ! ہمیں سیراب کر۔ دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کہا، قسم اللہ کی اس وقت آسمان پر بادل کہیں دور دور نظر نہیں آتا تھا لیکن دعا کے بعد اچانک ایک بادل آیا اور بارش شروع ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر ے اور نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو بارش ہو رہی تھی اور دوسرے جمعہ تک بارش برابر ہوتی رہی پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے جمعہ میں خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے مسجد کے کونے میں کھڑے ہوکربتایا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مکانات منہدم ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، اللہ سے دعا کیجئے کہ بارش بند کر دے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور دعا کی االلہم حوالینا ولا علینا اے اللہ! ہمارے اطراف میں اب بارش برسا، مدینہ میں اس کا سلسلہ بند کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور بارش ہمارے ارد گرد ہونے لگی۔ اس شان سے کہ اب مدینہ میں ایک بوند بھی نہ پڑتی تھی میں نے مدینہ کو دیکھا ابر تاج کی طرح گردا گرد تھا اور مدینہ اس کے بیچ میں۔یہ الفاظ سلیمان بن مغیرہ کے ہیں اور باقیوں نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے ۔

صَعِدَ النَّبِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَنَادَى النَّاسُ مِنْ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ: ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٌ، [ص:331] ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ ← وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← بَشَّارُ بْنُ مُوسَى الْخَفَّافُ ← وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ← أَنَسٍ، ← أَنَسٍ، وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، ← ثَابِتٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2182

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2183

2183 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الْمَطَرَ قَحَطَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى غَلَا السِّعْرُ وَخَشُوا الْهَلَاكَ عَلَى الْأَمْوَالِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الَّذِي قَبْلَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں قحط سالی ہوئی ، بازار میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں ، مال کی ہلاکت کا ڈر لاحق ہوا ۔۔باقی حدیث اوپر والی حدیث کی طرح بیان کی ۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، وَثَابِتٍ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2183

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2184

2184 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اسْقِنِي غَيْثًا مُغِيثًا هَنِيًّا مَرِيًّا غَدَقًا طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَايِثٍ نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں میں بارش کی دعا کی :’’اللَّہُمَّ اسْقِنِی غَیْثًا مُغِیثًا ہَنِیًّا مَرِیًّا غَدَقًا طَبَقًا عَاجِلًا غَیْرَ رَایِثٍ نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ، اے اللہ !ہمیں پانی پلا دے ،ہمیں بارش عنایت فرما، ازحد مفید ، مددگار ، بہترین انجام والی ، جو شادابی لائے ، نفع آور ہو ، کسی ضرر کا باعث نہ بنے اور جلدی آئے ، دیر نہ کرے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← شَرِيکٍ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2184

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2185

2185 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَةً فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ يَأْتِ الْمَسْجِدَ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى لَثَقَ الثِّيَابِ عَلَى النَّاسِ وَسُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكِنِّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَقَالَ: «أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا ، اللہ تعالیٰ نے بادل کے ٹکڑے کو بھیجا ، بجلی چمکی ، بادل گرجا ، پھر اللہ کے حکم سے بارش برسی ، آپ کے اگلی نماز کے لیے مسجد میں جانے سے پہلے پانی کی ودایاں بہہ پڑیں ۔جب لوگوں نے یہ سب دیکھا تو انہوں کپڑے سمیٹ لیے ،آپ نے لوگوں کی جلد بازی کو دیکھا تو آپ ہنسنے لگے ،یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2185

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2186

2186 - حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ النَّيْسَابُورِيُّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، ثنا السِّنْدِيُّ سَهْلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، قَالَ: اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ [ص:600]: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا» فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ التَّمْرَ فِي الْمَرَابِدِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا حَتَّى يَقُومَ أَبُو لُبَابَةَ عُرْيَانًا فَيَسُدُّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِهِ بِإِزَارِهِ» ، قَالَ: وَمَا يُرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابٌ، فَأَمْطَرَتْ فَاجْتَمَعُوا إِلَى أَبِي لُبَابَةَ فَقَالُوا: إِنَّهَا لَنْ تُقْلِعَ حَتَّى تَقُومَ عُرْيَانًا وَتَسَدُّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِكَ بِإِزَارِكَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلّيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ فَأَمْسَكَتِ السَّمَاءُ

