Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 187

187 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ثنا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا إِلَى حَاجَةٍ لَهُمْ، فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَسَقَطَتْ صَخْرَةٌ عَلَى بَابِ الْغَارِ، فَسَدَّتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: يَا هَؤُلَاءِ تَذْكُرُونَ أَحْسَنَ أَعْمَالِكُمْ، فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى يُفَرِّجُ عَنْكُمْ بِهَا، فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي امْرَأَةٌ صَدِيقَةٌ أُطِيلُ الِاخْتِلَافَ إِلَيْهَا حَتَّى أَدْرَكْتُ مِنْهَا حَاجَتِي فَقَالَتْ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ تَرْكَبَ مِنِّي مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْكَ، قُلْتُ: فَأَنَا أَحَقُّ أَنْ أَخَافَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَتَرَكْتُهَا مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ حَتَّى طَمِعُوا فِي الْخُرُوجِ وَلَمْ يَسْتَطِيعُوا الْخُرُوجَ، وَقَالَ الثَّانِي: اللَّهُمَّ كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ عَمَلًا وَاحِدًا وَيَأْخُذُونَ أَجْرًا وَاحِدًا، وَإِنَّ أَحَدَهُمْ تَرَكَ أَجْرَهُ وَزَعَمَ أَنَّهُ أَكْثَرُ أَجْرًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَعَزَلْتُ أَجْرَهُ مِنْ مَالِي فَتَلَوَّمَنِي بِهِ حَتَّى كَانَ مَالًا وَأَشْيَاءَ، فَأَتَانِي بَعْدَمَا افْتَقَرَ وَكَبِرَ، فَقَالَ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ تَعَالَى فِي أَجْرِي فَإِنِّي أَحْوَجُ مَا كُنْتُ، فَطَلَعْتُ بِهِ فَوْقَ بَيْتٍ لِي فَأَرَيْتُهُ مَا أَنْمَى اللَّهُ تَعَالَى لَهُ مِنْ أَجْرِهِ مِنَ الْمَالِ وَالْمَاشِيَةِ فِي الْغَائِطِ - يَعْنِي الصَّحَارِي - فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا لَكَ وَهَذَا لَكَ وَهَذَا لَكَ، فَقَالَ: أَتَسْخَرُ بِي أَصْلَحَكَ اللَّهُ؟ كُنْتُ أُرِيدُكَ عَلَى أَقَلَّ مِنْ هَذَا مَثَابًا عَلَيَّ، قُلْتُ: أَجَلْ كُنْتَ تُرِيدُنِي عَلَى أَقَلَّ مِنْ هَذَا فَبَلَانِي اللَّهُ تَعَالَى بِهِ حَتَّى بَلَغَ مَا تَرَى، فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ يَا رَبُّ مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَانْفَرَجَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ حَتَّى طَمِعُوا فِي الْخُرُوجِ وَلَمْ يَسْتَطِيعُوا أَنْ يَخْرُجُوا، وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ يَا رَبِّ كَانَ لِي أَبَوَانِ ضَعِيفَانِ فَقِيرَانِ لَيْسَ لَهُمَا خَادِمٌ وَلَا رَاعٍ وَلَا وَلِيُّ غَيْرِي، فَكُنْتُ أَرْعَى لَهُمَا بِالنَّهَارِ وَآوِي إِلَيْهِمَا بِاللَّيْلِ، وَإِنَّ الْكَلَأَ نَأَى عَنِّي فَتَبَاعَدْتُ بِالْمَاشِيَةِ فَأَتَيْتُهُمَا بَعْدَ مَا ذَهَبَ اللَّيْلُ وَنَامَا، فَحَلَبْتُ لَهُمَا ثُمَّ جَلَسْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا بِإِنَائِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أُورِقَهُمَا وَأُوذِيَهُمَا حَتَّى اسْتَيْقَظَا مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمَا فَسَقَيْتُهُمَا كَمَا كُنْتُ أَفْعَلُ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ مَخَافَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا يتَزَلْزَلُونَ " [ص:75] هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَرْفَعْهُ عَنْ حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ إِلَّا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا:تین لوگ اپنے کسی کے لیے سفر پر نکلے ۔انہوں نے ایک غار میں پناہ لی ، پہاڑ سے ایک پتھر نے لڑھک کر غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرو۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!ایک عورت سے میری دوستی تھی میرا اس کے پاس آنا جانا لگا رہتا تھا، میں نے اس سے اپنی نفسانی خواہش پورا کرنے کا اظہار کیا، مگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوئی،ایک دن میں نے اس پر قابو پالیا ، اس نے مجھے کہا:اس حرام اور ناجائز کام کی انجام سے پہلے اللہ کو یاد کر اور اس سے ڈر ،جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا: تو اللہ سے ڈر!اور اس مہر کو ناحق وناجائز طور پر مت توڑ۔میں نے کہا:میرے دل میں اللہ کا خوف گھر کر چکا ہے اور میں نے اس کو تیرے ڈر کی وجہ سے اور تیری رضا کے حصول کے لیے چھوڑ دیا،اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما، جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ اور سرک گئی، مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ دوسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے! میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:تم اپنے سامنے جتنے اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام دیکھ رہے ہو، یہ تمام تیری مزدوری ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے بندے!میرا مذاق مت اُڑا۔ میں نے کہا: میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا اور اس میں سے ذرہ برابر بھی نہیں چھوڑا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما، چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی، مگر ابھی غار سے نکلنا ممکن نہ تھا۔تیسرے نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن لکڑی کی تلاش میں میں بہت دور نکل گیا، جب شام کو واپس لوٹا تو وہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اور ان سے پہلے اہل وعیال وخدام کو دودھ دینابھی پسند نہ کیا۔ میں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں طلوعِ فجر تک ٹھہرا رہا، حالانکہ بچے میرے قدموں میں بھوک سے بلبلاتے تھے۔ اسی حالت میں فجر طلوع ہوگئی، وہ دونوں بیدار ہوئے اور اپنے شام کے حصہ والا دودھ نوش کیا۔ اے اللہ! اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما، پھر کیا تھا چٹان ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل گئے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ ← أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ← محمد بن عيسى الطباع ← أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 187

