كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 187
187 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ثنا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا إِلَى حَاجَةٍ لَهُمْ، فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَسَقَطَتْ صَخْرَةٌ عَلَى بَابِ الْغَارِ، فَسَدَّتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: يَا هَؤُلَاءِ تَذْكُرُونَ أَحْسَنَ أَعْمَالِكُمْ، فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى يُفَرِّجُ عَنْكُمْ بِهَا، فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي امْرَأَةٌ صَدِيقَةٌ أُطِيلُ الِاخْتِلَافَ إِلَيْهَا حَتَّى أَدْرَكْتُ مِنْهَا حَاجَتِي فَقَالَتْ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ تَرْكَبَ مِنِّي مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْكَ، قُلْتُ: فَأَنَا أَحَقُّ أَنْ أَخَافَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَتَرَكْتُهَا مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ حَتَّى طَمِعُوا فِي الْخُرُوجِ وَلَمْ يَسْتَطِيعُوا الْخُرُوجَ، وَقَالَ الثَّانِي: اللَّهُمَّ كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ عَمَلًا وَاحِدًا وَيَأْخُذُونَ أَجْرًا وَاحِدًا، وَإِنَّ أَحَدَهُمْ تَرَكَ أَجْرَهُ وَزَعَمَ أَنَّهُ أَكْثَرُ أَجْرًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَعَزَلْتُ أَجْرَهُ مِنْ مَالِي فَتَلَوَّمَنِي بِهِ حَتَّى كَانَ مَالًا وَأَشْيَاءَ، فَأَتَانِي بَعْدَمَا افْتَقَرَ وَكَبِرَ، فَقَالَ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ تَعَالَى فِي أَجْرِي فَإِنِّي أَحْوَجُ مَا كُنْتُ، فَطَلَعْتُ بِهِ فَوْقَ بَيْتٍ لِي فَأَرَيْتُهُ مَا أَنْمَى اللَّهُ تَعَالَى لَهُ مِنْ أَجْرِهِ مِنَ الْمَالِ وَالْمَاشِيَةِ فِي الْغَائِطِ - يَعْنِي الصَّحَارِي - فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا لَكَ وَهَذَا لَكَ وَهَذَا لَكَ، فَقَالَ: أَتَسْخَرُ بِي أَصْلَحَكَ اللَّهُ؟ كُنْتُ أُرِيدُكَ عَلَى أَقَلَّ مِنْ هَذَا مَثَابًا عَلَيَّ، قُلْتُ: أَجَلْ كُنْتَ تُرِيدُنِي عَلَى أَقَلَّ مِنْ هَذَا فَبَلَانِي اللَّهُ تَعَالَى بِهِ حَتَّى بَلَغَ مَا تَرَى، فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ يَا رَبُّ مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَانْفَرَجَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ حَتَّى طَمِعُوا فِي الْخُرُوجِ وَلَمْ يَسْتَطِيعُوا أَنْ يَخْرُجُوا، وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ يَا رَبِّ كَانَ لِي أَبَوَانِ ضَعِيفَانِ فَقِيرَانِ لَيْسَ لَهُمَا خَادِمٌ وَلَا رَاعٍ وَلَا وَلِيُّ غَيْرِي، فَكُنْتُ أَرْعَى لَهُمَا بِالنَّهَارِ وَآوِي إِلَيْهِمَا بِاللَّيْلِ، وَإِنَّ الْكَلَأَ نَأَى عَنِّي فَتَبَاعَدْتُ بِالْمَاشِيَةِ فَأَتَيْتُهُمَا بَعْدَ مَا ذَهَبَ اللَّيْلُ وَنَامَا، فَحَلَبْتُ لَهُمَا ثُمَّ جَلَسْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا بِإِنَائِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أُورِقَهُمَا وَأُوذِيَهُمَا حَتَّى اسْتَيْقَظَا مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمَا فَسَقَيْتُهُمَا كَمَا كُنْتُ أَفْعَلُ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ مَخَافَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا يتَزَلْزَلُونَ " [ص:75] هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَرْفَعْهُ عَنْ حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ إِلَّا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا:تین لوگ اپنے کسی کے لیے سفر پر نکلے ۔انہوں نے ایک غار میں پناہ لی ، پہاڑ سے ایک پتھر نے لڑھک کر غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرو۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!ایک عورت سے میری دوستی تھی میرا اس کے پاس آنا جانا لگا رہتا تھا، میں نے اس سے اپنی نفسانی خواہش پورا کرنے کا اظہار کیا، مگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوئی،ایک دن میں نے اس پر قابو پالیا ، اس نے مجھے کہا:اس حرام اور ناجائز کام کی انجام سے پہلے اللہ کو یاد کر اور اس سے ڈر ،جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا: تو اللہ سے ڈر!اور اس مہر کو ناحق وناجائز طور پر مت توڑ۔میں نے کہا:میرے دل میں اللہ کا خوف گھر کر چکا ہے اور میں نے اس کو تیرے ڈر کی وجہ سے اور تیری رضا کے حصول کے لیے چھوڑ دیا،اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما، جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ اور سرک گئی، مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ دوسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے! میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:تم اپنے سامنے جتنے اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام دیکھ رہے ہو، یہ تمام تیری مزدوری ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے بندے!میرا مذاق مت اُڑا۔ میں نے کہا: میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا اور اس میں سے ذرہ برابر بھی نہیں چھوڑا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما، چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی، مگر ابھی غار سے نکلنا ممکن نہ تھا۔تیسرے نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن لکڑی کی تلاش میں میں بہت دور نکل گیا، جب شام کو واپس لوٹا تو وہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اور ان سے پہلے اہل وعیال وخدام کو دودھ دینابھی پسند نہ کیا۔ میں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں طلوعِ فجر تک ٹھہرا رہا، حالانکہ بچے میرے قدموں میں بھوک سے بلبلاتے تھے۔ اسی حالت میں فجر طلوع ہوگئی، وہ دونوں بیدار ہوئے اور اپنے شام کے حصہ والا دودھ نوش کیا۔ اے اللہ! اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما، پھر کیا تھا چٹان ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل گئے۔
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ ← أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ← محمد بن عيسى الطباع ← أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 187