ابو لبابہ عبد المنذر روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا کی : اے اللہ !ہمیں پانی پلا دے ،ہمیں بارش عنایت فرما، ابولبابہ کھڑا ہوا اس نے کہا :ا ے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کھجوریں ٹوکرے میں پڑی ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بارش کی دعا کی ، اس پر ابولبابہ بے لباس ہوکر کھڑے ہوئے ،انہوں نے اپنی کھجوروں والے ٹوکرے کو اپنے ازار سے باندھا ، ابو لبابہ کہتے ہیں :آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا ، اسی وقت بارش برسی ، تمام لوگ ابو لبابہ کے گرد جمع ہوئے ،لوگوں نے کہا:یہ بارش رکنے والی نہیں ہے ،یہاں تک کہ برہنہ ہوکر کھڑے ہوجائو اور اپنے ٹوکرے کو اپنے ازار سے باندھ لو ، جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ، اس نے ایسا ہی کیا تب آسمان سے بارش تھم گئی ۔

اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ [ص:600]: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا» فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ: ← أَبِي لُبَابَةَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنُ حَرْمَلَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ، ← السِّنْدِيُّ سَهْلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، ← أَبُو عَوَانَةَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ النَّيْسَابُورِيُّ الْحَافِظُ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2186

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2187

2187 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِنِي» وَمَا يُرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةُ سَحَابٍ فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْفَعَهَا عَنَّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، وَلَكِنْ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ وَالْآكَامِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!جانور مر گئے اور راستے بند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہم پر پانی برسائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی :اللَّہُمَّ اسْقِنِی، اے اللہ !مجھے سیراب فرما ۔آسمان پر بادل کا کہیں نشان بھی نہ تھا،اسی وقت بارش برسنے لگی۔یہ جمعہ کا دن تھا ، اس جمعہ سے لے آئندہ جمعہ تک بارش برستی رہی ۔پھرایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !(کثرت بارش سے) جانور تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ بارش بند ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی:اللہم حوالینا ولا علینا، اللہم علی الآکام والظراب وبطون الأودیۃ ومنابت الشجر، اے اللہ!ہمارے اطراف میں بارش برسا (جہاں ضرورت ہے)ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ!ٹیلوں پہاڑیوں وادیوں اور باغوں کو سیراب کر۔ چنانچہ بارش کا سلسلہ بند ہو گیا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، كُلُّهُمْ ← أَبِي ← وَحَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ← مالک بن أنس ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، كُلُّهُمْ ← وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2187

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2188

2188 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی :اللَّہُمَّ اسْقِنَا، اے اللہ !ہمیں پانی پلا دے ۔

أَنَسٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2188

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2189

2189 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيَوَيْلَ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَثُرَ الْمَطَرُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْفَعَهُ عَنَّا، فَرَفَعَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، عَلَى رُءُوسِ الْآكَامِ وَفِي مَنَابِتِ الشَّجَرِ» ، قَالَ أَنَسٌ: فَتَجَلَّتِ السَّحَابُ عَنِ الْمَدِينَةِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا ، اس نے کہا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہم پر پانی برسائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لیے دعا فرمائی، کثرت سے بارش ہوئی ۔وہ شخص پھر آیا ، اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ بارش بند ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی:اللہم حوالینا ولا علینا، اللہم علی الآکام والظراب وبطون الأودیۃ ومنابت الشجر، اے اللہ!ہمارے اطراف میں بارش برسا (جہاں ضرورت ہے)ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ!ٹیلوں پہاڑیوں وادیوں اور باغوں کو سیراب کر۔ چنانچہ بارش کا سلسلہ بند ہو گیا

قَامَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيَوَيْلَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2189

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2190

2190 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَعَا عَلَى مُضَرَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ» فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَخْطِرُ لَنَا فَحْلٌ وَلَا يَتَزَوَّدُ لَنَا رَاعِي فَقَالَ: «اللَّهُمَّ دَعَوْتُكَ فَأَجَبْتَنِي وَسَأَلْتُكَ فَأَعْطَيْتَنِي، اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا، مَرِيًّا، مَرِيعًا، طَبَقًا، عَاجِلًا، غَيْرَ رَايِثٍ، نَافِعًا، غَيْرَ ضَارٍّ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مضر قبیلہ کے لیے بد عا کی :اللَّہُمَّ اکْفِنِیہِمْ، اے اللہ !تو ان کو میری طرف سے کافی ہوجا ۔ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آیا ، اس نے کہا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ کی قسم!ہمارے جانور ہلاک ہورہے ہیں ، مال تباہ ہورہے ہیں ۔ اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی :،اے اللہ !میں نے تجھ سے دعا کی ، تو نے میری دعا کو قبول کیا ، میں نے تجھ سے مانگا تونے مجھے عطاء کیا ، اے اللہ !ہمیں سیراب فرما ، وافر اور موسلا دھار بارش عطاء کر ، ایسی بارش جو خیر کا باعث ہو ،نفع مند ہو ، جلد آنے والی ہو ،دیر سے آنے والی نہ ہو ، فائدہ پہنجانے والی ہو نقصان کرنے والی نہ ہو ۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ دَعَا عَلَى مُضَرَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ» فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: وَاللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2190

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter