كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ · حديث 2179
2179 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ شَاذَانُ الْفَارِسِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَحَطَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَيَبِسَ الشَّجَرُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَأَسْنَتَ النَّاسُ فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّكَ، فَقَالَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ كَذَا وَكَذَا فَاخْرُجُوا مَعَكُمْ بِصَدَقَاتٍ» فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ يَمْشِي وَيَمْشُونَ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ، حَتَّى أَتَوُا الْمُصَلَّى فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالِاسْتِسْقَاءِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ بِوَجْهِهِ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ ثُمَّ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْنِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَكَبَّرَ تَكْبِيرَةً قَبْلَ أَنْ يَسْتَسْقِيَ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا وَأَغِثْنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا هَنِيئًا وَحَيًا رَبِيعًا وَحَنًا طَبَقًا غَدَقًا مُغْدِقًا عَامًّا هَنِيًّا مَرِيًّا مَرِيعًا مَرْتَعًا وَابِلًا شَامِلًا مُسْبِلًا مُجَلِّلًا دَائِمًا دَرَرًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ رَايِثٍ، غَيْثًا اللَّهُمَّ تُحْيِي بِهِ الْبِلَادَ، وَتُغِيثُ بِهِ الْعِبَادَ، وَتَجْعَلُهُ بَلَاغًا لِلْحَاضِرِ مِنَّا وَالْبَادِ، اللَّهُمَّ أَنْزِلْ فِي أَرْضِنَا زِينَتَهَا، وَأَنْزِلْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِنَا [ص:597] سَكَنَهَا، اللَّهُمَّ أَنْزِلْ عَلَيْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا تُحْيِي بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا وَاسْقِهِ مِمَّا خَلَقْتَ أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا» قَالَ: فَمَا بَرِحْنَا حَتَّى أَقْبَلَ قَزَعٌ مِنَ السَّحَابِ فَالْتَأَمَ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ مَطَرَتْ عَلَيْهِمْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لَا يُقْلِعُ عَنِ الْمَدِينَةِ، فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَرِقَتِ الْأَرْضُ وَتَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَصْرِفَهَا عَنَّا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِسُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» اللَّهُمَّ عَلَى رُءُوسِ الظِّرَابِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَظُهُورِ الْآكَامِ " فَتَصَدَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ حَتَّى كَانَتْ فِي مِثْلِ التُّرْسِ يُمْطِرُ مَرَاعِيهَا وَلَا يُمْطِرُ فِيهَا قَطْرَةً
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قحط سالی ہوئی،بارش نہیں ہو رہی تھیں، مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم !بارش نہیں ہو رہی درخت خشک ہو رہے ہیں ،مویشی ہلاک ہو رہے ہیںاور لوگوں کوخشک سالی کا سامنا ہے ،آپ ہمارے لئے اپنے رب سے بارش کی دعا کریں ،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب فلاں دن اور فلاں وقت ہو گا تو پھر تم اپنے صدقات کو ساتھ لے کے نکلنا، جب مقررہ دن آیا تو رسول اللہ صلی اللہ وسلم نکلے ،لوگ آپ کے ساتھ تھے ، آپ بھی ساتھ چل رہے تھے لوگ بھی پیدل چل رہے تھے ،ان پر سکینت اور وقار طاری تھا، چلتے ہوئے عید گاہ پہنچے ،اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے آپ نے لوگوں کو دور رکعت نماز پڑھائی ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے وہی انداز اختیار کیا جو نماز عیدین میں کیا جاتا ہے،ان دورکعتوں میں سے پہلی رکعت میں اپنے سورہ فاتحہ پڑھی اور سورہ اعلیٰ کی تلاوت کی ، دوسری رکعت میں دوسری سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اور اس کے بعدسورہ غاشیہ کو پڑھا ۔