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 188

188 - حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، مِثْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ اسی طرح بیان کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس کو مرفوع بیان نہیں کیا ۔

عَلِيٍّ مِثْلُهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ. ← أَبِيهِ ← حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 188

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 189

189 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، وَعُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ فِي غِبِّ السَّمَاءِ إِذْ مَرُّوا بِغَارٍ فَقَالُوا: لَوْ أَوَيْتُمْ إِلَى هَذَا الْغَارِ، فَأَوَوْا إِلَيْهِ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ إِذْ وَقَعَ حَجَرٌ مِنَ الْجَبَلِ مِمَّا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى إِذَا سَدَّ الْغَارَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: إِنَّكُمْ لَنْ تَجِدُوا شَيْئًا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَدْعُوَ كُلُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ بِخَيْرِ عَمَلٍ عَمِلَهُ قَطُّ، فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ كُنْتُ رَجُلًا زَرَّاعًا وَكَانَ لِي أُجَرَاءُ، وَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يَعْمَلُ بِعَمَلِ رَجُلَيْنِ، فَأَعْطَيْتُهُ أَجْرَهُ كَمَا أَعْطَيْتُ الْأُجَرَاءَ، فَقَالَ: أَعْمَلُ عَمَلَ رَجُلَيْنِ وَتُعْطِينِي أَجْرَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَانْطَلَقَ فَغَضِبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ عِنْدِي فَبَذَرْتُهُ عَلَى حِدَةٍ فَأَضْعَفَ، ثُمَّ بَذَرْتُهُ فَأَضْعَفَ، حَتَّى كَثُرَ الطَّعَامُ فَكَانَ أَكْدَاسًا، فَاحْتَاجَ الرَّجُلُ فَأَتَانِي يَسْأَلُنِي أَجْرَهُ، فَقُلْتُ: انْطَلِقْ إِلَى تِلْكَ الْأَكْدَاسِ فَإِنَّهَا أَجْرُكَ، فَقَالَ: تُكَلِّمُنِي وَتَسْخَرُ بِي؟ قُلْتُ: مَا أَسْخَرُ بِكَ، فَانْطَلَقَ فَأَخَذَهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ خَشْيَتِكَ وَابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَاكْشِفْهُ عَنَّا، فَقَالَ الْحَجَرُ: قَضْ، فَأَبْصَرُوا الضَّوْءَ، فَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ رَاوَدْتُ امْرَأَةً عَنْ نَفْسِهَا وَأَعْطَيْتُهَا مِائَةً دِينَارٍ فَلَمَّا أَمْكَنَتْنِي مِنْ نَفْسِهَا بَكَتْ، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: فَعَلْتُ هَذَا مِنَ الْحَاجَةِ، فَقُلْتُ: انْطَلِقِي وَلَكِ الْمِائَةُ فَتَرَكْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ خَشْيَتِكَ وَابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَاكْشِفْهُ عَنَّا، فَقَالَ الْحَجَرُ قَضْ، فَانْفَرَجَتْ مِنْهُ فُرْجَةٌ عَظِيمَةٌ، فَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ كَبِيرَانِ وَكَانَ لِي غَنَمٌ، فَكُنْتُ آتِيهِمَا بِلَبَنٍ كُلَّ لَيْلَةٍ فَأَبْطَأْتُ عَنْهُمَا ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى نَامَا فَجِئْتُ فَوَجَدْتُهُمَا نَائِمَيْنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَكَرِهْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ فَيَسْتَيْقظَانِ، فَقُمْتُ بِالْإِنَاءِ عَلَى رُءُوسِهِمَا حَتَّى أَصْبَحْتُ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ خَشْيَتِكَ وَابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَاكْشِفْهُ، فَقَالَ الْحَجَرُ: قَضْ، فَانْكَشَفَتْ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا يَمْشُونَ "

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی اُمت کے تین لوگ بارش کے موسم میں سفر کررہے تھے ، ان کو ایک غار نظر آئی انہوں نے آپس میں طے کیا کہ کچھ وقت کے لیے اس میں پناہ حاصل کرتے ہیں ،چنانچہ وہ اس غار میں داخل ہوگئے ، اسی دوران ،پہاڑ کی چوٹی سے اللہ کے ڈر کی وجہ سے ایک پتھر لڑھکتا ہوا آیا اور اس نے غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ ہم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے یہ کہتا ہوا ناراض ہوگیا کہ تم مجھ سے دو مزدوروں کے برابر کا م لیتے ہو اور معاو ضہ تھوڑا دیتے ہو۔وہ اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:یہ سار ڈھیریہ تمام تیری مزدوری ہے ، یہ لے جائو ۔ اس نے کہا:اے اللہ کے بندے!میرا مذاق مت اُڑا۔ میں نے کہا:میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا ۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی، اندر روشنی کی کرنیں آنے لگیں اور انہوں نے جھانک کر باہر بھی لیکن غار سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ دوسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے ایک عورت بہکایا ، میں نے اس کو ا س کے ساتھ شب بسری کے لیے ایک سو دینار دئیے ، جب اس نے اپنا آپ میرے حوالے کردیا تو وہ رونے لگی ، میں نے اس سے پوچھا: تم کیوں رورہی ہو ؟ اس نے کہا:اس نے کہا:میں یہ سب مجبوری کی وجہ سے کررہی ہو ں ، میں نے اسے کہا: تم جائو اور یہ سو دینا ر بھی تمہارے ہیں ، اور میں نے اس کو چھوڑ دیا۔اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما، جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ اور سرک گئی، راستہ بن مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ تیسرے نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن واپس آنے میں مجھے تاخیر ہوگئی ، جب میں واپس لوٹا تووہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اورمیں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں طلوعِ فجر تک ٹھہرا رہا۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیرے ڈر اور تیری رضامندی کی خاطر کیا ہے تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما، چنانچہ وہ چٹان اس جگہ سے سرک گئی اندرآسانی سے چلتے ہوئے باہر نکل گئے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ مَعْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، وَعُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 189

