كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُعْرِضُ عَنْ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1908
1908 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعِظُ أَصْحَابَهُ إِذَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمُرُّونَ، فَجَاءَ أَحَدُهُمْ فَجَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَضَى الثَّانِي قَلِيلًا ثُمَّ جَلَسَ، وَمَضَى الثَّالِثُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ عَنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ: أَمَّا هَذَا الَّذِي جَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْنَا تَابَ فَتَابَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ، وَأَمَّا الَّذِي مَضَى قَلِيلًا ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ فَإِنَّهُ اسْتَحْيَى فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الَّذِي مَضَى عَلَى وَجْهِهِ فَإِنَّهُ أَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ "
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وعظ فرمارہے تھے ، اس دوران تین لوگوں کا وہاں سے گزر ہوا ، ان میں ایک چلتا ہوا آیا اور اس مجلس میں بیٹھ گیا ،تھورڑی دیر کے بعد دوسرا بھی آکر اس مجلس میں بیٹھ گیا جبکہ تیسرا وہاں بیٹھنے کی بجائے وہاں سے گزرتا چلا گیا ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں نہ بتائوں ؟ان میں سے یہ شخص جو آکریہاں ہماری مجلس میں بیٹھ گیا ہے ، اس نے اللہ سے توبہ کی ، اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو قبول کرلیا ، ان میں دوسرا تھوڑا آگے گیا ، پھر واپس آیا اور آکر بیٹھ گیا ،اس نے شرم محسوس کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے کے ساتھ وہی معاملہ کیا ، رہاان میں سے تیسرا وہ یہاں سے گزر کر چلا گیا ، اس نے منہ موڑ ا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے اعراض کرلیا ۔
أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← خلف بن موسى بن خلف العمي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Hadith 1908
