كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ بِنَاءِ الرَّجُلِ بِأَهْلِهِ · حديث 939
939 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ سَلْمَانُ مِنْ غَيْبَةٍ لَهُ فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَرْضَاكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا قَالَ: فَتَزَوَّجَ فِي كِنْدَةَ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِهِ، إِذَا الْبَيْتُ مُنَجَّدٌ وَإِذَا فِيهِ نِسْوَةٌ، فَقَالَ: أَتَحَوَّلَتِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ أَوْ هِيَ حُمَّتْ، أَمَرَنَا خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتَّخِذْ مِنَ الْمَتَاعِ إِلَّا أَثَاثًا كَأَثَاثِ الْمُسَافِرِ، وَلَا تَتَّخِذْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا تَنْكِحُ» فَخَرَجَ النِّسْوَةُ وَدَخَلَ عَلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ: يَا هَذِهِ أَتَعْصِينِي أَمْ تُطِيعِينِي؟ قَالَتْ: بَلْ أُطِيعُكَ فِيمَ شِئْتَ، قَالَ: إِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا دَخَلَ أَحَدُنَا بِأَهْلِهِ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّي وَيَأْمُرُهَا أَنْ تُصَلِّيَ خَلْفَهُ، وَيَدْعُو وَتُؤَمِّنُ، فَفَعَلَ وَفَعَلَتْ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي مَجْلِسِ كِنْدَةَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ كَيْفَ رَأَيْتَ أَهْلَكَ اللَّيْلَةَ؟ فَسَكَتَ، فَأَعَادَ الْقَوْلَ، فَقَالَ لَهُ: وَمَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَسْأَلُ عَمَّا دَارَتْهُ الْحِيطَانُ وَالْأَبْوَابُ، إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الشَّيْءِ أُجِيبُ أَمْ أَسْكُتُ عَنْهُ "
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کسی طویل سے واپس آئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے ملے ، ان سے کہا:اللہ کی رضا کے لیے تمہیں ایک غلام دیتا ہے ، ، اس کے بعد کندہ قبیلہ میں شادی کی ،جب رات کو اپنی اہلیہ کے پاس جانے لگے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا سامان سے بھرا ہوا تھا اوروہاںعورتیں جمع ہیں ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :کیا کعبہ کندہ قبیلہ کی طرف تحویل ہوگیا ہے یا اس کو بخار ہوگیا ہے ؟ہمیں ہمارے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے تھا ،اسی قدر سامان حاصل کرو جس قدر مسافر اپنے پاس رکھا کرتا ہے ، انہوں عورتوں کو اپنے ہاں ٹھہرا ئو جن سے تم نے نکاح کیا ہے ، اس پر تمام عورتیں وہاں سے چلی گئیں ، تب حضرت سلمان رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے پاس گئے ،اس سے کہا:اے عورت !کیا تم میری اطاعت کروگی یا نافرمانی کرو گی ؟اس عورت نے کہا:جو آپ کہیں گے میں آپ کی تابعداری کرو ں گی ۔حضرت سلمان کہتے ہیں:میں خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ کھڑے ہوکر دو رکعت نماز ادا کرے اور وہ اپنی بیوی کو حکم دے کہ وہ بھی اس کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز ادا کرے ،خاوند دعا کرے او راس کی بیوی دعا پر آمین کہے ،حضرت سلمان نے دو رکعت نماز ادا کی اور ان کی بیوی نے ان کا ساتھ دیا ،صبح ہوئی ، کندہ کی مجلس میں بیٹھے ،قوم میں سے ایک شخص نے ان سے پوچھا :اے ابو عبد اللہ !آپ نے صبح کیسے کی ؟آپ نے اپنی اہلیہ کو کیسے پایا رات ؟حضرت سلمان رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، اس نے پھر اپنا سوال دُہرایا ۔تب حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا:تم میں سے کسی کو کیا ہے کہ وہ گھر کی چاردیواری اور بند بند دوازوں کے اندر کے معاملات کے بار ے میں سوالا ت کرتا ہے ،تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرو ، اس کے بعد چاہے میں جواب دوں یا می خاموش رہوں ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الحجاج بن فروخ الواسطي ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ
Hadith 939