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 190

190 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَزَّةَ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَرُوسٍ، ثنا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَزَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَرُوسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَحِيرٍ الْقَاصَّ، يَذْكُرُ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الرَّقِيمَ فَقَالَ: " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ كَانُوا فِي كَهْفٍ فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلَى بَابِ الْكَهْفِ فَأَوْصَدَهُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: تَذَكَّرُوا أَيُّكُمْ عَمِلَ حَسَنَةً لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ يَرْحَمُنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: قَدْ عَمِلْتُ الْحَسَنَةَ مَرَّةً كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ لِي عَمَلًا، فَاسْتَأْجَرْتُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ فَجَاءَنِي رَجُلٌ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَطَ النَّهَارِ فَاسْتَأْجَرْتُهُ بِشَرْطِ أَصْحَابِهِ فَعَمِلَ فِي بَقِيَّةِ نَهَارِهِ كَمَا عَمِلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فِي نَهَارِهِ كُلِّهِ فَرَأَيْتُ فِيَ الذِّمَامِ أَنْ لَا أُنْقِصَهُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِهِ أَصْحَابَهُ لِمَا جَهِدَ فِي عَمَلِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَعْطَيْتَ هَذَا مَا أَعْطَيْتَنِي وَلَمْ يَعْمَلْ إِلَّا نِصْفَ النَّهَارِ، قُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ لَمْ أَبْخَسْكَ شَيْئًا مِنْ شَرْطِكَ وَإِنَّمَا هُوَ مَالِي أَحْكُمُ فِيهِ مَا شِئْتُ، فَغَضِبَ وَذَهَبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ، فَوَضَعْتُ حَقَّهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ مَرَّتْ بِي بَقَرٌ فَاشْتَرَيْتُ فَصِيلَةً مِنَ الْبَقَرِ فَبَلَغَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، فَمَرَّ بِي بَعْدَ حِينٍ شَيْخٌ ضَعِيفٌ لَا أَعْرِفُهُ فَقَالَ إِنَّ لِي عِنْدَكَ حَقًّا فَذَكَرَهُ حَتَّى عَرَفْتُهُ فَقُلْتُ: إِيَّاكَ أَبْغِي، هَذَا حَقُّكَ فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ جَمِيعًا فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَسْخَرُ بِي إِنْ لَمْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ فَأَعْطِنِي حَقِّي، قُلْتُ: وَاللَّهِ مَا أَسْخَرُ بِكَ إِنَّهَا حَقَّكَ مَا لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ جَمِيعًا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتَّى رَأَوُا الضَّوْءَ وَأَبْصَرُوا، وَقَالَ الْآخَرُ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً، كَانَتْ لِي فَضْلٌ فَأَصَابَتِ النَّاسَ شِدَّةٌ فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ تَطْلُبُ مِنِّي مَعْرُوفًا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ، فَأَبَتْ عَلَيَّ، فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ، فَذَكَّرَتْنِي بِاللَّهِ وَأَبَيْتُ عَلَيْهَا، وَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ، فَأَبَتْ عَلَيَّ، فَذَهَبَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِزَوْجِهَا فَقَالَ لَهَا أَعْطِيهِ نَفْسَكِ وَاغْنِي عِيَالَكِ، فَرَجَعَتْ إِلَيَّ فَنَشَدَتْنِي بِاللَّهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ أَسْلَمَتْ إِلَيَّ نَفْسَهَا فَلَمَّا كَشَفْتُهَا أُرْعِدَتْ مِنْ تَحْتِي، فَقُلْتُ لَهَا: مَا [ص:77] شَأْنُكِ؟ فَقَالَتْ: أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ، فَقُلْتُ: لَهَا خِفْتِيهِ فِي الشِّدَّةِ وَلَمْ أَخَفْهُ فِي الرَّخَاءِ، فَتَرَكْتُهَا وَأَعْطَيْتُهَا الْحَقَّ عَلَيَّ بِمَا كَشَفْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَانْصَدَعَ حَتَّى عَرَفُوا وَتَبَيَّنَ لَهُمْ، وَقَالَ الْآخَرُ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَكَانَ لِي غَنَمٌ كُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَيَّ وَأَسْقِيهِمَا، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى غَنَمِي فَأَصَابَنِي يَوْمًا غَيْثٌ وَحَبَسَنِي فَلَمْ أُرِحْ حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي فَأَخَذْتُ مِحْلَبِي فَحَلَبْتُ وَغَنَمِي قَائِمَةٌ فَمَشَيْتُ إِلَى أَبَوَيَّ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَتْرُكَ غَنَمِي فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا وَمِحْلَبِي عَلَى يَدِي حَتَّى أَيْقَظَهُمَا الصُّبْحُ، فَسَقَيْتُهُمَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا "، قَالَ النُّعْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَأَنِّي أَسْمَعُ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَالَ الْجَبَلُ طَاقْ فَفَرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا»

