كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ قَبْرِ الْمَيِّتِ بَعْدَمَا يُدْفَنُ · حديث 1214
1214 - حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي [ص:365] كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي النَّزْعِ، قَالَ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَاصْنَعُوا بِي كَمَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصْنَعَ بِمَوْتَانَا، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إِخْوَانِكُمْ فَسَوَّيْتُمُ التُّرَابَ عَلَى قَبْرِهِ فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْمَعُهُ وَلَا يُجِيبُ، ثُمَّ يَقُولُ يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْتَوِي قَاعِدًا، ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَقُولُ: أَرْشِدْ رَحِمَكَ اللَّهُ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ، فَلْيَقُلِ: اذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّكَ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا، فَإِنَّ مُنْكَرًا وَنَكِيرًا يَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ وَيَقُولُ: انْطَلِقْ مَا نَقْعُدُ عِنْدَ مَنْ قَدْ لُقِّنَ حُجَّتَهُ، فَيَكُونُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجِيجَهُ دُونَهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ أُمَّهُ قَالَ: «يَنْسُبُهُ إِلَى حَوَّاءَ عَلَيْهَا السَّلَامُ، يَا فُلَانُ ابْنَ حَوَّاءَ»
سعید بن عبد اللہ اودی کہتے ہیں :میں ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا: تب ان پر نزع کی کیفیت طاری تھی، انہوں نے کہا: جب میں مر جاؤں تو میرے ساتھ تم اسی طرح کرنا جس طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیاہے کہ ہم اپنے مردوں کے ساتھ کیا کریں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی ایک فوت ہو جائے تو اس کو قبر میں اتارنے کے بعد اس کی قبر پر مٹی کو برابر کر دو،اس کے بعد اس کے سر کی جانب کھڑے ہو کر تم میں سے کسی ایک شخص کو چاہیے کہ وہ یہ الفاظ کہے :اے فلاں شخص ،فلاں عورت کے بیٹے ہیں!تب وہ ان الفاظ کو سن رہا ہوتا ہے ،لیکن تمہاری بات کی کا جواب نہیں دیتا ،پھر وہ کہے:اے فلاں شخص ،فلاں عورت کے بیٹے !بتب وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جاتا ہے ،پھر وہ کہے:اے فلاں شخص اور فلاں عورت کے بیٹے! تب وہ کہتا ہے :درست بات کہو، اللہ تعالی تیرے اوپر اپنی رحمت کو نازل لیکن تمہیں اس بات کا شعور نہیں ہوتا ۔اس کے بعد تم میں سے اس شخص کو یہ کہنا چاہیے :تو اس وقت اور اس حالت کو یاد کر کہ جس حالت میں تودنیا سے روانہ ہوا تھا اللہ کی توحید کی گواہی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی ۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ،وہ اکیلا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور بے شک تو نے کہا تھا : میں اللہ کو رب مان کر راضی ہوں ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کرراضی ہو ںاور اسلام کو دین مان کر راضی ہوں ،قرآن کو پیشوا مان کر راضی ہوں۔ بے شک منکر اورنکیر میں سے ہر ایک اس کو اپنے ہاتھ سے پکڑتے ہیں اور اسے کہتے ہیں :اس کی طرف چلو کہ جس کی توحید کی تمہیں تلقین کی گئی تھی ، تو اللہ عزوجل اس کا گواہی ہوتا ہے ، ان دونوں کے علاوہ ۔اس وقت مجلس میں موجود ایک آدمی نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اگر دعا کرنے والے کو اس میت کی ماں کے نام کا علم نہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تب تم اس کی نسبت اماں ہوا کی طرف کر دو: اے فلاں ،اے اماں ہواعلیہا السلام کے بیٹے! ۔
«إِذَا ← شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ وَهُوَ فِي النَّزْعِ، ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عبد الله بن محمد القرشي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ الزُّبَيْدِيُّ، ← أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1214