جب آپ نے نماز کو مکمل کیا یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور اپنی چادر کو الٹ کرلیا اوراپنے گھٹنوں تک پھیلا لیا۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اللہ کی تکبیر اور بڑائی کو بیان کیا بارش کی دعا کرنے سے پہلے، پھر آپ نے ان الفاظ میں اللہ سے بارش کی دعا کی :’’ اللَّہُمَّ اسْقِنَا وَاَغِثْنَا، اللَّہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُغِیثًا ہَنِیئًا وَحَیًا رَبِیعًا وَحَنًا طَبَقًا غَدَقًا مُغْدِقًا عَامًّا ہَنِیًّا مَرِیًّا مَرِیعًا مَرْتَعًا وَابِلًا شَامِلًا مُسْبِلًا مُجَلِّلًا دَائِمًا دَرَرًا نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَیْرَ رَایِثٍ، غَیْثًا اللَّہُمَّ تُحْیِی بِہِ الْبِلَادَ، وَتُغِیثُ بِہِ الْعِبَادَ، وَتَجْعَلُہُ بَلَاغًا لِلْحَاضِرِ مِنَّا وَالْبَادِ، اللَّہُمَّ اَنْزِلْ فِی اَرْضِنَا زِینَتَہَا، وَاَنْزِلْ عَلَیْنَا فِی اَرْضِنَا سَکَنَہَا، اللَّہُمَّ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً طَہُورًا تُحْیِی بِہِ بَلْدَۃً مَیْتًا وَاسْقِہِ مِمَّا خَلَقْتَ اَنْعَامًا وَاَنَاسِیَّ کَثِیرًا، اے اللہ !ہمیں پانی پلا دے ،ہمیں بارش عنایت فرما، ازحد مفید ، مددگار ، بہترین انجام والی ، جو شادابی لائے ، نفع آور ہو ، کسی ضرر کا باعث نہ بنے اور جلدی آئے ، دیر نہ کرے ۔اے اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، عمدہ ہو،برکت والی ہو، خوشگوارہو، بہارکا باعث ہو، بہاؤ والی ہو،موسلادھار ہو،تیز برسنے والی ہو،اے اللہ !ہمیں پانی پلا دے ،ہمیں بارش عنایت فرما، اے اللہ !ہمیں بارش عنایت فرما،وافر پانی عطاء کردے ،باعث برکت ہو،آسمان سے اترنے والا ہو ، بہاربننے والاہو ،موسلا دھار ہو،وافر اورکشادہ ہو،عام ہو ، خیر کا باعث ہو ،دکھائی دینے والی بارش ہو، مفیدہو، بے ضررہو، فوری آنے والی ہو۔اے اللہ !بارش سے ملک کو زندہ کردے،اس کے ساتھ بندوں کی مدد فرما اور اس کو ہمارے اور ملک کے لیے خوش حالی کے لیے پیغام بنادے ۔اے اللہ!ہماری زمین پر اس کی زینت نازل فرما، اور ہماری زمین پر اس کی آبادکاری نازل فرما۔ اے اللہ!ہم پر آسمان سے پاکیزہ پانی برسا، جس سے تو نے ایک مردہ بستی کو زندہ کیا، اور جس سے اس چیز سے پانی پلا، جسے تو نے بہت سے پیدا کیا ہے۔ مویشی اور لوگ اور اسے اس چیز سے پانی پلا جس پانی سے تو نے چوپائوں اور بہت انسانوں کو زندگی بخشی ۔راوی کہتے ہیں کہ ہم نے اسی وقت آسمان سے بادلوں کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا دیکھا تو وہ اچانک پھیلتے پھیلتے پورے افق پر پھیل گیا، پھر بارش برسنا شروع ہوئی اور مسلسل سات دن اور ساتھ راتوں تک بارش برستی رہی، اس عرصہ میں مدینہ سے بارش کا برسنا منقطع نہیں ہوا ، اگلے ہفتے مسلمان پھررسول اللہ صلی وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم!زمین غرق ہورہی ہے ، گھرگر رہے ہیں ،زمین پھٹ رہی ہے ،آب اللہ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس بارش کو ہم سے دور لے جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر تشریف فرما تھے ، لوگوں کی بات سن کر آپ ہنسے ، یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نمایاں ہو گئیں ۔لوگوں کی جلد بازی کی وجہ سے اور ابن آدم کے اس انداز کی وجہ سے۔ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے دعا کے لئے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا کی:حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا اللَّہُمَّ عَلَی رُء ُوسِ الظِّرَابِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ وَبُطُونِ الْاَوْدِیَۃِ وَظُہُورِ الْآکَامِ، اے اللہ! اس بارش کو ہمارے اوپر نہ برسا ،ہمارے آس پاس لے جا ،اے اللہ !چوٹیوں کے اوپر، اللہ !درختوں کے جھنڈوں میں ،اللہ !وادیوں کے درمیان میںاور اے ا اللہ !پہاڑوں کے اوپر لے جا۔ اسی وقت مدینے کی فضا صاف ہو گی حتی کہ اس طرح جس طرح چھتری ہوا کر تی ہے کہ اس کے آس پاس تو بارش برس رہی ہے لیکن مدینہ میںبارش کا ایک قطرہ بھی نہیں برس رہاتھا۔
قَحَطَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ شَاذَانُ الْفَارِسِيُّ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2179