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ تختیوں کا ذکر کیا ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی اُمت کے تین لوگ غار میں داخل میں موجود تھے ،پہاڑ سے ایک پتھر لڑھکتا ہوا آیا اور اس نے غار کے منہ کو بند کردیا۔ ان میںسے ایک نے کہا: اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ ہم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:تم اپنے سامنے جتنے اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام دیکھ رہے ہو، یہ تمام تیری مزدوری ہے۔ اس نے کہا:اے اللہ کے بندے!میرا مذاق مت اُڑا۔ میں نے کہا:میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا اور اس میں سے ذرہ برابر بھی نہیں چھوڑا۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی، اندر روشنی کی کرنیں آنے لگیں اور انہوں نے جھانک کر باہر بھی لیکن غار سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ دوسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے زندگی میں ایک نیکی کی ہے ، میرے پاس خوب مال و دولت تھی ، قحط سالی کا دور آیا ، لوگوں پر فاقوں کی حالت تھی ، اس دوران میرے پاس ایک عورت آئی اور اس نے مجھ کچھ مال کا سوال کیا ، میں نے اس کوکہا :اس شرط پر کہ تم اپنا نفس میرے قابومیں دوے گی،اس نے انکار کیا اور وہ چلی گئی ، پھر واپس آگئی اور اس نے مجھے اللہ سے ڈرایا ، میں نے اس کی بات کی کو ئی پرواہ نہ کی ،میں نے اسے کہا :اللہ کی قسم !اس کے بغیر تمہارا تعاون نہ کروں گا ، اس نے پھر انکار کیا ، وہ اپنے خاوند کے پاس گئی اس کے سامنے اس کابات کا تذکرہ کیا ،، اس کے شوہر نے اسے کہا :ٹھیک ہے تم اپنا آپ اس کے سپرد کردو اوراپنے اہل و عیال کے لیے اس سے مال لے آئو،تب وہ پھر میرے پاس آئی ،اس نے مجھے اللہ کا واسطہ دیا ، میں نے پھر انکار کردیا ، میں نے کہا:اللہ کی قسم !اس کے بغیر ممکن نہیں ، جب اس نے یہ دیکھا تو اس نے آمادگی ظاہر کی اوراپنا آپ میرے حوالے کردیا ،جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس پر کپکپی طاری ہوگئی ، میں نے اس سے کہا :تمہیں کیا ہوا؟اس نے کہا: میں اللہ سے ڈر رہی ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے ، تب میں نے اس سے کہا:تم مجبوری کے باوجود ڈر رہی ہو جبکہ میں سہولت اورآسودگی میں بھی نہیں ڈر رہا ، تب میں نے اس کو چھوڑ دیا اور اس کو برہنہ کرنے کی وجہ سے طے شدہ مال بھی دے دیا ۔اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما، جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ اور سرک گئی، مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ تیسرے نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن لکڑی کی تلاش میں میں بہت دور نکل گیا، جب شام کو واپس لوٹا تو وہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اور ان سے پہلے اہل وعیال وخدام کو دودھ دینابھی پسند نہ کیا۔ میں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں طلوعِ فجر تک ٹھہرا رہا، حالانکہ بچے میرے قدموں میں بھوک سے بلبلاتے تھے۔ اسی حالت میں فجر طلوع ہوگئی، وہ دونوں بیدار ہوئے اور اپنے شام کے حصہ والا دودھ نوش کیا۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما،نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن رہا ہوں کہ آپ نے فرمایا:پہاڑ ہلا اور وہ پتھر وہاں سے ہٹ گیا اور وہ لوگ وہاں سے نکل گئے ۔

النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، ← إسماعيل بن عبد الكريم الصنعاني ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← عَبْدَ اللهِ بْنَ بُحَيْرٍ الْقَاصَّ يَذْكُرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَرُوسٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَزَّةَ، ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ، ← رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَرُوسٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَزَّةَ الصَّنْعَانِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 190

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 191

191 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ أَبُو مَسْعُودٍ الزَّجَّاجُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الرَّقِيمَ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ تختیوں کا ذکر کیا ،پھرحدیث غار کو بیان ۔

رَسُولَ اللَّهِ يَذْكُرُ الرَّقِيمَ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ ← النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ أَبُو مَسْعُودٍ الزَّجَّاجُ، ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 191

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 192

192 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ فِيمَنْ سَلَفَ مِنَ النَّاسِ انْطَلَقُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ فَأَصَابَتْهُمُ السَّمَاءُ، فَدَخَلُوا غَارًا فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ فَأَطْبَقَ عَلَيْهِمْ حَتَّى مَا يَرَوْنَ مِنْهُ خَصَاصَةً، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدْ وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ، فَقَالَ رَجُلٌ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ فَكُنْتُ أَحْلُبُ لَهُمَا فِي إِنَاءَيْهِمَا وَآتِيهِمَا بِهِ فَإِذَا وَجَدْتُهُمَا رَاقِدَيْنِ قُمْتُ عَلَى رُءُوسِهِمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ أَرُدَّ وَسَنَهُمَا اللَّهُمَّ إِنْ [ص:78] كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ أَعْجَبَتْهُ امْرَأَةٌ وَأَنَّهُ جَعَلَ لَهَا جُعْلًا، فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهَا سَلَّمَ لَهَا نَفْسَهَا وَوَفَّرَ لَهُ جُعْلَهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ، وَقَالَ الْآخَرَ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا عَلَى عَمَلٍ يَعْمَلُهُ وَأَنَّهُ أَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ ذَلِكَ وَأَنَا غَضْبَانُ فَزَبَرْتُهُ، فَانْطَلَقَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ، فَجَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ حَتَّى كَانَ مِنْهُ كُلُّ الْمَالِ، ثُمَّ أَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَأَعْطَيْتُهُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا الْأَجْرَ الْأَوَّلَ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا، قَالَ: فَانْطَلَقُوا مَعَانِيقَ يَتَمَاشَوْنَ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی اُمت کے تین لوگ اپنے اہل و عیال کے معاش کا بندو بست کرنے کے لیے سفر پر نکلے ،راستے پر تیز بارش ہوئی ، بارش سے بچنے کے لیے وہ لوگ ایک غار میں داخل ہوگئے ،پہاڑ سے ایک پتھر لڑھکتا ہوا آیا اور اس نے غار کے منہ کو بند کردیا۔وہ پتھر ان کے لیے بھاری ثابت ہوا کوشش کے باوجود اس کو غار کے منہ سے نہ ہٹا سکے ، تب انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ ہم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:تیسرے نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن میں دیر سے آیاتو وہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اورمیں ساری رات ان سرہانے کھڑا رہا ،اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما،اس کی دعا پر وہ پتھر ایک تہائی ہٹ گیا ،دوسرے نے کہا:اے اللہ!تو جانتا ہے کہ میں ایک عورت کو پسند کرتا تھا ، میں نے اس کیساتھ شب بسری کے لیے اس رقم دی ،جب ہم تنہائی میں ہوئے ، اس پر قدرت پانے کے بعد میں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ رقم بھی اس کو دے دی ۔اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیرے ڈر سے اورتیری رضاجوئی کے لیے کیا توہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما،اس کی دعا پر وہ پتھر ایک تہائی ہٹ گیا ،تیسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:یہ سارا مال تمہارا ہے ، یہ لے جائو ۔ یہ تمام تیری مزدوری ہے۔اگر میں چاہتا تو اس کی صرف وہی مزدوری اس کو دیتا جو اصل رقم تھی تو میں ایسا کرسکتا تھا ۔اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ چنانچہ وہ چٹان اس جگہ سے سرک گئی اندرآسانی سے چلتے ہوئے باہر نکل گئے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 192

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 193

193 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالُوا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ فَأَصَابَتْهُمُ السَّمَاءُ فَلَجَأُوا إِلَى جَبَلٍ أَوْ إِلَى كَهْفٍ فَوَقَعَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ وَلَا يَعْلَمُ مَكَانَكُمْ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ادْعُوا بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: كَانَ لِي وَالِدَانِ وَكُنْتُ أَحْلُبُ لَهُمَا فِي إِنَاءَيْهِمَا فَإِذَا أَتَيْتُهُمَا وَهُمَا نَائِمَانِ قُمْتُ قَائِمًا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا وَكَرِهْتُ أَنْ تَدُورَ سِنَتُهُمَا فِي رُءُوسِهِمَا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَا شَرِبَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتْ لِي امْرَأَةٌ تُعْجِبُنِي فَأَرَدْتُهَا فَأَبَتْ أَنْ تُمَكِّنَنِي مِنْ نَفْسِهَا حَتَّى جَعَلْتُ لَهَا جُعْلًا، فَلَمَّا أَخَذَتْ جُعْلَهَا وَاسْتَقَرَّتْ بِنَفْسِهَا تَرَكْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثَا الْحَجَرِ الْآخَرُ، وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا يَعْمَلُ لِي يَوْمًا فَعَمِلَ ثُمَّ جَاءَ يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَأَعْطَيْتُهُ فَلَمْ يَأْخُذْهُ وَتَسَخَّطَ فَوَفَّرْتُهُ عَلَيْهِ حَتَّى صَارَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ، ثُمَّ جَاءَ يَطْلُبُ أَجْرَهُ، فَقُلْتُ: خُذْ هَذَا كُلَّهُ، وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی اُمت کے تین لوگ بارش کے موسم میں سفر کررہے تھے ، ان کو ایک غار نظر آیا، انہوں نے آپس میں طے کیا کہ کچھ وقت کے لیے اس میں پناہ حاصل کرتے ہیں ،چنانچہ وہ اس غار میں داخل ہوگئے ، اسی دوران ،پہاڑ کی چوٹی سے اللہ کے ڈر کی وجہ سے ایک پتھر لڑھکتا ہوا آیا اور اس نے غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ ہم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن واپس آنے میں مجھے تاخیر ہوگئی ، جب میں واپس لوٹا تووہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اورمیں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں کھڑا رہا ، جب وہ بیدار ہوئے تب انہوں نے دودھ نو ش کیا ۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیرے ڈر اور تیری رضامندی کی خاطر کیا ہے تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما،دوسرے نے کہا:اے اللہ!تو جانتا ہے کہ میں ایک عورت کو پسند کرتا تھا ، میں نے اس کیساتھ شب بسری کے لیے اس رقم دی ،جب ہم تنہائی میں ہوئے ، اس پر قدرت پانے کے بعد میں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ رقم بھی اس کو دے دی ۔اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیرے ڈر سے اورتیری رضاجوئی کے لیے کیا توہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما،اس کی دعا پر وہ پتھر ایک تہائی ہٹ گیا ،تیسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے ایک ناراض ہوگیا ،وہ اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:یہ سار ڈھیریہ تمام تیری مزدوری ہے ، یہ لے جائو ۔ اس نے کہا:اے اللہ کے بندے!میرا مذاق مت اُڑا۔ میں نے کہا:میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا ۔اگر میں چاہتا تو اس کی صرف وہی مزدوری اس کو دیتا جو اصل رقم تھی تو میں ایسا کرسکتا تھا۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گیا ۔ چنانچہ وہ چٹان اس جگہ سے سرک گئی اندرآسانی سے چلتے ہوئے باہر نکل گئے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 193

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 194

194 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دَاهِرُ بْنُ نُوحٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَهْطًا ثَلَاثَةً انْطَلَقُوا فَأَصَابَتْهُمْ سَمَاءٌ فَلَجَأُوا إِلَى غَارٍ فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ إِذِ انْفَلَتَتْ صَخْرَةٌ مِنْ قِمَّةِ الْجَبَلِ تَدَهْدَهُ حَتَّى ضَمَّتْ عَلَى بَابِ الْغَارِ فَقَالَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: كَفَّ الْمَطَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ وَلَمْ يَرَكُمْ أَحَدٌ سِوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلْيَنْظُرْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ أَفْضَلَ عَمَلٍ عَمِلَهُ قَطُّ فَلْيَذْكُرْهُ، ثُمَّ لِيَدْعُ اللَّهَ تَعَالَى فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ بَارًّا بِوَالِدَيَّ وَأَنِّي كُنْتُ آتِيهِمَا بِغَبُوقِهِمَا فَأَغْبِقُهُمَا وَأَنِّي أَتَيْتُهُمَا لَيْلَةً بِغَبُوقِهِمَا فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ دَخَلَا مَضَاجِعَهُمَا وَنَامَا، فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا، وَكَرِهْتُ أَنْ أَرْجِعَ بِغَبُوقِهِمَا مِنْ قَبْلِ أَنْ أَغْبِقَهُمَا، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ مَخَافَتُكَ فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَقَالَتِ الصَّخْرَةُ، فَتَفَرَّجَتْ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِمُ الضَّوْءُ، فَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي طَلَبْتُ امْرَأَةً وَهَوِيتُهَا وَأَنْفَقْتُ مَالِي فِيهَا حَتَّى إِذَا ظَفِرْتُ بِهَا وَقَعَدْتُ مِنْهَا مَقْعَدَ الرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ قَالَتْ: أَيْ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ خَاتَمِي إِلَّا بِحَقِّهِ، فَقُمْتُ عَنْهَا فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ إِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ مَخَافَتُكَ فَافْرُجْ عَنَّا فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ حَتَّى لَوْ شَاءَ الْقَوْمُ أَنْ يَخْرُجُوا لَخَرَجُوا، فَقَالَ آخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أُجَرَاءَ فَعَمِلُوا لِي عَمَلًا فَوَفَّيْتُهُمْ أُجُورَهُمْ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا تَرَكَ أَجْرَهُ حَتَّى كَانَ مِنْهُ أَضْعَافُ الْمَالِ، فَجَاءَ بَعْدُ يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَقُلْتُ لَهُ: هَاكَ دُونَكَ تَمَامُ أَجْرِكَ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ مَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ مَخَافَتُكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَقَالَتِ الصَّخْرَةُ فَتَدَهْدَهَتْ فَانْطَلَقُوا مُعَانِقِينَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی اُمت کے تین لوگ سفر کررہے تھے ،اسی دوران موسلا دھار بارش شروع ہوئی ،انہوں نے ایک غار میں پناہ لی ،،وہ اس غار میں داخل ہوگئے ، اسی دوران ،پہاڑ کی چوٹی سے اللہ کے ڈر کی وجہ سے ایک پتھر لڑھکتا ہوا آیا اور اس نے غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے بارش کے تھمنے کی انتظار کیا ، جب بارش رْکی تو وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں:بارش تم چکی ،راستے صاف ہوچکے ،ہمیں اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ ہم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن واپس آنے میں مجھے تاخیر ہوگئی ، جب میں واپس لوٹا تووہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اورمیں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں کھڑا رہا ،یہاں تک کہ صبح ہوگئی ۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیرے ڈر اور تیری رضامندی کی خاطر کیا ہے تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما،وہ پتھر اپنی جگہ قدرے سرک گیا ،روشنی اندر آنے لگی لیکن نکلنے کے لیے جگہ ناکافی تھی ۔دوسرے نے کہا:اے اللہ!تو جانتا ہے کہ میں ایک عورت کو پسند کرتا تھا ، میں نے اس کیساتھ شب بسری کے لیے اس رقم دی ،جب ہم تنہائی میں ہوئے ،جب میں نے اس پر قدرت پالی تو اس نے مجھے کہا:یہ تمہارا حق نہیں ہے ، اس لیے اس کو اس کے حقدار کے لیے چھوڑ دو ،اسے چھوڑ دیا اور وہ رقم بھی اس کو دے دی ۔اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیرے ڈر سے اورتیری رضاجوئی کے لیے کیا توہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما،اس کی دعا پر وہ پتھروہاں ہٹ گیا اگر وہ لوگ وہاں سے نکلنا چاہتے تو نکل سکتے تھے ۔تیسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے ایک ناراض ہوگیا ،وہ اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:یہ سار ڈھیریہ تمام تیری مزدوری ہے ، یہ لے جائو ۔اگر میں چاہتا تو اس کی صرف وہی مزدوری اس کو دیتا جو اصل رقم تھی تو میں ایسا کرسکتا تھا۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گیا ۔ چنانچہ وہ چٹان اس جگہ سے سرک گئی اندرآسانی سے چلتے ہوئے باہر نکل گئے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ ← دَاهِرُ بْنُ نُوحٍ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 194

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 195

195 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ، أَنَّ أَبَا سَلْمَى الْقِتْبَانِيَّ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، رَضِيَ [ص:80] اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ خَرَجُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ فَأَصَابَهُمُ الْمَطَرُ، فَأَوَوْا تَحْتَ صَخْرَةٍ، فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا: إِنَّهُ لَا يُنْجِيكُمْ مِنْ هَذَا إِلَّا الصِّدْقُ فَلْيَدْعُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِأَفْضَلَ عَمَلٍ عَمِلَهُ فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ حَسْنَاءُ جَمْلَاءُ فَأَرَدْتُهَا عَلَى نَفْسِهَا فَامْتَنَعَتْ عَلَيَّ، ثُمَّ إِنَّهُ أَصَابَنَا سَنَةٌ فَعَرَضْتُ عَلَيْهَا أَنْ أُعْطِيَهَا مِائَةَ دِينَارٍ وَتُمَكِّنَنِي مِنْ نَفْسِهَا، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ، فَلَمَّا كُنْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا أَخَذَتْهَا رِعْدَةٌ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَرَكْتُهَا وَتَرَكْتُ لَهَا الْمِائَةَ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ هَذَا ابْتِغَاءَ رِضْوَانَكَ وَاتِّقَاءَ سَخَطِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ حَتَّى رَأَوْا مِنْهَا الضَّوْءَ، ثُمَّ قَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي أَبَوَانِ كَبِيرَانِ وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ أَرْعَاهَا عَلَيْهِمَا فَكُنْتُ إِذَا رُحْتُ بِهَا جِئْتُهُمَا فَبَدَأْتُ بِهِمَا قَبْلَ وَلَدِي وَأَهْلِي فَنَآنِي الشَّجَرُ يَوْمًا، فَجِئْتُ وَقَدْ نَامَا فَحَلَبْتُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُ بِالْإِنَاءِ إِلَيْهِمَا فَوَقَفْتُ عَلَيْهِمَا وَهُمَا نَائِمَانِ وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَكَرِهْتُ أَنْ أَبْدَأَ بِصَبِيَّتِي قَبْلَهُمَا، فَلَمْ أَزَلْ وَاقِفًا عَلَيْهِمَا حَتَّى انْفَجَرَ الْفَجْرُ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي صَنَعْتُ هَذَا ابْتِغَاءَ رِضَاكَ وَاتِّقَاءَ سَخَطِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، فَانْصَدَعَتِ الصَّخْرَةُ صَدْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ قَالَ الثَّالِثُ: كُنْتُ فِي غَنَمٍ أَرْعَاهَا فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقُمْتُ أُصَلِّي فَجَاءَ الذِّئْبُ فَدَخَلَ الْغَنَمَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ صَلَاتِي فَصَبَرْتُ حَتَّى فَرَغْتُ مِنْ صَلَاتِي، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ وَاتِّقَاءَ سَخَطِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ " قَالَ عُقْبَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْكِيهَا حِينَ انْفَرَجَتْ قَالَتْ: طَاقْ، فَخَرَجُوا مِنْهَا

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلی اُمت کے تین آدمی معاش کے لیے سفر پر نکلے ، دوران سفرموسلا دھار بارش ہوئی ، انہوں نے بارش سے بچنے کے لیے غار میں پناہ حاصل کی ،اس دوران پہاڑ سے ایک پتھر نے لڑھک کر غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ تم اپنی زدگی میں کیے سب سے اچھے اور صالح عمل کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میری ایک چچازاد بہن تھی، وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے اپنی نفسانی خواہش پورا کرنے کا اظہار کیا، مگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوئی، یہاں تک کہ قحط سالی کا ایک سال پیش آیا جس میں وہ میرے پاس آئی، میں نے اس کو ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ اپنے نفس پر مجھے قابو دے گی، اس نے آمادگی ظاہر کی اور قابو دیا۔ جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا: تو اللہ سے ڈر!اور اس مہر کو ناحق وناجائز طور پر مت توڑ۔ چنانچہ میں اس فعل سے باز آگیا، حالانکہ مجھے اس سے بہت محبت بھی تھی اور میں نے وہ ایک سو بیس دینار اس کو ہبہ کردیئے۔ یا اللہ! اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما، جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ اور سرک گئی، مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ دوسرے نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن لکڑی کی تلاش میں میں بہت دور نکل گیا، جب شام کو واپس لوٹا تو وہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اور ان سے پہلے اہل وعیال وخدام کو دودھ دینابھی پسند نہ کیا۔ میں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں طلوعِ فجر تک ٹھہرا رہا، حالانکہ بچے میرے قدموں میں بھوک سے بلبلاتے تھے۔ اسی حالت میں فجر طلوع ہوگئی، وہ دونوں بیدار ہوئے اور اپنے شام کے حصہ والا دودھ نوش کیا۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما، چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی، مگر ابھی غار سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ تیسرے نے کہا:اے اللہ!میں اپنی بکریوں کو چرا رہا تھا ، اسی دوران نماز کا وقت ہوا ، میں اٹھا اور میں نے نما زپڑھنا شروع کی ، میری نماز کے دوران بھیڑیا آگیا،وہ بکریوں میں داخل ہوگیا ، میں نے نماز کو توڑنا مناسب نہ سمجھا ، میں نے صبر کیا ، یہاں تک کہ میں نے اپنی نماز مکمل کی ۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ پھر کیا تھا چٹان ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل گئے۔

يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ ابْنُ لَهِيعَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 195

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 196

196 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جُنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ التَّغْلِبِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُرَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ [ص:81]: " خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَعْبُدُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَوَوْا إِلَى كَهْفٍ فَخَرَّتْ صَخْرَةٌ مِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ حَتَّى الْتَقَمَتْ بَابَ الْغَارِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: يَا عِبَادَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا يُنْجِيكُمْ مِمَّا وَقَعْتُمْ فِيهِ إِلَّا أَنْ تَصْدُقُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَهَاتُوا مَا عَمِلْتُمْ خَالِصًا فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ بِالذُّنُوبِ، فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي طَلَبْتُ حَبِيبَةً لِحُسْنِهَا وَجَمَالِهَا وَأَعْطَيْتُ فِيهَا مَالًا ضَخْمًا حَتَّى إِذَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا وَجَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ ذَكَرْتُ النَّارَ فَقُمْتُ عَنْهَا فَرَقًا مِنْكَ، اللَّهُمَّ ارْفَعْ عَنَّا هَذِهِ الصَّخْرَةَ فَانْصَدَعَتْ حَتَّى إِذَا نَظَرُوا إِلَى الضَّوْءِ، ثُمَّ قَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ قَوْمًا يَحْرُثُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِنِصْفِ دِرْهَمٍ فَلَمَّا فَرَغُوا أَعْطَيْتُهُمْ أُجُورَهُمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَمِلْتُ عَمَلَ اثْنَيْنِ وَاللَّهِ لَا آخُذُ إِلَّا دِرْهَمًا، فَذَهَبَ وَتَرَكَ مَا فِي يَدِي، فَبَذَرْتُ مِنْ ذَلِكَ النِّصْفِ دِرْهَمٍ، فَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَلِكَ رِزْقًا كَثِيرًا، فَجَاءَ صَاحِبُ النِّصْفِ دِرْهَمٍ فَأَرَادَهُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ عَشْرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ خَوْفًا مِنْكَ فَارْفَعْ عَنَّا هَذِهِ الصَّخْرَةَ، فَانْفَرَجَتْ حَتَّى نَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ أَبِي وَأُمِّي كَانَا نَائِمَيْنِ فَأَتَيْتُهُمَا بِقَعْبٍ مِنْ لَبَنٍ فَخِفْتُ أَنْ أَضَعَهُ فَتَقَعُ فِيهِ هَامَةٌ وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا فَيَشُقُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمَا فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتَيْقَظَا فَشَرِبَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ هَذَا ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا هَذِهِ الصَّخْرَةَ، قَالَ: فَانْفَرَجَتْ حَتَّى سَهُلَ لَهُمْ طَرِيقُهُمْ حَتَّى خَرَجُوا سَالِمِينَ " ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ نَجَا»

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلی اُمت کے تین آدمی سفر کررہے تھے۔ عبادت کرنے کے لیے وہ لوگ ایک غار میں چلے گئے ،اسی دوران پہاڑ سے ایک پتھر نے لڑھک کر غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرو۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میں نے حسین و جمیل عورت کو تلاش کیا ، اس کو میں نے بیش بہا ما ل بھی دیا ، جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے مجھے جہنم کی آگ سے ڈرایا ، میں تیرے خوف کی وجہ سے وہاں سے اٹھ گیا ،اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما، جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ سرک گئی،وہاں اندر روشنی آنے لگی مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ دوسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے ان کے ساتھ آدھا دینار مزدوری طے کی ، کام سے فارغ ہونے پر ان کی ان کی طے شدہ مزودری دے دی، مگران میں سے ایک مزدور نے کہا:تم نے کام دو مزدوروں کے برابر لیا جبکہ مزدوری ایک بندے کے حساب سے دے رہے ہو ، وہ اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے دس ہزار دینار دئیے ۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ چنانچہ چٹان کچھ مزید سرک گئی،وہاں مزید روشنی آنے لگی مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ تیسرے نے کہا:اے اللہ!تو جانتا ہے کہ میرے والدین بہت بوڑھے تھے، دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اورمیں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں کھڑا رہا ،یہاں تک کہ وہ خود بیدار ہوئے اور انہوں نے دودھ نوش کیا ۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما، چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی اور تینوں باہر نکل گئے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُرَادِيِّ، ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ، كِلَاهُمَا ← جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ التَّغْلِبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← مُفَضَّلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 196

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 197

197 - حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنْبَأَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ مَنْزِلًا فَأَوَاهُمُ الْمَبِيتُ إِلَى غَارٍ، فَدَخَلُوا فَانْحَدَرَتْ عَلَيْهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ، فَسَدَّتْ عَلَيْهِمُ الْغَارَ فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا يُنْجِيكُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّخْرَةِ إِلَّا أَنْ تَدْعُوا بِصَالِحِ أَعْمَالِكُمْ، قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ فَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلِي وَلَا مَالِي، وَإِنِّي طَلَبْتُ الشَّجَرَ يَوْمًا - يَعْنِي الْمَرْعَى - فَلَمْ أُرِحْ عَلَيْهِمَا حَتَّى نَامَا، فَحَلَبْتُ لَهُمَا غَبُوقَهُمَا وَجِئْتُهُمَا بِهِ فَوَجَدْتُهُمَا نَائِمَيْنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَغْبِقَ قَبْلَهُمَا أَهْلِي وَمَالِي، فَقُمْتُ وَالْقَدَحُ عَلَى يَدِي أَنْتَظِرُ اسْتِيقَاظَهُمَا فَلَمْ يَسْتَيْقِظَا حَتَّى بَزَقَ الْفَجْرُ، فَاسْتَيْقَظَا فَشَرِبَا غَبُوقَهُمَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ ثَوَابِكَ وَرَحْمَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتْ عَنْهُمُ الصَّخْرَةُ انْفِرَاجًا لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ " وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ كَانَتْ لِي ابْنَةُ عَمٍّ وَكَانَتْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ فَأَرَدْتُهَا عَلَى نَفْسِهَا فَطَلَبَتْ مِنِّي [ص:82] عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ فَلَمَّا قَدَرْتُ عَلَيْهَا وَهِيَ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ قَالَتْ: إِنِّي لَا أَحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، قَالَ: فَتَحَرَّجْتُ مِنَ الْوقُوعِ عَلَيْهَا، وَتَرَكْتُ الذَّهَبَ الَّذِي أَعْطَيْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتْ عَنْهُمُ الصَّخْرَةُ انْفِرَاجًا لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ مِنْهُ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أُجَرَاءَ فَأَعْطَيْتُهُمْ أُجُورَهُمْ غَيْرَ رَجُلٍ مِنْهُمْ تَرَكَ الَّذِي لَهُ وَذَهَبَ، فَثَمَّرْتُ لَهُ أَجْرَهُ وَكَثَّرْتُ مِنْهُ الْأَمْوَالَ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالرَّقِيقِ، فَجَاءَ بَعْدَ حِينٍ شَيْخٌ كَبِيرٌ يَطْلُبُ أَجْرَهُ، فَقُلْتُ: كُلُّ مَا تَرَى مِنْ أَجْرِكَ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالرَّقِيقِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْتَهْزِئْ بِي، قُلْتُ: إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ، فَأَخَذَ ذَلِكَ كُلَّهُ فَاسْتَاقَهُ، وَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهُ شَيْئًا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ وَرَجَاءَ رَحْمَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتْ عَنْهُمُ الصَّخْرَةُ فَخَرَجُوا مِنَ الْغَارِ يَمْشُونَ "

حضرت سالم اپنے والد سے رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی اُمت کے تین آدمی اپنے کسی کام سے سفر کررہے تھے۔ رات گزارنے کے لیے ایک غار میں داخل ہوئے، پہاڑ سے ایک پتھر نے لڑھک کر غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا :اللہ کی قسم ! اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرو۔چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ!میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن لکڑی کی تلاش میں میں بہت دور نکل گیا، جب شام کو واپس لوٹا تو وہ دونوں سوچکے تھے، میں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا، میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اور ان سے پہلے اہل وعیال وخدام کو دودھ دینابھی پسند نہ کیا۔ میں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں طلوعِ فجر تک ٹھہرا رہا۔ اسی حالت میں فجر طلوع ہوگئی، وہ دونوں بیدار ہوئے اور اپنے شام کے حصہ والا دودھ نوش کیا۔ اے اللہ!اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما، چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی، مگر ابھی غار سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان میں سے دوسرے نے کہا:اے اللہ!میری ایک چچازاد لڑکی تھی، وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے اپنی نفسانی خواہش پورا کرنے کا اظہار کیا، مگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوئی، یہاں تک کہ قحط سالی کا ایک سال پیش آیا جس میں وہ میرے پاس آئی، میں نے اس کو ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ اپنے نفس پر مجھے قابو دے گی، اس نے آمادگی ظاہر کی اور قابو دیا۔ جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا:تو اللہ سے ڈر!اور اس مہر کو ناحق وناجائز طور پر مت توڑ۔ چنانچہ میں اس فعل سے باز آگیا، حالانکہ مجھے اس سے بہت محبت بھی تھی اور میں نے وہ ایک سو بیس دینار اس کو ہبہ کردیئے۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما، جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ اور سرک گئی، مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ تیسرے نے کہا:اے اللہ!میں نے کچھ مزدور اُجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی، مگر ایک آدمی ان میں سے اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی،یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے بندے!میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے کہا:تم اپنے سامنے جتنے اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام دیکھ رہے ہو، یہ تمام تیری مزدوری ہے۔ اس نے کہا:اے اللہ کے بندے!میرا مذاق مت اُڑا۔ میں نے کہا:میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا اور اس میں سے ذرہ برابر بھی نہیں چھوڑا۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ پھر کیا تھا چٹان ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل گئے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنْبَأَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 197

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَقَرُّبُ الْعَبْدِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ الدُّعَاءِ بِصَالِحِ عَمَلِهِ · حديث 198

198 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ» فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ

جناب سالم اپنے والد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین لوگ سفر پر نکلے ۔۔حدیث غار کا تذکرہ کیا ۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ کِلَاهُمَا ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 198

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter